کیا بارہ سالہ فلک نور کی شادی اغوا کار کے ساتھ درست ہے؟


View post

چیف کورٹ گلگت بلتستان کے حکم پر بارہ سالہ فلک نور سترہ سالہ اغوا کار فرید عالم کے ساتھ بھیج دی گئی جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے فلک نور کے ساتھ شادی کی ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلک نور کو اڑھائی مہینے نے پہلے اغوا کیا گیا تھا۔ مگراس نے عدالت میں بیان دیا کہ اس نے فرید عالم سے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔ فلک کو دارالامان میں صرف پانچ دن رکھا گیا جہاں اسے کسی قسم کی نفسیاتی مدد مہیا نہیں کی گئی۔ ممکنہ طور پر وہ جذباتی طور پر مستحکم نہیں تھی اور انسانی حقوق کے کارکن جو عدالتی کارروائی میں موجود تھے ان کے مطابق وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصے میں آ رہی تھی۔ وہ پوری طرح سے اغوا کاروں کے زیر اثر تھی۔ نتیجتاً اس نے فرید عالم کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ چیف کورٹ نے اے ایس پی گلگت کو یہ حکم دیا کہ فلک کو بحفاظت وہاں پہنچا دیا جائے جہاں وہ جانا چاہتی ہے۔

یہ ایک پریشان کن عدالتی فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے ان لوگوں میں خوف اور مایوسی پیدا ہوئی جو کم سنی کی شادیوں پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نہایت منفی طبی، سماجی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ باشعور شہری تو اس بات کی ایڈووکیسی کر رہے ہیں کہ لڑکی اور لڑکے کی شادی کی عمر میں تفاوت پورے ملک میں ختم کیا جائے اور قانون پر عمل درآمد کے لئے نکاح کو قومی شناختی کارڈ کے حصول سے مشروط کر دیا جائے۔ حد یہ کہ ماضی قریب میں اسلام آباد، سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے بچپن کی شادیوں کی حوصلہ شکنی پر دلالت کرتے ہوئے کئی فیصلے جاری کیے ہیں۔ فلک کیس گلگت بلتستان میں بچوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی ایک منفی تصویر پیش کرتا ہے۔

فلک نور کا کیس پچھلے کچھ عرصے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کر رہا تھا۔ اس کے گھر سے غائب ہونے کے بعد اس کے والد نے ملزم فرید عالم اور اس کے مددگاروں کے خلاف فلک نور کو حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست جمع کروائی۔ قانونی کاغذات کے مطابق فلک نور کی عمر بارہ سال ہے۔ عدالت نے نادرا کے سرکاری فارم اور ہسپتال کے پیدایش کے سرٹیفکیٹ کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر نظر انداز کردیا۔ عدالتی حکم پر جب فلک نور کا طبی معائنہ کروایا گیا تو میڈیکل بورڈ کے مطابق اس کی عمر تیرہ سے سولہ سال کے درمیان ہے۔

کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان (HRCP) کے ریجنل کوآرڈینیٹر اسرار الدین اسرار کے مطابق ”عدالت نے ملزم فریق کا ساتھ دیا ہے۔ عدالت کو بچی کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ قانونی عمر تک پہنچ کر ہی شادی کر سکتی ہے تب تک وہ دارالامان میں رہے لیکن اس نے تو بچی کو اغوا کرنے والے کے ساتھ بھیج دیا“ ۔ اسرار کی باتوں میں سول سوسائٹی کے خیالات کی باز گشت تھی جو کچھ دنوں سے احتجاج کر رہی تھی کہ فلک نور کو بازیاب کیا جائے اور اس کے والدین تک پہنچایا جائے۔

ریٹائرڈ جسٹس ناصرہ جاوید اقبال نے چیف کورٹ کے فیصلے پر رائے دیتے ہوئے کہا، ”گلگت کی عدالت کا یہ جلدبازی کا فیصلہ افسوسناک ہے۔ انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ فلک نور اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ درست فیصلہ کر سکے۔ وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ عدالت نے اسے نام نہاد شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جو خود ایک بچہ ہے، جسے در حقیقت ایک سر پرست کی ضرورت ہے“۔ ماہر حقوق اطفال، ایڈووکیٹ سید مقداد مہدی کے مطابق چیف کورٹ کا یہ فیصلہ واضح طور پر بچوں کے بہترین مفاد اور بچوں کے حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔ چیف کورٹ میں اس کیس کا ٹرائل دعا زہرہ کیس کی طرز پر ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ججز ایسے فیصلے سناتے ہیں اور میرے اپنے ایک کیس میں لاہور میں ایک بچی کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔

ایک کم سن بچی کی شادی کے لئے رضامندی کی قومی اور بین الاقوامی قانون میں کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی معاہدہ برائے حقوق اطفال کے مطابق بارہ سالہ بچی اور سترہ سالہ بچے کی رضامندی، باخبر رضامندی نہیں ہے۔ یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی کنونشنز جیسا کہ معاہدہ برائے حقوق اطفال (UNCRC) اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کا معاہدہ (CEDAW) پر عمل درآمد کیا جائے جہاں شادی کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ اقوام متحدہ کے پائے دار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے تحت پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک نے سال 2030 تک اٹھارہ سال سے کم عمر شادیوں کی ممانعت کا وعدہ کیا ہے۔ پاکستان قومی قوانین کو توثیق شدہ معاہدوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور ان قوانین کو نافذ کرنے کا پابند ہے۔

گلگت بلتستان میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے کوئی قانون نہیں لیکن تکنیکی طور پر یہاں قومی قانون لاگو ہے جس کے مطابق لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر سولہ سال اور لڑکے کی اٹھارہ سال ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بچپن کی شادی کی روک تھام صوبائی موضوع ہے۔ صوبہ سندھ کے علاوہ ملک کے کسی بھی حصے میں لڑکی کی شادی کی عمر اٹھارہ سال نہیں ہے۔ پنجاب میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015 اب بھی لڑکیوں کی سولہ سال کی عمر میں اجازت دیتا ہے جبکہ لڑکوں کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے 9 اپریل کو پنجاب گورنمنٹ کو حکم دیا ہے کہ پندرہ دن کے اندر اندر عمر میں یہ امتیاز ختم کیا جائے کیونکہ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں وفاقی قانون کی طرح لڑکے کی عمر اٹھارہ اور لڑکی کی عمر سولہ سال ہے۔

جبری تبدیلی مذہب اور شادی کے مقدمات کے حوالے سے بھی ملکی عدالتوں نے اکثر تعصب اور جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ 4 اگست 2020 کو لاہور ہائی کورٹ میں معزز جج راجہ شاہد عباسی نے مائرہ شہباز کی شادی کی جعلی دستاویزات دیکھتے ہوئے کہا، ”ہمارے دادا، دادی اور والدین کی ایسے وقت میں شادی ہوئی جب کوئی میرج سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا تھا لیکن ان کی شادیوں کو جائز سمجھا گیا“ ۔ اس کے بعد عدالت نے اغوا کار نقاش طارق کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا لہٰذا مائرہ کو اس کے نام نہاد شوہر کے حوالے کر دیا گیا۔

تاہم اس فیصلے کے پانچ دن بعد مائرہ نام نہاد شوہر کے گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے 28 اپریل کو فیصل آباد سے اغوا کیا گیا اور ایک تہہ خانے میں قید میں رکھا گیا۔ اس نے بیان دیا کہ نقاش سے شادی کرنے کے لئے اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے سے پہلے اس کے اغوا کاروں نے اسے نشہ آور مواد پلایا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ امتیازی قوانین اور معاشرتی تعصبات کے ساتھ جبری تبدیلی مذہب ملک میں مذہبی اقلیتوں کی زندگی کو مزید دکھی بنا دیتی ہے۔ جب بھی کم سن بچیاں اغوا کر کے جبری تبدیلی مذہب اور شادی کے واقعات سامنے آتے ہیں تو نا تو چرچ کا سرٹیفکیٹ، نا سکول کا اور نا ہی حکومتی نادرا کا ریکارڈ تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ طبی معائنے پر انحصار کیا جاتا ہے جس میں ہیر پھیر کیا جا سکے۔

بچپن کی شادی اور اس سے متعلقہ جرائم کو روکنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر قانونی، پالیسی اور انتظامی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ پورے ملک میں لڑکے اور لڑکی کی شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر ہونی چاہیے۔ اس کی خلاف ورزی قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل راضی نامہ جرم ہونا چاہیے۔ شکایت کا عمل آسان ہونا چاہیے۔ بچپن کی شادی کے مقدمات کی رپورٹنگ، تفتیش، پراسیکیوشن کے دوران ملوث ریاستی اور سرکاری اہل کار (ججز، پولیس، میڈیکل افسر وغیرہ) کو انصاف فراہم کرنے کے لئے قانون میں موجود تحفظات کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہیں ایسے معاملات پر حساس ہونا چاہیے اور اپنی پوری ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے۔ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے والے اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا۔ متاثر بچوں کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا تحفظ، رازداری، صدمے سے نجات اور قانونی عمل میں منصفانہ شرکت کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مضبوط قوانین بنانے اور ان کے نفاذ کی حمایت اور وکالت کرنی چاہیے۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کو اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہی اور مناسب پالیسی سفارشات پیش کرنی چاہیے۔

فلک نور اور اس جیسی کم سن بچیوں کی محفوظ گھر واپسی تک ہمیں اس کے لئے آواز اٹھاتے رہنا ہے۔ اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے ماں باپ کو مزید احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پیڈوفیلیا کا شکار نہ ہوں۔ شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کے بارے میں آگاہی دینے کے لئے ایک مہم چلائی جائے۔ عام لوگوں کو بچپن کی شادی کے نقصانات اور خرابیوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ انھیں کم سنی کی شادی اور متعلقہ جرائم سے متعلق تعزیری قوانین سے آگاہ ہونا چاہیے۔ معاشرے میں تمام شہریوں کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا ہو گا۔ اگر ہم اپنی بچیوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں مجرمانہ ترغیب سے تیار کردہ جعلی نکاح نامے رد کرنے ہوں گے۔ نکاح خوانوں کی ذہن سازی کی ضرورت ہے کہ وہ فریقین کے نکاح کی قانونی عمر کو پہنچنے سے پہلے ان کا نکاح نہیں پڑھیں۔ بچپن کی شادی سے نمٹنے کے لئے ہر بچے خاص طور پر لڑکیوں کے لئے تعلیم ضروری ہے۔ اس سے ہماری آئندہ نسلوں کو خوشحال ملک میں صحتمند، بہتر اور بھرپور زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments