سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)


پنجابی اور سندھی زبان کے اجلاس کی کارروائی

اس کانفرنس میں اتنے ہمہ جہتی موضوعات پر اجلاس ہوئے ہیں کہ کسی ایک تحریر میں ان کو سمونا ان موضوعات کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ اس نا انصافی کا گلہ کہیں کہیں مقررین نے بھی کیا۔ اس کانفرنس پر پہلی تحریر کا موضوع وہ اجلاس ہیں جو مقامی زبان و ادب سے اردو اور اردو دان طبقے کے پہلے سے قائم روابط کو مضبوط، مستحکم اور مستقل کرنے کی محبانہ حکمت عملی کا ثبوت ہیں جس کے اثرات و نتائج دوررس ثابت ہوں گے۔ احمد شاہ ادب و ادیب دوست انسان اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ خود کو منوا چکے ہیں۔ آرٹس کونسل کراچی وہ مقام ہے جہاں شنوائی قابلیت کی بنا ء پر ہی ممکن ہے اور یہی وہ کسوٹی ہے جس کی وجہ سے اردو کانفرنس اور آرٹس کونسل کراچی کا وقار قائم ہوا ہے اور یہی وہ پرکھ ہے جس پر یہ برقرار رہ سکتا ہے۔

عالمی اردو کانفرنس میں مقامی زبانوں کے اجلاس اردو کے شرکاء کے لیے ایسے ہیں جیسے مختلف سمتوں میں کھڑکیاں کھل رہی ہیں اور وہاں کے مناظر، زمین و آسماں اور سرد و گرم سے آشنائی ہو رہی ہے۔ یہ ان اجلاسوں کا وہ اعلی ٰمقصد تھا جس تک ہر میزبان تو کیا کہیں کہیں فاضل مقررین کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکی مثلاً پنجابی زبان کا پورا اجلاس پنجابی زبان میں ہوا۔

اجلاس کے میزبان توقیر چغتائی نے اردو میں ہی آغاز کیا۔ انہوں نے وقت کی کمی کے پیش نظر اپنے موضوع ”امرتا پریتم“ کی ادبی نہیں بلکہ ذاتی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امرتا پریتم کی ساحر سے محبت کی داستان میں بہت کچھ سنا سنایا اور من گھڑت ہے اور اس کا گلہ خود امرتا پریتم کو تھا۔ ایک ملاقات میں امرتا کی موجودگی میں امروز نے کہا کہ ساحر امرتا سے بالکل محبت نہیں کرتے تھے امرتا ان سے کرتی تھیں۔ یہاں تو مکھی پہ مکھی بٹھائی گئی۔ اس موضوع پر حالیہ ایک جدید ناول گربچن سنگھ جو ٹریبیون کے مدیر اور مشہور افسانہ نگار ہیں، انہوں نے امرتا کے منفی پہلوؤں پر ناول لکھا ہے، میں یہاں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا (ہمارا بھی یہی خیال ہے لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے جتنی بات کی اسی پہ کی) پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے۔“

ابھی میزبان نے اتنا ہی کہا تھا کہ حاضرین کی طرف سے آواز آئی اور میزبان اس آواز کی جانب متوجہ ہوئے، جب کیمرا اس آواز کی طرف متوجہ ہوا تو وہ بشریٰ انصاری صاحبہ تھیں جو اجلاس کو پنجابی زبان میں چلانے کا مطالبہ کر رہی تھیں، اس پر میزبان نے کہا کہ میری تو خود یہ خواہش تھی اور ہم نے اس پر دوستوں سے مشورہ بھی کیا لیکن کیوں کہ یہ اردو کانفرنس ہے، بشریٰ انصاری کے برابر میں بیٹھی ہوئی کشور ناہید صاحبہ نے بھی بشریٰ انصاری صاحبہ کی حمایت کی اور پھر یہ پورا اجلاس پنجابی زبان میں ہوا۔

ہم خود استفادے سے محروم رہے تو قارئین کو کیسے شریک کر سکتے ہیں۔ لیکن میں ان شخصیات کا ذکر جن پر مقررین نے بات کی، ضرور کرنا چاہوں گی جو میں نے یوٹیوب پر اسکپ کر کر کے سنا، ثروت محی الدین نے استاد دامن اور منیر نیازی پر ، ضیاء الحسن نے منشا یاد اور نسرین انجم بھٹی پر ، جمیل اقبال نے افضل حسین رندھاوا پر اور نیلم احمد بشیر نے اپنی کہانیوں پر بات کی۔ کشور ناہید کو اردو دان طبقہ ان کی اردو شاعری اور کتابوں، بشریٰ انصاری کو پی ٹی وی کے اردو پروگراموں سے عالمی شہرت ملی۔

اس اجلاس کی صدارت محمود شام صاحب نے کرنی تھی لیکن وہ شریک نہیں ہو سکے۔ محمود شام صاحب روزنامہ جنگ کے طویل عرصے مدیر رہے اور اب ماہ نامہ اطراف جو اردو میں ہے نکالتے ہیں۔ اس خطے میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے، مادری زبان کی اہمیت کا مطالعہ سائنسی مطالعے کا درجہ اختیار کر چکا ہے، لیکن یہ اجلاس پنجابی زبان میں نہیں اردو زبان میں ہونا چاہیے تھا۔ استاد دامن، منیر نیازی، منشاء یاد، نسرین انجم بھٹی، افضل حسین رندھاوا اور نیلم احمد بشیر نے جو پنجابی زبان میں لکھا اس کو اردو دان طبقے تک پہنچانا اس اجلاس کا مقصد تھا۔

وہ لوگ جو اردو زبان نہیں سمجھتے ان تک ان کی زبان میں اردو میں جو لکھا گیا ہے اور جو لکھا جا رہا ہے وہ پہنچایا جائے ( اگرچہ کہ اردو پاکستان میں واحد اور دیسی رابطے کی زبان ہے لیکن مادری زبان کانوں کو جتنی بھلی لگتی ہے اس سے انکار نہیں ) ۔ تہذیب اور دانش کا دائرہ اس طرح پھیلے گا۔ اردو کانفرنس میں مقامی زبانوں میں اجلاس منعقد کرنے کا یہ مقصد تھا جس تک ہر خیال کو رسائی نہ ملی۔

سندھی زبان و ادب کے مشاہیر کے اجلاس میں ملی جلی صورت حال رہی۔ ہمارا رد عمل وہی کہ اسکپ کر کر کے سنا۔ جو مقالات و خیالات اردو میں پیش کیے گئے ان کا احوال پیش خدمت ہے۔ شاہ محمد پیر زادو نے اپنا مقالہ بابائے سندھ کامریڈ حیدر بخش جتوئی بعنوان ’ایک افسر، ایک ادیب اور ایک سیاسی رہنما‘ پر پڑھتے ہوئے بتایا کہ ”ان کی نظم ’جئے سندھ‘ چھپی تو انگریز سرکار نے ان سے کہا کہ یا تو کتاب سے ہاتھ اٹھاؤ یا نوکری سے تو حیدر بخش جتوئی نے نوکری سے ہاتھ اٹھائے اور کتاب کو چنا۔

ان کی ایک جرات مندانہ نظم کا عنوان ہے ’اے سندھ کے وڈیرو انسان بنو‘ ۔ ان کا پہلا مجموعہ ’تحفۂ سندھ‘ 1930ء میں شائع ہوا جس میں انہوں نے علامہ اقبال کی نظم ’شکوہ‘ کی زمین میں طبقاتی خلیج پر نظم لکھی۔ اقبال کا موضوع مسلمان جب کہ حیدر کا موضوع انسان۔ ان کا ایک اور ادبی کارنامہ ’مکی اور مدنی سورتوں کا طرز کلام‘ ہے جو انہوں نے انگریزی میں تحریر کی۔ جی ایم سید نے اپنی کتاب ’جنم بتایا جن کے ساتھ‘ سن اشاعت 1976ء میں حیدر بخش جتوئی کا ذکر ایک انقلابی رہنما کے کیا ہے۔ وہ جاگیر دار اور مذہبی بیانیے کو سندھ کے لیے زہر قاتل سمجھتے تھے۔ جئے سندھ تحریک کا محرک ان کی نظم ’جئے سندھ جئے سندھ‘ ہے، اس نظم کا ایک بند :

تم پر سندھ ہزار سلام
بھائی اپنا ہر انسان
اپنا تو ہے یہ ایمان
اپنا تو ہے یہ اسلام
جئے سندھ جئے سندھ
جئے سندھ اور جئے سندھ
جام محبت پئے سندھ
خاص و عام پئے یہ جام
جئے سندھ جئے سندھ
جئے ہاری اور مزدور
جئے ہاری یا نے پر نور
محنت کرتے صبح و شام
جئے سندھ جئے سندھ ”
یہ نظم حیدر بخش جتوئی کے خیالات کی تفسیر ہے اور ان کی عملی زندگی اس کی تعبیر۔

کیوں کہ اس کانفرنس کے ہر اجلاس میں ایک ایک مقرر کو دو دو مشاہیر پر بات کرنی تھی، تو شاہ محمد پیر زادو کا دوسرا موضوع شیخ ایاز تھا۔ ان پر بات کرتے ہوئے فاضل مقرر نے کہا کہ ”شیخ ایاز اتنا کثیر الجہت شاعر تھا کہ سندھی زبان کی پوری شاعری پر ان کی چھاپ نظر آتی ہے۔ وہ حافظ اقبال تھے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے دو رۂ روس میں اقبال کا فارسی کلام سنایا۔ وہ اقبال کی شاعری پر پی ایچ ڈی کرنا چاہتے تھے۔ ان کی شاعری میں جو بلند آہنگ ہے وہ اقبال کے اثر کی وجہ سے ہے۔ پچاس کی دہائی میں مقتدرہ کو الٹا فارمولا ون یونٹ سوجھا جس نے مقامی اور علاقائی شناختوں کی بقا ء کے مسئلے کا سوال اٹھایا۔ یہ ایک عجیب طرح کا ایڈونچر تھا جو اسٹیبلشمنٹ نے کیا جس میں انہوں نے شکست کھائی، بنگال الگ ہوا اور مقامیت کو فیول ملا۔ شیخ ایاز کے ہمہ جہت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انقلابی ہوں، قومی ہوں کہ جمہوری ایاز سے سب کو مدد لینی پڑتی ہے۔ وہ بہ حیثیت شیخ الجامعہ سندھ یونیورسٹی کو شانتی نکیتن بنانے کا خواب رکھتے تھے جس میں وہ متنازعہ بن گئے لیکن شاعری کی ہر صنف پر ان کا دیوان ہے۔ ”

دوسری مقرر مہتاب اکبر راشدی نے پیر حسام الدین راشدی اور ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے پیر حسام الدین راشدی اور ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے حالات زندگی اور کار ہائے نمایاں حالات تفصیل بیان کیے۔

ایسی کانفرنس میں اور اس میں پڑھے گئے مقالات میں حالات زندگی بیان نہیں کیے جاتے جو کتابوں میں موجود ہیں بلکہ ایک کشید فکر بیان کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سراج الحق نے مشاہیر محمد عثمان ڈپلائی اور گل حسن کلمتی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محمد عثمان ڈپلائی کے فکری ارتقا میں ون یونٹ کا اقدام ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ گل حسن کلمتی کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں کتابیں لکھنے کے لیے دور دراز کے ہی نہیں بلکہ انتہائی کٹھن اور دشوار گزار سفر بھی کیے۔ ان کی مالی حیثیت ایسی نہیں تھی یہ ان کا عشق اور جنون تھا۔ ان کی تمام کتابوں میں ’ماروی‘ نمایاں اور نمائندہ کتاب ہے۔

جامی چانڈیو نے مشاہیر رسول بخش پلیجو اور ابن حیات پنور پر اظہار خیال کیا۔ رسول بخش پلیجوو ادیب، مفکر، نقاد اور سیاسی رہنما تھے۔ ان ہمہ گیر شخصیت کی عالمانہ ادبی جہت پر بات کرتے ہوئے جامی چانڈیو نے کہا ”کہ پلیجو صاحب جدید سندھ کے فکری معماروں میں سے ہیں۔ وہ مارکسی اور ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے سندھی زبان کو سیاسی و فکری ادب دیا۔ ان کے مضامین میں طبقاتی سوال کو ، قومی سوال کو ، عالمی سامراجیت کے سوال کو ، جمہوریت کے سوال کو ؛مارکسی انقلابیت اور ترقی پسندی کی روح سے سندھی سماج کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے ۔

ان کے موضوعات کی وسعت و گہرائی حیران کن ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخ کا جدلیاتی شعور ہے۔ جدید اور کروٹ بدلتا ہوا سندھ اور ترقی پسند افکار جس میں سندھ کی قومیت کا جدید تصور سامنے آیا، طبقاتی شعور کا احیاء ہوا، جس میں جمہوری سوال کو جاگیر دارانہ آنکھ سے نہیں بلکہ عوام کی آنکھ سے دیکھا گیا اور ایک پوری نشاط ثانیہ جو سندھ کے سماج میں بیسویں صدی میں برپا ہوئی اس میں ان مشاہیر کا بنیادی کردار ہے۔

ساٹھ کی دہائی میں نظریات کا افکار اور ادب کی دنیا میں ٹکراؤ ہوا، اس زمانے کے رجعت پرستوں نے سائیں جی ایم سید کی سیاسی فکر اور شیخ ایاز کی ادبی فکر پر حملے کیے۔ اس دور کا فکری تضاد ہماری خوش بختی تھی کیوں کہ اس کے نتیجے میں سندھی زبان میں جو ادب تخلیق ہوا، اس پر جہاں مولانا گرامی نے ایک بے مثال کتاب ”مشرقی شاعری کے فنی اقدار و معیارات“ لکھی وہاں ابن حیات پنور نے بھی ایک مقالہ تحریر کیا او ر پلیجو صاحب نے ایک کلاسیکل کتاب ”اندھا اوندھ ویج“ شیخ ایاز کے دفاع میں لکھی جس میں عربی، فارسی اور اردو شاعری اور ادب کا گہرا مطالعہ نظر آتا ہے۔

ستر اور اسی کی دہائی میں فلسفہ وجودیت جس آغاز پچاس اور ساٹھ کی دہائی سے ہو چکا تھا اس میں پھر ایک اور تضاد ترقی پسند تحریک اور وجودیت کے درمیان ابھرا اور اس کے بھی بڑے نقیب پلیجو صاحب ہی سامنے آئے۔ اس پر انہوں نے جو کتاب لکھی وہ متنازعہ بنی اور اس نے بڑے مباحثوں اور مکالموں کو جنم دیا۔ ہندوستان میں اور سندھی زبان میں فلسفہ وجودیت کے نام پر جو افسانے لکھے جا رہے تھے اس پر ان کا تنقیدی مقالہ موجود ہے۔ پلیجو صاحب کی ”تخلیقی و تنقیدی ادب“ کے نام سے ایک ضخیم کتاب شائع ہو چکی ہے۔

جی ایم سید نے شاہ لطیف کو قومیت کے نظریے اور قومیت کے جذبے کی روح سے دیکھا اسی طرح پلیجو صاحب شاہ لطیف کے بھی بہت بڑے شارح اور عالم تھے اور انہوں نے اپنے جلسوں، نشستوں، تحریروں، تقرریروں اور لیکچروں میں جس طرح شاہ لطیف کو متعارف کرایا وہ ایک انقلابی افکار کے حامل شاہ لطیف کا نیا تعارف تھا۔

انگریزی میں علمیات میں ایک اصطلاح پولی میتھ (کئی علوم پر حاوی) استعمال ہوتی ہے۔ پولی میتھ وہ عالم ہوتا ہے جس کو بہت سے موضوعات پر بڑی گہری دسترس ہو۔ سندھ میں، ملک میں اور اپنے دور میں پلیجو صاحب جنگی تاریخ، انقلابی تاریخ، فلسفیانہ مارکسی روایات، کلاسیکل و جدید ادب، فارسی ادب، عربی ادب، ہندی ادب، پنجابی ادب، سرائیکی ادب، تراجم، مذاہب، تصوف ؛ ایک شخص ایک زندگی میں اس قدر عالمانہ وسعت اور گہرائی رکھتا ہے۔

وہ جو مختلف علوم میں مختلف نظر آتے ہیں وہ دراصل ایک نظر نہ آنے والی دانش کی وحدت ہوتی ہے، اگر کوئی عالم علوم کی کثرت میں دانش کی وحدت کو تلاش نہیں کرتا تو وہ عالم کہلانے کے لائق نہیں ہوتا۔ پلیجو صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے تاریخ کے جدلیاتی شعور اور اپنے انقلابی افکار سے ہمارے سماج کی ازسر نو تشکیل کی۔ ”

جامی چانڈیو صاحب نے ابن حیات پنور پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”ابن حیات پنور انگریزی زبان کے مصنف تھے۔ سندھ کی جغرافیائی تاریخ، سندھ کی ماحولیاتی تاریخ، سندھ کی معاشی تاریخ، پاکستان بننے کے بعد سندھ کا معاشی استحصال کا مقدمہ عالمانہ انداز میں تحریر کیا۔ ہم رومانوی لوگ تاریخ کو بھی رومانوی اور سحر انگیز بنا دیتے ہیں، معروضی نکتہ نظر کا ہماری تاریخ شناسی میں کم دخل ہے۔ سومرا دور کی تاریخ جو داستانوی اور اساطیری انداز میں تھی پنور صاحب نے اس کا تنقیدی، جدلیاتی اور مادی تجزیہ کر کے گویا ہلا کے رکھ دیا۔

عالم مفتی نہیں ہوتے، وہ تحقیق کرتے ہیں، ان سے آپ اتفاق کر سکتے ہیں، ان سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان اصل کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ جستجو کی نئی جہتیں پیدا کرتے ہیں۔ سندھ کے حوالے سے ان کی تمام تواریخ ان کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہیں۔ عبرت اخبار کے لیے انٹرویو لیتے ہوئے میں نے ان سے سوال کیا کہ سندھ میں میر خاندان کا دور اتنا بحرانی کیوں رہا؟ ایم ایچ پنور صاحب نے جواب دیا کہ جہاں اس میں بہت سے محرکات کارفرما ہیں وہاں یہ بھی ہے کہ سندھ کے دریا نے ہزار سال کے بعد اپنارخ تبدیل کیا تھا تو ایک طرف اس نے ہماری ماحولیات و معاشیات پر برے اثرات ڈالے تو دوسری طرف اس دور کے سیاسی و سماجی بحران کی تشکیل کی۔ یہ تاریخ کو دیکھنے کا انوکھا پہلو تھا اور ان کی تحریروں میں اسی طرح غیر معمولی نکات اور پہلو ملیں گے۔“

دانش مند نور الھدیٰ شاہ صاحبہ نے مشاہیر سراج الحق میمن اور ابراہیم جویو پر اپنے خیالات پیش کیے۔ سراج الحق میمن پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”کسی بھی زبان اور بولی کو مسابقت کا سامنا ہوتو اس کو زندہ رکھنا تو ایک کمال ہے ہی مگر اس زبان کو بولنے والی قوم کو زندہ رکھنا اس سے بھی بڑا اور مشکل کام ہے۔

سراج صاحب کے والد نے حافظ کی شاعری کا سندھی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔

سندھ کی تاریخ کو 1947ء کے بعد دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد کی نسل کو جو تاریخ پڑھائی گئی وہ جھوٹی تاریخ تھی۔ جس میں بن قاسم اور ججاج بن یوسف کو ہیرو بنا کے پیش کیا گیا اور سندھ کے اصل ہیروؤں کو پس منظر میں ڈال دیا گیا۔ جن کے کا ناموں کا یہاں کی نسلوں کو پتا نہیں چل رہا تھا۔ سراج صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے فکشن اور ناول میں سندھ کی تاریخ کو پڑھنے والوں تک پہنچایا اور ان کو اس پر اکسایا کہ وہ سندھ کی تاریخ کو خود پڑھیں اور سمجھیں۔

سندھ جن حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے، تاریخ مظہر شاہ جہانی میں جو اندوہناک، المناک اور انسانیت سوز واقعات بیان ہوئے ہیں، اس تاریخ کا ذکر اپنی جگہ اور اس دور میں سندھ میں جو مزاحمت ہے، سراج صاحب کے ناول، اور اس میں ایک ناول جس کا نام شاہ لطیف کی بیت ہے جس کا ترجمہ یوں ہے کہ ”جو آواز ہے وہی بازگشت ہے جو بازگشت ہے وہی آواز ہے“ ؛یہ ناول فکشن میں ابتدا ہے سندھ کی نوجوان نسل کو اور بعد میں آنے والی نسل کو جھنجھوڑنے کے لیے۔

سراج صاحب نے بھٹو کے دور میں ہلال پاکستان اخبار نکالنا شروع کیا۔ ریاستی جبر کے آگے جھکے نہیں ہلال پاکستان اخبار کو چھوڑ دیا اور آگے بڑھے۔ زبان کی حیثیت بولنے والے کی شناخت سے وابستہ ہے۔ سراج صاحب جو ماہر لسانیات تھے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ سندھی زبان کہیں سے آئی نہیں ہے اور یہ تحریری شکل میں خالص سندھی زبان ہے۔ سراج صاحب، جویو صاحب اور شائیں مصطفی شاہ نے۔ ”سرونٹ آف سندھ سوسائٹی“ کے نام سے ایک انجمن بنائی جس کے اجلاس سراج صاحب کے گھر پر ہوتے تھے۔

اس میں لوگ شامل ہوتے چلے گئے۔ 1947ء اور ون یونٹ کے بعد سندھ جس کرب سے گزر رہا ہے، سندھ کے لوگ کن مسائل میں جی رہے ہیں، یہ آواز سننا کسی کو قبول نہیں تھا۔ زبان کو ایک مسئلہ بنا دیا گیا۔ یہ غلام قوم، غلام ریاست ان کو یہ مقامی زبان سمجھ میں نہیں آئے گی تو ان مشاہیر نے انگریزی زبان میں سندھ کے مسائل پہ ڈان اخبار میں مستقل مضامین لکھنے شروع کیے۔ بعد میں یہ سارے مضامین اور خطوط کتابی شکل میں شائع کیے گئے۔ اس انجمن کے اجلاسوں میں بی بی بے نظیر بھٹو سمیت بہت سے لوگ شریک ہوئے۔

جویو صاحب وہ اسکالر ہیں، قوم کو بنایا جاتا ہے ، مگر قوم کو قوم بنانے کا گر یا تکنیک کیا ہے، یہ جویو صاحب جانتے تھے، اور وہ یہ کہ فردا فردا افراد کو بنانا، انسانوں کو بنانا۔ ہماری نسلوں کو پتا ہونا چاہیے کہ ون یونٹ کے دور میں آپ کے گھروں کے پتے پر ”سندھ“ لکھنے پر پابندی تھی۔ اس صورت حال میں سندھ کی شناخت قائم رکھنے پر جن لوگوں نے کام کیا اس میں جویو صاحب بہت آگے رہے۔ جویو صاحب کے تین کارنامے ایک یہ کہ انہوں نے فردا فردا لوگوں پر کام کیا، بہت سے ادیب، شاعر، دانش ور ان کی بعد والی نسل میں انہوں نے دیے۔

دوسرا کارنامہ ان کی کتاب۔ ”Save Sindh Save Continent“ ہے۔ جو انہوں نے پاکستان بننے سے پہلے لکھی، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ آپ پاکستان بنائیں، لیکن سندھ تو ایک خوش حال زمین ہے، اس کا اپنا وزیر اعظم ہے، آپ سندھ دے تو رہے ہیں، یہ کیک بیک کر کے پلیٹ میں رکھ کر آپ پیش کر تو رہے ہیں، یہ ایسی زمین ہے جس کو ہندو اپر مڈل کلاس اور ایلیٹ کلاس جو کاروبار میں دنیا میں آگے ہے، ہم سب ایک ہیں، ہماری زبان ایک ہے، یہ چلے جائیں گے ہمیں نقصان ہو گا، ہماری تہذیب ایک ہے، مذہب کی بنیاد پر آپ انسانوں کو تقسیم نہیں کر سکتے ہیں، اسی طرح ہندوستان میں جس طرح تقسیم کیا گیا، ان پر جو گزری، وہ الگ سے ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے جس میں لاکھوں کی صورت میں بربادی ہوئی۔

جویو صاحب کی جو دوسری کتاب ہے وہ کمال دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں ہوا ہے کہ شاعری کو سامنے رکھ کر کسی دور کی تاریخ کو کیسے بیان کیا جاتا ہے، شاہ سچل اور سامی کو جس طرح انہوں نے سندھ کی تاریخ اور سندھ کے حالات کے پس منظر میں بیان کیا ہے یا شاہ سچل اور سامی کی شاعری کے پس منظر میں جس طرح سندھ کی تاریخ، سندھ کے حالات، سندھ کا کرب، سندھ کی مزاحمت کو بیان کیا ہے یہ ایسا تجربہ ہے جو آج تک کسی زبان میں نہیں کیا گیا ”۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مظہر جمیل صاحب نے ”جدید سندھی ادب کی ابتدا ہم سو ڈیڑھ سو برس سے کرتے ہیں یہی مدت جدید اردو ادب کی بھی ہے۔ جس طرح زبان کو ایک بہت مختصر مدت میں ایک پس ماندہ زبان کی جگہ سے اٹھا کے جدید ترقی پسند اور ترقی یافتہ زبانوں میں شامل کیا گیا۔ شاہ لطیف اور سچل سرمست کے بعد ایک سناٹا تھا۔ اس کے بعد جب جدید سندھی ادب کی تحریک شروع ہوئی تو اس نے اتنی تیز رفتاری سے ترقی کی کہ دنیا کی کئی زبانوں سے آگے نکل گئی یہ بڑی بات ہے۔ ان مشاہیر کو یاد کیا جاتا رہا ہے، آج کے اجلاس میں یاد کیا گیا اور ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔“

Facebook Comments HS