کرکٹ کا موتن داس
80 کی دہائی کے متوسط طبقے کے نوجوان کراچی کی موتن داس مارکیٹ سے بخوبی واقف ہوں گے ۔ نئے فیشن کے گارمنٹس اور جوتے یہاں مناسب قیمتوں میں دستیاب ہوتے تھے مزید برآں ایک دوسرے کو یہ کہہ کر خوش ہوتے تھے کہ یہاں سب کچھ امپورٹڈ ہوتا ہے۔ حالانکہ یہاں برانڈز نقل بمطابق اصل دستیاب ہوتے تھے، کچھ جوتوں کی ورائٹی واقعی امپورٹڈ ہوتی تھی لیکن وہ بھی چائنا کے غیر معیاری مال کے بھرے ہوئے کنٹینروں کی مرہون منت ہوتی تھی اور تو اور اس وقت کے مشہور لوکل برانڈ ٹی جیز کے ڈیزائنوں کی ہو بہو نقل یہاں موجود ہوتی تھی۔
نجم سیٹھی سے لاکھ اختلافات سہی لیکن ان کے کریڈٹ پر پی ایس ایل ہے جس نے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کیا اور کچھ فرنچائز خاص طور پر لاہور قلندر نے نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پی ایس ایل کا ایک بڑا نقصان ہمیں یہ ہوا کہ ارباب اختیار نے چند اچھی اننگز کو دیکھتے ہوئے نوجوان ٹیلنٹ کو براہ راست قومی ٹیم میں لینڈ کرا دیا یعنی کچا توڑ لیا، بنا اس ادراک کے کہ پی ایس ایل میں اکثریت واجبی باؤلروں کی ہوتی ہے جو ابھی سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں اس لیے ان کو بلے باز آسانی سے نہ صرف کھیل لیتے ہیں بلکہ بطور بلے باز اپنی دھاک بھی بٹھا دیتے ہیں۔
اس جلد بازی کا نقصان پاکستان کو بطور ٹیم تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی اس ابھرتے ہوئے کھلاڑی کا مستقبل بھی تاریک ہوجاتا ہے۔
یہ تو صرف ایک منظر نامہ ہے لیکن بقول قابل اجمیری
” وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا“
آپ لوگ کہیں گے بھائی اب کرکٹ سائنس بن گئی ہے جبکہ ہمارے ملک میں 24 کروڑ کرکٹ کے ماہرین ہیں۔ آپ کی بات کسی حد تک درست ہے لیکن ہم اپنے خیالات کا اظہار کرکٹ کی تکنیک نہیں بلکہ واضح نظر آنے والا منصوبہ بندی کا فقدان، ملکی مفاد پر دوستی کو ترجیح، ٹیم میں غیر ہم آہنگی، کپتان کا درست اور بروقت فیصلوں سے عاری دماغ۔ ہم نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کی جسارت اس لیے کی ہے کہ ہماری نہ صرف گزشتہ 40 برسوں سے کرکٹ خاص طور سے پاکستان کی کرکٹ کے ایک فعال مداح کے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہماری کرکٹ کی صحافت (اخبار وطن اور کرکٹر کے دور سے ) پر نظر رہتی ہے۔ لہذا آج کے اس کالم میں جو کچھ بیان کریں گے وہ ہمارے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہو گا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں پاکستان کرکٹ کی اتنی بے توقیری کبھی نہیں دیکھی گئی۔ 1999 میں پاکستان کی ٹیم پہلی مرتبہ جب بنگلہ دیش سے ہاری تھی تو ملک میں کہرام برپا ہو گیا تھا (کہا جاتا ہے کہ وہ میچ بنگلہ دیش کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے کے لیے حکومتی سطح پر فکس تھا) آج جبکہ ہماری ٹیم تسلسل کے ساتھ چھوٹی ٹیموں کے ساتھ ہارتی چلی جا رہی ہے پھر بھی ہم ہر بڑے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی اس ٹیم سے اچھی کارکردگی کی امید باندھ لیتے ہیں۔ ایشیا کپ کی بدترین کارکردگی کے بعد پھر ایک روزہ عالمی کپ میں ناقص کھیل کے باوجود ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں ہم لوگ چشم تصور میں بابر اعظم کو ورلڈ کپ اٹھاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ہم یہ بھول گئے کہ یہ ٹیم نہیں ہے ایک مجمع ہے جس میں ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئینٹی کی خطرناک ٹیم ہے، شاید اس وجہ سے کہ پہلے اس کرکٹ میں تکنیک اور دماغ کا اتنا استعمال نہیں ہوتا تھا، لیکن اب اس طرز کی کرکٹ بہت زیادہ ہو رہی ہے اس لیے تمام ٹیمیں اس کے لیے خصوصی تیاری کے ساتھ اپنے مخصوص کھلاڑی تیار کر رہی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ٹی ٹوئینٹی میں بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ہمارے پرانے اسٹار بلے باز جاوید میانداد، سعید انور، انضمام الحق اور دیگر اپنے دور میں ایڈوانس کرکٹ کھیل رہے تھے جبکہ موجودہ ٹیم کم ازکم 10 سال پرانی کرکٹ کھیل رہی ہے۔ بیشتر کھلاڑی بزدلی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے صرف اپنے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں، ان کو معلوم ہے کہ محض ایک میچ میں کارکردگی دکھا کر وہ اگلے 20 میچوں کے لیے پکے ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا سینئر کھلاڑی بھی نہیں ہے جو جاوید میانداد کی طرح انضمام جیسے نئے کھلاڑی کو وکٹ پر ساتھ لے کر چلے۔
اس وقت پاکستانی مداحوں کے دل ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے سخت ٹوٹے ہوئے ہیں، اگر بات صرف کارکردگی کی ہوتی تو ہمیں صبر آ جاتا کہ ہلکی ٹیم ہے تشکیل کے عمل سے گزر رہی ہے کچھ عرصے بعد جیت کے ٹریک پر آ جائے گی۔ لیکن یہاں تو جو خبریں مل رہی ہیں وہ بحیثیت پاکستانی تن بدن میں آگ لگا رہی ہیں۔ اتنی شدید گروہ بندی ٹیم میں کبھی نہیں ہوئی، ہر کھلاڑی اپنی انا کے حصار میں قید پاکستان کے لیے کھیلنے کے بجائے پاکستان سے کھیل رہا ہے۔ کاش کاکول ٹریننگ میں ان کو رسیاں ٹپوانے کے بجائے ذہنی طور مضبوط بنانے پر زور دیا جاتا، ان کو باور کرایا جاتا کہ قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ پڑھایا جاتا کہ یہ سبز کٹ محض جرسی نہیں یہ وردی ہے اور وردی کسی سپاہی کا مان ہوتی ہے جو کہ صرف اپنے وطن کی عزت و آبرو کے لیے زیب تن کی جاتی ہے۔ میچ شروع ہونے سے پہلے پاکستان کا لہراتا سبز ہلالی پرچم اور قومی ترانہ گھروں میں ٹیلیویژن کے آگے بیٹھے لوگوں کی روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ ایک کرکٹ ہی تو ہے جو ہمیں ایک دھاگے میں پرو دیتی ہے، ہر آدمی لسانیت اور صوبائیت سے بالا ہو کر صرف پاکستانی بن جاتا ہے۔ ان کو احساس ہونا چاہیے کہ لاکھوں لڑکے اس سبز جرسی کو زیب تن کرنے کی حسرت لئے میدانوں میں خون پسینہ بہاتے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
ہم نے طے کیا تھا کہ کرکٹ کے ماہر نہ ہونے کی وجہ سے تکنیکی غلطیوں پر بات نہیں کریں گے لیکن ان مجرمانہ غفلتوں اور خود غرضی کا کیا کریں جو کہ اظہر من الشمس ہیں۔ اکثر میچ دیکھتے ہوئے ذہن میں آتا ہے کہ ہم ایک عام آدمی ہوتے ہوئے میچ کے دوران جس چیز کی نشاندہی کر رہئے ہوتے ہیں وہاں بنچ پر کسی کو کیوں نظر نہیں آتی ہے۔ شاید خود غرضی، احتساب سے بالاتر ہونا اخلاص پر غالب آ جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو شاہین آفریدی اور شاداب خان اپنے دماغوں سے یہ نکال دیں کہ وہ برائن لارا ہیں، آپ بالر ہیں، بطور باؤلر آپ ٹیم میں آئے اگر بطور باؤلر کارکردگی نہیں دکھا سکتے تو ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ آٹھویں، نویں نمبر پر بیٹنگ کی حد تک صحیح ہے، شکر ہے کہ نسیم شاہ کے دماغ میں ابھی تک یہ خناس نہیں آیا ہے ورنہ بحیثیت بیٹسمین اس کی کارکردگی شاداب سے کہیں بہتر ہے۔ پی ایس ایل میں آپ دونوں حضرات اپنی اپنی ٹیم کے کپتان تھے اس لیے ون ڈاؤن بھی آتے رہے، ویسے بھی جب شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے تو اس کی مرضی ہوتی ہے کہ انڈا دے یا بچہ۔ بابر اعظم نے دوستی کی اعلی مثالیں قائم کی ہیں، بھارت والے میچ میں شاداب سے ایک گیند نہیں کروائی۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ شاداب کو بحیثیت بلے باز کھلایا آخر کیوں جب ایک بیٹر کی ٹیم میں جگہ تھی تو صائم ایوب یا اعظم خان کو اعتماد دیتے ہوئے کھلایا جا سکتا تھا، اسی طرح کی ایک موٹیویشنل اسپیچ کر دیتے جیسی آپ نے محمد نواز کے لیے کی تھی۔ حضور انتہائی ادب کے ساتھ عرض ہے کہ آپ بے شک کنگ کہلائے جاتے ہیں لیکن نہ ہی آپ بادشاہ سلامت ہیں اور نہ ہی یہ ملک آپ کی رعایا ہےکہ جسے چاہیں نوازتے چلے جائیں۔ ہماری میڈیا سے بھی ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ خدارا خود ساختہ القابات سے باز رہیں، یہ کنگ بابر، شاہینوں کی اڑان، بھارتی سورما جیسے عامیانہ الفاظ سے پرہیز کریں، یہ گراؤنڈ کے کھلاڑی ہیں، انہیں زمین پر ہی رہنے دیں۔ کینیڈا اور آئر لینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف بعض کھلاڑی خوشی سے ایسے اچھل کود کر رہے تھے، جیسے ورلڈ کپ جیت گئے ہوں۔ ہم نے تو کبھی عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے میچ وننگ کھلاڑیوں کے لیے کنگ کا لفظ نہیں سنا۔ میچ وننگ پر یاد آیا کہ اب ہمارے پاس بالنگ یا بیٹنگ میں ایک بھی میچ وننگ کھلاڑی نہیں ہے جس پر ہم بھروسہ کرسکیں کہ یہ تن تنہا میچ جتوا دے گا۔ پہلے دور میں لیجنڈز کے علاوہ بھی جونیئر کھلاڑیوں میں سے بھی زاہد فضل، منظور الہی اور اعجاز احمد نے اکیلے میچ جتوائے ہیں۔ ثقلین مشتاق نے اسپنر ہوتے ہوئے آخری اوور میں مختصر رنز کا دفاع کیا ہے۔
ہمارا موجودہ ورلڈ کلاس بالنگ اٹیک گزشتہ سال ورلڈ کپ میں ایکسپوز ہو گیا تھا، مزید کسر اس ورلڈ کپ میں امریکہ جیسی نوآموز ٹیم نے پوری کردی جب آخری اوور میں 14 رنز کا دفاع نہیں ہو پایا، مزید بھرم سپر اوور میں ٹوٹ گیا۔ آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، ڈیٹا کی مدد سے کسی بھی کھلاڑی کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کی قوت اور کمزوریاں ایکسرے کی طرح واضح ہو جاتی ہیں۔ جس کے بعد مخالف ٹیم جال بن کر اس کو گھیر لیتی ہے، لہذا ورائٹی اور ذہنی طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ دلیر ہونا بھی ضروری ہے۔ بڑے ٹورنامنٹ میں عموماً ہم پہلا میچ ہارتے ہیں اور وہ پہلا میچ آسیب کہ طرح آخر تک چمٹ کر ہمیں اگر مگر کی طرف لے جاتا ہے، پہلے یہ فریضہ ویسٹ انڈیز (ہلکی ٹیم ہونے کے باوجود) کے ہاتھوں انجام پاتا تھا۔ اس مرتبہ امریکہ نے اپنے ذمہ لے لیا۔ چیمپینز ٹرافی میں بھی بھارت نے شروع میں ہی ہمیں عبرتناک شکست سے دوچار کیا لیکن سرفراز احمد نے نہ صرف دلیرانہ طریقے سے کم بیک کیا بلکہ آٹھویں نمبر کی ٹیم سے فائنل میں بھارت کے ساتھ اسی طریقے سے حساب برابر کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو چیمپین بنایا۔ اس وقت تقریباً آدھی ٹیم یہی تھی لیکن اس وقت یہ لوگ اسٹار نہیں بنے تھے۔ پاکستان کرکٹ میں پلئیرز پاور پہلے بھی سر اٹھاتی رہی ہے لیکن جتنا برا حال اس وقت ہے پہلے نہیں ہوا۔
بابر اعظم کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی طاقت ان کی بیٹنگ ہے کپتانی نہیں، اپنی بیٹنگ کی بدولت وہ ایک لمبے عرصے تک کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔ ماہرین ان کو کوہلی کی کلاس کا بلے باز گردانتے ہیں، ٹنڈولکر جیسا عظیم کھلاڑی بھی کامیاب کپتان نہیں بن سکا لیکن بطور بلے باز اس کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ بابر کو چاہیے کہ کپتانی سے توبہ کر کے اپنے کھیل پر توجہ دیں کیونکہ وہ جتنے اچھے بلے باز ہیں اتنے ہی برے کپتان ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی قیادت کا نقصان نہ صرف پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے بلکہ ان کو بھی ذاتی کارکردگی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
قوم آخر کب تک شکست کے بعد ان کی رٹی رٹائی تقریر برداشت کرے گی، کہ اتنے رن کم بنے، باؤلر نے بالنگ اچھی نہیں کی وغیرہ وغیرہ۔
اب بات کچھ بورڈ کی بھی کرلیتے ہیں چیئرمین صاحب نے ٹیم میں سرجری کا عندیہ دیا ہے۔ محسن نقوی صاحب کچھ ذمہ داری آپ کو بھی اٹھانی پڑے گی ایک دو بکروں کی قربانی سے کام نہیں چلے گا۔ آپ کے پاس دو بڑے عہدے ہیں ایک داخلہ جس میں ملک میں امن وامان کے حوالے سے آپ براہ راست ذمہ دار ہیں دوسرا کرکٹ کی بہتری۔ یہ خبطی قوم امن و امان کے معاملات میں تو شاید صبر کر لے لیکن اپنی ٹیم کو ہارتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، وہ بھی امریکہ یا زمبابوے جیسی ٹیموں کے ہاتھوں۔ آپ نے آتے ہی پیسے کی بات کی تھی کہ بہت پیسہ ہے اور یہ پیسہ ہم کرکٹ پر ہی خرچ کریں گے اگر صرف پیسے سے اسکل خریدی جاتیں تو افغانستان کی ٹیم اتنی جلدی اوپر نہیں آتی اور نہ ہی سری لنکا خانہ جنگی کے دوران ورلڈ چیمپئن بنتی۔ چند سال پہلے جب بورڈ میں عہدیداروں کی فوج ظفر موج اور ان کے بھاری مشاہرہ پر بات کی گئی تھی تو کہا گیا تھا کہ ہم بورڈ کو کارپوریٹ کی طرح چلائیں گے۔ کارپوریٹ میں لوگ اپنے اہداف کے لیے تن من کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور سخت احتساب کے عمل سے بھی گزرتے ہیں۔ آپ وہاب ریاض کو لے کر آئے سب سے پہلے ان کی کارکردگی کے بارے میں ان سے سوال کریں، کھلاڑیوں کو دیگر سرگرمیوں کی اجازت کس نے دی۔ اگر پی ایس ایل کی کارکردگی بنچ مارک تھی تو اسامہ میر کو ٹیم سے باہر کیوں رکھا گیا۔ سر! فوری طور پر ریلو کٹوں، چلے ہوئے کارتوسوں اور اسٹار پلس کے ڈراموں کو باہر کریں۔ ٹی ٹوئینٹی کا ایک بڑا پول بنائیں اس میں نئے ٹیلنٹ کو گروم کریں۔ بطور منتظم آپ کا ایک اچھا تاثر تھا جو کہ کرکٹ کے حوالے سے نظر نہیں آیا۔
ٹیم میں سرجری کے حوالے سے آپ پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جائے گا، لیکن آپ کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے ۔ کرکٹ کے متوالے سوگ میں ہیں جبکہ کھلاڑی میچ ہارنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ فوٹو سیشن کرتے رہے اور ابھی مزید قیام کر کے امریکہ گھوم کر آئیں گے۔ کاش کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی باب وولمر جتنی غیرت ہوتی۔ تینوں فارمیٹ کے لیے الگ کپتان ہونا چاہیے، فخر زمان دلیر کھلاڑی ہے اس کو کپتان بنانے کے لیے قطعی نہ سوچا جائے اس سے اس کا کھیل متاثر ہو گا۔ آخر میں لیجنڈز سے گزارش ہے کہ اپنے دامادوں کو صرف کھیل کی تکنیک سے متعلق مشورے دیں نہ کہ سیاست سکھائیں۔



👍👍👍یہ ٹیم نہیں ہے ایک مجمع ہے جس میں ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔