شاہد حنائی: خواب سا، فسانے سا…
شاہد حنائی صاحب نے آج تک کبھی فیس بک پر اپنی کوئی ایک تصویر بھی پوسٹ نہیں کی! اس لیے مجھے ان کے ساتھ اپنی تصویر فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت مانگی پڑی اور انہوں نے مروّت و محبت کی وجہ سے مجھے اجازت دے دی۔
شاہد حنائی صاحب اردو کے نامور لکھاری ہیں اور تواتر سے سندھی ادب کو اردو میں ترجمہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ شہرت سے دور بھاگتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ ان کی اپنی اردو تحریریں اور سندھی سے اردو میں تراجم پاک و ہند کے اہم ترین جرائد کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اب تک ان کی غالباً پندرہ کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اکثر کتابوں کے ایک سے زائد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں، جن میں سندھی کہانیوں کے اردو تراجم پر مشتمل تین کتابوں کے ساتھ صنف خاکہ نگاری پر ان کی بہت اہم کتاب ”اردو خاکہ نگاری: فن، تاریخ، تجزیہ“ شامل ہے۔
شاہد حنائی صاحب نے میرا ایک ناول اور کئی کہانیاں اردو میں ترجمہ کی ہیں لیکن ان سے میرا تعلق بھی کسی کہانی سے کم دل چسپ نہیں!
شاہد صاحب نے 25 سال پہلے مجھے کراچی سے خط لکھ کر، میری سندھی کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کرنے کے لیے اجازت چاہی تھی۔ خط لکھنے کے معاملے میں، میں بہت سست ہوں، ان کا خط میں نے رکھ لیا کہ بعد میں جواب لکھوں گا۔ کئی مہینے گزر گئے۔ ایک دن ان کے خط کا جواب لکھنے کا خیال آیا تو خط گم ہو چکا تھا! چند ماہ بعد ان کی طرف سے ایک لفافہ موصول ہوا، جس میں میری دو کہانیوں کے شائع شدہ تراجم کی فوٹو کاپیاں اور خط موجود تھا۔ انھوں نے خط میں لکھا تھا:
”آپ کا جواب موصول نہیں ہوا تھا لیکن میں نے یہ دو کہانیاں ترجمہ کر کے شائع کروا دی ہیں۔ امید ہے آپ کو اعتراض نہیں ہو گا۔“
اعتراض کیسا! مجھے تو بہت خوشی ہوئی۔ میں وہ لفافہ ڈرائنگ روم میں کتابوں کے ساتھ رکھ لیا کہ جلد ہی خط لکھ کر، ان کے پہلے خط کا جواب نہ دینے پر معذرت بھی کروں گا اور کہانیاں ترجمہ کرنے کا شکریہ بھی ادا کروں گا۔ جلد کی بجائے دیر ہوتی رہی، خط کتابوں کے ساتھ موجود رہا۔ عرصہ گزر گیا اور پھر وہ لفافہ بھی کھو گیا، جس میں میری دو کہانیوں کے تراجم اور ان کا دوسرا خط موجود تھا! اس روز مجھے اپنی سستی و کوتاہی پر دکھ بھی ہوا اور اپنے اس لاجواب مترجم کے محبت ناموں کا جواب نہ دینے پر ندامت کا احساس بھی ہوا۔
کئی برس بیت گئے۔ سوشل میڈیا کا زمانہ آیا تو ان سے رابطہ ہوا تو پتا چلا کہ وہ کب کے کراچی سے کوچ کر کے کویت میں جا بسے ہیں۔ فون پر بات ہوئی تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور معذرت بھی کی۔ اس کے بعد ان سے سوشل میڈیا اور فون پر رابطہ برقرار رہا۔ کبھی کویت سے چند روز کے لیے پاکستان آتے تو سندھ کے ضلع بدین کے چھوٹے سے شہر گولاڑچی سے فون کرتے لیکن ملاقات کبھی نہیں ہو سکی۔
ایک بار کویت سے فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے پوچھا :
” کیا مجھے آپ کی کسی بھی تحریر کا ترجمہ کرنے کی اجازت ہے؟“
میں نے کہا : ”میری کسی بھی تحریر کا ترجمہ کرنے کے لیے آپ کو مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔“
اس کے کچھ عرصہ بعد ان کی جانب سے ایک پیکٹ موصول ہوا۔ پیکٹ کھولا تو سرپرائز ملا، میرے سندھی ناول ”سیتا زینب“ کا مکمل اردو ترجمہ کمپوز شدہ صورت میں موجود تھا۔ مجھے حیرت انگیز خوشی ہوئی۔ میں نے فون کیا تو انہوں نے کہا:
”ناول کا مسّودہ دیکھ لیجیے تو میں اشاعت کے لیے بھیج دوں۔“
شاہد حنائی بہت پختہ قلم کار اور ترجمہ نگار ہیں۔ مجھے نظرثانی کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ انھوں نے ناول کا مسّودہ کلاسیک پبلشرز لاہور کے روح رواں آغا امیر حسین صاحب کو ای میل کر دیا۔
میرا ناول ”سیتا زینب“ سندھی میں 2011ء میں شائع ہوا تھا۔ 2014ء میں اسی عنوان سے شاہد حنائی کا ترجمہ کردہ پہلا اُردو ایڈیشن شائع ہوا تو ناول کے پبلشر آغا امیر حسین صاحب نے مجھے فون کیا کہ مَیں اپنی کہانیوں کے اُردو تراجم کتابی صورت میں شائع کرانے کے لیے بھیج دوں لیکن مَیں ان کے حکم کی تعمیل نہیں کر سکا، کیوں کہ مَیں اپنی کہانیوں کے تراجم اِدھر اُدھر رکھ کر بھول گیا تھا۔ بعد ازاں میرے دوست، نامور شاعر و صحافی نیاز پنہور نے اپنے اخبار کے نوجوان سب ایڈیٹر عظمت اللہ کمبھر کو میرے پاس بھیجا۔ اس نوجوان کو ایم اے اُردو کا مونوگراف لکھنے کے لیے میری کہانیوں کے تراجم درکار تھے۔ تلاش کی مشقت سے بچنے کی خاطر مَیں اس نوجوان کو ٹالتا رہا، لیکن اس نے پیچھا نہ چھوڑا۔ تراجم تلاش کر کے عظمت اللہ کے حوالے کیے تو چند ہفتے بعد نہ صرف دست یاب مواد، بلکہ وہ میری مزید چند کہانیوں کو ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ تمام کہانیوں کو کمپوز کر کے، ان کی ہارڈ کاپی میرے حوالے کر گیا۔ عظمت اللہ کمبھر کی اس لگن اور محبت کی وجہ سے مجھے کتاب کی تکمیل ہوتی نظر آئی۔

کتاب کی ترتیب و اشاعت کے لیے میں نے کویت میں موجود اپنے اَن دیکھے دوست شاہد حنائی سے فون پر ذکر کیا تو انھوں نے اس بارے میں دل چسپی اور خوش دلی کا اظہار کیا۔ ان کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی نے مجھے تحریک اور تقویت دی۔ شاہد بھائی کی محبتوں کی وجہ سے ہی اُردو میں میری دوسری کتاب ”ڈانسنگ گرل“ 2017ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔ شاہد حنائی کی یہ محبت دراصل سندھ کی دھرتی سے محبت ہے، جس کا اظہار وہ اپنی کتابوں میں بھی کرتے رہے ہیں۔ تبھی تو اُردو کی روشن خیال لکھاری محترمہ زاہدہ حنا نے ان کے لیے لکھا ہے:
”عزیزی شاہد حنائی اس بات کے قائل ہیں کہ کام کرتے جاوٴا ور اپنی بساط کے مطابق لوگوں تک پہنچاتے جاوٴ۔ وہ ایک ایسے پنجابی ہیں، جن کے باپ نے سندھ کو اپنایا اور وہ سندھ دھرتی پر پیدا ہوئے۔ سندھی کی تمام حالتیں شاہد حنائی کے وجود کا حصّہ بن گئیں۔ وہ سندھی، سرائیکی، پنجابی اور اُردو ادب میں پیڑے ہوئے ہیں۔ سندھی ادب نے انھیں اس طرح لبھایا کہ وہ اسی کے ہو گئے۔ انھوں نے دھرتی کے نمک کا حق ادا کر دیا ہے۔“
اردو میں ترجمہ شدہ میری دونوں کتابیں (ناول ”سیتا زینب“ ترجمہ اور کہانیوں کی کتاب ”ڈانسنگ گرل“ ترتیب) انہی کے کریڈٹ پر ہیں، جو پاکستان میں اشاعت کے بعد انڈیا میں بھی شائع ہوئیں۔ آج اگر میرے سندھی ناول ”سیتا زینب“ کا عربی، بنگالی اور پہاڑی زبانوں میں ترجمہ ہو رہا ہے تو وہ شاہد حنائی صاحب کے اردو ترجمے سے ہی کیا جا رہا ہے۔
ڈھائی دہائیوں تک رابطے کے باوجود کبھی ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ نہ ہی کبھی ان کی تصویر دیکھی تھی۔ میری تحریر کے اردو تراجم کی دونوں کتابوں کے پہلے پاکستانی ایڈیشنز کے بیک ٹائٹل پر انہوں نے میری ہی تصویریں شائع کروا دیں۔ میرے لیے وہ اَن دیکھے دوست ہی رہے!
پہلی بار ان کی تصویر تب دیکھی، جب ”ہم سب“ کی ویب سائٹ پر انہوں نے میری ہی کوئی کہانی شائع کروائی تو اس کے ساتھ ان کی تصویر موجود تھی۔ یہ وجاہت مسعود صاحب کی مہربانی تھی کہ ان کے ذریعے ہم سب کو شاہد صاحب کی صورت دیکھنے کا موقع ملا۔
اس کے بعد بھی شاہد حنائی صاحب میری کہانیوں کو ترجمہ کرتے رہے جو پاکستان کے اہم ترین ادبی جرائد کے ساتھ دیگر مختلف ممالک میں بھی شائع ہوتی رہیں۔
کویت سے کبھی کبھی کراچی اور گولاڑچی آتے لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔ کبھی رات کو فون کر کے بتاتے :
”آج میں سندھی کتابیں خریدنے کے لیے حیدرآباد آیا تھا۔“
مجھے افسوس رہتا کہ ملاقات نہ ہو پائی۔
انہوں نے کئی سال کویت میں گزارے۔ یہ کویت جانے سے قبل اور بعد بھی سیر و سیاحت کی غرض سے ملکوں ملکوں سفر کرتے رہے۔
بالآخر اب سترہ برس باہر بتا کر وطن واپس منتقل ہو گئے ہیں۔ کراچی میں ایک مکان شوق سے بنوایا، جو اب بھی موجود ہے لیکن وہاں رہتے نہیں۔ اپنے بچپن کے گولاڑچی شہر کی گلیوں کو کبھی بھولے نہیں تو وہیں لوٹ کر یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
ان کے اور میرے درمیان فاصلہ تو کم ہو گیا لیکن ملاقات پھر بھی ندارد رہی۔
ایک دن انہوں نے فون کر کے پوچھا کہ حیدر آباد میں فلاں شادی ہال سے آپ کے گھر کا فاصلہ کتنا ہے؟
میں نے کہا، ”صرف تین کلومیٹر، زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ کی ڈرائیو۔“
انہوں نے کہا، ”مجھے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرنی ہے، آج ملتے ہیں۔“
شام کو ان کا ٹیکسٹ میسج ملا: ”میں شادی کی دعوت میں نہیں آ رہا۔“
شاہد صاحب کویت سے کراچی اور گولاڑچی تک تو پہنچ گئے، انہیں یہاں پہنچے کچھ برس بھی بیت گئے لیکن کہیں اتفاقیہ ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ کراچی اور حیدرآباد کے کسی ادبی میلے کے سٹیج پر تو کیا، کبھی سامعین کے ہجوم میں بھی نظر نہیں آئے۔
وہ شہرت سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن پذیرائی خود ان کا پیچھا کرتی ہے۔
امسال اسلام آباد سے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے قومی تقریب تقسیم اعزازات کا بلاوا آیا تو معلوم ہوا کہ شاہد حنائی صاحب بھی مدعو ہیں۔
میں نے ان کو میسج کر کے پوچھا: ”کیا اسلام آباد چل رہے ہیں؟“
ان کا جوابی سوال آیا: ”چلوں کیا!“
میں نے ٹیکسٹ کیا: ”ہاں! ضرور چلیے۔“
اور پھر اس طرح ہماری پہلی ملاقات ہوئی کراچی ائرپورٹ پر۔
گلے ملے تو میں نے کہا، ”آج ایک تصویر بنا لیتے ہیں۔“
یہ بولے، ”تین دن ساتھ ہیں، تصویر بعد میں بنا لیں گے۔“
یوں چوتھائی صدی کے رابطے کے بعد پہلی ملاقات کی تصویر نہ بن پائی!
اکادمی ادبیات کی سہ روزہ تقریبات کے دوران، ایک سیشن کے وقفے میں شاہد صاحب اور میں اسلام آباد ہوٹل کی لابی میں کھڑے تھے کہ اردو کے نامور لکھاری محبوب ظفر صاحب قریب آئے۔ شاہد حنائی اور محبوب ظفر کے تو پرانے برادرانہ مراسم ہیں، میری محبوب صاحب سے کم کم ملاقاتیں ہیں لیکن جب بھی وہ ملتے ہیں، میرے دل میں محبت کا ایک ایسا پھول رکھ دیتے ہیں، جو کبھی مرجھاتا نہیں، ہمیشہ مہکتا رہتا ہے۔ اس دن بھی محبوب صاحب نے مجھے بہت محبت سے گلے لگایا اور اپنا فون نکال کر کسی کی تصویر بنانے کے لیے کہا۔ اس لمحے میں نے قریب کھڑے شاہد حنائی سے کہا، ”یار! اب تو ایک تصویر بننی ہی چاہیے۔“ تب وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے آ کر میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے۔
میں نے اسلام آباد میں نامور شعرا و ادبا کے ساتھ تین روزہ قیام کے دوران نوٹ کیا کہ شاہد حنائی صاحب کی کم گوئی اور کم آمیزی کے باوجود انھیں نئے لکھنے والے چاہ بھرے تپاک سے ملتے ہیں۔ سینئر ادبا سے ان کے دل کے رشتے ہیں۔ شاید ان کے خلوص اور کتاب دوستی نے ان کی خاموش مزاجی پر اپنایت کی چادر پھیلا دی ہے۔
شاہد حنائی صاحب سے اسلام آباد میں تین دن تک مسلسل ملاقاتیں رہیں لیکن تشنگی پھر بھی یہ سطور لکھنے تک برقرار ہے۔ وہ مجھے محبت کرنے والے ایسے مخلص انسان لگے، جن سے مل کر، پھر ان سے ملنے کی خواہش دل موجود رہتی ہے۔





