سب کچھ حرام جو تم کرو : ٹی وی حرام مگر ہمارا چینل دیکھنا کار ثواب


آج دل چاہتا ہے ایک انتہائی حساس مسئلہ پر دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں۔
اور وہ ہے ہماری زندگیوں میں مقامی مفتیان کے فتاوی کی رو سے کیا حرام ہے اور کیا حلال۔

الحمدللہ کسی بھی پڑھے لکھے مفتی سے پاکستان میں کسی نئے معاملے پر بات کریں۔ وہ ’نہیں‘ سے بات شروع کرے گا یعنی حرام ہے۔ بمشکل کوئی ایسا ہو گا جو کہہ دے کہ ناکافی معلومات کی روشنی میں فی الوقت مکروہ ہے یا جتنا ممکن ہو اجتناب کریں اور یقین جانیں کہ یہ ایک شان دار جواب ہو گا۔

بچپن میں ایک لفظ جو طنز یا گالی کی طرح استعمال ہوتا تھا، متعدد بار سنا۔ اس وقت کوئی شخص اگر عقل کا استعمال کرتے ہوئے نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کو چیلنج کرتے ہوئے لاجواب کر دیتا، اسے ”وہابی“ کہہ دیا جاتا۔ اور بات ختم ہوجاتی۔

ایک وقت پھر ایسا بھی آیا کہ قدرت نے انہی وہابیوں یعنی سعودیوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا۔ سعودیوں، مصریوں، سوریوں (ملک شام کے لوگ) ، لبنانی، فلسطینی، سوڈانی اور یمنی۔ ایک دنیا تھی جس کے لوگ سامنے آئے، یہ سب بھی اللہ تعالی کے ہی نام لیوا تھے۔ لیکن ان کا عملی اسلام ہمارے اسلام سے متعدد جگہوں پر مختلف ہوتا تھا۔ یہی نہیں ہمارے جیسے انڈین اور بنگلہ دیشی مسلمان بھی سامنے آئے۔ اور پتہ چلا کہ ڈاکٹر برق کی طرح دو قرآن اور دو اسلام ہی نہیں یہاں تو اسلام کچھ اور ہی ہے۔ اور تو اور انڈونیشیا جو عرصہ دراز تک سب سے بڑا مسلمان ملک رہا، وہاں اور ملائشیا کے مسلمان ہمارے برعکس اپنی زندگی بڑی آسانی سے گزار رہے ہیں۔

بہرکیف، یہاں مقامی علماء سے حدیث کا علم بھی جانا اور اس سے بڑھ کر قرآن کو مزید سمجھا۔

حقیقت تو یہ تھی کہ یہاں کے مقامی لوگ بھی دو اسلاموں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایک جو سادہ اور آسان تھا اور ”سعودی لوگ“ گزارنا چاہتے تھے اور دوسرا مطوعین (مذہب کے ٹھیکیدار کٹر وہابی حضرات) کا اسلام۔

اگر آپ تھوڑی بہت بھی عقل رکھتے ہیں تو حلال اور حرام کے بیچ ایک سادہ سی بات یاد رکھ لیں۔

حرام بات، چودہ سو سال پہلے بھی حرام تھی۔ پانچ سو سال پہلے بھی۔ اب بھی حرام ہے۔ ہزار سال بعد بھی حرام ہوگی۔ اسی طرح وہ سعودیہ میں بھی حرام ہوگی۔ امریکہ سوڈان پاکستان میں بھی اور بیک وقت چاند پر بھی۔ مثلاً بیوی کے ہوتے ہوئے سالی سے نکاح ہو یا حرمت کے رشتوں میں شادی وغیرہ۔ زکات، نماز، حج اور روزوں کی فرضیت، یہ سب مسلمان پر لازم ہیں اور ان کا انکار حرام ہے۔ اگر کوئی کام سعودیہ، ایران، ترکی یا دوبئی میں ممکن ہے مگر ہمارے یہاں نہیں تو یقیناً گڑبڑ ہمارے یہاں ہوگی نا کہ دوسروں کی طرف۔

بچپن میں ہی پڑھا، انسان کا چاند پر جانا نرا گناہ ہے اور صریحاً حرام۔ آج کسی کو یاد ہے۔

میری بہشتن والدہ پڑھی لکھی تھیں۔ پردے کے لئے چادر ضرور لیتی تھیں، اسکول میں استانی رہیں مگر زندگی بھر ان کی تصویر کسی شناختی کارڈ یا ایڈمٹ کارڈ پر لگی نہیں دیکھی کیونکہ وہی حرام۔ (نادرا کا سسٹم نافذ ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا) ۔ کیا آج ہم بغیر تصویر، خواتین کے شناختی کارڈ یا میٹرک انٹر کے امتحانی فارم کا تصور کر سکتے ہیں۔ تو یہ کیسا حرام تھا جو اب حلال ہو چکا۔ یقیناً رانگ نمبر لگ رہا تھا۔

میں نے کئی ایسے لوگوں کے بھی ساتھ وقت گزارا جو یا تو کرنسی نوٹ ہاتھ میں نہیں لیتے تھے یا جیب میں رکھ کر نماز نہیں پڑھتے تھے، وجہ وہی کہ شبیہ حرام چاہے نوٹ پر محمد علی جناح کی ہو۔

ٹیلیفون، ریڈیو، اخبار اور رسائل (جس میں عورتوں کی تصاویر شائع ہوتی تھیں ) وہ بھی کئی گھروں میں آنا حرام تھے۔

لاؤڈ اسپیکر ایک عرصے تک حرام رہا کہ اس سے نا محرموں کی آواز گھر کی بہو بیٹیوں کے کان میں پڑتی تھی۔ آج اسی لاؤڈ اسپیکر نے ہماری زندگیاں حرام کردی ہیں۔ اور مجال ہے کوئی آواز تو اٹھا سکے۔ میں جہاں رہتا ہوں وہاں ایک مسجد میں فجر کی اذان سے پہلے ایک لمبا درود (بلا مبالغہ دس منٹ) لاؤڈ اسپیکر فل کر کے پڑھا جاتا ہے۔ مجھے درود پڑھنے پر اعتراض نہیں کہ یہ ”لکم دینکم“ کا معاملہ ہے لیکن للہ لاؤڈ اسپیکر کو آن کرنا تو سنت نہیں۔

وہابیوں کے ساتھ بھی سعودیہ میں اچھے خاصے سینگ پھنس جاتے تھے۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک مطوع صاحب کہنے لگے تم پاکستانی بلی کو بھی حلال سمجھتے ہو (چینی، کورین اور فلپینو کی طرح) ۔ میں جانے کس پینک اور سینگ پھنسانے کے موڈ میں تھا۔ کہنے لگا، ہاں تو اس میں غلط کیا ہے۔ مطوع غصے سے بولا۔ قرآن اور حدیث میں کہاں ہے کہ بلی حلال ہے۔ میں نے ترنت ان ہی کے فارمولے کے تحت جواب دیا۔ لیکن قرآن اور حدیث میں کہیں یہ بھی تو نہیں کہ بلی حرام ہے۔ تو اصولاً تو یہ مکروہ میں آ گیا۔ تو ہماری بلی اور ہماری مرضی۔

لیکن چند دن بعد ہی (سن 2001 میں ) اس مطوع نے پورے پاکستانی مسلمانوں کو اس وقت ننگا کر دیا، جب مقامی عربی اخبار میں خبر چھپی کہ پاک پتن میں اپریل فول بنتے ہوئے 40 سے زائد بابا فرید کے معتقدین ایک دروازے سے پہلے گزرنے کے چکر میں بھگدڑ کے دوران پیروں تلے کچلنے سے، خدا جانے ہلاک ہوئے یا شہید۔ وجہ یہ تھی کہ اگر اس بہشتی دروازے کے نیچے سے کوئی ایک خاص دن اور وقت کو گزرے تو جنت میں داخلہ پکا۔ یعنی دوزخ حرام۔ اور وہ وہابی ہماری حماقتوں پر ہنس رہا تھا کہ جب کعبہ اللہ کے دروازے، یا اس میں داخل ہونے والے یا وہاں نماز پڑھنے والے کی بخشش کی بھی گارنٹی نہیں تو یہ کون سا دروازہ ہے جس سے ہم محروم ہیں؟

بہر حال مرنے والوں پر جنت حلال ہوئی یا نہیں مگر وہابیوں نے من حیث القوم جو بے عزتی ہم پاکستانی مسلمانوں کے نام کی، اس پر صرف اپنا اور اپنے مفتیان کا خون ہی پی کر چپ رہا۔ الحمدللہ 23 سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور اب بھی ہر سال بھگدڑ مچتی ہے اور پانچ دس انسانی جانیں اس دوزخ کو حرام کرنے کے لئے زمین سے پرواز کر جاتی ہیں۔

ایک اور نعرہ پاکستان میں سننے کو ملتا تھا۔ عورتوں کی قیادت حرام ہے۔ سن 2013 کے مئی کی بات ہے، جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فرمایا تھا کہ عمران خان کو اور اس کے علاوہ تحریک انصاف کے ہر امیدوار کو ووٹ دینا، حرام ہے۔ اللہ جانے اس کا کفارہ کیا تھا۔ کیوں کہ میں نے تو اسلام آباد میں یہ گناہ کیا تھا۔ بہرحال یہ وہی صاحب تھے جن کو دسمبر 1993 میں اس گناہ گار نے بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ نعرہ مارتے بھی سنا تھا کہ اسلام میں عورت کی حکم رانی حرام ہے اور اسی لئے وہ بے نظیر کی حکومت کو جائز نہیں سمجھتے۔ یہ اور بات کہ اس کے بعد کتنی مرتبہ انہوں نے بے نظیر کی اقتدا میں سیاسی نمازیں ادا کی، مت پوچھیں۔ رات گئی بات گئی۔

اب بھی دور دور تک اس حرام حرام کی پکار میں پنجاب حکومت کے خلاف ان کی آواز نہیں اٹھتی جہاں ایک خاتون فی الوقت حکم ران ہیں۔ وہی جن کے آگے پیچھے وہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں گھومتے رہتے تھے۔ جبکہ ایسی صورت میں ان کے (اپنے ) لئے نا محرم عورت سے بے پردگی بھی جائز تھی۔ ویسے تو ان مولوی صاحبان نے جب چاہے اپنے دشمن لوگوں کو ووٹ دینے پر شادی شدہ لوگوں کے نکاح ساقط ہونے کے فتوی بھی جاری کیے ہوتے تھے۔ اور اس گناہ گار نے پورے پورے گاؤں کے لوگوں کو اپنے اپنے ”اعادہ نکاح“ کی تقریب میں شرکت کرتے دیکھا۔

ایک پرانے جاننے والے تھے، جب مشرقی پاکستان بھی ساتھ تھا۔ والد قدامت پرست، انتہائی عسرت سے محنت کر کے سول سروسز میں چلے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر تھے تو دنیا داری کے لئے گھر میں پہلا ٹیلیویژن خرید لیا۔ باپ نے کہا کہ گھر میں ٹی وی رکھو یا میں نہیں آتا۔ انہوں نے لاکھ بتایا کہ خبریں اور پروگرام دیکھنا کیوں ضروری ہے۔ باپ نے مرتے دم تک بیٹے کے گھر قدم نہیں رکھا اور ناراض ہی دنیا سے رخصت ہوئے۔ اور آج وہی حال ہے کہ عامر لیاقت کے پروگرام تھے یا کسی اور چینل پر مولوی صاحبان کہاں براجمان نہیں۔ تو یا تو ٹی وی پہلے حرام نہیں تھا یا اب نہیں ہے۔

ویسے اس حرام کاری پر یوٹرن میں صرف پاکستانی ملا ہی شامل نہیں سعودیہ میں بھی یہی حال تھا۔ بلکہ جن دنوں میں وہاں پہنچا تو ٹی وی تو طوعاً کرہاً جائز ہو چکا تھا مگر سیٹلائٹ ڈش بدستور حرام کے زمرے میں شامل تھی۔ اور مطوعین کو سرکاری طور پر اجازت حاصل تھی کہ وہ جہاں کسی چھت پر ڈش لگی دیکھیں بندوق سے فائر مار کر اسے دور سے ہی جہنم واصل کر دیں۔ اور یہ حضرات دوربین سمیت اپنے طمنچے لئے گھوم رہے ہوتے تھے اور ڈش انٹینا پر لگے ”ایل این بی“ ان کا نشانہ ہوتے تھے۔
جاری ہے۔

Facebook Comments HS