کتاب: پھرتا ہے فلک برسوں۔ 2 (خاکے )
مصنف: اصغر ندیم سید صاحب
تبصرہ: عرفان علی جناح
گر قبول افتد!
جیسا کہ میں نے خاکہ نگاری کے فن یا صنف سے اتنی دیر بعد واقف ہوا اور اس کا مجھے افسوس بہر حال رہے گا۔ اگر میں گلزار صاحب کی کتاب ”گر یاد رہے۔“ نہ پڑھتا تو شاید اب تک خاکہ نگاری سے بے بہرہ رہتا۔ اور اگر وہاں بھی جاوید صدیقی صاحب والا خاکہ نہ پڑھتا تو!
اصغر ندیم سید صاحب، یہ میرے لیے بچپن کی ایک دھندلی سی یاد ضرور ہے۔ یہ نام پی ٹی وی کے دور میں چلتے ہوئے ڈراموں کے شروع یا آخر میں لکھا ہوا نظر آتا تھا۔ پھر اس کے بعد ایک طویل گیپ ہے۔ شاید 2002 میں یا پھر 2005 میں یا اس کے متصل ہی میں نے پی ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد کا کوئی بھی ڈرامہ مجھے یاد نہیں پڑتا میں نے دیکھا ہو۔ نہ پی ٹی وی پر نہ ہی کسی اور چینل پر۔ وہ عمر اور دور کالج، وہاں سے یونیورسٹی اور پھر جاب کی مصروفیات میں شکر کرتا ہوں اس تیزی سے گزر گیا، کہ پتہ نہ چلا۔
پھر ایک کتابوں کو آہستہ آہستہ پڑھنے لگا، کچھ آگے آیا تو خاکہ نگاری کی صنف سے آشنائی ہوئی اور جو بہترین خاکوں کی کلیکشن والی کتابیں تھیں، یا پھر جو انفرادی طور پر خاکے لکھے گئے تھے ان کی کتابیں خرید لیں اور یہیں سے مجھے جناب عرفان جاوید صاحب سے تعارف حاصل ہوا، جاوید صدیقی صاحب کو جانا، ڈاکٹر اسلم فرخی صاحب، نیلم احمد بشیر صاحبہ، اے حمید صاحب۔ سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کے تحریر کردہ خاکے یا احمد ندیم قاسمی صاحب کے خاکے۔ کیا فن ہے! مطلب کمال کی بات ہے! انہوں نے کمال کر دیا ہے!
پچھلے برس جب میں نے خاکوں کی تلاش میں ہی جناب اصغر ندیم سید صاحب کے تحریر کردہ خاکوں کی کتاب خریدی۔ یہ کتاب کیسے خریدی، یہاں پر میں جناب رؤف کلاسرا صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا مجھے یاد پڑتا ہے وہ بھی خاکوں کے بے حد دلدادہ ہیں، انہیں خاکے بے حد پسند ہیں، ویسے تو ان کے پاس کئی ایک نایاب و نادر کتابیں موجود ہیں وہ باہر ممالک سے بھی کتابیں خریدتے منگواتے رہتے ہیں ان کے پاس کیا کیا شاہکار کتب موجود ہیں کئی بار کہا ہے ان کو درخواست کی ہے کہ اپنی شیلف کی کتابوں کی جھلک دکھلا دیں کلوز اپ میں دیکھیں کب یہ درخواست قبول ہوتی ہے۔
تو ہوا یوں ہی تھا کہ انہوں نے کتاب کی تصویر لگائی تھی اور کچھ تذکرہ لکھا تھا۔ اور میری اس طرح کی خفیہ مدد محترم رؤف کلاسرا صاحب کی پوسٹ یا وال کر دیتی ہے۔ وہاں سے ہی مجھے کچھ اچھی اور بہترین کتابوں کا اتا پتا مل جاتا۔ ہے میں نے تو کئی مرتبہ انہیں درخواست کی ہے کہ اپنی لائبریری کی کتب کی کلوز پکچرز بھیج دیں، جانے کب قبول ہو یہ درخواست، ۔ تو جہاں تک مجھے یا پڑتا ہے، میں نے ایک دو دن میں ہی کتاب پڑھ لی تھی۔ مجھے ان کا اسلوب بھایا، اس کے ساتھ ہی کتاب کا سرورق بھی ایک کشش لیے ہوئے تھا، سادہ اور پرکشش۔ جس انداز میں شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ وہ انداز مجھے بے حد بھایا۔ پھر یوں بھی ہوا کہ میں کچھ شخصیات سے واقف ہوا،
اصغر نعیم سید صاحب، کیا لکھتے ہیں؟ مطلب ان کا اسلوب مجھے پڑھتے ہوئے ایسا بھی محسوس ہوا کہ وہ ڈکٹیٹ کرتے جا رہے ہیں روانی میں، اور خودبخود خاکہ لکھتا جا رہا ہے۔ بالکل ایک نیا انداز خاکہ نگاری کا نیا اسلوب کہہ سکتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ”پھرتا ہے فلک برسوں۔ 1“ کے ذریعے مجھے پتہ چلا، نیاز احمد صاحب کے بارے میں، ان کی سوچ ان کے فکر اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلو، گوپی چند نارنگ، کشور ناہید، زاہد ڈار، عبداللہ حسین، حبیب جالب، نیر مسعود، احمد فراز۔
اور اب میں نے جانا، منو بھائی، انور سجاد، احمد ندیم قاسمی، حمید اختر، انتظار حسین، احمد بشیر، اور دیگر ادیبوں کے بارے میں۔ جب میں نے پڑھی ”پھرتا ہے فلک برسوں۔ 2“
صرف لفظوں کے انبار نہیں لگاتے۔ صرف خاکہ لکھنا ان کا مقصد نہیں۔ یہ بڑے قد کے آدمی ہیں۔ کھلے ڈلے۔ یہ کہتے ہیں اگر میں شراب پیتا ہوں تو اس کو ماننے میں کیا حرج ہے؟ جس شخصیت پر خاکہ لکھتے ہیں اس پر مختلف پہلوؤں سے لکھتے ہیں۔ اس کو آپ تھری ڈائی مینشن کہہ سکتے ہیں۔ نہ برائی مقصود ہے نہ ہی تعریف، بس میں نے انہیں کس طرح دیکھا، مجھے دنیا میں وہ کس طرح دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے کنکلیوڈ کیا ان کی شخصیت کو وہ کیسا تھا۔ صرف الفاظ کے ڈھیر یا انبار نہیں لگانے۔ کہ لکھے جاؤ بس۔ سادہ سی بنت کے جملوں کی اور بس خاکے بنتے جا رہے ہیں۔
جن دنوں میں نے ”پھرتا ہے فلک برسوں۔ 1“ پڑھا تھا میں نے ہائی لائٹر استعمال کیا تھا۔ اور بہت استعمال کیا تھا مجھے بار بار کچھ روانیاں، کچھ باتیں اور کچھ انداز ہائی لائیٹ کرنے پڑ جاتے تھے۔ اس بار میں نے ہائی لائیٹ یا انڈر لائن نہیں کیا کسی بھی تحریر کو نہ ہی کوئی ٹک مارک لگایا ہے۔ میں ان کے شب و روز کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔ یہ میں محسوس کر سکتا تھا پڑھتے وقت کہ کتنی باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے تعلقات کا اور یادداشت کی داد بھی بنتی ہے۔
گزرے ہوئے برسوں کی وہ کہانیاں جو وقت کی دھول میں آتی کوئی پڑی تھیں اور جو یادداشت کے طاق نسیاں پر پڑی رہ گئیں تھیں۔ وہ تاثرات جو وقت کی دھول کے نیچے اٹ گئے۔ وہ بھی دھول اور گرد و مٹی کو صاف کر کے سامنے رکھ دیتے ہیں قاری کے لیے۔ ایسے کی اپنے اصغر ندیم سید صاحب۔ کیا خوب خاکہ لکھتے ہیں، سچا، سچا اور کھرا،
اصغر ندیم سید صاحب کے خاکے کمال ہیں، کئی ایک جگہ گمان گزرا کہ خود کلامی ہو رہی ہے۔ ایک آرام کرسی پر بیٹھا ہوا شخص اپنے ماضی کو یادداشت کی مدد سے کھوجتا جا رہا ہے اور لکھتا جا رہا ہے۔ جیسے کسی بیرونی برآمدے کا منظر ہو، بلب کی ہلکی روشنی میں آرام کسی پر بیٹھا ایک شخص، جس کے بیک گراؤنڈ میں تنہائی اور اندھیرا ہو۔ اندھیرے اجالے کا امتزاج لیے اس منظر میں یادداشتیں فلیش بیکس لے کر آ رہی ہیں بار بار۔
پھرتا ہے فلک برسوں 1 یا 2 میں خاکے پڑھتے ہوئے میں کئی ایک گمانوں سے گزرا۔ ان کی جرات، ان کے سفر اور ان کی ذات کی سچائیاں، آپ پڑھتے ہوئے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ محسوس ہو گا کہ انہوں نے اپنے سچے کھرے اور دبنگ لہجے اور شخصیت کی وجہ سے ایک سیلف میڈ انسان کا پورٹریٹ بنا کر دنیا کے سامنے رکھا ہے۔
گزرے تھے ہم جہاں سے، کے مثل، کئی یادداشتیں، جو مختلف شخصیات کے بارے میں ہیں اور اصغر ندیم سید صاحب کا ان سے جس نوعیت کا تعلق تھا وہ سب بنا لگی لپٹی کے بیان کر دینا ایک الگ ہی اسلوب ہے جسے شاید میرا ایک ذاتی خیال ہے پاکستانی معاشرے میں پسند تو کیا جاتا ہے یا نہیں لیکن برداشت ہی نہیں کیا جاتا۔ یہ جو ہمارا معاشرہ ہے، جسے اب پاکستانی معاشرہ ہی کہا جانا چاہیے یہاں ایسی تحریریں بے باک تحریریں آنی چاہئیں۔
اور پڑھی جانی چاہئیں۔ یہ خاکوں کا ایک نیا مزاج ہے۔ ایک نیا ٹریک ہے۔ جس میں تعصب نہیں۔ دشمنی نہیں۔ سادہ اور آسان سی باتیں ہیں کچھ لوگوں کے بارے میں کچھ تعلقات کے بارے میں ایک ذخیرہ الفاظ کا ہے جس میں حلاوت ہے۔ شیریں مزاجی ہے۔ تلخی ہے اور سچائی ہے۔ محبت ہے اور اپنا پن ہے، سچائی ہی ایک مصنف کی تحریر کا، مغز ہے، حاصل ہے۔
جب جب آپ، ہم یا کوئی بھی ان خاکوں کی کتابوں کو کھولتا ہے، تو ایک دبستان سان کھل جاتا ہے۔ اسکرین یا اسٹیج کا پردہ کھل جاتا ہے۔ سارے کردار زندہ نظر آنے لگ جاتے ہیں آپ کو۔ چلتے پھرتے باتیں کرتے۔ گھومتے ہوئے۔ ان کے مزاجوں، ان کے مشاہدات، ان کی کلی زندگی کا پنچ نامہ یا تجزیہ کرنے اور رائے دینے پر اصغر ندیم سید صاحب کا حق بنتا ہے۔ کیوں کہ اکثر ہمارے لیکھک خواتین و حضرات۔ مفاہمت اور لحاظ رکھتے ہیں۔ انہیں تعلقات کی لاج رکھنی ہوتی ہے۔ انہیں دنیا کے سو کام ہوتے ہیں۔ لیکن بس سارے اصغر ندیم سید نہیں ہوتے۔ سچے کھرے، بے باک، کھلے ڈؒلے، کھلے دل والے، غیر متعصب، محسن کا احسان ماننے والے اور ناجائزیاں کرنے والوں کی کمی کوتاہیاں بیان کرنے والے ساتھ ہی ان کی مجبوریاں سمجھنے والے۔
جب وہ لکھتے ہیں
مستنصر حسین تارڑ کا مجھ پر ایک احسان رہے گا کہ انہوں نے مجھے نیاز احمد سے ملوایا تھا۔
یہ سطر ابتدا ہے، اس خاکوں کی دنیا میں جسے اصغر ندیم سید صاحب نے بنایا ہے۔ یہاں سے پردہ کھلتا ہے۔ پھر جب وہ لکھتے ہیں کہ ”وہ کتاب سے زیادہ صاحب کتاب میں دلچسپی لیتے تھے“ / میرا کہنے کا مقصد ہے کہ کئی جہتوں اور حیثیتوں پر بات کو پھیلا دیتے ہیں۔ آپ ایک شخصیت کا احاطہ کن زاویوں سے کرتے ہیں۔ وہ سمجھ آنے لگتا ہے۔ کہ بھی وہ بشر جس کا خاکہ آپ لکھ رہے ہیں اس کی تعریفیں ہی نہیں کرنی۔ نہ ہی صرف اس پر تنقید کرنی ہے۔ جیسا آپ نے دیکھا، جیسا زمانے نے ان کو پرکھا اور جیسے وہ اصل میں تھے۔ انسان تو انسان ہے نہ۔ پھر گوپی چند نارنگ ہوں یا عبداللہ حسین اور انتظار حسین ان کے خوبصورت جملوں نے انہیں بیان کیا ہے۔ میں اگر ان اقتباسات کو لکھنے بیٹھ گیا تو ایک سمری سی تیار ہو جائے گی۔ اور احباب کا مزہ کرکرا ہو جائے گا۔
بہر حال، اصغر ندیم سید صاحب، نے ڈرامے لکھے، شاعری کی، ضیاء کے دور کی صعوبتیں برداشت کیں اور پھر خاکے لکھے۔ پھرتا ہے فلک برسوں۔ 1 میں 15 شخصیات کے خاکے تھے پھرتا ہے فلک برسوں۔ 2 میں 15 مزید شخصیات کے خاکے ہیں۔ انشاء اللہ امید کرتے ہیں بہت جلد خاکوں کا تیسرا مجموعہ ہمارے ہاتھوں میں پڑھنے کے موجود ہو گا۔

