اردو ادب کے تین سوتیلے بچے


ہم سب یہ تو جانتے ہیں کہ اردو ادب کے بہت سے بچے ہیں لیکن بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کچھ بچے سگے ہیں اور کچھ بچے سوتیلے۔ سگے بچوں میں غزل، نظم، افسانہ، ناول اور ڈرامہ شامل ہیں جبکہ انٹرویو، خطوط اور ڈائری سے سوتیلے بچوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں وہ عزت اور عظمت نہیں ملتی جو سگے بچوں کو ملتی ہے۔ شاید اسی لیے میرے دل میں سوتیلے بچوں کے لیے ایک نرم گوشہ ہے۔

آج سے چند دہائیاں پہلے میں نے انٹرویوز کو عزت دلوانے کی کوشش کی اور مشرق سے مغرب آنے والے بہت سے اردو کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے انٹرویو لیے اور انہیں کتابی صورت میں چھپوایا۔ کتابوں کے نام تھے

میرے قبیلے کے لوگ
اور
پگڈنڈیوں پہ چلنے والے مسافر

میں نے کینیڈا ون ٹی پر۔ دانائی کی تلاش۔ پروگرام میں بلند اقبال کے ساتھ جو مکالمے اور انٹرویو کیے انہیں میاں چنوں کے عبدالستار نے کتابی صورت میں جمع کیا جسے سانجھ پبلشر نے۔ دانائی کا سفر۔ کے نام سے چھاپا۔

پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران بھی میں نے کراچی میں ماسٹر ٹی وی کے لیے ایاز مورس کو اسلام آباد میں بلیک ہول ادارے کے لیے عنبرین عجائب کو اور لاہور میں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام۔ صد رنگ۔ کے لیے وجاہت مسعود کو انٹرویو دیے۔

انٹرویوز کے بعد پچھلے دس برس سے میں نے خطوط کو عزت دلوانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے کا سب سے پہلے رابعہ الربا کے ساتھ ادبی مکالمہ ہوا جسے سانجھ پبلشر نے ”درویشوں کا ڈیرا“ کے نام سے چھاپا۔ اس کے بعد نعیم اشرف، کامران احمد، حامد یزدانی، نوروز عارف، مقدس مجید، سارہ علی اور کئی اور ادبی دوستوں کے ساتھ ادبی محبت ناموں کا تبادلہ ہوا جسے قارئین نے بہت پسند کیا۔

اب میں تیسرے سوتیلے بچے ”ڈائری“ کو عزت دلوانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں آج کل ورجینیا وولف، فرانز کافکا، سورن کرکیگارڈ اور اینائس نن کی ڈائریاں پڑھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ ان ڈائریوں کے چند اوراق کا اردو میں ترجمہ کروں تا کہ انہیں بھی ادب کے قدر دان عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ میں آپ کی خدمت میں اینائس نن کی ڈائری کا ایک ورق پیش کر رہا ہوں تا کہ آپ کو اینائس نن کی ڈائری کی ادبی، نفسیاتی، سماجی اور نظریاتی اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔

نسوانیت اور تخلیقی عمل
اینائس نن
ڈائری اگست 1937

آج پھر ہنری ملر اور لیری ملنے آئے تھے اور ”میں خدا ہوں“ کی بکواس کرتے رہے۔ ان کے نزدیک تخلیقی عمل کے لیے یہ احساس ضروری ہے۔ میرے خیال میں وہ یہ کہنا چاہتے تھے، میں خدا ہوں عورت نہیں ہوں، عورت کی کبھی بھی خدا سے بلاواسطہ گفتگو نہیں ہوئی۔ ہمیشہ ایک مرد کے حوالے سے ہوئی۔ اس نے جو کچھ بھی تخلیق کیا مرد کی وساطت سے کیا۔ صرف عورت بن کر نہیں کیا۔ ایک بات جو ہنری اور لیری نہیں سمجھتے کہ عورت کی تخلیق مرد کی تخلیق سے بہت مختلف ہوتی ہے۔

اس کی ہر تخلیق ایک بچے کی تخلیق کی طرح ہوتی ہے جس میں اس کا خون شامل ہوتا ہے جس کی وہ اپنی کوکھ میں پرورش کرتی ہے اور پھر اسے اپنا دودھ پلاتی ہے۔ اس کی تؒخلیق مردوں کی تخلیق کی طرح نہیں ہوتی جو تجریدی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ یہ ”میں خدا ہوں“ کا تصور جس کی روح سے تخلیق تنہائی کی پیداوار ہوتی ہے عورتوں کے لیے ہی نہیں مردوں کے لیے بھی گمراہ کن ہے۔

یہ گمان رکھنا کہ خدا نے زمین اور آسمان اور سمندر اکیلے ہی بنا لیے تھے ٹھیک نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ جیسے ہر مرد کی تخلیق کے درپردہ عورت ہوتی ہے اسی طرح خدا نے بھی عورت کی مدد لی ہوگی لیکن اس کا بر سرعام اعتراف نہیں کیا۔

عورت یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرتی کہ وہ کسی چیز کی پیدائش کے لیے بیج کی محتاج ہوتی ہے اگر وہ یہ بھول جائے تو وہ گمراہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں یہ سوچنے کی بجائے کہ وہ تنہائی میں کیا پرورش کرتی ہے یہ تصور کرنا چاہیے کہ رات کے وقت اس سے ایک مرد ملنے آتا ہے اور صبح وہ عجائبات جنم دیتی ہے۔

کیا خدا کا کسی چیز کو اکیلے میں جنم دینا اچھا خیال ہے؟
میں نہیں سمجھتی۔
مرد کا خدا کے قدموں پر چلنا ہمیں انسانوں اور انسانی جذبات سے دور لے جاتا ہے۔

عورت کا کردار ماں، محبوبہ، بیوی اور بہن کا ہے وہ اتحاد اور ابلاغ کا سرچشمہ ہے وہ زندگی کو جنم دینے آئی ہے نہ کہ پاگل پن کو۔

مرد حقیقت کو دور سے دیکھتا ہے اور زندگی سے بعد پیدا کرتا ہے۔ عورت انسان کو اپنی ذات سے جوڑنے آئی ہے وہ مجرد خیالات اور انسانی ذات کی گہرائیوں کے تجربات کو ملانے آئی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس سے انسانیت کا سراغ ملتا ہے۔ اور انسان صحیح معنوں میں انسان بننے کے قابل ہوتا ہے۔

ہر عورت کا اپنا کردار ہے لیکن فنکار عورت کا کام زندگی اور تخلیقی عمل کو یکجا کرنا ہے۔ اپنی کوکھ میں پرورش کرنا ہے اسے ایسی چیزوں کو جنم دینا ہے جو مرد کی تخلیقات سے مختلف ہوں۔ مرد نے اپنی دنیا فطرت کو کاٹ کر بنائی ہے۔ عورت نے اپنی دنیا پراسراریت، باد و باراں، جنسی طوفانوں کو یکجا کر کے اور فن کے تجریدی پہلوؤں سے نبرد آزما ہو کر بنائی ہے۔ اس نے ان تمام عقائد سے راہ کترا کر نکلنا ہے جو مرد نے اس کے لیے بنائے ہیں۔

اسے اپنی زندگی کے ان دائروں، موسموں اور طوفانوں کا بھی سامنا کرنا ہے جسے مرد نہیں سمجھ سکتا عورت کا فن اس کے ذہن کی کوکھ میں جنم لینا چاہیے اسے انسان کی داخلی اور خارجی صداقتوں کے درمیان پل کا کام کرنا چاہیے۔ میں ایسی آشفتہ خیالی پر فخر نہیں کرتی کہ میں ہر چیز تنہائی میں جنم دیتی ہوں۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ عورت کو مردوں کے ایسے دیوانہ پن اور پاگل پن سے کوئی واسطہ نہیں۔ عورت کو وہ رشتہ اور اتحاد دوبارہ استوار کرنا ہے جس کا آنچل مرد نے بڑے فخر سے کاٹ ڈالا ہے۔

آج کا انسان اس درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔
میں چاہتی ہوں کہ میری تخلیقات میں
شگفتگی ہو
زندگی کی روانی ہو
حقیقتوں کے راز ہوں
فطرت کا بے ساختہ پن ہو۔
وہ دماغ کی بھول بھلیوں سے گزر کر جھوٹ نہ بن جائیں۔
میرے حال میں مستقبل کا پیغام ہو۔

ایک بچے کی طرح عورت کا تخلیقی عمل اس کی زندگی کی طرح ہونا چاہیے اچھا بھی برا بھی۔ اس میں فطرت کے طوفان ہونے چاہئیں اور ذاتی المیے بھی۔ مرد نے زندگی کو اتنا پیچیدہ بنا دیا کہ وہ مہلک بن گئی ہے۔ عورت کو ایسی پیچیدگیوں سے کنارا کش رہنا چاہیے۔ اسے کوکھ کی بھول بھلیوں میں اتر کر حقیقت کا راز معلوم کرنا چاہیے اور پھر اسے بڑے سکون سے بیان کرنا چاہیے۔

ہر کوکھ کے اپنے خواب ہوتے ہیں۔

میرے خیال میں مرد نے فن اس لیے تخلیق کیا کیونکہ وہ عورت کی قربت سے خائف تھا اور عورت کی زبان پر اس لیے لکنت رہی کہ وہ حال دل بیان کرنے سے ڈرتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ان گنت روایتوں اور پردوں سے ڈھانپ لیا۔ مرد نے ایسی عورت کو تخلیق کیا جو اس کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اس نے عورت کو فطرت سے تشبیہ دی اور پھر فطرت پر غالب آنے کا دعوہ کر دیا۔ عورت فطرت ہی نہیں اس سے بالاتر بھی ہے۔ عورت ایک ایسی جل پری ہے جس کی مچھلی کی دم انسانی لاشعور میں پوشیدہ ہے۔ اس کا تخلیقی عمل اس دانائی کو زبان بخشے گا جو نگاہوں سے اوجھل ہے، وہ دنیا جس سے مرد انکار کرتا ہے اور وہ تلخ حقیقت بن کر اپنا اظہار کرتی ہے اور پاگل پن کہلاتی ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 711 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments