شب ظلمت میں نکلا چاند: قسط نمبر۔ 3
انٹر کالجیٹ تقریری مقابلوں کا انعقاد ایمن کے کالج میں کیا گیا تھا اور ابھی ابھی سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات پر ایک دھواں دھار تقریر کر کے ایمن ڈائس سے نیچے آئی تھی۔ اس کی سہیلیاں اسے داد دے رہی تھیں۔
” ویل ڈن ایمن“
شناسا آواز پر ایمن پلٹی تو ماحد کو اپنے سامنے پا کر پھول سی کھل اٹھی۔
” آپ۔ یہاں“
” ہاں، ہمارے کالج نے بھی پارٹی سپیٹ کیا ہے تو میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ دیکھنے چلا آیا“ ۔ ”اچھا۔ پر آپ کے ابو تو بتا رہے تھے کہ آپ کی سٹڈیز کمپلیٹ ہو چکی ہیں اور اب آپ کی جاب لگنے والی ہے“ ۔
” تمہیں کب بتایا انہوں نے“
ماحد کو ایمن کی بات سن کر حیرت ہوئی کیونکہ رحمان صاحب نے اس سے اس کی جاب کے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی۔
”کل رات ہی بتا رہے تھے۔ وہ آئے تھے نا بابا سے ملنے“ ”میرے ابو کل رات کو تمہاری طرف آئے تھے؟“
” ہاں۔ آتے رہتے ہیں وہ ہر دو تین دن بعد بابا کے پاس، کیوں اپ کو نہیں پتہ“ ۔
” نہیں، مجھے نہیں پتہ تھا۔ خیر تم سناؤ، پھر تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا“ ۔
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے کیفے ٹیریا تک آ گئے۔ ماحد نے کافی آرڈر کی
” نہیں۔ پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور اللہ کرے ہو بھی نہ کیونکہ اب آپ تو نہیں آئیں گے نہ میری حفاظت کو۔ یہ تو اپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں“ ۔
ماحد کو اس کا لہجہ کچھ عجیب سا لگا
” ایمن! تم مجھ سے بدگمان ہو“
” ارے نہیں۔ ایسی بات نہیں ہے۔ بس اس روز آپ نے خود ہی تو کہا تھا“ ۔
ایمن کے لہجے میں نمی سی گھلی ہوئی تھی۔
” ایمن! اللہ نہ کرے تم پر کوئی مصیبت آئے لیکن اگر پھر کبھی ایسا ہوا اور میرے علم میں یہ بات ہوئی تو میں اپنی جان پر کھیل کر بھی تمہاری جان اور آبرو کی حفاظت کروں گا“ ۔
یہ کہتے کہتے جذبات میں ماحد نے ایمن کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ایمن کی آنکھیں احساس تشکر سے بھیگ گئیں
” نہ جانے کیوں ایمن مجھے لگتا ہے جو جذبہ میرے دل میں تمہارے لیے پل رہا ہے وہی جذبہ تمہارے دل میں میرے لیے بھی ہے۔ ہے نا“ ۔
ماحد کے لہجے میں اس کا دل بول رہا تھا۔ ایمن نے کوئی جواب نہیں دیا بس چپکے سے اپنے ہاتھ پر رکھے ماحد کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھ دیا ماحد کے لب اور انکھیں دونوں مسکرا اٹھیں۔ محبت ان کے چہار سو رنگ بن کر برس رہی تھی۔
**********
مہرین کا چین اور سکون رخصت ہو کر رہ گیا تھا جب سے رحمان صاحب کے ہر دوسرے تیسرے دن چکر ان کے گھر لگنے لگے تھے۔ اسے سمجھ نہیں ارہی تھی کہ سارے معاملے کو وہ کس طرح ہینڈل کرے۔ ابھی بھی وہ اسی شش و پنج میں مبتلا ٹیرس میں چائے کا کپ لیے آ کھڑی ہوئی تھیں کے نیچے آ کر رکنے والی بائیک پر ماحد اور ایمن کو ایک ساتھ دیکھ کر ان کا ماتھا ٹھنکا اور دل تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ وہ اس کے کمرے میں آ گئیں۔ ایمن کی انکھوں کی چمک، چہرے کی گلابی رنگت اور لبوں پر مدھر گنگناہٹ اس کے دل کا حال صاف صاف سنا رہی تھی ”ماما اپ کو پتہ ہے آج کتنا مزہ آیا۔ یہ دیکھیں میری اعزازی سند۔ آپ کی بیٹی کو بہترین مقررہ ہونے پر انعام بھی ملا ہے“ ۔
ایمن انہیں تقریری مقابلے میں ملنے والی سند اور انعام دکھانے لگی
” تم آج پھر اس لڑکے کے ساتھ آئی ہو“
” جی ماما۔ وہ، ماحد اتفاق سے وہاں آ گئے تو انہوں نے کہا بس میں جانے سے بہتر ہے میرے ساتھ چلو کہاں بسوں کے دھکے کھاؤ گی اس لیے میں۔۔۔“ ۔
” ہر ایرے غیرے کے ساتھ اسی طرح آ جاؤ گی“
ایمن کو ماں کی بات پر تعجب ہوا
” ماما وہ کوئی غیر تو نہیں۔ ہم جانتے ہیں ایک دوسرے کو اچھی طرح“ ۔
” تم کچھ نہیں جانتیں ایمن، ہر انسان کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ شریف ہے۔ آئندہ میں تمہیں تنہا اس لڑکے کے ساتھ نہ دیکھوں“
ایمن کی خوشیوں پر اوس سی پڑ گئی۔
*************
ہر روز کی طرح آج بھی شاہ بانو ماحد کے لیے دودھ لے کر آئی تھیں۔ وہ شاید باتھ روم میں تھا۔ دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ واپس جانے کو تھیں تبھی ماحد کا موبائل جگمگا اٹھا۔ فون وائبریٹ پر تھا اس لیے بیل نہیں ہوئی مگر موبائل پر ابھرنے والی ایمن کی تصویر اور نام دیکھ کر شاہ بانو سناٹے میں آ گئیں۔ یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ باپ ماں کے پیچھے اور بیٹا بیٹی کے چکر میں پڑا ہوا ہے۔ انہیں اپنا دل بیٹھتا ہوا محسوس ہوا۔
وہ اپنے کمرے میں آ گئیں۔ آج پھر رحمان صاحب خضر صاحب کی طرف گئے ہوئے تھے گو انہوں نے یہ شاہ بانو کو کبھی بتایا نہیں تھا پر وہ بیوی تھیں شوہر کتنا ہی ظالم اور لا تعلق کیوں نہ ہو بیوی اس کی سرگرمیوں پر نظر ضرور رکھتی ہے۔ پانی سر سے اونچا ہو جائے اس سے پہلے ہی وہ بند باندھ دینا چاہتی تھیں اسی لیے جیسے ہی رحمان صاحب کمرے میں آئے انہوں نے پوچھ لیا ”کہاں سے آ رہے ہیں آپ اتنی رات کو“
رحمان صاحب نے ان کی جرات پر انہیں حیرت سے دیکھا
” جانتی ہو تو پوچھ کیوں رہی ہو“
”آپ یہ صحیح نہیں کر رہے رحمان، وہ اب ایک معزز آدمی کی بیوی اور جوان بیٹی کی ماں ہے“
رحمان صاحب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ چھا گئی
” اچھا پر ایک حوالہ تم بھول گئیں کہ وہ میری محبت بھی ہے“ ۔ انہوں نے لمبا کش لیا اور دھواں شاہ بانو کے چہرے پر چھوڑ دیا
” حیرت ہے مجھے آپ کو کسی سے محبت بھی ہے، کاش آپ نے اپنا آپ بھی ایسا بنایا ہوتا کہ کوئی آپ سے بھی محبت کر سکتا“
شاہ بانو کی اس بات نے رحمان صاحب کے اندر شرارے سے بھر دیے۔ چوٹی سے بال پکڑ کر انہوں نے کھینچے تو شاہ بانو کی چیخیں نکل گئیں
” میرے سامنے زبان چلانے کی تمہیں ہمت کیسے ہوئی، چار چوٹ کی مار بھول گئی ہو جو تمہارا مقدر ہے“
انہوں نے دھکا دیا تو شاہ بانو زمین پر گر گئیں
” میرا مقدر چار چوٹ کی مار سہی مگر آپ کے مقدر میں بھی آپ کی محبت نہیں ہے اور اس بار رکاوٹ اس کا بھائی نہیں اپ کا اپنا بیٹا بنے گا“ ۔
” اوہ تو تم ماحد کو میرے خلاف استعمال کرو گی اتنی ہمت ہے اس میں کہ میرے آگے بول سکے“ ۔
” یہ تو وقت بتائے گا رحمان صاحب“
” دیکھ لوں گا میں بھی کیا بتاتا ہے وقت“
یہ کہتے ہوئے ایک زوردار لات رسید کرنا نہیں بھولے تھے رحمان صاحب۔
***********
چند دن بعد ہی ماحد کا ایم بی اے کا رزلٹ آ گیا۔ وہ اچھے نمبروں سے کلیئر ہو گیا تھا۔ رحمان صاحب نے اپنے ہی بینک کی ایک برانچ میں اس کی جاب بطور جونیئر مینجر کے لگوا دی تھی۔ ادھر ایمن کا رشتہ اس کی دور پرے کی ایک رشتے دار لے کر آئی تھیں۔ اس نے فوراً ماحد کو اطلاع دی۔ وہ بھی یہ سن کر پریشان ہو گیا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماحد نے کھل کر شاہ بانو سے بات کی اور ان سے ریکویسٹ کی کہ وہ رحمان صاحب سے بات کر کے اس کا رشتہ ایمن کے گھر لے جائیں۔ شاہ بانو تو خود اس وقت کے انتظار میں تھیں۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ رحمان صاحب اپنی خواہش چھوڑیں گے یا بیٹے کو منع کریں گے۔
” ایک بات کرنا تھی آپ سے“
وہ رحمان صاحب کے لیے چائے لائیں تو وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔
” جلدی بولو میرے پاس ٹائم نہیں ہے“
ٹائی کی ناٹ باندھتے ہوئے انہوں نے ایک نگاہ شاہ بانو پر ڈالی
” ماحد چاہتا ہے ہم ایمن کے لیے اس کا رشتہ لے جائیں“
چند لمحوں کو رحمان صاحب کا وجود سن سا ہو گیا وہ دھیرے سے شاہ بانو کی طرف پلٹے
” اوہ۔ تو یہ بات ہے“ ۔
ان کے چہرے پر ہلکی سی معنی خیز مسکراہٹ در آئی
” رات کو تیار رہنا، چلے چلیں گے“
کوٹ پہن کر وہ چلے گئے لیکن شاہ بانو حیرت میں ڈوبی وہیں کھڑی رہیں۔ رحمان صاحب کے اقرار سے زیادہ انہیں ان کی انکھوں کی چمک عجیب سی لگی، نہ جانے اب ان کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
***********
جب سے رحمان صاحب اور شاہ بانو گئے تھے مہرین جلے پیر کی بلی کی طرح بولائی بولائی پھر رہی تھیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا قسمت کیا نیا کھیل کھیلنے جا رہی ہے۔ صبح ناشتے کے وقت بھی ان کی حالت عجیب سی تھی
” کیا بات ہے مہرین تمہاری انکھیں کیوں سرخ ہو رہی ہیں ساری رات جاگتی رہی ہو کیا“ ۔
خضر صاحب ان کی سرخ آنکھیں دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے
” میں ایمن کے لیے ماحد کے پروپوزل کی وجہ سے پریشان ہوں خضر“ ۔
انہوں نے اپنی پریشانی کی وجہ بتا دی
” کم آن یار! اس میں پریشانی کی کیا بات ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے اتنا اچھا رشتہ آنے پر۔ ماشاءاللہ ماحد بہت جاذب نظر اور نفیس لڑکا ہے اتنی اچھی جاب لگی ہے اس کی دیکھنا کتنا ترقی کرے گا اور چھوٹی مختصر فیملی ہے ہماری ایمن بہت خوش رہے گی وہاں اور سب سے بڑی بات ہماری نظروں کے سامنے ہمارے قریب بھی رہے گی“ ۔
خضر صاحب شاید ہر اینگل سے سوچ چکے تھے اور مطمئن بھی تھے
” وہ سب ٹھیک ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں ہو رہا“ ۔
” تمہارا دل مطمئن ہو گا بھی نہیں ماں ہونا اکلوتی بیٹی کی رخصتی کا سوچ کر خود کو پریشان کر رہی ہو بس“ ۔
اب وہ انہیں کیا بتاتی مسئلہ ایمن کے رخصتی کا نہیں رحمان بختیار کا ہے اور ماحد رحمن بختیار کا بیٹا ہے
” خضر میرا خیال ہے آسیہ باجی کا بیٹا شاہد ایمن کے لیے زیادہ بہتر ہے“ ۔
خضر صاحب نے حیرت سے مہرین کو دیکھا
” تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے شاہد دبئی میں ہے۔ وہ وہاں جاب کرے گا اور ایمن یہاں سڑتی رہے گی اور اگر بالفرض وہ اسے ساتھ لے بھی گیا تو ہم مہینوں یہاں اپنی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنے کو ترسیں گے۔ بہرحال میں شاہد اور ماحد دونوں کے لیے ایمن کی رائے لے لوں گا پھر جواب دیں گے“ ۔
مہرین نے چونک کر انہیں دیکھا کیونکہ اس بات کا جواب تو وہ جانتی تھیں۔ پانی کو ایک طرف سے روکو تو وہ دوسری طرف سے راستہ بنا لیتا ہے۔ ایمن کو بھی انہوں نے ماحد کے ساتھ آنے جانے سے روکا تھا پر وہ جانتی تھیں کہ جب وہ کالج کے لیے نکلتی ہے تبھی ماحد بھی آفس کے لیے نکلتا ہے، ہر روز شام کو چائے کا کپ ہاتھ میں لیے چھت پر جانا ایمل کا معمول بنتا جا رہا ہے، اس کے موبائل میں واٹس ایپ کا ایک نمبر ماحد کا ہے، مہرین کو دیکھتے ہی اس کی انگلیاں لیپ ٹاپ پر تیزی سے حرکت کرتی ہیں اور فیس بک بند ہو جاتی ہے ایسی صورت میں اس کا جواب لازمی ماحد ہی ہونا ہے وہ پریشان ہو کر رہ گئیں۔ کہاں کہاں اسے روکیں۔ جوان اولاد کے باغی ہو جانے سے بھی ڈرتی تھیں۔
***********
اور پھر وہی ہوا جس کا مہرین کو ڈر تھا۔ ایمن نے ماحد کے لیے ہاں کر دی۔ خضر صاحب بھی خوش تھے سو چند دن بعد ہی انہوں نے رحمان صاحب کو ہاں میں جواب دے دیا۔ دونوں نے مل کر منگنی کی تاریخ بھی طے کر لی اور مہرین دیکھتی کی دیکھتی رہ گئیں۔ ادھر شاہ بانو بھی شدید حیرت میں مبتلا تھیں۔ ان کا خیال تھا مہرین کبھی اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہوں گی مگر ان کا خیال خیال ہی رہ گیا اور ایمن منگنی کی دلہن بن کر ماحد کے پہلو میں آ بیٹھی۔ ایک فور سٹار ہوٹل کے بینکوئیٹ ہال میں منگنی کی تقریب جاری تھی۔ ماحد اور ایمن کے دل کی خوشی مسکراہٹ بن کر ان کے چہروں پر چھائی ہوئی تھی۔ مہرین اپنی کچھ جاننے والی خواتین کی طرف بڑھ رہی تھیں تبھی رحمان صاحب ان کے راستے میں آ گئے
” مبارک ہو“ ۔
مہرین نے غائرانہ نگاہ ان پر ڈال کر منہ دوسری طرف پھیر لیا
” آج تو بیٹی سے زیادہ حسین لگ رہی ہو“ ۔
مہرین نے غصے سے انہیں دیکھا
” آپ کی بیگم مجھ سے زیادہ حسین ہیں۔ اپنی نگاہوں کو ان کی حد تک محدود رکھیں تو آپ کے لیے بہتر ہو گا“ ۔
رحمان صاحب نے کچھ دور چند خواتین کے ساتھ بیٹھی شاہ بانو پر نگاہ ڈالی جن کی نظریں ان دونوں پر ہی مرکوز تھیں
” میں آج بھی تم سے شدید محبت کرتا ہوں“ ۔
ان کا لہجہ سرگوشی میں ڈھل گیا مہرین کی انکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ حیرت بھی اتر آئی ان کی ڈھٹائی پر
” شرم آنی چاہیے آپ کو۔ اس عمر میں یہ چھچھوری حرکتیں کرتے ہوئے“ ۔
مہرین کی تلخ لہجے میں طنز کی کاٹ بھی تھی
” میں تم سے ملنا چاہتا ہوں تنہائی میں“ ۔
رحمان صاحب کو ان کے غصے کی رتی برابر پرواہ نہیں تھی
” واٹ۔ آپ ہوش میں تو ہیں۔ آپ کی یہ گھٹیا باتیں میں خضر کو بتا دوں تو“ ۔
” آئی ڈونٹ کیئر۔ تم چاہے سارے زمانے کو بتا دو پر تمہیں مجھ سے ملنا ہی ہو گا ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتیں میں کیا کروں گا“ ۔
یہ کہہ کر وہ آگے اپنے دوستوں کی طرف بڑھ گئے اور مہرین وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئیں
***********
آج پھر نیند ان کی انکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ان کی توقع کے عین مطابق رحمان صاحب نے اپنا آپ دکھا دیا تھا بظاہر انہوں نے رحمان صاحب کو دھمکی دے دی تھی کہ وہ خضر صاحب کو بتا دیں گی پر حقیقت یہ تھی کہ وہ خضر صاحب کے لیے ان باتوں سے خوفزدہ تھیں۔ وہ انتہائی جذباتی آدمی تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لینے والے اور یہ تو بہت بڑی بات تھی لیکن جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو انہوں نے فون اٹھا لیا
” السلام علیکم“
”مہرین بات کر رہی ہوں“
” ٹھیک نہیں ہوں“
” جی پریشان ہوں“
” فون پر نہیں بتا سکتی“
” مجھے اپ کی ضرورت ہے پلیز آپ پاکستان آ جائیں“
” میں جانتی ہوں آپ غمگین ہیں، پریشان ہیں مگر پلیز۔ پلیز“
بہتے آنسوں کے ساتھ انہوں نے فون بند کر دیا۔ پھر دو دن بعد ہی انہیں بیل کی آواز کے بعد ایمن کی خوشی سے ماموں ماموں چلاتی آوازیں سنائی دیں۔ اس لمحے مہرین کے سینے سے پرسکون سانس آزاد ہوئی۔ شرجیل احمد مہرین کے بڑے بھائی تھے عرصہ دراز سے جدہ میں رہ رہے تھے اولاد نہیں تھی اس لیے ان کی بیگم نفیسہ نے اپنے بھائی کی بیٹی لے کر پالی ہوئی تھی۔ دو ماہ قبل نفیسہ بیگم نے جگر کے سرطان میں مبتلا ہو کر جان جانٍ آفریں کو سونپ دی۔ چند دن پہلے ان کے خاندان والوں نے محرم نامحرم کا مسئلہ اٹھا کر ان کی بیٹی کو بھی واپس بلا لیا تھا جس کی وجہ سے شرجیل شدید دکھ اور غم میں مبتلا تھے مگر جب بہن کا پریشانی میں ڈوبا فون پہنچا تو وہ اپنے دکھ بھول کر وطن واپس آ گئے ”شرجیل! یار ہم نے تمہیں ایمن کی انگیجمنٹ والے دن بہت مس کیا“ ۔
ڈنر کی ٹیبل پر خضر صاحب نے شرجیل سے کہا دونوں سالے بہنوئی میں مثالی دوستی تھی اور یہ دوستی تب سے تھی جب دونوں کالج میں پڑھتے تھے ”ہاں، تبھی تو مجھے انوائیٹ نہیں کیا“ ۔
شرجیل نے مسکرا کر گلا کیا
” بھئی یہ گلہ اپنی بہن سے کرو میں تو آخر تک کہتا رہا پر یہ کہنے لگی بھائی دکھی ہیں، پریشان ہیں۔ اگر جو مجھے پتہ ہوتا کہ تم دو تین بعد ہی آ جاؤ گے تو میں ضرور تمہیں فون کر دیتا“ ۔
شرجیل نے بہن کی طرف دیکھا تو انہوں نے نگاہیں چرا لیں لیکن بولی کچھ نہیں۔
” اچھا بھائی یہ تو بتاؤ کس بندر کے کھونٹے سے باندھ دیا ہے میری بٹیا کو“ ۔
انہوں نے پیار سے ایمن کے سر پر چپت لگائی
” ماحد بہت اچھا اور قابل لڑکا ہے تم ملو گے تو خوش ہو گئے۔ کل ملواؤں گا میں تمہیں اس سے اور اس کے فادر رحمان بختیار سے“ ۔
چاولوں سے بھرا چمچ شرجیل کے منہ کی طرف جاتا جاتا بیچ میں ہی رک گیا۔ انہوں نے شدید حیرت سے پہلے خضر اور پھر مہرین کی طرف دیکھا۔ انہوں نے بھی بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے نگاہیں جھکا لیں۔ شرجیل لمحوں میں مہرین کی پریشانی سمجھ گئے۔
**********
جاری ہے


