اولاد پیدا کرنے سے انکار
کیا آپ نے کبھی کسی بوڑھے اور بیمار جانور کو ویرانے میں مرتے دیکھا ہے۔ اب تو ہر طرف انسانوں کا جنگل پھیل کر ویرانوں کو کھا گیا ہے لیکن ہمارے بچپن میں جب ملک کی آبادی سات کروڑ سے بھی کم تھی تو بہت سے ویرانے نظر آتے تھے۔ بہت سی چیلیں اور گنجی گردن والے مردار خور گدھ ٹیلوں پر بیٹھے مل جاتے تھے۔
چیل اور گدھ زندہ اور صحت مند جانور کا شکار نہیں کرتا بلکہ بیمار اور مردہ جانور پر حملہ آور ہوتا ہے۔ بیمار جانور جب تک اس میں تھوڑی سی بھی ہمت ہوتی یہ اس کے قریب نہیں آتا۔ دور بیٹھا اس کو للچائی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے۔ جب بھی موت کے نشے کی وجہ سے جانور کو اونگھ آتی ہے تو یہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے۔ اس کی آنکھ کھلتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور دوبارہ اونگھ آنے پر اس بیکس کے جسم پر اپنی کثیف ٹھونگیں مارنے لگتا ہے۔
جاندار کا نشہ ہرن ہو جاتا ہے تو یہ پیچھے بھاگ جاتا ہے۔ لیکن موت کا نشہ ہی تو وہ نشہ ہے جو اترتا ہی نہیں بلکہ جوں جوں تکلیف بڑھتی ہے یہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جانور کی بے بسی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ اکثر جانوروں کا پیٹ پیٹھ میں دھنسا ہوا ہوتا ہے، گوشت کہیں نظر نہیں آتا تھا لیکن یہ گدھ اور چیلیں ان کے زخموں کو ہوس ناک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مکھیاں ان زخموں سے بہتی کراہت افزا پیپ، ناک منہ اور دوسروں سوراخوں کی خوف انگیز چپچپاہٹ پر پہلے ہی بھنبھنانا شروع کر دیتیں۔
چھوڑیں ان بد ہیئت پرندوں کی باتیں، شکر ہے کہ اب یہ کہیں نظر نہیں آتے۔ ہر طرف انسان ہی انسان ہیں۔ معاشرہ بھی کافی ترقی کر گیا ہے۔ جدید دور میں نئے نئے مسائل اور خوشیاں نظر آتی ہیں۔ گرچہ انسان کی فطرت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی لیکن پھر بھی کہیں کہیں ترقی نے اس پر اپنے کچھ اثرات دکھانے شروع کر دیے ہیں۔
انسان نے تہذیب کے سفر کا آغاز تقریباً دس ہزار سال پہلے کیا۔
یورپ کی ذہنی زندگی کی ترتیب و تصنیف یونان سے ہوئی ہے۔ اس دور کی کتابیں وہ صحیفے ہیں جن میں انسانی تہذیب کے ارتقا کی داستانیں رقم ہیں۔ یونان کا ادب ’ہومر‘ سے شروع ہوتا ہے۔ ’اوڈیسی‘ اس کا ایک ایسا رزمیہ ہے جس میں امرا و شرفا کی بلند قامتی کے ساتھ ان کی انتہائی اسفل حرکات بھی دکھائی دیتی ہیں۔
اس رزمیہ کا ہیرو اوڈیسس ٹرائے کی جنگ سے فاتح ہو کر واپس لوٹتا ہے تو ایک دیوی اس پر عاشق ہو کر قید کر لیتی ہے۔ وہ انسانی زندگی گزارنے کے لیے دیوتاؤں کی غیر فانی زندگی سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ دیوی کیپسلو کے ساتھ رہ کر امر ہو سکتا تھا لیکن اس کو اپنے بیٹے کے ساتھ جینا ہے اور اپنی بیوی کے ساتھ مرنا۔
ادھر گھر پر امرا و رؤسا قبضہ جما لیتے ہیں اور اس کی بیوی کو کسی ایک کے ساتھ شادی پر مجبور کرتے ہیں۔ اس موقع پر زیوس کی بیٹی ایتھینا دیوی بیٹے کا حوصلہ بڑھاتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ تمہارے بازووں میں طاقت ہے، تم ان حالات کا سامنا کرو۔ یہ رؤسا جو تمہارے باپ کی دولت اور بیوی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں انہیں اپنے گھر سے نکال دو۔ بیٹا آگے بڑھ کر سب لٹیروں کو اپنے گھر سے نکال باہر کرتا ہے اور خود ایک بادبانی جہاز میں باپ کو تلاش کرنے چل پڑتا ہے۔
چھوٹے بچے کو گود لینے کا رواج تو قدیم دور سے رہا ہے لیکن جوان لڑکے بلکہ بعض مرتبہ اپنی عمر سے بھی بڑے آدمی کو متبنیٰ بنانے کو رواج سلطنت روم میں ملتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ رومن سلطنت میں بچوں کی پیدائش کا تناسب بہت کم تھا۔ 18 قبل مسیح کے آگسٹس قیصر کو شرح پیدائش بڑھانے کے لیے کنوارے لوگوں اور بچہ نہ پیدا کرنے والے جوڑوں کو سزائیں دینے کا قانون بنانا پڑا۔ اس سے بہت پہلے چوتھی صدی قبل مسیح میں بھی ایسے قوانین بنائے گئے تھے۔
رومی دور میں ہر بڑے آدمی کو اپنی سیاسی وراثت اور دولت کو سنبھالنے والے کی کمی محسوس ہوتی تھی جس کے لیے وہ دیکھ بھال کر ایک سمجھدار اور مضبوط لڑکے کو متبنیٰ بنا لیتا تھا۔ اس کے دوسرا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ بچے کے ساتھ اس کے خاندان سے بھی ایک الحاق ہوجاتا جو کہ سیاسی طور پر مفید ہوتا تھا۔ متبنیٰ بنانے کے اس قانون کا اثر یہ ہوا کہ بہت سے رومی قیصر لے پالک بچے تھے۔
سلطنت رومہ کی تباہی کا ایک سبب مختلف ادوار میں پھیلنے والی بیماریوں کو بھی کہا جاتا ہے۔ ان وباؤں کا ملک کی معاشیات پر بہت برا اثر ہوتا تھا اور عام طور پر وراثت نا اہل لوگوں کے ہاتھ منتقل ہوجاتی جو کہ اسے سنبھالنے کی بجائے غلط استعمال کرتے۔
دولت، اور سیاست کو سنبھالنے کے لیے اولاد کتنی ضروری ہے اس کی ایک مثال چوتھی صدی عیسوی کے عظیم ایرانی بادشاہ شاپور دوئم کی ہے جس کی تاج پوشی اس وقت کی گئی جب ابھی وہ ماں کے پیٹ میں تھا۔
اولاد کی محبت تمام جانوروں میں پائی جاتی ہے لیکن انسان ان سے بہت آگے ہے کیونکہ اولاد میں اسے اپنا بچپن نظر آتا ہے اور وہ اپنی ساری عمر کی عزت و کمائی ان کے محفوظ ہاتھوں میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔
جب انسان نے مر ہی جانا ہے تو اسے ان باتوں کی فکر نہیں ہونی چاہیے لیکن کیا کریں کمزور پڑتے ہی دشمن اس کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
زبور کی آیات ہیں
”دیکھو! اولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے اور پیٹ کا پھل اس کی طرف سے اجر۔ جوانی کے فرزند ایسے ہیں جیسے زبردست کے ہاتھ میں تیر۔ خوش نصیب ہے وہ آدمی جس کا تر کش اس نے بھرا ہے۔ جب وہ اپنے دشمنوں سے عدالت میں باتیں کریں گے تو شرمندہ نہ ہوں گے ۔ ”
روسی مصنف فیودر دستوفیسکی نے کہا تھا بچوں کا ساتھ روح کو سلامت رکھتا ہے۔
کتاب امثال میں لکھا ہے بیٹوں کے بیٹے بوڑھوں کے لیے تاج ہیں۔
محترم ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی نے کچھ دن پہلے اپنے ایک کالم میں نانی اور دادی بنے کے شوق پر ایک مکالمہ لکھا ہے۔ محترم حامد یزدانی نے طوالت کے اندیشہ کے پیش نظر مذہبی یا تاریخی روایات اور لوک داستانوں کے حوالوں سے اجتناب کیا۔ میں نے مناسب سمجھا کہ ان سے کچھ حوالے دے دوں۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے کینیڈا اور دوسرے ترقی یافتہ ترقی یافتہ معاشروں میں شادی کے روایتی بندھن سے آزاد خاندان کے تصور کا ایک نقشہ پیش کیا ہے جس میں بچے پیدا کرنے سے انکار کو ایک حق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، ایک انتہائی مہذب و جدید معاشرہ کی چھوٹی سی حقیقت۔ بدقسمتی سے ہمارے حقائق ان سے بہت مختلف ہیں اور دردناک بھی۔
پکی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کسی امیر لیکن کمزور اور لاغر لاولد انسان کو بے بسی کی موت مرنے سے پہلے نہیں دیکھا ہو گا۔ وہ بے بسی جو موت آنے سے بہت پہلے کئی سال تک ایسے انسانوں پر چھا جاتی ہے۔ انسانیت کے اس دشت ویراں میں چیلیں اور گدھ ان کے گرد منڈلانا شروع کر دیتے ہیں۔ مکھیاں ان کے زخموں پر بھنبھنانے لگتی ہیں۔ میں انتہائی دکھ اور افسردگی میں یہ بھی لکھنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے ملک میں لاولد کے حالات تو انتہائی برے ہیں، ان سے بھی برے ان والدین کے ہیں جن کے پاس صرف لڑکیاں ہیں۔ ان کے بھائی بھتیجے بہت پہلے ہی ان کی جائیداد کو ہتھیانے کے لیے پر تولنا شروع کر دیتے ہیں، لڑکیوں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔
کینیڈا میں رہنے والوں نے تو یہ سوچا بھی نہیں ہو گا۔
ہاں! ہم روز دیکھتے ہیں ان کی زمین جائیداد عزازیل کے کتوں کی کمیں گاہ بن جاتی ہے اور مردار خور گنجے گدھ ان کے مرتے ہوئے جسموں میں اپنی کثیف ٹھونگیں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔
کیا آپ کو نانی اور دادی بننے کا شوق ہے؟


