جمیل نقش کی یاد میں

یہ ایک مختصر سا تاثراتی مضمون ہے۔ کل دو ملاقاتوں پر محیط۔ ان دونوں ملاقات کا کل ملا کر دورانیہ تین گھنٹے سے شاید ہی کچھ زیادہ ہو۔
ہمارے ایک ماتحت ان دنوں بلدیہ جنوبی میں ڈائریکٹر پارکس ہوتے تھے۔ نستعلیق، خوش مزاج اور بڑے ہی باذوق، سندھ کے ایک بڑے شاعر کے داماد مگر بیگم سے نالاں۔ مصور جمیل نقش کے کوئی عزیز ان کے ماتحت ہوتے تھے۔ یوں ان کے جمیل نقش صاحب سے روابط ہو گئے۔ دنیا داری کا فن آتا تھا۔ جان جوکھم میں ڈال کے تعلقات نبھاتے تھے۔ شیخ صاحب کشادہ، دھیمے اور شائستہ مزاج کے مالک تھے، سو سب ہی کو اچھے لگتے تھے۔
جمیل نقش ان دنوں کراچی ایڈمنسٹریٹو سوسائٹی کے پچھواڑے رہتے تھے۔ گھر کے پیچھے ایک روٹھا ہوا سا نالہ بہتا تھا۔ ایک ہزار گز کا خالی قطعہ اراضی ان کے گھر کے عقب میں لڑھکتا لڑھکتا نالے میں جا گرتا تھا۔ جمیل صاحب کا خیال تھا کہ اس میں سبزہ وغیرہ لگ جائے تو ان کا باغبانی کا شوق بھی پورا ہو جائے گا اور پاس پڑوس کی بدصورتی بھی مٹ جائے گی۔

بلدیہ ایسے پرسنل فیورز میں چوکتی تو نہ تھی۔ یہاں ایم کیو ایم حقیقی کے ایک وزیر ارشاد احمد نے اپنی ایک عزیزہ کو سرکار کی نوکری کے مزے چکھانے کے لیے عالم اسلام کی پہلی خاتون موذن بھرتی کیا تھا۔ ہزاروں مسلمان جمعدار بھی بھرتی کر رکھے تھے جو سوائے سرکار کی جیب کے کسی اور شے کی صفائی نہ کرتے تھے۔ ہماری آمد پر اتنا ہوا کہ جب ان کی تنخواہیں روکی گئیں تو انہوں نے اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ غیر مسلم ملازمین پر خرچ کر کے علاقے میں صفائی کا انتظام آؤٹ سورس کر دیا۔ ملازمین ہم سے ڈرتے تھے۔
ماتحت شیخ صاحب نے بہت سلیقے سے ہمیں تجویز دی کہ سر کچھ وقت ہو تو آپ ہمارے افسر عالی مقام ہیں۔ آپ کو علاقے کے کچھ پارکس کا معائنہ کرا دیتے ہیں۔ سالانہ بجٹ بن رہا ہے۔ اس میں ان پارکوں کا کام آپ کے معائنے کے بعد ڈال دیں گے۔ سندھی بیوروکریسی میں سماجی شعور بہت اعلی معیار کا ہوتا ہے۔ ان کے ہاں Informal تنظیم، Formal تنظیم پر بھاری ہوتی ہے۔
دورے پر جاتے ہوئے انہوں نے آرمین کی بیکری سے کیک لیا۔ آرمین پارسی تھی۔ نوجوان دیدہ زیب، سجل اور اپنے کیکس کی طرح شمپپین سے گندھی ہوئی نرم و ملائم۔ ہم نے گجراتی بولی تو ریکھا کے الفاظ میں ہوئی اور بھی ملائم میری رات ڈھلتے ڈھلتے کا سا عالم ہو گیا۔ شیخ صاحب کو لگا کہ مزاج کی شراب کو لگاوٹ کی برف مل گئی ہے۔ یوں دورے کے حوالے سے انہیں ہمارے موڈ کی موزونیت کا علم ہو گیا۔
موسم اور موڈ کا اشارہ پا کر سرکاری سواری کا رخ سیدھا جمیل نقش کے محلے کی جانب موڑ دیا۔ مطلوب یہ تھا کہ جمیل صاحب کی فرمائش پر سرخرو ہوجائیں۔ کہنے لگے ”سر آپ کو ایک نفیس آرٹسٹ سے ملاتے ہیں۔ وہ نوری ٹاکی کے ٹی سیٹ میں چائے پلاتے ہیں۔ چائے کا ایک دور ختم نہیں ہوتا کہ دوسرے نفیس ٹی سیٹ میں چائے آجاتی ہے۔ یہ ہمارے لیے دل چسپ نکتہ تھا۔
اس سے پہلے مشہور صحافی اردشیر کاؤس جی ہمیں اپنے گھر پر سونے کی کناری والے ٹیبل ویر میں ناشتہ کرا چکے تھے۔ جس طرح تیزی سے ڈوبتے ہوئے صحافی سہیل وڑائچ کو لاہور کی ابھرتی ہوئی دنیائے اسٹیج کی رنگ برنگی اداکاراؤں کے ساتھ ایک دن بتانے کا بہت شوق ہے۔ اس طرح ہماری بھی کوشش ہوتی تھی کہ سرکاری نوکری میں اہل ذوق سے ملاقات ہو جائے۔
شیخ صاحب کی تجویز تھی کہ مختلف پارکس کے دورے سے پہلے ان سے ملتے ہیں۔ ہم نے حامی بھری تو کچھ دیر بعد ہم ان کی رفاقت میں جمیل نقش صاحب کے آستانہ عالیہ پر موجود تھے۔ اس سے قبل ہمارا واسطہ غریبوں کے جمیل نقش، اقبال درانی سے پڑ چکا تھا۔
ہمارے ایک دوست انہیں اور غریبوں کے جمیل نقش اور پاکستانی آرٹسٹ مشکور رضا کو ایم۔ ایف۔ حسین کہتے تھے۔ اقبال درانی صاحب نقش صاحب کی طرح کبوتر اور رضا میاں ایم ایف حسین کی طرح گھوڑے پینٹ کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اقبال درانی کے کبوتر اور مشکور رضا کے گھوڑے نسلی نہیں ہوتے اس لیے ان کی پینٹنگز دیگر دو نامور مصوروں جتنی مہنگی نہیں ہوتیں۔ کبوتر پہلے پکاسو کے والد بھی پینٹ کرتے تھے جب ایک دفعہ انہوں نے اٹھ برس کے پکاسو کی کبوتروں کی ڈرائنگز دیکھیں تو کہا پتر تو مجھ سے اچھے کبوتر نقش کرتا ہے سو اب میں اس سبجیکٹ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کروں گا۔ آرٹ اور آرٹسٹ ہمارے لیے نئے نہ تھے۔ رحیم ناگوری سے رشتہ داری تھی اور مسرت مرزا کے ہم لاڈلے شاگرد تھے۔ دبیر اور آفتاب، محمد علی ہمیں بارہا ملا کرتے تھے۔

امریکہ کے بھی آرٹ سین کا چھوٹا موٹا اندازہ تھا۔ پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں جب دنیا بھر میں مقابلے کی ایک اسکالر شپ جیتی اس کا نام ہمفرے فیلو شپ تھا۔ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں یہ سارا پروگرام چلا کرتا تھا۔ یہ سارا طلسم کدہ تیسری دنیا کے افسران غلام پیشہ کے لیے مخصوص تھا۔ پروگرام میں اختیاری مضمون کا فیصلہ طالب علم کا اپنا ہوتا تھا۔ اپنا تذبذب ہم جماعت لنڈا اسمتھ پر ظاہر کیا تو وہ ہمیں بغرض رفاقت فگر ڈرائینگ کے کورس میں داخلہ دلانے لے گئی۔ ہمارا اصرار تھا کہ ہم امریکہ کی فارن پالیسی کے کورس میں شامل ہوں۔
اس کا کہنا تھا کہ جہاں مائیکل جیکسن، میڈونا اور ٹام کروز جیسے شہرت اور دولت کے روشن منارے موجود ہوں۔ وہاں ایک غریب ملک کے شاخ پر دم سے لٹکے ہمارے جیسے لنگور افسر کی کیا اوقات۔ پاگل ہو گئے ہو جو وقت ضائع کرتے ہو۔ امریکہ اگر تمہارے جیسے غریب غربا کو اپنی جامعات کے کورسز میں اپنی راج نیتی کی گتھیاں سمجھانے لگے تو پھر یہ سی آئی اے کا ادارہ اور بوہیمین گرو (امریکہ کا ایک بے حد خفیہ کلب جہاں امریکہ کے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ خواتین اس کی ممبر نہیں بن سکتیں ) کو ہم لپیٹ کر تمہاری زبیدہ آپا کے حوالے کر دیں۔ ہوش کے ناخن لو اور ندیا دھیرے بہو۔ ابھی تک انہوں نے عمران خان پر ہاتھ نہیں رکھا تو بڑے آئے تم کہ تم کو اس پروگرام میں کچھ مقام رفعت ملے گا۔ مزار کے پھول دلہن کا گلدستہ نہیں بن سکتے۔ میرے ساتھ فگر ڈرائینگ کی کلاس میں شامل ہو جاؤ۔
دنیا فن، سائنس اور آرٹ کو مانتی ہے۔ امریکی فوج کا سپہ سالار کون ہے یہ یونی ورسٹی میں شاید ہی کسی طالب علم کو پتہ ہو مگر پارٹ ٹائم لوور کس نے گایا ہے وہ کل جو تم سے کولہے جوڑ کر ناچ رہی تھی ارے وہی تمہاری سوئمنگ کوچ چیکی نیلسن۔ اسے بھی اس گیت کے گائیک اسٹیوی ونڈر کا نام کو بھی معلوم ہو گا۔ سو ہم نے بھی گا کر کہا لنڈا اسمتھ یہ بات ہے تو چل اب چاہے کہیں بھی لے جا، تو آگے اور میں پیچھے۔

داخلے کے وقت ایڈمیشن کلرک کا کہنا تھا فگر ڈرائنگ کے کورس میں داخلے کے حوالے سے استاد محترم سے ملنا بہتر ہو گا۔ ان کی رضامندی لازم ہے۔ استاد محترم ہم عمر ہی تھے۔ چپ چاپ، شرمیلے، مگر فن مصوری میں طاق۔ کہنے لگے آپ یقیناً مسلمان ہیں۔ مجھے داخلہ دینے میں کوئی عار نہیں مگر سوچا کہ جتا دوں کہ کلاس میں یوں ہو گا کہ بہت دفعہ جو ماڈل سامنے موجود ہوگی اس کے پورے بدن پر سوائے مسکراہٹ کے لیے کچھ اور نہ ہو گا۔ یہ سب کچھ شاید آپ کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ ہم نے بات یہ کہہ کر ٹالی کہ سیکس کا درجہ مذہب سے پہلے آتا ہے۔ بہت ہنسے۔ یہ سن کر اور بھی خوش ہوئے کہ یہ تاثر کہ اسلام اچھی Anatomy کا مخالف ہے، درست نہیں۔ مسلمان کو بھی خوبصورت بدن اتنا ہی اچھا لگتا ہے جتنا پوپ اور پنڈت کو۔ آپ کے مجھ سے غیر ضروری سوال جواب سے مذہبی امتیاز کا شائبہ بھی گزرتا ہے۔ جو شاید امریکی آئین کی روح کے منافی ہے۔ فوراً سے کہنے لگے Admitted۔
بہت دن بعد جب اپنی پڑوسن ڈورین میک آرتھر عمری انیس برس، رنگ گورا، خوش قامت جس کو دیکھ کر ہم اکثر سوچتے تھے کہ کسے نصیب بے پیرہن اسے دیکھے کو ہم نے کہا ہماری فگر ڈرائینگ کی کلاس میں ماڈل بنے گی۔ کہنے لگی وہاں تو بہت اچھے پیسے ملتے ہیں مگر مجھے کوئی وہاں نہیں جانتا۔ ہم نے کہا کس کا ہے تم کو انتظار، میں ہوں نا۔ استاد محترم جن کا خیال تھا کہ ہمارا انہماک اور سیکھنے کی لگن ایسی جواں اور بھرپور ہے کہ اگر ہم ماڈل کو ہم کم اور کاغذ کو زیادہ دیکھیں تو پکاسو کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ان سے ذکر کیا تو کہنے لگے۔ لے آؤ۔ سو جب ڈورین نے باتھ روب ایک طرف اچھالا تو مکیں ادھر کے بھی جلوے اُدھر کے دیکھتے ہی رہ گئے۔

ذکر تھا غریبوں کے جمیل نقش یعنی اقبال درانی کا۔ ٹریفک چیکنگ میں ون وے کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے پر انسپکٹر فرحت اور کپتان قنبر، انہیں گردن ناپتے ہوئے ہماری موبائل کورٹ میں لے آئے۔ حضرت مشتعل تھے۔ عدالت سے کہنے لگے۔ جج صاحب اس ملک میں فن کی کیا یہی قدر ہے۔ مجھے پولیس موبائل میں بٹھا کر لایا گیا۔
ہم نے کہا تحمل سے اس بات کا جواب دیں کہ پولیس نے آپ کو خراب پینٹنگ بنانے پر پکڑا ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی پر۔ جو اتنا اودھم مچاتے ہیں۔ وہ اس کے باوجود مصر تھے کہ ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ ہم نے کہا مثلاً کتنا۔ آپ کولن ڈیوڈ، سعید اختر، بشیر مرزا، اقبال حسین، گل جی سے بڑے آرٹسٹ ہیں۔ نارتھ ناظم آباد کی ٹریفک چوکی پر مجسٹریٹ درجہ اول کے منھ سے پاکستان کی دنیائے مصوری کے اتنے اہم نام سن کر سکتے میں آ گئے مگر پولیس کے رویے سے ان کی انا بری طرح مجروح ہوئی تھی۔ وہی ضد کے مجھے صحیح مقام و منزلت نہیں ملی۔ باہر کی دنیا تو آرٹسٹوں، کھلاڑیوں کے نام پر بچھ بچھ جاتی ہے۔ ہم نے پوچھا کہ مائیک ٹائی سن کا نام سنا ہے۔ کہنے لگا جی ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چمپیئن ہیں۔ ہم نے کہا آج کل کہاں۔ منمنائے جیل میں۔
ہم نے کہا ہماری گاڑی میں بیٹھ جائیں۔ دفتر چلتے ہیں۔ آپ کو کھانا بھی کھلاتے ہیں۔ آپ کے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک منی بس والے پر دو ہزار کی جگہ ہزار کا جرمانہ کیا کہ ان کے تین سو روپے وہ ادا کرے یوں ان کے تین سو روپے کا جرمانہ بھی ادا ہو گیا۔ مرید ہو گئے۔ کہنے لگے آپ کو تو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ہونا چاہیے۔ بیگم کے ساتھ گھر آئے۔ ایک پینٹنگ اور رباعیات عمر خیام کا یہ نسخہ چھوڑ گئے۔ یہ دونوں اب ہماری بیٹی کے پاس نیویارک میں ہیں۔

اسی دن ایک اور خاتون بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔ ٹی وی کی نئی نویلی اداکارہ۔ بابرہ شریف کے برق کے اشتہار جیسی۔ جس کے کھلی گاڑی میں کفتان پر بنے شکرے کو دیکھ کر فریفتہ ہونے والے شیوخ العرب نے چولستان آباد کر دیا۔ مردوں کی ایک محفل میں کسی نے پوچھا تھا کہ تین بہنوں فردوس، فاخرہ اور بابرہ میں شریف کون ہے؟ جواب آیا ان کے والد۔ یہ معصومہ اپنی مرضی سے سڑکوں پر ہر قسم کے کاغذات اور سگنل کی پابندی کی بھنج کڑی (سندھی میں پامالی) کرتی پولیس کے ہتھے لگی تھیں۔ انار کلی جیسی کبوتر اڑانے والی شوخ طبیعت۔ اداکارہ ممتاز کا سا بدن۔ ہم نے پوچھا کہ کاغذات لائسنس کہاں ہیں۔ کہنے لگی ابھی میٹرک کا امتحان دیا ہے۔ آج فرصت ملی ہے تو وہی بنوانے جا رہی تھی۔ ہم نے کہا کیا سزا دیں تجھے۔ جواب ملا پانچ ستارہ چورنگی کے پیچھے ہمارا گھر ہے وہاں آ کر کھانا کھا لیں۔ کہنے لگی اماں اور کک مل کر کھانے کی جو ریڑھ مارتے ہیں وہ ہماری سزا سمجھیں۔ میٹرک کی لڑکی کو سزا دیں گے تو سزا باپ کو ملے گی۔ استدلال اچھا لگا۔
بعد میں اچھے مراسم ہو گئے۔ قریش پور سے رشتہ داری تھی سو پی ٹی وی میں جا گھسیں۔ افتخار عارف، عبید اللہ بیگ اور وہ ان دنوں پی ٹی وی کے بڑے نام تھے۔ ایک دن دفتر آ گئیں کہ آئی ڈی ایک لڑکے کا رشتہ آیا ہے۔ چھوکرا ایک دم چکاس ہے۔ باپ کے پاس پیسا بھی ہے۔ قریش پور کسی سیریل کے چکر میں مجھے فٹ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ روک رہے ہیں۔ لڑکا کہتا ہے اس ہفتے شادی اگلے ہفتے برطانیہ۔ اماں مان گئی ہیں۔ ابا کہتے ہیں کہ ملت جعفریہ کا نہیں۔ میرے نزدیک فیصلہ یہ کرنا ہے کہ کیریر اہم ہے یا شادی کرنا۔
ہم نے کہا یہ بتا تو قریش پور کے سہارے مدھوبالا، نرگس، مارلن منرو اور صوفیہ لارین سے بڑی اداکارہ بن سکتی ہے۔ کہنے لگی نہیں۔ ہم نے پوچھا۔ انہوں نے کیا کیا۔ جواب ملا شادی۔ ہم نے سمجھایا کہ تو بھی بڑوں کا کہنا مان۔ اپنے ہاتھ پیلے اور لڑکے کی دولت کا منہ کالا کر۔ خوب صورت عورت کے دنیا میں صرف تین کام ہیں۔ اچھی باتیں کرنا، اچھے کپڑے پہننا اور میاں کی دولت کا کریا کرم کرنا۔

کہنے لگیں ’ابا کے پاس فوری ہال بک کرنے کے پیسے نہیں۔ سارا کام جلدی میں ہے۔ ہم نے بھی یہ سوچ کر کہ کس گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد (غالب) ۔ زیڈ اے نظامی صاحب کی طرف آدمی دوڑایا کہ بچی یتیم ہے اور خوش رہنا چاہتی ہے۔ وہ ڈی۔ جی کے ڈی اے تھے۔ درخواست کی کہ بچی خوش رہنا چاہتی ہے وہ مغل سریے والوں سے بات کریں۔ وہ کہنے لگے‘ ارے ہمارا افسر کلب ہے نا، کہے دیتے ہیں یوں سو آدمیوں کا کھانا اور شادی دونوں ہی ان کی عنایت سے ہو گئے۔ وہ بھی سرکاری افسروں کے ملک ریاض تھے۔
لوٹ مار میں آسرا نہیں کرتے تھے۔ سول سروس کے افسروں کو ہاتھ میں رکھنے کے لیے ان پر ہزاروں لٹاتے تھے۔ انہیں کلب والوں کے ذریعے علم ہو گیا کہ بچی یتیم نہیں۔ بہت بعد میں سی ایم ہاؤس میں ملے تو کہنے لگے۔ کہنے لگے ہم جنرل ضیا کے جرنیلوں بریگیڈیروں کو تسلے میں پلاٹوں کا چاند دکھانے والوں کو کوئی افسر میری ویدر ٹاور بیچ دے تو اچھا لگتا ہے۔ اچھا کیا شادی کا انتظام کے ڈی اے کلب میں کرایا۔ اس کے ابو ہماری طرف کے ہیں۔ آپ سے مراسم کا پردہ رکھ لیا۔
آئیں، کراچی ایڈمنسٹریٹو سوسائٹی کے گھر چلتے ہیں۔ جمیل نقش صاحب ہماری آمد پر خوش ہوئے۔ ہم نے وہاں ان کی فرمائش سنی اور حکم یہ دیا کہ ایک مشین لگا کر نالے کے پانی سے گھاس کا ایک بڑا سا پبلک لان یہ چھ سات بنگلوں کے سامنے بنا دیں۔ ایک مالی کی پڑوس کے پارک سے یہاں ڈیوٹی لگا دیں۔
جب تک نشست رہی تین دفعہ تین مختلف سیٹس میں چائے آئی۔ ایک دفعہ ایک خاتون بھی آن کر بیٹھیں۔ ہمیں اتنا یاد ہے کہ ہمارے کولیگ نے ان کا نام شاید نجمی سورا لیا تھا۔ جمیل صاحب کہنے لگے۔ دیوان صاحب مائی ہیلگا۔
ہیلگا مشہور امریکی پینٹر انڈریو وائتھ کی ماڈل تھیں۔ ہم نے چھیڑا کوئی ایڈیل بلوچ بائر ہوں تو ان سے بھی ملوا دیں۔ یہ گستاؤ کلمٹ ویانا کی جرمن ماڈل تھیں

مغرب میں ہمہ وقت دستیاب فنا فی آرٹ ایسی خواتین کو Muse کہا جاتا ہے۔ اردو میں اختر شیرانی کو سلمیٰ کے علاوہ کوئی نہیں ملی۔ مجاز کی ہمشیرہ، شاعر جاوید اختر کی والدہ صفیہ بھی جان نثار اختر کی میوز تھیں۔ ان کے خطوط زیر لب کے نام سے پڑھیے گا۔ جس طرح کے گھٹے گھٹے، اردو میڈیم رومانس کا اظہار ان خطوط میں موجود ہے اس کا مقابلہ اگر سیل فون میں صبا بن کر بیلنس مانگنے والی اور ٹی وی کے مارننگ شوز کی بے باکی سے آسودہ خواتین سے کریں تو صفیہ اختر کے خطوط اور ان کا عشقیہ پن جیل کے قیدیوں کو دی جانے والی کی دال کا سا اسٹیٹس رکھتا ہے۔
ہم سے کہیں بات رہ نہ جائے کولن ڈیوڈ کی تصاویر میں بھی ایک میوز ہے۔ جو پنجاب یونی ورسٹی میں ان کے شعبہ آرٹ کی بانی پروفیسر انا مولکا احمد کی صاحبزادی زہرا احمد تھیں۔ بعد میں دونوں کی شادی ہو گئی تھی یعنی زہرا اور کولن کی۔ شادی ختم بھی ہو گئی۔ کولن ڈیوڈ کا کام پاکستان میں کم مشہور ہوا۔ ان کی جنرل ضیا الحق کے دور میں ایک نمائش اسلامی جمعیت طلبہ کے غنڈوں نے لاہور میں برباد کم اور لوٹی زیادہ تھی۔ یہ تصاویر وہ بعد میں کراچی میں بیچ کر عیاشی کیا کرتے تھے۔ سب سے اچھی نیوڈز پاکستان میں صرف ایک خاتون پروفیسر مسز حسین بناتی تھیں۔ یہ ہم نے رحیم ناگوری سے سنا ہے جن کی ان سب سے بہت دوستی تھی۔
جمیل نقش صاحب نے خاتون کا نام نہیں بتایا اور ہم نے بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ ماڈل اور ماتحت دونوں ہی اپنی اپنی دنیا میں کھوئے تھے۔ ماڈل کچھ نہ بھی کہتی تو ہمیں یقین تھا کہ وہ ان کی نیوڈ ماڈل تھی۔ بھرے بھرے، برتے ہوئے، آشنا، بے تکلف، لبھاؤ سے عاری خطوط۔

لان کا خطہ تیار ہو گیا تو ماتحت کولیگ کو انہوں نے اپنی دو عدد تصاویر خدمت کے اعتراف میں دیں۔ ہم ایک مرتبہ پھر ملاقات کو گئے۔ وہی چائے ویسی ہی نستعلیق کراکری۔ ہم نے اس دن آرٹ پر بات کی۔
ہمیں جمیل نقش کی تصاویر میں دو علامات بہت نمایاں لگیں۔ ان کا فن ان اپنی زندگی کا عکس تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسا اقبال حسین ککو کا ہے۔ ان کے ہاں طوائفیں ہیں۔ ہیرا منڈی کی اداسیاں اپنی آشنائی اور محرومیوں سمیت۔ ککو کے ہاں طوائف جنسی جذبات کو مجروح کرتی ہے، ابھارتی نہیں۔
جمیل نقش کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یوپی کا قصبہ کیرانہ جہاں وہ قیام پاکستان سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہاں سے وہ دو بہت گہرے تاثرات جو بچپن میں شعور اور لاشعور کی پیتل پلیٹ پر ایسے Etch ہوتے ہیں کہ ان کا پرتو ہر فن پارے میں جھلکتا ہے۔
چھت کی منڈیر پر بیٹھے کبوتر، بھرے سینے کی چولیاں، بے پناہ بے اعتبار آنکھیں، سیدھی مانگ اور مشرقی چہرے وہیں سے آئے۔ کوئی مرد ان کی تصویر کا ماڈل نہیں بن پایا اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہminiature painting میں وہ استاد شریف کے شاگرد رہے اور مغل مصوری جس میں اگر اس کا مقابلہ اس دور کے یورپی مصوروں بلیک، گویا، کانسٹبل اور رفائیل سے کریں تو یہ پینٹنگ بہت بچکانہ لگتی ہیں مگر تاریخ انہیں ایک پردہ نشین معاشرے کے حساب سے یقیناً اہمیت دیتی ہے۔

جمیل نقش یوں اپنی مصوری میں تین عوامل کو بہت اچھا برتتے ہیں پہلا texture، جو یقیناً ان کے ہاں مشرق سے نہیں، مغرب سے آیا ہے۔ دوسرا رنگ جو حیرت ناک طور پر مدھم ہے۔ جس گنگا جمنی تہذیب کے وہ پروردہ تھے وہاں رنگ تو پچکاری بن کر دکھائی دیتے ہوں گے مگر جمیل نقش انہیں ضبط کر گئے۔ آخری جزو composition ہے جو لائن، بہاؤ۔ Variety اور Shape کا ہے۔ تصویر کا آغاز و اختتام محسوس کرنا ان کے ہاں آسان ہے۔ ہمیں ان کی تصویروں میں جتنے اچھے کبوتر لگتے ہیں اتنی ان کی نیوڈز نہیں لگتیں۔ وہ ایک ایسے مسلسل جسم کا عکس ہیں جس کے خطوط چربی کی تہہ سے بوجھل ہو کر ایک تھکاوٹ کا شکار ہوں۔
کراچی میں پارسیوں کا ایک ہسپتال لیڈی ڈفرن کے نام سے ہے۔ اس کے روح رواں فریدوں سیٹھنا سے جمیل نقش کی بہت دوستی تھی۔ یہ زچہ بچہ کا ہسپتال ہے، بے نظیر صاحبہ کے تینوں بچے یہیں پیدا ہوئے۔ 1977 میں اپنی دوستانہ رفاقت اور بچپن میں والدہ کے پیار سے محرومی کو سامنے رکھ کر پچیس واٹر کلر پینٹنگز جن کا موضوع ماں اور بچے کا پیار ہے۔ یہ پینٹنگز انہوں نے اس ہسپتال کو دان دی ہیں۔ جمیل نقش صاحب کے فن کا لوہا یوں تو کئی مقامات پر ایوارڈ اور پذیرائی کی صورت میں مانا گیا مگر وہ اس وقت بہت خوش ہوئے تھے جب پاکستان کے مشہور مصور شاکر علی نے اپنا برش یہ کہہ کر توڑ دیا کہ دل نہیں چاہتا کہ جمیل نقش سے بہتر کام کرنے کا میں دل میں خیال بھی لاؤں۔

اے آر صدیقی 1963 کے سی ایس پی تھے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف سے ان کی بہت یاد اللہ تھی۔ وہ ان کے ہاں ٹھہرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی میں ضیا الدین ہسپتال کلفٹن کے پاس قیام تھا۔ مخصوص نشست جہاں وہ بیٹھتے تھے وہاں اوپر جمیل نقش کی بہت تفصیل بخش نیوڈ لگی تھی۔ ایک دن ہمیں چھیڑنے کے لیے کہنے لگے کبھی ہم ریٹائرڈ لوگوں کو بھی اس محبت سے دیکھ لیا کرو جس محبت سے جمیل نقش کی پینٹنگ دیکھتے ہو۔
ڈاکٹر ظفر الطاف جو ان سے دو سال جونیئر تھے پوچھنے لگے ”آپ کو پینٹنگ اچھی لگتی ہے؟
ہم نے کہا۔ اے۔ آر۔ کے گنجے سر پر اس نیوڈ کے Reflection نے عجیب نظارہ باندھ رکھا تھا۔
جمیل نقش اپنی میوز نجمی سورا کے ساتھ اب سے دس سال پہلے برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ وہیں مئی 2019 میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔





جمیل نقش کے فن کے جامع جائزےکے علاؤہ فن مصوری کے بڑے ناموں کا بہت خوبصورت تذکرہ ہے۔ اکثر جملے قلم توڑ ہیں۔
آئی ڈی کو پڑھنا ایسا ہے جیسے آپ دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہون اور دوست بھی فقط دو۔
ایک آپ دوسرا آئی ڈی۔
صادقین کے سامنے چوکور فٹ بال بنانے والے کو شغل لگانے کے لئے مصوری سے لگائو ضرور تھا کہ بقول صاقین نقوی سیکھتے ہیں مصوری مہ رخوں کے لئے۔
ہمیں سادہ تو کیا تجریدی آرٹ جیسی لکیریں کھینچنی بھی نہ ائیں۔
لیکن اسی دور میں کراچی کے ایک اور بڑے مصور سے ایک آدھ بار ٹکرائے اور ان کا تذکرہ خیر نہ ہونا عجیب لگا۔
عجیب تو ایک دوسرا نام بھی ہے نیوڈ آرٹ میں شاید کراچی کا سب سے بڑا نام جس کی ننگی تصویریں 1958 سے ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔
پہلا نام اقبال مہدی جو مجھے سسپنس اور سب رنگ کے ٹائٹل میں نظر آتی حسینائوں کی تصویروں سے یاد رہے اور معراج رسول کے دفتر میں ایک آدھ بار نظر آئے۔ سوئے اتفاق اقبال مہدی سے ایک ملاقات صادقین نقوی کے آستانے پر بھی ہوئی ہم تو خیر تماش بین اور ٹی بوائے تھے۔ وہاں ان کے اسپ یعنی گھوڑا آرٹ کا صحیح بیک گرائونڈ پتہ چلا۔ ساتھ اس بات کا بھی کہ وہ بھی صادقین کی طرح امروہہ کے تھے۔ خیر میں تو ہر جگہ سے ہی تھا چاہے امروہہ ہو یا لکھنو اور یا دہلی۔ سیاست داں اپنی پارٹیاں اتنی نہیں بدلتے جتنی ان دنوں میں اپنا مذہب اور ابا اماں کے مقام پیدائس کو بدلتا تھا۔ صرف ضرورت پڑنے کی دہر ہوتی تھئ اور میں سنی شیعہ بریلوی اہل حدیث وہابی کچھ بھی بن جاتا تھا۔
بہر حال سید میر علی امروہوی عرف اقبال مہدی کے بارے میں استاد صادقین نے بتایا کہ یہ پیدائشی مصور ہے اور کسی استاد یا تعلیم کے بغیر چار دانگ میں اپنا لوہا منوارہا ہے۔
دوسرا نیوڈ پینٹنگ کی بات ہو اور کراچی سے انور مقصود کو بھول جایا جائے عجیب لگتا ہے۔ شاید انور نے جتنا کچھ اپنی پینٹنگ سے کمایا ہے ٹی وی اسکرپٹ اور اینکر شپ کی کمائی اسکا عشر عشیر بھی نہ ہو۔
اقبال مہدی، صادقین اور نصرت فتح میں ایک ہی بات مشترک ہے کہ جگر کے عارضے میں مارے گئے لیکن انور مقصود نے اپنے جگر کو دیکھ بھال کر پلائی اور ماشااللہ زندگی کی دوڑ میں ان سب کو پیچھے چھوڑ گئے اور اب بھی دوڑ رہے ہیں بس کبھی کبھار پلگ میں کچرا آجاتا ہے۔
ویسے بیچ مضمون اقبال درانی کے کبوتر غور سے دیکھے تو پس پشت کے نطارے نے پیروں تلے زمین نکال دی۔ اسلام آباد کے مشہور ریستوراں 1969 کی یاد آگئی کہ جہاں ایک عرصے تک لوگ کسی اورچکر میں جاتے تھے مگر واقعی 1969 کے اخبار اور چیزوں کو دیکھ کر ارادوں پر گھڑوں اوس پڑجاتی۔ وہ تو بعد میں جب اور پڑھا اور دیکھا تو علم ہوا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔
ایک سوال تشنہ رہ گیا۔
نجمی سورا کے ساتھ ایک صاحبہ جو مغلوں کی شاہی سواری کے سامنے نظر آئیں وہ کس کی میوز ہیں ؟
اور اس تصویر میں جس مہارت سے کالک پوتی گئی ہے۔ ضیا صاحب کے دور کی یاد آگئی جب انتہائی مہارت سے کالے مارکروں سے گولائیوں اور خط مستقیم سے خاتون کا منہ کالا نہ بھی ہو تو جسم کالا کردیتے تھے۔
یعنی سوال یہ ہے کہ وہ کالک اصل کپڑوں کی ہے یا ضیائی مصوری کا شاخسانہ ہے۔
آئی ڈی کو پڑھنا ایسا ہے جیسے آپ دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوں اور دوست بھی کتنے ۔۔۔ فقط دو۔
ایک آپ دوسرا اقبال دیوان۔
صادقین کے سامنے چوکور فٹ بال بنانے والے کو شغل لگانے کے لئے مصوری سے لگائو ضرور تھا کہ بقول سید صادقین نقوی امروہوی "سیکھتے ہیں مصوری مہ رخوں کے لئے”۔
ہمیں سادہ تو کیا تجریدی آرٹ جیسی لکیریں کھینچنی بھی نہ آئیں۔ تو میوز کا تصوربھی ایسا ہی تھا جیسے چاند کو ہاتھ لگانے کی خواہش۔
لیکن اسی دور میں کراچی کے ایک اور بڑے مصور سے ایک آدھ بار ٹکرائو ہوا اور ان کا تذکرہ خیر یہاں نہ ہونا عجیب لگا۔ عجیب تو ایک دوسرا نام بھی ہے نیوڈ آرٹ میں شاید کراچی کا سب سے بڑا نام جس کی ننگی تصویریں 1958 سے ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔
پہلا نام اقبال مہدی جو مجھے سسپنس اور سب رنگ کے ٹائٹل میں نظر آتی حسینائوں کی تصویروں سے یاد رہے اور معراج رسول کے دفتر میں ایک آدھ بار نظر آئے۔ سوئے اتفاق اقبال مہدی سے ایک ملاقات صادقین نقوی کے آستانے پر بھی ہوئی ہم تو خیر تماش بین اور ٹی بوائے تھے۔ وہاں ان کے اسپ یعنی گھوڑا آرٹ کا صحیح بیک گرائونڈ پتہ چلا۔ ساتھ اس بات کا بھی کہ وہ بھی صادقین کی طرح امروہہ کے تھے۔ خیر میں تو ہر جگہ سے ہی تھا چاہے امروہہ ہو یا لکھنو اور یا دہلی۔
سیاست داں اپنی پارٹیاں اتنی نہیں بدلتے جتنا ان دنوں میں اپنا مذہب اور ابا اماں کے مقام پیدائش کو بدلتا تھا۔ صرف ضرورت پڑنے کی دیر ہوتی تھئ اور میں سنی سے شیعہ اور پھر سنی ہوتے ہوئے کبھی بریلوی اہل حدیث وہابی کچھ بھی بن جاتا تھا۔ اور لطف یہ کہ سنبھال بھی لیتا تھا۔
بہر حال سید میر علی امروہوی عرف اقبال مہدی کے بارے میں استاد صادقین نے ہی بتایا تھا کہ یہ پیدائشی مصور ہے اور کسی استاد یا تعلیم کے بغیر چار دانگ میں اپنا لوہا منوارہا ہے۔
دوسرا پینٹر ۔۔۔ نیوڈ پینٹنگ کی بات ہو اور کراچی سے انور مقصود کو بھول جایا جائے عجیب لگتا ہے۔ شاید انور نے جتنا کچھ اپنی پینٹنگز سے کمایا ہے ٹی وی اسکرپٹ اور اینکر شپ کی کمائی اسکا عشر عشیر بھی نہ ہو۔
اقبال مہدی، صادقین اور نصرت فتح میں ایک ہی بات مشترک ہے کہ جگر کے عارضے میں مارے گئے لیکن انور مقصود نے اپنے جگر کو دیکھ بھال کر پلائی اور ماشااللہ زندگی کی دوڑ میں ان سب کو پیچھے چھوڑ گئے اور اب بھی دوڑ رہے ہیں بس کبھی کبھار پلگ میں کچرا آجاتا ہے۔
ویسے بیچ مضمون اقبال درانی کے کبوتر غور سے دیکھے تو پس پشت کے نطارے نے پیروں تلے زمین نکال دی۔
اسلام آباد کے مشہور ریستوراں 1969 کی یاد آگئی کہ جہاں ایک عرصے تک لوگ کسی اور69 کے چکر میں جاتے تھے مگر واقعی 1969 کے اخبار اور چیزوں کو دیکھ کر ارادوں پر گھڑوں اوس پڑجاتی۔ وہ تو مزید تحریر پڑھ کر بعد میں اور پڑھا اور دیکھا تو علم ہوا کہ اقبال درانی کی پس پشت تو کچھ بھی نہ تھا۔
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی
ایسی الجھی نظر ان سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں
عمر کب کی برس کے سفید ہوگئی
کاری بدری جوانی کی چھٹتی نہیں
واللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے
چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے
ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں بھی
دل تو بچہ ہے جی۔