اسلاموفوبیا کا ایک موثر علمی جواب


گزشتہ دو دہائیوں سے اسلامو فوبیا بہت زیادہ موضوع بحث رہنے والی اصطلاح کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس سے مراد مغرب میں اسلام یا مسلمانوں کے خلاف بلاجواز اور غیر معقول، خوف، نفرت اور تعصّب ہے۔ اہل ِ مغرب اسلاموفوبیا کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں جیسا کہ مسلمان بہت زیادہ مونولیتھکل یعنی بہت سخت گیر اور غیر لچکدار ہیں یہ نئے دور، نئی روایات اور جدید دور سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ دوسری وجہ ان کے نزدیک قدامت پرستی، حقوق نسواں کی عدم موجودگی اور اظہار رائے کی آزادی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کی روایات جدید دور کے انسان کے لیے ساز گار نہیں اس سے انسان اور معاشرے کی فکری بالیدگی ممکن نہیں۔

تیسری اور اہم وجہ یہ ہے کہ اسلام تشدد اور دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ اہل مغرب کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی وجہ سے Clash of Civilizationsکا خطرہ ہے۔ یہ ٹرم پہلی بار Samuel P۔ Huntington نے اپنی کتاب ”The Clash of Civilizations“ میں پیش کیا۔ اس کتاب میں کہا گیا کہ مستقبل قریب میں اسلام اور مغربی طاقتوں کا زبردست کلیش ہو گا جس کے نتیجے میں ہوئے والے قتل و غارت اور خون خرابے سے دنیا کے امن تہ و بالا ہو جائے گا۔

اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف لکھی جانے والی کتابیں بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں اس کے علاوہ یورپ اپنے اس پراپیگنڈے کو میڈیا کے ذریعے بھی تیزی اور موثر انداز میں پھیلا رہا ہے۔ میڈیا کے ذریعے مسلمانوں یا عربوں کو غیر مہذب، متشدد، قدامت پرست اور خواتین کے شیدائی دکھایا جاتا ہے۔ ایسی کچھ معروف فلمیں ”Jack Rayan“ ، ”15 : 17 Paris“ ، ”7 days in Entebbe“ اور ”Beirut“ ہیں۔ اسی طرح Islamist watch اور Jihad watch جیسی ویب سائٹس بھی اس پراپیگنڈے میں پیش پیش ہیں۔

اس طرح اس فوبیا کے نتیجے میں یورپ میں جو فضا قائم بنی وہ مسلمانوں کے لیے نہایت ناسازگار ہے۔ بالخصوص نائن الیون کے بعد امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں اس رویے میں بہت شدت آئی۔ ان ممالک میں مسلمانوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے، ان کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں امتیازی سلوک ہونے لگا۔ یہاں تک کے 15 مارچ کو اقوام متحدہ نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے عالمی دن قرار دے دیا۔ بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے تدارک کے بحیثیت مسلمان ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟ کیا اسلاموفوبیا کے خلاف مذمتی بیان دینا کافی ہے یا کی بورڈ وارئیر بن کر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ڈی پی بدل لینا اس مسئلے کا حل ہے؟ یا اس کے برعکس شدت پسندانہ کارروائیاں اسلاموفوبیا کو ختم کر سکتی ہیں؟ ان سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جدید دنیا میں جنگیں میزائل اور توپ سے نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق اور منطق سے لڑی جاتی ہے جو ہمارے معاشرے میں مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ اسلاموفوبیا کا جواب علم اور تحقیق کے ذریعے زیادہ موثر انداز میں دیا جاسکتا ہے۔ سر سید احمد خان کی ”خطبات احمدیہ“ ایک روشن مثال کی طرح ہمارے سامنے موجود ہے جس میں ذات اقدس ﷺ پر لگائے جانے والے الزامات کا علمی جواب پیش کیا گیا۔ یہ بھی ایک حیرت انگیز اور خوشگوار حقیقت ہے کہ عصر حاضر میں اسلاموفوبیا کے خلاف ایک موثر اور علمی جواب ایک عیسائی مذہبی سکالر کیرن آرمسٹرانگ نے ”“ Muhammad: A Prophet for our Times کی صورت پیش کیا۔

کیرن آرمسٹرانگ 1944 ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ مسیحیت کی پیروکار ہیں بلکہ انہوں نے کیتھولک نن کی حیثیت سے اپنی زندگی کے کئی سال گزارے۔ بعد ازاں وہ انگریزی زبان و ادب کی استاد بننے کی خواہشمند تھی اسی مقصد کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ بی بی سی چینل فور کے لیے ایک ڈاکومینٹری بناتے ہوئے انہیں مذاہب بالخصوص سامی مذاہب میں خصوصی دلچسپی پیدا ہوئی۔ ان مذاہب کے حوالے سے ان کی بیس سے زیادہ کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔

ان کی دیگر معروف کتابوں میں ”A History of God“ ، ”Islam a short History“ ، ”Buddha“ ، ”A shorty history of Myth“ ، ”The Battle for God“ ، ”Jerusalem:One City Three Faiths“ ، ”The Gospel according to women“ ، ”Angel Eyes: Releasing Fears and Following Your Soul Path“ شامل ہیں۔ انہیں مذہبی موضوعات کے حوالے سے سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مصنفہ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی تصانیف نے مذاہب (عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور اسلام) کا ایسا مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ان مذاہب کے ماننے والوں میں رواداری اور ہم آہنگی اور قربت پیدا ہو۔

کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب ”Muhammad: A Prophet for our Times“ 2006 میں اس وقت شائع ہوئی جب نائن الیون کے بعد یورپ میں اسلاموفوبیا اپنے عروج پر تھا۔ اس کتاب میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی سیرت کو موضوع گفتگو بنا کر اسلام کا ایک درست اور سافٹ امیج بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیرن اس سے پہلے بھی آپ کی سیرت پر ایک کتاب وہ ”Muhammad: A Biography of Prophet“ ”1991 میں تحریر کر چکی ہیں۔“ Muhammad: A Prophet for our Times ”کے دیباچے میں تحریر کرتی ہیں :

”In the wake of September 11, we need to focus on other aspects of Muhammad ’s life. So that is a completely new and entirely different book, which, I hope, will speak more directly to the terrifying realities of our post-September 11 world.“ ( P 6)

وہ مزید لکھتی ہیں :

”His Life was a tireless campaign against greed, injustices and ignorance. He realized that Arabia was at a turning point that the old way of thinking would no longer suffice, so he wore himself out in the creative effort to evolve an entirely new solution. We entered in another era of History on September 11, and must strive with equal intensity to develop a different outlook.“ (P 6)

وہ اسلاموفوبیا کا تعلق نائن الیون کی بجائے صلیبی جنگوں سے جوڑتی ہیں اور اس کتاب میں اہل مشرق اور اہل مغرب دونوں کو شدت پسندی چھوڑ کر با ہم مل کر رواداری کے ساتھ نئے دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

”If we are avoid catastrophe, the Muslim and western worlds must learn not merely to tolerate but to appreciate one another“

وہ اس کتاب کو پانچ ابواب (مکہ، جاہلیہ، ہجرہ، جہاد اور سلام) میں منقسم کرتی ہیں۔ باب اول میں ساتویں صدی کے اوائل میں عرب کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس عرب کے نقشہ جات بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ باب کے پہلے حصے میں مکہ کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور جذباتی حالت کا بیان کیا گیا ہے۔ عربوں کی مہم جوئی، اشتعال انگیزی اور تفاخر کا حوالوں کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں حضرت محمد ﷺ کے قبیلے بنو قریش کے احوال اور آپ ﷺ ولادت اور ابتدائی زندگی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں :

”Muhammad was born into the clan of Hashim, one of the most distinguished family groups in Mecca. His grandfather has been the first merchant to engage in independent trade with Syria and Yamen and the Clan had the privilege of providing the pilgrims with water during the Hujj, one of the most important offices in the city.“ (P23)

دوسرے باب ”Jahiliyyah“ میں وہ عرب کی اخلاقی پستی، مذہب، نسلی تفاخر، طبقاتی استحصال کا حوالہ جات کے ساتھ مفصل انداز میں بیان کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں نبوت کے اعلان کے بعد آپ ﷺ پر آنے والے مشکلات، سختیوں اور مخالفتوں کا بیان بھی اس باب کا حصہ ہے۔ آپ ﷺ نے بعثت سے پہلے اور بعد میں ذاتی رنجشوں، تعصب اور نسلی تفاخر کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی۔ بلکہ اپنی ذات اور انا کو خدا کی رضا اور اطاعت میں ضم کر دیا اور تقوی کا نظریہ پیش کیا اور جنگ و جدل اور خون خرابے کی بجائے انسان دوستی کو فروغ دیا۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کو Religion of Success کے طور پیش کیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی وہ زمانہ ہے جب عرب میں تہذیب کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں اور یورپ میں یہ دور ڈارک ایجز سے عبارت ہے۔ آپ ﷺ نے یہ کام حِلم اور عِلم کے ذریعے کیا۔

باب سوم ”Hijrah“ میں ہجرت کے اسباب و محرکات کا تفصیلی بیان ہے۔ علاوہ ازیں حضرت ابو طالب کے بعد قبیلے کی سیادت، شعب ابی طالب کے محصور و مجبور حالات، طائف کا سفر اور واپسی، ہجرت اور مواخات اس باب میں تفصیل سے پیش کیے گئے ہیں۔ مصنفہ آپ ﷺ کے کثرت ازدواج کا بھی اس باب میں تذکرہ کرتی ہیں اور مغرب کے اس پراپیگنڈے کا جواب دیتی ہیں جو حضور ﷺ کی کثرت ازدواج کو لے کر کیا جاتا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں :

”These marriages were not romantic or sexual love affairs but were undertaken largely for Practical ends…Muhammad ’s marriages usually had a political aim. He was starting to establish an entirely different kind of clan, based on ideology rather than kinship, but the blood tie was still a scared value and helped to cement this experimental community. (P 93)“

حقوق نسواں کی ذیل میں کیرن آرمسٹرانگ کا کہنا ہے :

The Qur ’an was attempting to give women a legal status that most Western women would not enjoy until the nineteenth century. The emancipation of women was a project dear to the Prophet‘ s heart, but it was resolutely opposed by many men in the ummah, in- cluding some of his closest companions. (P 135)

باب چہارم ”جہاد“ میں ہجرت مدینہ کے بعد ایک اسلامی ریاست کی تشکیلی ڈھانچہ بیان کیا گیا ہے۔ بعد ازاں غزوہ بدر کے اسباب اور اس غزوہ کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔ کیرن آرمسٹرانگ کے مطابق:

War was always a terrible evil, but it was sometimes necessary in order to preserve decent values, such as freedom ofworship. Even here, the Qur ’an did not abandon its pluralism: synagogues and churches as well as mosques should be protected. (116)

غزوہ کے بعد جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک، آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی وفات، حضرت کلثومؓ کا حضرت عثمان ؓکے ساتھ نکاح، بنو قینقاع اور بنو نضیر کی ملک بدری اور دیگر غزوات (غزوہ احد، غزوہ خندق) اور آپ ﷺ کی زندگی کے واقعات کو زمانی ترتیب سے اس باب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

آخری باب یعنی باب پنجم ”سلام“ کا آغاز منافقین کے کارروائیوں کے بیان سے ہوتا ہے۔ جس طرح منافقین نے آپ ﷺ اور کی ازدواج مطہرات کو تنگ کیا اور نامناسب الزامات لگائے وہ اس باب کا حصہ ہیں۔ حضرت عائشہؓ پر الزامات اور آپ کی بے گناہی پر وحی کا آنا اور منافقین کی اسلام کو کمزور کرنے کی دیگر سازشیں اس باب کا متن ہیں۔ بعد ازاں صلح حدیبیہ اور اس کی حکمتیں، فتح خیبر، اسلام کا پھیلاؤ اور طاقت اور آپ ﷺ کے وصال اس باب کے ضمنی موضوعات ہیں۔ کتاب کا اختتام کیرن آرمسٹرانگ ان الفاظ کے ساتھ کرتی ہیں :

”A good place to start is with the figure of Muhammad: a complex man, who resists facile, ideologically driven categorization, who sometimes did things that were difficult or impossible for us to accept, but who had profound genius and founded a religion and cultural tradition that was not based on the sword but whose name—“ Islam ”—signified peace and reconciliation“ (P202)

240 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں اسلامی تاریخ اور آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کا جائزہ تحقیق کی روشنی میں غیر متعصب اور غیر جانبدارانہ انداز سے لیا ہے۔ کتاب میں قرآن و حدیث اور سیرت کی کئی معتبر کتابوں سے جابجا حوالہ جات موجود ہیں۔ ان کا رویہ اور اسلوب جارحانہ ہونے کی بجائے شائستہ، فلسفیانہ اور محققانہ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ آنے والی نسلوں کو نئی صلیبی جنگوں سے بچانا ہے تو ہمیں مذاہب کا مطالعہ تحقیقی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔

رواداری کو فروغ دینا ہو گا اور اسلام کی ریاست مدینہ کی بنیاد ہی رواداری پر تھی۔ اس سے پہلے حکمران یا بادشاہ کا مذہب ہی عوام کا مذہب ہوتا ہے۔ One Faith، One Law One King کا اصول اپنایا جاتا تھا۔ یہ اسلامی ریاست ہی تھی جس میں عوام کو جبرا ً حاکم کے دین میں شامل نہیں کیا گیا۔ مدینہ کے یہودیوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے اس بیانیہ کا رد بھی اس کتاب میں پیش کیا کہ اسلام تلوار کے زو ر پر پھیلا، ان کا کہنا ہے کہ اسلام اپنی خوبصورت اقدار اور انسان دوست رویوں کی وجہ سے پھیلا۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments