بڑے لوگوں کا بچپن: باتیں رضیہ فصیح احمد سے


ویسے تو اردو ادب کی لیجنڈ، ”آبلہ پا“ ناول آدم جی پرائز یافتہ، رضیہ فصیح احمد، جنہیں میں رضیہ آپا کہتی ہوں، میری زندگی میں ابتدائی لڑکپن سے ہی داخل ہو چکی تھیں لیکن صرف اپنی تحریروں کے حوالے سے۔ خوش قسمتی سے اب وہ باقاعدہ میری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ عمر کے فرق پہ مت جائیے گا۔ ہم دونوں ہی امریکہ نقل مکانی کے تجربے سے آشنا ہوئے اور ہم مزاج لوگوں کے متلاشی رہے ہیں۔ اسی تلاش نے ہمیں باہم جوڑ کے با اعتماد، بے تکلف، پرخلوص دوستی اور محبت کا تحفہ دیا۔ وہ شکاگو اور میں ڈیٹرائیٹ میں ہوں۔ لیکن جب دل ایک ہوں تو ان فاصلوں کی بھلا کیا حیثیت۔ تقریباً نوے سال کی عمر میں بھی رضیہ آپا کی طبیعت، آواز، لب و لہجہ میں وہ تر و تازگی، رجائیت اور تجسس ہے کہ لطف آ جائے۔ ہم دونوں کی مشترکہ حس ظرافت کی وجہ سے اکثر ہی فون پہ ہمارے قہقہے بلند ہوتے رہتے ہیں۔ آج کل وہ اپنی فوٹوگرافک یاداشت کے کچھ کم ہونے پہ شاکی سی ہیں۔ لیکن بچپن کی یادیں ایسے ہی تازہ ہیں جیسے کل کی بات ہو۔

سوانح عمری میں میری دلچسپی پرانی ہے۔ خاص کر بچپن سے۔ لہٰذا ہم نے سوچا کہ اکیس کتابوں کی مصنفہ کے بچپن سے آپ کی بھی ملاقات کروا دی جائے۔ جو آپ ان کی زبانی سنیے۔

”میرے والد کا نام وقیع احمد اور والدہ کا نام نفیس تھا۔ میری پیدائش پہلی ستمبر 1934 ء کی ہے۔ ہمارا آبائی شہر مراد آباد تھا، جہاں ہمارے دادا، دادی، نانا، نانی رہتے تھے۔ ہمارے والدین کے گھر بارہ بچوں نے جنم لیا۔ ابا ریلوے کے انجینئرنگ کے شعبہ میں کام کرتے تھے۔ ملازمت کی وجہ سے ہم چھوٹے چھوٹے شہروں میں رہتے جہاں میڈیکل کی مناسب سہولیات نہ ہوتیں تھیں۔ امی کا وتیرہ یہ تھا کہ جب بھی بچہ ہونے والا ہوتا وہ اپنی اماں کے گھر چلی جاتیں۔ ننھیال کا بڑا سا گھر تھا۔ ہر اولاد کے لیے حصہ مختص تھا۔ امی کے ساتھ ہم سب بہن بھائی بھی نانا کے گھر چلے جاتے۔ ہماری خالائیں ہمیں بہت پیار سے سنبھالتیں۔ انہی کے پاس سو بھی جاتے۔ خاص کر ولادت والے دن۔ امی کے بچے آسانی سے پیدا ہو جاتے تھے کہ ان کے جسم کو بچہ پیدا کرنے کی عادت ہو گئی تھی۔ بچوں کو سنبھالنا مشکل تو تھا لیکن پھر جو بچے بڑے ہوتے جاتے ان کے اوپر چھوٹے بچوں کی ذمہ داری آجاتی۔

ہمارے سر اپنے چھوٹے بھائی نعیم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تھی۔ جس کی حفاظت کے لیے چاروں طرف تکیے لگا کے ہم بے فکری سے اپنی کتاب پڑھتے۔

چار پانچ سال کی عمر میں ہمیں الور ریاست کے ایک اسکول میں کے۔ جی میں داخل کیا گیا۔ اب خواب کی طرح اتنا یاد ہے کہ اسکول کی ایک تقریب میں جب وہاں کے راجہ صاحب اسکول معائنہ کے لیے آئے تھے تو ان کے گلے میں ہار ڈالنے کے لیے ہمیں چنا گیا۔ سب کا کہنا تھا کہ ہم خوبصورت بہت ہیں۔ ہار کو پہننے کے لیے راجہ صاحب نے ہمارے سامنے اپنا سر جھکایا تھا۔ بعد میں سب نے ہمارا بہت مذاق اڑایا کہ ہم نے راجہ صاحب کا سر اپنے سامنے جھکوا دیا۔ بلکہ ہمارا نام ہی ”راجہ جی“ رکھ دیا تھا۔ ہم نے وہاں صرف ابتدائی کلاس ہی کی۔

والد کے تبادلے جلدی جلدی مختلف چھوٹے شہروں میں ہوتے رہتے تھے۔ ہمارے بڑے اور منجھلے تایا کو فکر رہتی تھی کہ اس طرح بچوں کی پڑھائی کا ہرج ہو گا۔ دونوں ابا کو اولادوں کی طرح چاہتے تھے کیونکہ ہمارے دادا کا ابا کی کم عمری میں انتقال ہو گیا تھا۔ اسی فکر میں میرٹھ میں تایا شفیع احمد نے تین بڑے بچوں کو اپنے پاس بلا لیا۔ وہ خود میرٹھ کالج کے پروفیسر تھے۔ میرٹھ میں ہمارا ”اسماعیل میرٹھی اسکول“ میں تیسری جماعت میں داخلہ ہوا۔ اس اسکول کو اسماعیل میرٹھی نے کھلوایا تھا۔ جو لڑکیوں کی تعلیم کے متمنی تھے۔ اس وقت ہماری عمر آٹھ سال کی تھی۔ اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسکول لائبریری سے کتاب لی جس کا نام تھا ”صبح کے چند گھنٹے“ سوچا کہانیاں ہوں گی۔ مگر وہ تو ورزش کی کتاب نکلی۔ بہت مایوسی ہوئی۔

بڑی بہن مجھ سے سات سال بڑی تھیں اور ہمیشہ رعب جھاڑتی تھیں۔ لہٰذا ہم اپنے سے تین سال بڑے بھائی کے ساتھ کھیلتے رہتے۔ جو وہ کرتے ہم بھی کرتے۔ وہ اگر اوپر سے کود رہے ہیں تو ہم بھی جمپ لگا دیتے۔ وہ درخت پہ چڑھتے تو ہم بھی چڑھنے کی کوشش کرتے۔ ان کی نقل میں تیز دوڑتے۔ کھیل کود سے دلچسپی کی وجہ سے اپنے حلیہ پہ کوئی توجہ نہ تھی۔ بالوں کی دو چوٹیاں ہمیشہ کھل جاتیں۔ ایک دن اسی کھیل میں اسکول واپسی کی بس نکل گئی پتہ نہیں چلا۔ اسکول خالی ہو گیا اور ہم بس کا انتظار کرتے رہ گئے۔ وہ تو سلائی کی ٹیچر نے دیکھ لیا تو ساتھ رکھ لیا۔ اس کے بعد تایا زاد بھائی سائیکل پہ واپس لے گئے۔ پھر اس سال جب ہم میرٹھ سے واپس گھر گئے تو دیکھا کہ اپنے اوپر تلے کی چھوٹی بہن ذکیہ نہیں ہے۔ ہم نے پوچھا ”ذکیہ کہاں ہے؟“ جواب ملا وہ تو آسمان پہ ہے۔ میں دنوں تک آسمان کو تکتی رہتی کہ شاید وہ کہیں سے جھانک لے اور اس کا چہرہ نظر آ جائے۔ کافی بعد میں سمجھ آئی کہ اس کا تو ٹائفائیڈ میں انتقال ہو گیا تھا۔ ویسے ہمارے یہاں دستور تھا کہ خوشی اور غم میں چپ سادھ لیتے تھے۔ وہی بات سبھوں میں آئی کہ کسی سے کوئی اظہار نہیں کرتا ہے۔ والدہ کو تو فرصت ہی نہیں ملتی تھی کہ وہ سب کو دیکھیں۔ بعد میں، میں نے اپنا پہلا افسانہ ”ناتمام تصویر“ بہن کی موت پہ لکھا۔ جو رسالہ ”عصمت“ میں چھپا۔ ہم تین بہن بھائی تعلیم کے لیے منجھلے تایا کے گھر رہے لہٰذا امی سے ویسی بے تکلفی کبھی نہ ہو سکی جو دوسری چھوٹی بہنوں کی ان سے تھی۔ وہ فرمائشیں کرتیں، ضدیں کر کے باتیں منوا لیتیں لیکن ہم کو کبھی کچھ ضد کر کے مانگنے کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر ابا کی ریلوے میں ملازمت کی وجہ سے دوستیاں نہیں بن پاتیں۔ کسی سے دوستی ہوتی تو ابا کا تبادلہ ہو جاتا۔ اس طرح میں تنہائی کا شکار رہی۔

میرٹھ گئے تو اس دوران ابا کا تبادلہ راج گڑھ میں ہو گیا۔ جہاں آم اور مور بہت ہوتے تھے۔ مور اتنے ہوتے تھے کہ ہمارے گھر تک آ جاتے۔ اور ہم ان کے رقص دیکھتے، پکڑنے کی بھی کوشش کرتے اور ان کے گرے ہوئے خوبصورت رنگوں والے پروں کو جمع کرتے۔

یہاں بھی کوئی مناسب تعلیم کا انتظام نہیں تھا۔ اس دفعہ ہمارے منجھلے تایا نے ہم بڑے تین بہن بھائیوں کو اپنے گھر بلوا لیا۔ وہ جودھ پور میں رہتے تھے۔ وہاں ایک بہت اچھا اسکول ”دربار ہائی اسکول“ تھا۔ جو وہاں کے ہندو راجہ نے قائم کیا تھا۔ وہ انگلینڈ پلٹ اور لڑکیوں کی تعلیم کے بہت خواہاں تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنا محل دان دیا۔ اس محل کا ہال ہی اتنا بڑا تھا کہ ہماری ریسنگ ہوتی تھی۔ اس کی دیواروں پہ شاندار پینٹنگز لگی ہوئی تھیں۔ محل کے احاطے میں ایک تالاب تھا جسے میں اکثر کلاس روم کی کھڑکی سے دیکھتی رہتی تھی۔ تعلیم اور ٹرانسپورٹ سب مفت ہونے کے ساتھ اسپورٹس اور بہترین تعلیم کا انتظام تھا۔ راجہ صاحب نے دلی، دکن اور لکھنؤ سے ایم اے کی تعلیمی سطح کی اساتذہ رکھی تھیں۔ ہیڈ مسٹریس بھی انگلینڈ سے تعلیم یافتہ ساؤتھ انڈین خاتون تھیں۔ یہاں ہم ہر کلاس میں فرسٹ آتے اور ہر اسپورٹس مثلاً لونگ جمپ، شارٹ جمپ، ریسنگ اور بیڈمنٹن میں انعام لیتے۔ بیڈ منٹن میں میرے شاٹس کو کوئی نہیں اٹھا پاتا۔ اس طرح میں تین سال اسکول میں ٹرافی جیت کے لائی۔ اب سوچتی ہوں کہ جانے کون سا کمپلکس تھا جو مجھے ہر وقت اپنے آپ کو منوانے پہ تلا رہتا تھا اور میں ہر کام میں ”نمبر ون“ کی خواہشمند رہتی تھی۔ ہار ماننا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔

جودھ پور کے ”دربار ہائی اسکول“ کی لائبریری سے انگریزی کی کتابیں لے کر پڑھتی۔ اس پر بہن بھائی اور کزنز مذاق اڑاتے کہ ہم پہ رعب ڈال رہی ہیں۔ ہم تو پڑھ نہیں پاتے انگریزی کی یہ کتابیں، یہ کیسے پڑھ رہی ہیں۔ یہ کتاب میں نشانی لگاتی ہیں اور پھر بغیر پڑھے آگے نشان لگا دیتی ہیں۔ تاکہ لگے کہ واقعی پڑھ رہی ہیں۔ وہ میرا خوب مذاق اڑاتے۔ خوب قہقہے لگاتے اور میں چڑ کے کہتی ”آپ کو کیا میں پڑھوں یا نہ پڑھوں۔“ یہ بھی ہے کہ میں تھوڑی موٹی اور پڑھنے کی ازحد شوقین تھی۔ حالانکہ میں اسپورٹس اور ہر کلاس میں فرسٹ آتی تھی، پھر بھی سب مجھے بے وقوف ہی سمجھتے تھے۔

1947ء میں پاکستان بن گیا۔ مگر ہم ابھی ہندوستان ہی میں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ریلوے انسٹیٹیوٹ کی طرف سے آزادی کی خوشی میں ایک فنکشن تھا ہم بھی وہاں گئے اور کوئی مقابلہ بھی جیتا مگر انعام نہیں ملا۔ ہم نے ابا سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا ”نام رضیہ تھا، کیسے ملتا؟“ میرٹھ گئے تو اس دوران ابا کا تبادلہ راج گڑھ میں ہو گیا۔ جہاں آم اور مور بہت ہوتے تھے۔ مور اتنے ہوتے تھے کہ ہمارے گھر تک آ جاتے۔ اور ہم ان کے رقص دیکھتے، پکڑنے کی بھی کوشش کرتے اور ان کے گرے ہوئے خوبصورت رنگوں والے پروں کو جمع کرتے۔

جودھ پور کے ”دربار ہائی اسکول“ کی لائبریری سے انگریزی کی کتابیں لے کر پڑھتی۔ اس پر بہن بھائی اور کزنز مذاق اڑاتے کہ ہم پہ رعب ڈال رہی ہیں۔ ہم تو پڑھ نہیں پاتے انگریزی کی یہ کتابیں، یہ کیسے پڑھ رہی ہیں۔ یہ کتاب میں نشانی لگاتی ہیں اور پھر بغیر پڑھے آگے نشان لگا دیتی ہیں۔ تاکہ لگے کہ واقعی پڑھ رہی ہیں۔ وہ میرا خوب مذاق اڑاتے۔ خوب قہقہے لگاتے اور میں چڑ کے کہتی ”آپ کو کیا میں پڑھوں یا نہ پڑھوں۔“ یہ بھی ہے کہ میں تھوڑی موٹی اور پڑھنے کی ازحد شوقین تھی۔ حالانکہ میں اسپورٹس اور ہر کلاس میں فرسٹ آتی تھی، پھر بھی سب مجھے بے وقوف ہی سمجھتے تھے۔

1947ء میں پاکستان بن گیا۔ مگر ہم ابھی ہندوستان ہی میں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ریلوے انسٹیٹیوٹ کی طرف سے آزاری کی خوشی میں ایک فنکشن تھا ہم بھی وہاں گئے اور کوئی مقابلہ بھی جیتا مگر انعام نہیں ملا۔ ہم نے ابا سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا ”نام رضیہ تھا، کیسے ملتا؟“

ہمارا گھرانا 1948ء میں کراچی پاکستان آ گیا۔ اس وقت میں نویں جماعت میں آئی تھی۔ جیکب لائنز کے اسکول میں داخلہ ہوا۔ جو نیا نیا تعمیر ہوا تھا۔ اس زمانے میں مجھ سے بڑے بھائی کلیم احمد نے، جو جیکب لائنز اسکول میں دسویں کلاس میں پڑھتے تھے، مجھ سے کہا کہ ان کی کلاس میں ان کا ایک دوست ہے جو بہت اچھی شاعری کرتا ہے۔ ایک دن وہ اپنے شاعر دوست کو ہمارے گھر لے آئے۔ انہوں نے اپنی شاعری ترنم سے پڑھی جو اب یاد تو نہیں مگر بہت اچھی تھی۔ شاعر کانام حبیب جالب تھا۔ آج دنیا انہیں جانتی ہے۔ اسی دوران ابا کا تبادلہ منٹگمری شہر ہو گیا۔ انہوں نے ہم سے پوجھا کہ چلو گی تو ہم فوراً تیار ہو گئے۔ اور وہاں چلے گئے۔ اب ہم وہاں کے اسکول میں داخل ہو گئے تھے۔ ہمارا گھر ریلوے اسٹیشن کے پیچھے تھا۔ ریلوے اسٹیشن پہ کتابوں کے اسٹال ہوتے تھے۔ ہم اب چودہ سال کے تھے پردہ تو نہیں کرتے تھے لیکن باہر اتنا آنا جانا نہیں تھا۔ اسٹیشن کے بک اسٹالز سے چھوٹے بھائی نعیم بچوں کے رسالے خرید خرید کے لاتے اورکہتے کہ ”رضیہ آپا اس کے لیے کہانی لکھ دیں۔“ شاید اسے ہم میں کوئی کہانی لکھنے کی صلاحیت نظر آتی ہوگی۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ رضیہ آپا ایک لڑکا ہے منیر نیازی، جو فرسٹ ائر میں پڑھتا ہے اوراخبار ”سات رنگ“ نکالتا ہے۔ اس کے لیے کہانی لکھ دیں۔ میں نے ایک انگریزی کہانی کا اردو ترجمہ کر کے بھیج دیا۔ وہ چھپ بھی گیا۔ پھرایک دن میں نے ایک کہانی ”تعلیم و تربیت“ میں بھی لکھ کے بھیج دی۔ وہ کوئی مقابلہ تھا کہانیوں کا۔ ہماری کہانی اول آئی اور اس کا انعام دو روپے ملا۔ عنوان تھا ”یہ بھائی“ ۔ کہانی اپنے بڑے بھائی پہ لکھی تھی۔

اس کا واقعہ یہ تھا کہ انڈیا میں ریلوے والوں کی جانب سے اسٹیج ڈرامے ہوتے تھے۔ اسٹیج بننے کا بھی بہت اہتمام ہوتا تھا۔ ہم اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ان ڈراموں کودیکھنے بہت شوق سے جاتے تھے۔ کیونکہ مجھے وہ اسٹیج ڈرامے بہت اچھے لگتے تھے۔ ایک دن ہم اسٹیج ڈرامے دیکھنے گئے تو خاصی دیر ہو گئی۔ بھائی نے کہا اب رات ہو رہی ہے میں جا رہا ہوں تم بھی گھر چلو۔ میں نے کہا ”نہیں ہم تو ابھی دیکھیں گے۔ آپ چلے جائیں۔“ انہوں نے کہا ”اچھا تو تم اکیلی آ جانا“ جب وہ چلے گئے تو اچانک مجھے ڈر لگنے لگا تو اکیلے ہی واپس جانے لگی۔ لیکن بھائی دراصل گئے نہیں تھے بلکہ ایک درخت کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ جب ہم اکیلے جانے لگے تو انہوں نے اچانک سے پیچھے سے آکر ”بھوؤں“ کر کے ڈرا دیا۔ وہ بہت یادگار واقعہ تھا۔ ہو سکتا ہے سارے بھائی ایسے شریر ہوتے ہوں مگر میں نے تو اس واقعہ پہ کہانی لکھ دی۔ اب میری کہانیاں بچوں کے رسالوں میں چھپنے لگیں۔ جب کچھ زیادہ کہانیاں جمع ہو گئیں تو میں نے اپنے ہاتھ سے دوبارہ ان ساری کہانیوں کو لکھا اور فیروزسنز کو خط لکھ کے کہا کہ میرے پاس اتنی کہانیاں جمع ہو گئی ہیں کیا کتاب چھپ جائے گی۔ ان کا جواب آیا کہ بھیج دیں۔ ہم نے ان کہانیوں کو کتابی شکل میں چھپنے کے لیے بھیج دیا۔ اس طرح 1950ء میں جب میں دسویں جماعت میں تھی تو فیروز سنز نے میری کتاب ”آنکھ مچولی“ چھاپی اور ساتھ ہی سو روپے کا چیک بھی بھیجا۔ جو سب کوخاص کر ابا کو حیران کر گیا۔ ”ارے ان محترمہ کی کتاب بھی چھپ رہی ہے اور سو روپے بھی مل رہے ہیں۔“ میٹرک کا امتحان کتاب چھپنے کے بعد دیا۔ ایف اے کے بعد اپنے تایا زاد بھائی سے شادی ہو گئی۔ ہر امتحان میں پہلی پوزیشن اورشادی کے بعد ایک بچے کے ساتھ بی اے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 1965ء میں ناول ”آبلہ پا“ کو آدم جی پرائیز ملا۔ شوہر فوج میں تھے تو ان کی نوکری کی وجہ سے تبادلے ہوتے رہے۔ ویسا ہی جیسا ابا کی نوکری میں ہوتا تھا۔

(لیکن اب رضیہ فصیح احمد بچہ نہیں بلکہ تین بچوں کی ماں اور ان کے بچوں کی دادی ہیں۔ اپنے آپ کو منوانے کی بچپن کی عادت کو برقرار رکھتے ہوئے اردو ادب میں بھی اپنی دھاک بٹھا چکی ہیں۔)

Facebook Comments HS