بت پرستوں کی نئی نسلیں (15)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
٭٭٭ ٭٭٭
پرانے دیوتا، نئے دیوتا
فضل داد کا آنکھیں کھول لینا اس کی زندگی کا ثبوت تھا۔
روشن داد نے فوراً ڈاکٹروں سے پوچھا ”آپ تو آکسیجن ہٹانے اور میرے والد کو مردہ قرار دینے لگے تھے؟“ ۔
سب سے سینئر ڈاکٹر نے ایک جونیئر ڈاکٹر کو کچھ ہدایات دیں اور روشن داد کو ساتھ آنے کے لئے کہا۔
ایک چھوٹے سے کانفرنس روم میں روشن داد کو ڈاکٹروں کی ٹیم نے سامنے بٹھا لیا۔
”آپ کو یقیناً ہماری اس بات سے تکلیف ہوئی ہو گی مگر کیا کریں ہمیں کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا ہے“ ایک ڈاکٹر نے روشن داد کو سمجھانے کی کوشش کی۔
”میڈیکل سائنس میں بعض اوقات جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ عام لوگوں کی عقل سے ذرا مختلف ہوتا ہے“ ایک اور ڈاکٹر نے بات آگے بڑھائی
”ابھی کچھ دیر پہلے تک آپ کے والد صاحب کی جو کیفیت تھی، اس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض کی ظاہری حالت تو نیم مردہ سی ہوتی ہے مگر اس کا دماغ پوری طرح زندہ ہوتا ہے“ پہلے ڈاکٹر نے بتایا۔
”اس لئے ہم نے مریض کی موجودگی میں جو کچھ آپ سے کہا وہ دراصل صرف مریض کو سنایا گیا تھا، آپ کو نہیں۔ مقصد یہ تھا کہ شاید اس طرح مریض کا دماغ رد عمل کے طور پر زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرے۔ اور آپ نے دیکھا کہ فوری ری ایکشن ہوا۔ ہماری خواہش اور کوشش بھی یہی تھی۔ اگرچہ ہم اسے اپنی خوش قسمتی بھی کہہ سکتے ہیں“ تیسرا ڈاکٹر بولا
” بے شک ہم نے آپ سے کہا تھا لیکن مریض کا رد عمل نہ آنے کی صورت میں بھی ہم ریسپی ریٹر
(respirator)
نہ ہٹاتے۔ ایسے مریض تو بعض اوقات کئی کئی مہینے کوما میں رہنے کے بعد بھی ہوش میں آ جاتے ہیں۔ اس لئے ہم بہت دیر تک امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے ”پہلے ڈاکٹر نے جیسے روشن داد پر میڈیکل سائنس کا راز افشا کر دیا۔
پھر روشن داد کے سوال کے جواب میں سینئر ترین ڈاکٹر نے بتایا کہ مریض کے ہوش میں آ جانے کے باوجود ہم ابھی اس کی صحت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیا اس زہر نے انہیں کوئی اور نقصان پہنچایا ہے یا نہیں، اس کا اندازہ، امید ہے اگلے چند گھنٹوں میں ہو
جائے گا۔ دعا کریں کہ ہم آپ کو ایک اور اچھی خبر سنا سکیں ”۔
فضل داد کے ہوش میں آنے کی خبر نے ملک ہاؤس، روشن آباد، ملک پور اور منسلک علاقوں میں جیسے خوشی کی ایک لہر دوڑا دی۔ ان سب کو حوصلہ دینے کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ ملک فضل داد ابھی زندہ ہے۔ وہ سب مٹھائیاں بانٹنے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دینے لگے۔
بے شک کہیں کہیں یہ چہ مگوئیاں بھی ہو رہیں تھیں کہ ہوش میں آنے کے باوجود ابھی تک فضل داد نے کوئی بات نہیں کی۔ کئی قسم کے خدشات تھے کہ ابھی صرف سوچوں تک محدود تھے۔ زبانوں تک نہیں آئے تھے۔
منشی چراغ دین جو فضل داد کے بارے میں مذکورہ بری خبر سننے سے لے کر اب تک مسلسل نمازیں پڑھ پڑھ کر دعائیں مانگ رہا تھا، اس کے ہوش میں آنے کی خبر سن کر جیسے ایک دم پھر سے جی اٹھا۔ وہ تو دعاؤں میں بھی خدا سے یہی التجا کر رہا تھا کہ فضل داد کو زندگی مل جائے۔ اس کے لئے فضل داد کا زندہ ہونا ہی بہت کافی تھا، وہ چاہے کسی بھی حالت میں ہو۔ وہ جانتا تھا کہ اگر فضل داد کسی وجہ سے اپنے گھر تک بھی محدود ہو جائے تو بھی اس کی موجودگی کسی دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑے گی۔
کچھ ایسا ہی خوف پیر علیم الدین شاہ کے بھائیوں کو بھی تھا۔ وہ دونوں یہ جاننے کے بعد کہ فضل داد ہوش میں آ گیا ہے نہایت فکر مند تھے۔ جب علیم الدین نے ان کے خیالات سنے تو انہیں سمجھایا ”تم لوگ کسی مصیبت کا سوچ کر ہی کیوں پریشان ہو جاتے ہو؟ پہلے اصل خبر تو مل جانے دو، پھر کوئی خطرہ نظر آیا تو اس پر بھی غور کر لیں گے“ ۔
روشن داد، باپ کے ہوش میں آ جانے کی خوشی سے ابھی پوری طرح لطف اندوز بھی نہ ہو پایا تھا کہ ڈاکٹروں نے اسے وہ خبر سنا دی جس کے بارے میں پہلے سے ہی خدشہ موجود تھا۔
فضل داد پوری طرح ہوش میں آ جانے کے باوجود نہ تو اپنے ہاتھ پاؤں کو حرکت دے پا رہا تھا اور نا ہی وہ بول سکتا تھا۔ بے شک وہ سن سب رہا تھا مگر خود اس کا بولنا صرف اس کی آنکھوں تک محدود تھا۔ وہ کیا کہنا چاہتا ہے، اس کا اظہار یا تو وہ آنکھوں کی حرکت سے کر سکتا تھا یا پھر تھوڑی بہت مدد اسے اپنے سر کو ہلانے سے مل سکتی تھی۔ سر کی حرکت بھی بس ہلکی سی جنبش ہی تھی۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ مسلسل فزیو تھراپی سے آہستہ آہستہ سب نارمل ہو جائے گا۔ لیکن اس ”آہستہ آہستہ“ کے بارے میں وہ ابھی کچھ بھی کہنے سے قاصر تھے کہ اس کی رفتار کیا ہو گی۔
روشن داد نے ایک بار پھر اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ فضل داد کو مزید علاج کے لئے کہیں یورپ یا امریکہ لے جائے۔ اسی مقصد سے اس نے تمام رپورٹس دنیا کے بڑے بڑے ہسپتالوں کو بھیجی تھیں۔ مگر کہیں سے بھی کوئی حوصلہ افزا خبر نہیں آئی تھی۔
اس کشمکش میں کئی ہفتے اور گزر گئے۔
اب عروسہ فضل کو فکر ہونے لگی کہ اگر کسی نے فضل داد کی جگہ اس کے کام نہ سنبھالے تو یہ بنی بنائی بزنس ایمپائر اور سیاسی ساکھ ملیا میٹ ہی نہ ہو جائے۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے قریبی فیملی کے تمام افراد کو اکٹھا کرنے اور اس معاملے میں فیصلہ لینے کا تہیہ کیا۔
فضل داد تب تک اس قابل ضرور ہو گیا تھا کہ اپنی آنکھوں سے کسی حد تک اپنے جذبات کا اظہار کر سکے۔
فضل داد کی دونوں بہنیں ثریا اور جمیلہ، دونوں بہنوئی ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد، روشن داد کی دونوں بہنیں رخشندہ اور تابندہ، دونوں بہنوئی، روشن داد خود اور عروسہ فضل۔ درمیان میں وہیل چیئر پر بیٹھا فضل داد۔ بات عروسہ فضل نے شروع کی۔ تمام لوگوں کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور ان کی رائے مانگی۔
فضل داد کی وہیل چیئر اس طرح رکھی گئی تھی کہ سب لوگ اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ کسی کو دیکھنے کے لئے اسے گردن گھمانے کی ضرورت نہیں تھی۔ گردن وہ ابھی تک گھما بھی نہیں سکتا تھا۔ سب کی نظروں میں اس کے لئے احترام جھلک رہا تھا۔
سب لوگوں نے باری باری اپنی رائے دی۔ ہر رائے کے بعد سب فضل داد کا رد عمل جاننے کے لئے متوجہ ہوئے۔ فضل داد نے ’ہاں‘ کہنے کے لئے اپنی آنکھوں کو ایک بار جھپکایا۔ کسی بات پر پریشانی اس نے آنکھوں کو زور سے بند کر کے ظاہر کی۔ جب اس نے دیر تک گھور کر دیکھنے کی کوشش کی تو اسے اس کے غصے سے تعبیر کیا گیا۔
آخر میں فیصلہ یہ ہوا کہ جب تک فضل داد پوری طرح صحت یاب نہیں ہو جاتا، اس کا ہر وہ کام جو روشن داد سنبھال سکتا ہے سنبھالے۔ سب نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کا پورا پورا ساتھ دیں گے۔ روشن داد نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ اس کا ارادہ ابھی واپس برطانیہ جانے کا ہی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ فضل داد کچھ دیر بعد ہی سہی مگر صحت یاب ہو جائے گا۔
پیر علیم الدین شاہ اور اس کے بھائیوں کے لئے یہ ایک اچھی خبر تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ روشن داد کبھی بھی ویسا حریف نہیں بن سکتا جیسا کہ خود فضل داد، طویل عرصہ سے ان کے لئے بنا ہوا تھا۔ تبھی انہوں نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔
روشن آباد کے تمام دفاتر کے کام تو ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد نے اس طرح سنبھالے ہوئے تھے کہ وہاں روشن داد کو کچھ بھی نئے سرے سے کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ملک پور اور اس سے منسلک وہ تمام علاقے جہاں سے ملک فضل داد، ملک نیاز احمد اور ملک فیاض احمد الیکشن لڑتے تھے، وہاں سب چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اور قصبہ جات میں بھی البتہ روشن داد کو خود جانا پڑا۔ احمد دین، نیاز علی اور فراز علی کسی بھی جگہ جانے سے پہلے اسے تمام ضروری معلومات بھی دیتے اور اس کے ساتھ ساتھ بھی رہتے۔ اس لئے روشن داد کو کہیں بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وہ جہاں کہیں بھی گیا اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ ان علاقوں کے تمام لوگ خود کو ملک فضل داد کا زیر احسان سمجھتے اور اس کے لئے دلوں میں نہایت احترام کے جذبات رکھتے تھے۔ اس المیے نے اس کے لئے ہمدردیوں میں کچھ اور اضافہ کر دیا تھا۔
روشن داد، دن کے وقت کہیں بھی ہوتا لیکن شام کو وہ ضرور ملک پور والی حویلی میں پہنچ جاتا۔ شام کو دیر تک حویلی میں لوگوں سے ملاقاتیں کرتا مگر رات کو واپس ملک ہاؤس میں ہی جا کر سوتا۔
وہ سونے سے پہلے عروسہ فضل کی موجودگی میں فضل داد کو سارے دن کی کارروائی سے آگاہ کرتا اور جس حد تک بھی ممکن ہوتا اس بارے میں فضل داد کا رد عمل جاننے کی کوشش کرتا۔ روشن داد کی ان تمام مصروفیات کے پیچھے کرسٹینا کا بھی ہاتھ تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ روشن داد اس موقع کو غنیمت جان کر اس علاقے کی سیاست کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرے۔ اس کے خیال میں یہ ان دونوں کے مستقبل کے لئے ضروری تھا۔
ایک شام جب روشن داد ملک پور پہنچا تو اسے خبر دی گئی کہ پیر علیم الدین شاہ اپنے دونوں بھائیوں اور بہت سے ساتھیوں کے ساتھ اس کا انتظار کر رہا ہے۔ ملک پور کی حویلی میں ان لوگوں کی یہ پہلی آمد تھی۔ احمد دین اور اس کے دونوں بیٹوں کو ان کی آمد پر حیرت بھی تھی اور تشویش بھی۔
اس غیر متوقع آمد کے باوجود، ملک پور کی حویلی میں انہیں خوش آمدید کہا گیا اور روشن داد کے آنے سے پہلے ہی ان کی خوب خاطر مدارات کی جا چکی تھی۔ وہاں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی روشن داد خود حویلی کے اس حصے میں چلا گیا، جہاں پیر علیم الدین شاہ، اس کے بھائی اور دوسرے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔
سلام دعا اور خیر خیریت پوچھے جانے کے بعد ، پیر علیم الدین شاہ نے اس عزت افزائی پر اپنے تمام لوگوں کی طرف سے روشن داد کا شکریہ ادا کیا۔ پھر روشن داد کی آنکھوں میں امڈی ہوئی حیرت کو بھانپ کر بولا
”ملک روشن داد صاحب! میں جانتا ہوں کہ ہمارا یوں اچانک اور بن بلائے ملک پور کی حویلی میں آنا آپ کو بہت عجیب سا لگا ہو گا۔ مگر آج تک ملک فضل داد صاحب ہمارے ساتھ ایسی محبت سے پیش آئے ہیں کہ ہمیں آپ کی یہ شاندار اور پرشکوہ حویلی بھی اپنے ہی گھر کی طرح لگتی ہے“ ۔
”نہیں نہیں، مجھے آپ کا آنا بالکل عجیب نہیں لگا۔ میری حیرت دراصل میری خوشی کی بنیاد پر ہے۔ میری معلومات کے مطابق آپ جہاں بھی جائیں، وہاں کئی کئی دن پہلے سے تیاریاں کی جاتی ہیں“ روشن داد نے بھی سفارتی سا انداز اپنایا۔
”کسی زمانے میں ’ملک پو‘ ر کو لوگ آپ کے دادا ملک جہانداد جیسے زیرک انسان کے حوالے سے جانتے تھے۔ ان دنوں اس علاقے کی تمام سیاست کو میرے والد اور میرا خاندان دیکھتا تھا۔ میں ان دنوں ابھی نوجوان تھا مگر الیکشن لڑتا اور جیت بھی جاتا تھا۔ پھر آپ کے والد ملک فضل داد نے اس علاقے کو ترقی دے کر ہمیں اتنا خوش کر دیا کہ ہم نے اپنی سیاست بھی انہی کے حوالے کر دی۔
پھر وہ احمد دین سے مخاطب ہوا
”کیوں بھئی احمد دین صاحب؟ آپ تو اس ساری تاریخ کے گواہ ہیں۔ آپ ہی بتائیے میں سچ کہہ رہا ہوں نا؟“ اس نے احمد دین کو اتنا اچانک مخاطب کر لیا کہ احمد دین ’ہاں‘ میں سر ہلانے کے علاوہ کچھ بول ہی نہ سکا۔
روشن داد تو پچھلے کچھ دنوں سے لگاتار اس علاقے کے لوگوں کو ہی مل رہا تھا۔ ان میل ملاقاتوں میں وہ مختلف نوع کے لوگوں کی گفتگو کی بدولت یہاں کے ماضی سے کسی حد تک واقف بھی ہو چکا تھا بولا
”جی جی! آپ جو کچھ بھی فرما رہے ہیں، میں سب جانتا ہوں۔ آپ نے میرے والد صاحب کی سیاست میں ان کے ساتھ جو تعاون کیا ہے، میں اس پر آپ کا مشکور ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کا یہ تعاون ہمیں آئندہ بھی حاصل رہے گا“ ۔
علیم الدین شاہ نے جب دیکھا کہ اس کے جھوٹ پر بھی پردہ پوشی کی جا رہی ہے تو اس کی ہمت بڑھی اور اس نے نیا پتہ پھینکا
”ہمارا تعاون آپ کو ہمیشہ حاصل رہے گا۔ اب چونکہ میں اور میرے بھائی بوڑھے ہو چکے ہیں تو ہماری خواہش ہے کہ اب آپ ہمارے خاندان کے نوجوانوں پر اپنی شفقت کا ہاتھ رکھ دیں۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ ہمیں ایک بار اپنی مہمان نوازی کا اعزاز بخشیں“ ۔
”کیوں نہیں؟ کیوں نہیں؟ میں جلد ہی آپ کے پاس حاضر ہو جاؤں گا“ ۔
”آپ کی ذرہ نوازی ہو گی۔ آپ صرف ایک دو دن پہلے خبر ضرور دے دیجئیے گا تاکہ ہم آپ کی خاطرخواہ خدمت کر سکیں۔ ویسے اگر آپ بن بتائے بھی تشریف لے آئیں گے تو بھی آپ کے شایان شان استقبال کیا جائے گا“ ۔
روشن داد کو خاموش پا کر اس نے اجازت چاہی اور اپنے لوگوں کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ روشن داد، احمد دین، نیاز علی اور فراز علی اور ان کے بہت سے معاونین انہیں بڑے دروازے تک الوداع کہنے آئے۔
پیر برادران سے ملاقات کے بعد روشن داد جب واپس ملک ہاؤس پہنچا تو اس نے حسب عادت ماں کی موجودگی میں فضل داد سے ملاقات کی۔ اس نے سارے دن کی مکمل کارروائی سے باپ کو آگاہ کیا، لیکن کسی ایسی سوچ کے تحت کہ جو ابھی خود اس پر بھی عیاں نہیں تھی، پیر برادران سے ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
سونے سے پہلے، روشن داد سخت بے چینی کا شکار تھا۔ پیر برادران سے اپنی ملاقات کے بارے میں وہ جتنا غور کرتا اتنا ہی تذبذب کا شکار ہوتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے باپ نے ہی پیر برادران کو اس علاقے کی سیاست سے نکال باہر کیا تھا تو پھر اب وہی لوگ اس کی طرف دوستی کا ہاتھ کیوں بڑھا رہے تھے؟
یہ احساس اسے بار بار کچوکے لگا رہا تھا کہ اس نے پیر برادران سے اپنی ملاقات کے متعلق فضل داد کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ یہ سمجھنے کی
کوشش کر رہا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ مگر نیند کا غلبہ آنے تک وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پایا تھا۔
عطا محمد کو بار بار پیر علیم الدین شاہ کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ’فضل داد اب بالکل اپاہج ہو کر رہ گیا ہے اور روشن داد ان کے مقابلے میں ابھی بچہ ہے۔ وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اس لئے جلد یا بہ دیر اس علاقے کی سیاست پر پھر سے ان کا قبضہ ہو جائے گا‘ ۔ پیر برادران کی طرف سے اسے اس نوع کے پیغامات آ رہے تھے۔
آخرکار عطا محمد نے علیم الدین کو اس کی مطلوبہ معلومات دینے کا وعدہ کر لیا۔ وہ انہیں کب اور کہاں یہ سب معلومات پہنچائے گا؟ اس بارے میں وہ وقت آنے پر خود بتائے گا، یہ پیغام بھی بھیج دیا۔
پھر ایک دن صبح سویرے وہ پیر برادران کے اس دفتر میں پہنچ گیا، جہاں سے ان کے تمام کاروباری معاملات کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ابھی دفتر کا عملہ بھی وہاں نہیں پہنچا تھا۔ کسی چوکیدار نے علیم الدین کے گھر کال کر کے عطا محمد کے آنے کی خبر دی۔
خبر سنتے ہی علیم الدین شاہ کو اس بات پر حیرت اور تشویش ہوئی کہ عطا محمد ان کے ایک ایسے دفتر میں پہنچ گیا ہے، جس کا بہت ہی کم لوگوں کو علم ہے۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ بھاگم بھاگ وہاں آیا۔ عطا محمد کی آمد پر اس کا شکریہ ادا کیا اور اسے ناشتہ کرایا۔
عطا محمد نے اسے بتایا کہ وہ مطلوبہ معلومات کا ڈیٹا لے آیا ہے جو کہ ایک یو ایس بی میں موجود ہے۔ اس نے مذکورہ ڈیٹا خود کسی کمپیوٹر میں ڈاؤن لوڈ کرنے کا عندیہ دیا۔
اس وقت وہاں کام کرنے والے ماہرین میں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں تھا اور عطا محمد ایک کے بعد ایک کمپیوٹر بدل رہا تھا کہ کسی پر لاک لگا ہوا تھا اور کسی کی ونڈو پر مذکورہ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ نہیں ہو رہا تھا۔ آخر چوتھے کمپیوٹر پر عطا محمد کو کامیابی مل گئی۔ علیم الدین ایک کائیاں آدمی، وہ پوری طرح ہوشیار تھا۔ اس کے باوجود اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ عطا محمد اپنا کام کیسے کر رہا ہے۔
ایک فائل ڈاؤن لوڈ ہو جانے کے بعد عطا محمد پھر سے کمپیوٹر پر مصروف ہو جاتا۔ آخر ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد سارا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ ہو گیا۔ اس نے علیم الدین کو وہ فولڈر دکھا بھی دیا۔ اب علیم الدین کو خطرہ تھا کہ کہیں عطا محمد نے ان کے کمپیوٹر سے بھی کوئی ڈیٹا کاپی نہ کر لیا ہو، لہٰذا جب عطا محمد کام مکمل کرنے کے بعد اٹھنے لگا تو علیم الدین نے وہ یو ایس بی اس سے لے لی، جو وہ ساتھ لے کر آیا تھا۔
عطا محمد نے اسے سمجھایا بھی کہ وہ سارا ڈیٹا ان کے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کر چکا ہے اور اس کی یو ایس بی کوئی اور استعمال بھی نہیں کر سکتا۔ علیم الدین نے پھر بھی اس کی یو ایس بی واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ عطا محمد نے بھی ضد نہیں کی اور چلا گیا۔
عروسہ فضل اس امر پر بہت خوش تھی کہ جن کاموں میں صرف چند ہفتے پہلے تک، روشن داد دلچسپی تک لینے کو تیار نہیں تھا، اب وہ پوری خوش دلی سے کر رہا ہے۔ بے شک اس کی وجہ فضل داد کی موجودہ حالت تھی مگر پھر بھی عروسہ فضل کے نزدیک یہ تبدیلی بہت خوش آئند تھی۔
اسے جب بھی موقع ملتا تو وہ تنہائی میں فضل داد سے اپنی اس خوشی کا اظہار ضرور کرتی۔ فضل داد بھی کسی نہ کسی طرح اپنا رد عمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا۔ مجموعی طور پر سارے ملک ہاؤس کا ماحول ہی روشن داد کی اس تبدیلی سے خوشگوار ہو گیا تھا۔
تین چار دن کی ذہنی کشمکش کے بعد روشن داد نے فیصلہ کیا کہ وہ اکیلے ہی پیر برادران کی طرف جائے گا اور یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ اب وہ کیا سوچ رہے ہیں؟ اس نے اپنے پروگرام سے ایک دن پہلے فون کر کے انہیں اطلاع بھی دے دی۔ انہوں نے خبر ملتے ہی خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنے بزرگوں کے آستانہ پر آنے کی درخواست کی۔
یہ ایک دیوقامت حویلی تھی۔ وہیں ایک بڑے صحن میں پیر برادران کے بزرگوں کے مزار بھی تھے۔ جہاں مجاور حضرات اپنے کام میں مصروف تھے اور مریدوں کا آنا جانا بھی لگا ہوا تھا۔
صحن کے دوسری طرف پیر علیم الدین شاہ ایک اونچی کرسی پر بڑی شان سے بیٹھا ہوا تھا۔ مریدین دور سے ہی جھکے جھکے اسے سلام کرتے ہوئے اس کے قریب آتے، اس کی بڑی سی قبا کا ایک کونا پکڑ کر چومتے، علیم الدین ان کی طرف ایک بے نیازانہ انداز میں، ہاتھ سے پیار کا اشارہ کرتا اور وہ آگے بڑھ جاتے۔
کچھ مرید ایسے بھی تھے کہ وہ اس کی قبا چومنے سے پہلے کافی دیر تک اس کے سامنے سجدے کی حالت میں گرے رہتے۔ پھر علیم الدین کا کوئی معاون انہیں اٹھنے اور آگے بڑھنے کے لئے کہتا تو وہ بھی علیم الدین کی قبا چوم کر گزر جاتے۔
یہ سب سین چل رہا تھا جب روشن داد کی وہاں آمد ہوئی۔ جب علیم الدین کی تسلی ہو گئی کہ روشن داد نے یہ سب منظر اچھی طرح دیکھ لیا ہے تو اس نے کھڑے ہو کر روشن داد کو خوش آمدید کہا۔ اسے اپنے برابر والی کرسی پر بیٹھنے کی استدعا کی اور اپنے معاونین سے کہا کہ اب کوئی مرید اس کی قدم بوسی کے لئے ادھر نہ آئے۔ چند ہی لمحوں میں یہ جمگھٹا چھٹ گیا تو علیم الدین بھی اٹھ کھڑا ہوا اور روشن داد کو لے کر حویلی کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا۔
حویلی کا اندرونی حصہ باہر کے ماحول سے بالکل مختلف تھا۔ وہاں تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے امریکہ کے کسی سیون سٹار ہوٹل کا وی وی آئی پی سویٹ ہو۔ ان کے بیٹھتے ہی، مغربی لباس میں ملبوس کچھ نوجوان اور خوبصورت لڑکیوں نے پہلے انہیں ٹھنڈے مشروبات پیش کیے ، پھر چائے آ گئی۔
علیم الدین کے دونوں بھائی اور کچھ بیٹے بھتیجے بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے نہایت ادب سے روشن داد کی آمد پر اس کا شکریہ ادا کیا۔ وہ اسی مؤدبانہ انداز میں کچھ دیر وہاں رکے اور پھر اجازت لے کر چلے گئے۔
بعد میں کھانے کے لئے روشن داد کو دوسرے کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں میز طرح طرح کے کھانوں سے بھری ہوئی تھی۔ مستعد، خوبصورت اور نوجوان خادمائیں ان کی خدمت پر مامور تھیں۔ وہیں علیم الدین نے ایک بار پھر روشن داد کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔
”آپ برطانیہ سے سیاست کی تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں۔ ہمیں پوری پوری امید ہے کہ آپ اس علاقے کی سیاست کو نئی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کریں گے۔ آپ کی انتظامی قابلیت کے بارے میں بھی ہم نے بہت سنا ہے۔ بس آپ ہمارا تھوڑا سا خیال رکھئیے گا۔ ہماری طرف سے آپ کی خدمت کے ضمن میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے گی“ ۔
روشن داد نے بھی جواب میں اس کے جذبات کو سراہا اور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ بے شک روشن داد نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا مگر پیر برادران کے بارے میں اس کے شبہات بڑی حد تک کم ہو چکے تھے۔ وہ وہاں سے خوشی کا احساس لئے ملک پور کی حویلی میں آ گیا۔
ملک پور کی حویلی میں اس وقت اتفاق سے منشی چراغ دین بھی موجود تھا۔ وہ روشن داد سے مل کر بہت خوش ہوا۔ البتہ جب روشن داد نے پیر برادران کی طرف سے تعاون کی پیش کش کے بارے میں بتایا تو اس نے محتاط رہنے کی رائے دی۔ منشی چراغ دین کا خیال تھا کہ وہ لوگ بہت کینہ پرور اور کمینے ہیں۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ روشن داد تو ابھی ابھی پیر برادران کی پرجوش خدمت سے لطف اندوز ہو کر آیا تھا۔ اس کے لئے اس وقت ایسی کوئی بات سمجھنا نہایت دشوار تھا۔
دوسرے دن صبح، روشن داد نیند میں ہی تھا کہ اس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ وہ ابھی اور سونا چاہتا تھا، اس لئے اس نے اسے نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔ بیل ایک بار بج بج کر خاموش ہو گئی تو اس نے سکھ کا سانس لیا لیکن گھنٹی پھر سے بج اٹھی۔ آخر تیسری بار اس نے یہ سوچ کر موبائل اٹھایا کہ اسے بند کر دے مگر سکرین پر ’علیم الدین شاہ‘ کا نام پڑھ کر، اسے اٹینڈ کرنے پر مجبور ہو گیا۔
”ہیلو!“ ۔
”معذرت خواہ ہوں ملک صاحب! آپ کو اتنی صبح جگا دیا۔ مگر میں بھی کیا کرتا؟ میں تو خود ساری رات جاگتا رہا ہوں“ ۔
”کیوں؟ کیا ہوا؟“ ۔
”وہ بھی بتاتا ہوں مگر پہلے اس راز سے تو پردہ اٹھائیے۔ آپ کوئی جادوگر بھی ہیں کیا؟“ ۔
”کیا مطلب؟ میں۔ اور جادوگر؟ میں کچھ سمجھا نہیں“ ۔
”اگر آپ جادو نہیں جانتے تو پھر آپ نے یہ سب کیسے کیا؟“ ۔
”مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی شاہ صاحب، آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ صاف صاف بتائیے، ہوا کیا ہے؟“ ۔
”ایک مریدنی ہے ہماری۔ پڑھی لکھی، سمجھدار، ایک بڑے زمیندار کی اکلوتی بیٹی۔ کل جب آپ تشریف لائے تو وہ بھی ہمیں سلام کرنے آئی ہوئی تھی۔ ادھر تھی زنان خانے میں۔ پھر جب ہم کھانا کھا رہے تھے تو اس نے پردے کے پیچھے سے آپ کو دیکھ لیا“ ۔
”تو اس میں جادو کی کیا بات ہے؟“ ۔
”ہے ملک صاحب! بالکل ہے! وہ آپ کی صرف ایک جھلک دیکھ کر آپ پر مر مٹی ہے۔ تب سے بار بار میرے پاس آتی ہے اور
میرے پاؤں پڑتی ہے کہ کسی طرح اور ایک بار آپ کو دیکھ سکے۔ میں نے اسے سمجھایا بھی کہ آپ بہت مصروف آدمی ہیں۔ پہلے ہی ہماری منت سماجت کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے تھے۔ روز روز نہیں آ سکتے مگر اس نے تو رو رو کر اپنا برا حال کیا ہوا ہے۔ بس ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے، کسی طرح آپ کو ایک بار اور دیکھ سکے ”۔
”عجیب بات ہے۔ میں ایک عام سی شکل و صورت کا آدمی ہوں۔ مجھے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ یوں مجھ پر مر مٹی ہے؟ کہیں اس کا دماغ تو نہیں خراب؟“ ۔
”نہیں ملک صاحب! وہ نہایت سمجھدار اور تعلیم یافتہ لڑکی ہے۔ میں نے آپ کو بتایا نا، وہ ایک بڑے زمیندار کی اکلوتی بیٹی ہے۔ میں تو خود حیران ہوں کہ اسے ہو کیا گیا ہے؟ وہ تو خود اتنی خوبصورت ہے کہ کوئی فرشتہ بھی اسے دیکھے تو اپنا ایمان قائم نہ رکھ سکے“ ۔
”اسے ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی“ ۔
”بالکل نہیں! وہ ایک ہوشمند اور باشعور لڑکی ہے۔ اس کی عقل اور خوبصورتی کے تو دور دور تک ڈنکے بجتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ بے شک دل ابھی بھی جوان ہے اور بزرگوں کے بتائے ہوئے نسخے جو ہماری خوراک کا اہم حصہ ہیں، ہماری مردانگی کو کم ہونے ہی نہیں دیتے۔ اگر وہ مجھے ہلکا سا اشارہ بھی کر دے تو میں اس سے نکاح کے لئے تیار ہوں لیکن وہ تو آپ کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس رہی ہے۔ اسے تو اس وقت آپ کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آ رہا“ ۔
”تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟“ ۔
”آپ کچھ مت کیجئے ملک صاحب! آپ بس موقع پا کر تھوڑا سا وقت نکالیے اور اسے اپنی شکل دکھا دیجئے۔ وہ کل شام سے میرے قدموں سے لپٹ لپٹ کر رو رہی ہے۔ میرے آس پاس کا ماحول تک سوگوار کر دیا ہے اس نے۔ آپ ایک بار اسے اپنی شکل دکھا دیں گے تو کم از کم ہم اس عذاب سے تو نکل پائیں گے“ ۔
”ٹھیک ہے میں اگلے دنوں میں کسی وقت آتا ہوں آپ کے پاس“ ۔
اور اس نے علیم الدین کا جواب سنے بغیر ہی فون بند کر دیا اور پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا۔
عطا محمد جب سے علیم الدین شاہ کے دفتر جا کر آیا تھا، بہت بے چین رہنے لگا تھا۔ وہ کبھی کسی سے اور کبھی کسی اور سے فضل داد کی صحت کے بارے میں پوچھتا مگر خود اتنی ہمت نہ کر پاتا کہ ملک ہاؤس جائے یا پھر وہاں فون ہی کر لے۔
دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد ہی اٹھ بیٹھتا اور بیوی کے بار بار پوچھنے پر بھی اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پاتا کہ اس کا مسئلہ کیا ہے؟ پھر اس نے اپنی بیوی کو منع بھی کر رکھا تھا کہ اس کی اس حالت کے بارے میں اپنی ساس یا سسر کو کچھ نہ بتائے۔
بیوی نے ایک دن مجبور ہو کر اپنی ساس (ثمینہ بی بی) کو ساری بات بتا دی۔ ثمینہ نے اپنے شوہر شاہ محمد سے بات کی۔ پھر دونوں
نے ناشتے کی میز پر عطا محمد سے اپنی تشویش کا اظہار کر دیا۔ مگر وہ ادھر ادھر کی باتیں کر کے ماں باپ کو بھی ٹال گیا۔
دفتر میں بھی سب دیکھ رہے تھے کہ عطا محمد کے معمولات میں کچھ ہفتوں سے ایک عجیب سی تبدیلی آ گئی ہے۔ پہلے جو کام وہ چند گھنٹوں میں نمٹا دیا کرتا تھا ان پر اب کئی کئی دن لگ رہے ہیں۔ یوں تمام اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی تھی۔ ابھی تک کسی کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی کہ اس سے کوئی سوال کرتا کیونکہ وہ فضل داد کے قریب ترین لوگوں میں سے سمجھا جاتا تھا۔
ادھر روشن داد کو صبح شام پیر علیم الدین شاہ کے فون آ رہے تھے۔ وہ بار بار ایک ہی درخواست کر رہا تھا کہ روشن داد کسی طرح ایک بار آ کر اس لڑکی کو اپنی شکل دکھا جائے۔ الماس نام کی یہ لڑکی اس دن سے ابھی تک پیر برادران کے آستانہ پر پڑی ہوئی تھی۔ اس نے کھانا پینا بھی ترک کیا ہوا تھا۔ علیم الدین شاہ کے گھر کی عورتیں منت سماجت کر کے اسے کچھ نہ کچھ کھانے پینے پر مجبور کرتیں تو وہ تھوڑا بہت کھا لیتی ورنہ وہیں دم سادھے لیٹی آنسو بہاتی رہتی۔
الماس کے ماں باپ بھی بار بار اسے لینے آتے مگر وہ جانے سے انکاری تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں سے چلی گئی تو پیر صاحب جو اسے روشن داد سے ملانے کی کوشش کر رہے تھے وہ یہ کوشش ترک کر دیں گے۔
جسے بھی الماس کے بارے میں یہ خبر ملتی وہ حیران ہوتا کہ ایک ایسی لڑکی جس کے حسن کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جس پر ہزاروں نوجوان فدا ہونے کو تیار ہیں، وہ کیوں روشن داد پر اس انداز میں عاشق ہو بیٹھی ہے؟ اس کی دیوانگی نے اس کے سب قریبی لوگوں کو پریشان کر رکھا تھا۔
کرسٹینا البرٹ اب اپنی پارٹی میں اہمیت حاصل کرتی جا رہی تھی۔ خاص طور پر خارجہ امور کے شعبہ اور خاص الخاص انڈیا اور پاکستان کے معاملات میں۔ وہ ان دونوں ممالک کی تاریخ بہت باریک بینی سے پڑھ چکی تھی۔ یہاں کے ماضی قریب اور حال کے بارے میں بھی اس کو بیش بہا معلومات حاصل تھیں۔ ان دونوں ممالک میں وہ روشن داد جیسے کئی لوگوں سے مسلسل رابطے میں رہتی اور یہاں ہونے والی ہر تبدیلی پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔
روشن داد کے ساتھ چونکہ اس کے طالب علمی کے زمانے سے تعلقات رہے تھے اس لئے وہ اس کے لئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ بھی رکھتی تھی۔ آڈیو یا ویڈیو کال پر جب وہ روشن داد سے بات کرتی تو اپنے اس جذبہ کا اظہار بھی کرتی رہتی تھی۔ روشن داد، اس کے اس جذبہ کو ابھی تک اپنی محبت سے ہی تعبیر کر رہا تھا۔
ایک دن کرسٹینا نے روشن داد کی سارے دن کی روداد سننے کے بعد اپنا پرانا موقف پھر دوہرایا
”روشن داد تمہیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ انڈیا اور پاکستان کے علاقہ میں بت پرستی کی تاریخ چار ہزار سال سے بھی پرانی ہے۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ اب اور بھی بری حالت یعنی شخصیت پرستی میں بدل چکی ہے ”۔
”شخصیت پرستی تو کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں موجود ہے“ ۔
”ترقی یافتہ ممالک میں پسندیدگی ضرور ہوتی ہے۔ بعض حالات میں پیروی کرنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن کوئی شخص کلٹ کی حیثیت اختیار نہیں کر پاتا۔ جبکہ تمہارے علاقہ میں تو اکثر شخصیت پرستی، بت پرستی سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔ یہاں تک بھی یہ ایسی فکر کی بات نہیں ہے مگر۔“ ۔
”آگے بولو! تم رک کیوں گئی؟“ ۔
”مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ جتنی شدت سے کسی کو پسند کرتے ہیں، کسی اور کے درمیان میں آ جانے کے بعد اسی شدت سے اسے ناپسند بھی کرنے لگتے ہیں“ ۔
”دیکھو! جب تم یہاں کے لوگوں کی فطرت کو اتنی گہرائی تک سمجھتی ہو تو مجھے یقین کہ ہم دونوں مل کر یہاں کی سیاست کو لیڈ کر سکتے ہیں“ ۔
”دونوں مل کر سے تمہاری کیا مراد ہے؟“ ۔
”مطلب، اگر تم یہاں آ جاؤ اور ہم دونوں شادی کر لیں تو۔“ ۔
”روشن داد! تم ابھی تک اس جذباتی زمانے میں رکے ہوئے ہو؟ میں تمہیں پہلے بھی کہتی رہی ہوں اور اب پھر صاف صاف لفظوں میں بتا رہی ہوں، میرا شادی کرنے کا دور دور تک کوئی پروگرام نہیں۔ نہ تمہارے ساتھ اور نا ہی کسی اور کے ساتھ۔ اگر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی تو میں آئندہ تمہیں نہ کال کروں گی اور نا ہی تمہاری کال سنوں گی“ ۔
اور اس نے فون کاٹ دیا۔
روشن داد کے لئے یہ بہت بڑا دھچکا تھا۔ اسے اس وقت اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے اسی وقت پیر علیم الدین شاہ کو کال ملائی اور اسے بتایا کہ وہ ابھی ”الماس“ سے ملنے کے لئے آ رہا ہے۔
علیم الدین شاہ نے جواب میں اس کا نہایت جذباتی انداز میں شکریہ ادا کیا۔
حالانکہ وہ حیران بھی بہت تھا۔

