ہلکا نیلا نقطہ اور ہم: کائنات (13)
کائنات کا شہری بننے کا خواب دو ہزار سال پہلے اسکندریہ شہر میں دیکھا گیا تھا، جس کا نام اس کے مردہ فاتح سکندر اعظم نے رکھا تھا۔ ٹولیمی، یونانی بادشاہ جنہوں نے سکندر کی سلطنت کا مصری حصہ وراثت میں حاصل کیا، اس لائبریری اور اس سے منسلک تحقیقی ادارہ بنایا۔ شاذ و نادر ہی، اگر کبھی، پہلے یا اس کے بعد ، کوئی ایسی حکومت رہی ہو جو علم کے حصول پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا اتنا زیادہ حصہ خرچ کرنے کو تیار رہی ہو۔
اور اس کا نتیجہ ایک عظیم دور کی صورت میں نکلا۔ اسکندریہ کی بندرگاہ میں داخل ہونے والے ہر جہاز کی تلاشی لی جاتی تھی۔ ممنوعہ اشیاء کے لیے نہیں، بلکہ ان کتابوں کے لیے جو یہاں نقل اور محفوظ کی جا سکتی تھیں، جو اس وقت زمین کی سب سے بڑی لائبریری تھی۔ یہاں، ”ایرا ٹوس تھینیز“ نامی، لائبریری کے سربراہ نے زمین کے حجم کا درست حساب لگایا اور جغرافیہ ایجاد کیا۔ فیثا غورث۔ ہائی پیشیا۔ اقلیدس (یوکلڈ) ۔ یوکلڈ نے جیومیٹری کے اصول ایک نصابی کتاب میں بیان کیے جو دو ہزار تین سو سال تک استعمال میں رہی۔
عہد نامہ قدیم کی بائبل بنیادی طور پر یہاں کیے گئے یونانی تراجم سے ہی ہمارے پاس آئی ہے۔ یونانی مزاح اور ڈرامہ، شاعری، سائنس، انجینئرنگ، طب اور تاریخ کے شاہکاروں کے اصل نسخے۔ قدیم تہذیب کی بیداری کے کام کی کل پیداوار۔ یہاں رکھی گئی تھی۔ طوماروں (سکرولز) کی کل تعداد کے اندازے مختلف ہیں۔ اس کا تخمینہ پانچ لاکھ سے تقریباً دس لاکھ تک ہے۔ اور یہ سب کچھ اس وقت آپ کی انگلیوں پر موجود معلومات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
ہماری تمام نسلوں کے اجتماعی علم، اسکندریہ کی ہماری اپنی الیکٹرانک لائبریری تک ہر وہ شخص رسائی حاصل کر سکتا ہے جس کے پاس کوئی آلہ اور دلچسپی ہو اور اسے ایسا کرنے کی آزادی ہو۔ لیکن اسکندریہ میں ایسے نہیں تھا، کیونکہ یہاں علم صرف اشرافیہ کے لیے تھا۔ چنانچہ چوتھی صدی عیسوی میں جب ایک ہجوم لائبریری اور کلاسیکی تہذیب کی ذہانت کو تباہ کرنے آیا تو اس کے دفاع کے لیے کافی لوگ موجود نہیں تھے۔ اگلی بار جب ایسا ہی ہجوم آئے گا تو کیا ہو گا؟
ہم ایک ساتھ ایک طویل سفر طے کر چکے ہیں، ایک ایٹم کے دل کے اندر کی گہرائیوں سے لے کر کائناتی افق تک، اور وقت کے آغاز سے لے کر مستقبل بعید تک۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک تجربہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ اس قسم کا تجربہ نہیں ہے جس کے لیے لیبارٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے آپ اپنے دماغ میں کر سکتے ہیں۔ اسے ”سوچ کا تجربہ“ کہا جاتا ہے۔ ہماری ملکی وے کہکشاں جو معلوم کائنات کی سو بلین کہکشاؤں میں سے صرف ایک کہکشاں ہے، ان سیکڑوں اربوں ستاروں میں سے کوئی ایک ستارہ منتخب کریں۔
اس ستارے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یا وہ؟ ٹھیک ہے، یہ ایک چن لیتے ہیں۔ اس کے گرد درجنوں سیارے اور چاند چکر لگا رہے ہیں۔ فرض کریں، ان میں سے ایک سیارے پر ایک ذہین نوع رہتی ہے، دس ملین زندگیوں کی مختلف شکلیں، اور اس نوع کا ایک ذیلی گروہ ہے جو یہ مانتا ہے کہ انہوں نے سب سمجھ لیا ہے۔ ان کی دنیا کائنات کا مرکز ہے، کائنات انہی کے لیے بنائی گئی ہے، اور وہ ہر وہ چیز جانتے ہیں جو انہیں جاننے کی ضرورت ہے، اور ان کا علم مکمل ہے۔ آپ ان کے اس دعوے کو کتنی سنجیدگی سے لیں گے؟
ہمارے آبا و اجداد کا خیال تھا کہ کائنات ان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ فرض کرنا فطری تھا کہ ہم مرکز میں تھے۔ بالآخر یہی نظر آتا تھا کہ سورج اور ستارے سب، ہمارے گرد گھومتے ہیں۔ ہم اب بھی سورج کے ”طلوع“ ہونے کی بات کرتے ہیں۔ ”ہماری زبان، افسانوں اور خوابوں کا فن تعمیر اسی قدیم دور میں ہوا تھا۔

یہ ہمارا سیارہ ہے جیسا کہ اس وقت جانا جاتا تھا، کولمبس کے سفر سے ٹھیک تھوڑا پہلے۔ زمین کا یہ پہلا گلوب بہت جدید تھا جب ”مارٹن بیہائم“ نے اسے 1492 میں بنایا تھا۔ باقی سب کی طرح، اس کا بھی خیال تھا کہ جغرافیہ کی پہیلیاں بھوجی جا چکی ہیں۔ اس میں یورپ، افریقہ اور ایشیا کے تین براعظم تھے اور درمیان میں صرف عالمی بحرِ اعظم تھا۔ بیہائم کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ شمالی اور جنوبی امریکہ بھی موجود ہیں۔
پر اعتماد محسوس کرنا آسان تھا، ٹھیک ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ مارٹن بیہائم اپنی دنیا، زمین کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتا تھا جتنا ہم اپنی، کائنات کے بارے میں جانتے ہیں۔ عاجزی سے حاصل کیا گیا ایک سبق اس کی وضاحت کرے گا۔
1912 میں، ”وِکٹر ہیس“ نے آسٹریا کے اوپر آسمان میں سفر کا ایک سلسلہ شروع کیا، اور اس نے اس چیز کو پایا جس سے سائنس دان سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں : ایک ایسا معمہ جو روایتی سائنسی حکمت کی سمجھ کو رد کردے۔ آج، ایک صدی بعد بھی، ہم اس بات کی مکمل وضاحت تلاش کر رہے ہیں کہ وکٹر ہیس کو کیا ملا تھا۔ حال ہی میں ایک نئی قسم کی توانائی دریافت ہوئی تھی، تابکاری۔ اسے کچھ عناصر، جیسے ریڈیم چھوڑتے تھے۔ لیکن یہ ہوا میں بھی پائی گئی، یہاں تک کہ تابکار چٹانوں سے بھی بہت دور۔
یہ ہر جگہ تھی۔ یہ عجیب توانائی کہاں سے آتی تھی؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہیس کو شبہ تھا کہ یہ زمین کے اوپر سے آ سکتی ہے۔ اپنے مفروضے کو جانچنے کے لیے، وہ تابکاری کا پتہ لگانے والے آلات کو آسمان میں اونچا لے کر گیا۔ ہائیڈروجن غبارے میں خطرناک اڑان کے دوران، اس نے تین میل سے زیادہ کی اونچائی حاصل کی۔ جب وہ فضا کے باریک ٹھنڈے، اوپری نصف تک پہنچا تو اس نے پایا کہ تابکاری زمین کی سطح کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ مضبوط ہے۔

تابکاری اوپر ہی سے آ نی چاہیے۔ اس لیے زمین پر اس کی شدت کمزور ہوتی تھی۔ زمین کا ماحول اس کا بیشتر حصہ جذب کر رہا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ تابکاری سورج سے آ سکتی ہے۔ اس خیال کو جانچنے کے لیے، ہیس نے سورج گرہن کے ساتھ اپنی پرواز کا وقت مقرر کیا۔ لیکن گرہن کا تابکاری پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہیس نے یہ بھی پایا کہ تابکاری رات کے وقت اتنی ہی مضبوط تھی جتنی دن کی روشنی میں۔ یہ اوپر سے آ تو رہی تھی، لیکن سورج سے نہیں۔
ہیس کو جو بات معلوم نہیں تھی وہ یہ تھی کہ شمسی ہوا اتنی تیزی سے حرکت نہیں کرتی۔ اور اس طرح، غلط وجہ سے، وہ صحیح نتیجے پر پہنچا۔ ہیس نے کائناتی شعاعوں کو دریافت کیا تھا۔ ذیلی ایٹمی ذرات کی بارشیں جو روشنی کی رفتار سے کائنات کو عبور کرتی ہیں۔ زمین کے ماحول کے تحفظ کے اثر کے بغیر، وہ مہلک ہوتیں۔ کچھ کائناتی شعاعیں رائفل سے چلائی جانے والی گولی جتنی توانائی رکھتی ہیں۔ ان کائناتی شعاعوں کے ناقابل تصور تشدد کی موت تک تلاش کرنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔
وکٹر ہیس نے آسٹریا کے اوپر آسمانوں میں جن کائناتی شعاعوں کا پتہ لگایا تھا وہ سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بن گئی تھیں۔ زمین پر معدنیات میں تابکاری۔ جیسے یورینیم کچ دھات (اوُر) ۔ ایٹموں کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن کائناتی شعاعیں مختلف نوعیت کی تھیں۔ وہ ہیس کے وقت کی دنیا میں جانی جانے والی کسی بھی چیز سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں۔ سائنسدانوں نے دو دہائیوں تک سوچا کہ ممکنہ طور پر کائناتی شعاعوں کو کیا پیدا کر سکتا ہے۔
”فِرٹز زواِسکی“ سے ملیے۔ ایک شاندار آدمی جس کے بارے میں آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا۔ 1933 میں، اس نے ایک ساتھی کی مدد سے دریافت کیا کہ کچھ ستارے بھڑک کر چند ہفتوں کے لیے اپنی پوری کہکشاں سے زیادہ چمک اٹھتے ہیں۔ فِرٹز وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ سمجھا کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔ اس نے صحیح اندازہ لگایا کہ اس طرح سے ایک بڑے ستارے کی موت ہوتی ہے۔ وہ خلا میں اپنے حصے اڑا دیتا ہے۔ اس نے اس قسم کی کائناتی موت کو ”سپرنووا“ قرار دیا اور پیش گوئی کی کہ مرنے والا ستارہ تقریباً دس لاکھ میل سے سکڑ کر صرف دس میل رہ جائے گا۔

اس کی لاش اتنی کثیف ہوتی ہے کہ اس کے ایک دانے کا وزن مصر کے عظیم اہرام جتنا ہو گا۔ یہ تقریباً مکمل طور پر ذیلی ایٹمی ذرات پر مشتمل ہو گا جسے نیوٹران کہتے ہیں، اس لیے اس نے ان عجیب و غریب اشیاء کو ”نیوٹران ستارے“ کا نام دیا۔ اور زواِسکی کے اس وجود کی پیشین گوئی کے پینتیس سال بعد ، ماہرین فلکیات نے انہیں دیکھنا شروع کر دیا۔
ہم انہیں ”پَلسار“ کہتے ہیں جب وہ تیزی سے گھومتے ہیں اور ریڈیو توانائی کی باقاعدہ دھڑکنیں خارج کرتے ہیں۔ سپرنووا اور نیوٹران ستارے کائناتی شعاعوں کے ایک وسیع پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ توانائی بخش نہیں۔ سائنس کو ابھی تک جو معلوم ہے وہ اس کی وضاحت نہیں کر سکتی، اور ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جو مجھے سائنس کے بارے میں پسند ہے، ہمیں یہ دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے پاس تمام جوابات ہیں۔
زواِسکی کو یہ خیال بھی آیا کہ کہکشاں کی کشش ثقل ایک عدسہ (لینس) کی طرح کام کرنے کے لیے خلا کے تانے بانے کو اپنے گرد لپیٹ لیتی ہے۔ یہ اپنے پیچھے والی کسی بھی کہکشاں کی روشنی کو مسخ کرتی ہے اور بڑھا دیتی ہے۔ لہذا، زمین پر ماہرین فلکیات اسی دُور کی کہکشاں کی متعدد تصاویر دیکھیں گے، جو کہ فن ہاؤس کے آئینے کی طرح بگڑی ہوئی ہوں گی۔ اس پیشین گوئی کے چالیس سال بعد ، ہم نے انہیں بھی دیکھنا شروع کیا۔ زواِسکی نے 1930 کی دہائی میں ایک اور دریافت کی۔
کہکشاؤں کے کوما کلسٹر کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس نے ان کے حرکت کرنے کے طریقے کے بارے میں کچھ مضحکہ خیز دیکھا۔ کہکشائیں بہت تیزی سے چل رہی تھیں، اتنی تیزی سے کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ ہوجانا چاہیے تھا، کیونکہ ان تمام کہکشاؤں کے تمام ستاروں میں جھرمٹ کو ایک ساتھ رکھنے کے لیے بہت کم کشش ثقل تھی۔ زواِسکی نے سوچا کہ کوئی اور چیز انہیں ایک دوسرے سے جوڑے ہوئی ہے۔ اس پراسرار گمشدہ جزو کا وزن خود ستاروں سے پچاس گنا زیادہ ہونا چاہیے۔ لیکن کسی نے بھی اس دیوانے تصور پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ زواِسکی کے پاگل خیالات میں سے صرف ایک اور۔
ہمارے نظام شمسی میں، سب سے اندرونی سیارہ، عطارد (مرکری) ، سب سے باہر والے سیارے نیپچون سے کہیں زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے۔ اور یہ سمجھ میں آتا ہے، ٹھیک ہے؟ آپ کسی چیز کو جتنی طاقت سے دھکیلتے ہیں یا کھینچتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے وہ حرکت کرتی ہے۔ بڑھتے ہوئے فاصلے کے ساتھ سورج کی کشش ثقل کمزور ہو جاتی ہے، اس لیے سورج سے دور سیارے آہستہ حرکت کرتے ہیں۔ ہر ایک کو توقع تھی کہ کہکشاں میں سب سے بیرونی ستارے بھی اسی طرح کام کریں گے۔

زیادہ تر ستارے مرکز کی طرف مرتکز ہوتے ہیں، اس لیے ان کی اجتماعی کشش ثقل دوسرے ستاروں کو اسی طرح کھینچتی ہے جس طرح سورج سیاروں کو کھینچتا ہے۔ لیکن 1970 کی دہائی میں، جب ماہر فلکیات ”وِیرا رُوبن“ نے اینڈرومیڈا کہکشاں کا مطالعہ کیا، تو اس نے دریافت کیا کہ بیرونی ستارے ایسے کسی اصول کی پابندی نہیں کرتے۔ نظام شمسی کے بیرونی سیاروں کے برعکس، کہکشاں کے بیرونی ستارے سب اسی رفتار سے جا رہے تھے جس رفتار سے ستارے قریب تھے، اور وہ توقع سے زیادہ تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔
”یہ مضحکہ خیز ہے،“ وِیرا نے سوچا۔ ”اینڈرومیڈا کہکشاں کے بارے میں کچھ عجیب ہے۔ “ تو اس نے ایک اور کہکشاں کو دیکھا۔ ایک ہی کہانی تھی۔ اور دوسری۔ وِیرا نے ساٹھ کہکشاؤں کا مطالعہ کیا اور پایا کہ یہ سب کشش ثقل کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں، جو کہ طبیعیات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ کچھ ابتدائی صحت مند شکوک و شبہات کے بعد ، اس کے ساتھیوں نے خود سے تلاش کیا، اور پایا کہ وِیرا صحیح تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ آئزک نیوٹن نے کشش ثقل کا قانون میں کچھ غلط حاصل کیا تھا۔
وِیرا رُوبن نے دریافت کیا تھا کہ کسی بڑی اور پوشیدہ چیز کی کشش ثقل ستاروں کو تیزی سے جانے پر مجبور کر رہی تھی۔ اور پھر، کسی کو دیوانے بوڑھے فِرٹز زواِسکی، اور کہکشاں کے جھرمٹ میں کشش ثقل کا نامعلوم ذریعہ یاد آیا جسے اس نے 1933 میں ”تاریک مادہ (ڈارک میٹر)“ کہا تھا۔ وِیرا رُوبن نے ایک نئی، بہت بڑی کائنات کے وجود کی تصدیق کر دی تھی۔ اور جس طرح ہم نے سوچا کہ ہم جانتے ہیں، یہ بھی اسرار سے بھری ہوئی تھی۔
تاریک مادہ مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ ہے، سوائے اس کے کشش ثقل کے اثر کے، جس کی وجہ سے نظر آنے والے ستارے اور کہکشائیں تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ اس کی نوعیت ایک اور گہرا معمہ ہے۔ رُوبن نے ایک غیر مرئی کائنات کا ثبوت پیش کیا جو اس سے تقریباً دس گنا زیادہ بڑی تھی جس کے بارے میں ہم نے سوچا تھا کہ ہم جانتے ہیں۔ ایسے لگتا تھا جیسے ہم رات کو سمندر کے کنارے کھڑے تھے، غلطی سے یہ مان رہے تھے کہ لہروں پر موجود جھاگ ہی سمندر ہے۔ ویرا روبن نے ستاروں کی طرف دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ لہروں پر محض جھاگ ہیں، اور یہ کہ سمندر کا سب سے بڑا حصہ نامعلوم ہے۔ لیکن انتظار کیجیے۔ یہ اس سے بھی زیادہ دیوانہ بنا دینے والا ہے۔

ہماری ملکی وے کہکشاں، چند سو بلین ستارے، نیز گیس اور دھول کے بادل، موجود اور مستقبل کے ستاروں کا کاٹھ کباڑ۔ اور تقریباً ایک سو بلین دیگر کہکشائیں۔ یہ سب، بشمول اربوں ٹریلین سیارے، چاند، اور دمدار ستارے۔ اصل میں موجود چیزوں کا صرف پانچ فیصد ہے۔ کیونکہ تاریک توانائی۔ تاریک مادہ سے بڑا حل نہ ہونے والا معمہ ہے، جو کائنات کو اور بھی زیادہ بناتے رہنے والا اور اس کی توسیع دینے والا ہے۔ اور یہ فِرٹز زواِسکی کے سپرنووا تھے جنہوں نے اس کے وجود کے انکشاف کا راستہ روشن کیا۔
ایک منظر نامے میں، ایک ستارہ اپنا تمام جوہری ایندھن استعمال کرتا ہے پھر ٹھنڈا ہو جاتا ہے، اور اچانک اپنی ہی کشش ثقل کے زیراثر گر جاتا ہے۔ ستارہ ایک بڑے دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے اور اپنے پیچھے نیوٹران اسٹار یا بلیک ہول چھوڑ دیتا ہے۔ چونکہ اصل ستارے کی کمیت ایک وسیع پھیلاؤ میں آ سکتی ہے، اس لیے سپرنووا کے طور پر اس کی چوٹی کی چمک بھی وسیع پیمانے پر مختلف ہو سکتی ہے۔ لہذا، آپ اس کی روشنی کی چمک دیکھ کر یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ اصل میں کتنا دور ہو سکتا ہے۔
ایک نسبتاً قریبی سپرنووا اتنا ہی روشن دکھائی دے سکتا ہے جتنا کہ زیادہ طاقتور، لیکن بہت دور۔ لیکن ایک دوسری قسم کا سپرنووا بھی ہے جس کی طاقت ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ ایک بڑے ستارے اور بونے کے ساتھ رقص کیے گئے ٹینگو ناچ کے پرتشدد عظیم الشان فائنل کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب دونوں ستارے ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہیں، بڑا دیو اپنی گیس کی بیرونی تہوں کو بونے ستارے پر بہا دیتا ہے۔ جب گیسوں کا اضافی وزن اس کے برداشت سے باہر ہو جاتا ہے تو بونا ایک شاندار تھرمو نیوکلیئر بم کی طرح پھٹ جاتا ہے۔
( اس بونے ستارے کی برداشت کی بھی ایک حد ہے اور وہ ہے سورج کے حجم سے ایک اعشاریہ چار گنا زیادہ وزن جسے چندر شیکھر حد کہا جاتا ہے۔ ) چند ہفتوں تک، اس طرح کے سپرنووا کی چمک کہکشاں میں موجود تمام ستاروں کی مشترکہ روشنی کا مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس قسم کے سپرنووا میں ہمیشہ ایک ہی جیسی قوت کی پیداوار ہوتی ہے، جو ہمارے سورج سے تقریباً پانچ ارب گنا زیادہ روشن ہوتی ہے۔ بڑی دوربینوں کی مدد سے، ہم انہیں کہکشاؤں میں بہت دور، قابل مشاہدہ کائنات کے کناروں کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔ چونکہ اس طرح کے تمام سپرنووا ایک ہی جتنے واٹ رکھتے ہیں، یہ کائنات کے سب سے دور تک کے فاصلوں کی پیمائش کے لیے مثالی اوزار ہیں۔ ہم انہیں ”معیاری موم بتیاں (سٹینڈرڈ کینڈلز)“ کہتے ہیں۔ ”

1929 میں ”ایڈون ہَبل“ نے دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ دور دراز کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ بعد میں، ہمیں معلوم ہوا کہ یہ توسیع تقریباً چودہ بلین سال پہلے کائنات کی دھماکہ خیز پیدائش (بِگ بینگ) کے ساتھ ہی شروع ہوئی تھی۔ ہر ایک نے فرض کر لیا تھا کہ کائنات کے تمام حصوں کے درمیان کشش ثقل کے باہمی کھچاؤ کی وجہ سے توسیع کی شرح سست ہو جائے گی۔ اگر کافی تاریک مادہ ہے، تو اس کی کشش ثقل بالآخر توسیع کو روک دے گی، اور کائنات پھر اپنے آپ میں گر جائے گی۔ اس صورت میں، سب کچھ آخر کار ایک بڑی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ دوسری طرف، اگر کائنات میں کم تاریک مادّہ ہو، تو توسیع ہمیشہ کے لیے جاری رہے گی، بس آہستہ اور سست ہوتی چلی جائے گی۔
ماہرین فلکیات کی دو مسابقتی ٹیمیں دور دراز کی کہکشاؤں میں ان سپرنووا کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ یہ ان ”مضحکہ خیز“ لمحات میں سے ایک اور نکلا۔ 1998 میں دونوں ٹیمیں آزادانہ طور پر ایک ہی نتیجے پر پہنچیں۔ توسیع بالکل بھی سست نہیں ہو رہی تھی بلکہ یہ تیز ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کائنات ہمیشہ کے لیے پھیلنا جاری رکھے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ کائنات میں ایک پراسرار قوت عمل پیرا ہے، جو کائنات کو بکھیرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کشش ثقل پر غالب آجاتی ہے۔
کائنات کی زیادہ تر توانائی اس نامعلوم قوت سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم اسے ”تاریک توانائی“ کہتے ہیں، لیکن یہ نام، ”تاریک مادہ“ کی طرح ہماری لاعلمی کے لیے محض ایک کوڈ ورڈ ہے۔ تمام جوابات کے نا جاننے میں حرج نہیں۔ ہمارا اپنی لاعلمی کو تسلیم کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ ان جوابات پر یقین کر لیا جائے جو غلط ہو سکتے ہیں۔ سب کچھ جاننے کا بہانہ یہ جاننے کے لیے دروازہ بند کر دیتا ہے کہ واقعی وہاں کچھ ہے۔
آج رات، ہمارے جہاز اور بھی زیادہ شاندار پانیوں میں سفر کریں گے۔ میرے ساتھ آئے۔ ہمارے صرف دو جہاز کائناتی خلا کے عظیم تاریک سمندر میں داخل ہوئے ہیں۔ ناسا وائجر اول اور دوم کے نام سے تاریخ میں سب سے طویل سفر 1977 میں شروع کیا گیا۔ وائجرز چالیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں مشتری کے عظیم سرخ دھبے پر اپنا پہلا قریبی نظارہ دیا، ایک سمندری طوفان زمین کے حجم سے تین گنا زیادہ اور جو کم از کم 1644 سے بھڑک رہا ہے، جب اسے پہلی بار دیکھا گیا تھا۔
ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ ہزاروں سال پرانا ہو سکتا ہے۔ وائجرز نے مشتری کے چاند آئی او اور چاند یورپا کی برفیلی سطح کے نیچے ایک سمندر پر دوسری دنیا کا پہلا فعال آتش فشاں دریافت کیا جس میں ہماری زمین پر موجود پانی سے کم از کم دوگنا پانی ہے۔ وائجرز نے زحل کے حلقوں کے پار اڑنے کی ہمت کی اور انکشاف کیا کہ وہ گردش کرنے والے برف کے گولوں کے سینکڑوں پتلے گروہوں سے بنے تھے۔ زحل کے دیوہیکل چاند ٹائٹن پر، وائجر نے زمین سے چار گنا زیادہ کثیف ماحول کا پتہ لگایا۔
اس نے ٹائٹن پر ہائیڈرو کاربن سمندروں کے وجود کا اشارہ دیا، جس کی ہم نے بعد میں تصدیق کی۔ وائجر دوم نے ہمیں سب سے بیرونی سیارے، نیپچون کی پہلی تصویر دی جہاں ہوائیں ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں اور اس کا چاند ٹرائٹن، جہاں ابلتے ہوئے نائٹروجن کے فوارے پانچ میل اونچا اچھلتے ہیں۔ وائجر نے بیرونی سیاروں کی دریافت کا اپنا مشن کامیابی کے ساتھ مکمل کیا، لیکن اندھیرے میں اس کا سفر ابھی شروع ہوا تھا۔ وائجر اول ہمارا پہلا خلائی جہاز بن گیا جو نامعلوم دنیاؤں میں داخل ہو گیا۔

سورج ایک ملین میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہر طرف چارج شدہ ذرات کی ندیوں کو مسلسل باہر نکال رہا ہے۔ یہ شمسی ہوا ایک وسیع مقناطیسی بلبلے کو بھر دیتی ہے۔ ہمارا ہیلیوسفیئر، جو بیرونی سیاروں سے آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ بین الکائناتی خلا کی باریک گیس کو روکتا ہے۔ یہاں ایک سرحد ہے جہاں کچھ ختم ہوتا ہے اور کچھ شروع ہوتا ہے۔ وائجر اول نے زمین پر اطلاع دی کہ اس کے ڈٹیکٹر بڑھتی ہوئی کائناتی شعاعوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اس وقت تک، ہم نہیں جانتے تھے کہ بین الکائناتی سمندر کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ وائجر اول ایک ایسی حد کو عبور کرنے میں مصروف تھا جسے ہم نے پہلے کبھی عبور نہیں کیا تھا۔ ہیلیوسفیئر ہمیں زیادہ تر مہلک کائناتی شعاعوں سے بچاتا ہے۔ جب طوفانی شمسی ہوائیں چلتی ہیں، تو تحفظ کا یہ دائرہ بڑھتا ہے۔ پرسکون شمسی موسم میں، یہ سکڑ جاتا ہے۔ جب ہمارے کائناتی پڑوس میں کوئی ستارہ سپرنووا بن جاتا ہے تو پھٹنے والے ستارے کا ملبہ ہیلیوسفیئر کو واپس سورج کی طرف دھکیلتا ہے۔ اگر یہ اتنا طاقتور ہو کہ اسے زمین کے مدار تک دھکیل دے، تو یہ ہمارے سیارے کو سپرنووا کے ملبے کا تابکاری میں نہلا دیتا ہے۔ خوش قسمتی سے ایسا اکثر نہیں ہوتا۔ آخری بار شاید بیس لاکھ سال پہلے ہوا تھا۔ ایک پڑوسی ستارہ انسانی نوع جیسی چیز پیدا ہونے سے دس لاکھ سال پہلے پھٹا تھا۔
ہم یہ ممکنہ طور پر کیسے جان سکتے ہیں؟ کیونکہ مرتے ہوئے ستارے نے اپنے نشانات سمندر کی سطح سے میلوں نیچے چھوڑ دیے تھے۔ ”مینگنیز نوجَلز،“ ایک طرح کی چھوٹی چٹانیں، گہرے سمندر کے فرش کے زیادہ تر حصے پر بکھری ہوئی ہیں۔ یہ بہت آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں۔ میں، ایک ملین سالوں میں ایک ملی میٹر کی بات کر رہا ہوں، پرت در پرت۔ یہ نوجَلز سمندری پانی میں تحلیل شدہ معدنیات اور بیکٹیریا کے ساتھ شراکت سے بڑھتے ہیں۔ زمین پر قدرتی عمل سے بننے والی کسی بھی چیز کے برعکس ایک سپرنووا لوہے کی ایک تابکار شکل پیدا کرتا ہے۔
محققین کو مینگنیز نوجَلز کی سطح کے نیچے ایک پتلی تہہ میں اسی لوہے کے واضح نشانات ملے ہیں۔ انہوں نے نوجَلز کی نشوونما کی معلوم شرح سے اس تہہ کی تاریخ کا استعمال کرتے ہوئے اسے ایک ایسے ستارے کی قسمت سے جوڑا جو قرنوں پہلے فنا ہو چکا تھا۔ ایک کنکر کے سوا کچھ نہ دیکھنے اور اس کے اندر لکھی ہوئی کائنات کی تاریخ کو پڑھنے میں فرق، سائنس ہے۔ کائناتی سمندر تاریک اور گہرا ہے۔ یہاں سے باہر، سورج آسمان کا سب سے روشن ستارہ ہے۔
اس کے باوجود وائجرز ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ساتھ اپنا رابطہ باقاعدہ برقرار رکھتے ہیں، اپنے آبائی بندرگاہوں سے دور روشنی کی رفتار سے گھنٹوں کے اوقات میں آگے پیچھے بات کرتے ہوئے۔ گھر سے اتنی دور انسانی ہاتھوں سے چھونے والی کوئی دوسری چیز آج تک نہیں گئی۔ یہاں تک کہ جب وہ ہماری ہدایت کا جواب دینے کی اپنی صلاحیت کھو دیں گے، وائجر مشن کا مشکل اور طویل ترین مرحلہ شروع ہو جائے گا۔
1979 میں، جب دونوں وائجرز نے مشتری کے گرد چکر لگایا، تو اس کی بڑے پیمانے پر کشش ثقل نے گلیل کا کام کیا، اور انہیں نظام شمسی سے باہر نکال کر ہماری کہکشاں کے ستاروں کے درمیان ایک ارب سال تک کے سفر پر ڈال دیا۔ کارل سیگن نے تسلیم کیا کہ وائجر مشن نے ابدیت کے قریب آنے والی چیز کے لیے ہمیں دو مفت ٹکٹ دے دیے ہیں۔ اس نے کسی بھی تہذیب کے لیے ایک پیغام تیار کرنے کے لیے ایک چھوٹی ٹیم کو مجتمع کیا جو کسی ایک دن چھوڑے ہوئے خلائی جہاز کے سامنے آ سکتی ہے۔
چھبیس صدیاں پہلے، آشوری بادشاہ ”ایسارہیڈن“ نے لکھا تھا کہ ”میرے پاس کانسی سے بنی یادگاریں اور مٹی کی سِلوں کے نوشتہ جات تھے۔ میں نے انہیں مستقبل کے زمانوں کے لیے بنیادوں میں چھوڑ دیا ہے۔ “ یہ تصویری پیغام اسی قدیم روایت کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ ایک پیغام جو وائجر کی بیرونی خول پر کندہ ہیں جسے دوسری دنیا اور زمانے کے مخلوقات کے پڑھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہم ممکنہ طور پر ایک اجنبی تہذیب کے ساتھ کس طرح مشترک ہوسکتے ہیں جس کی اپنی الگ ارتقائی تاریخ ہو اور جو ہم سے اتنی آگے بڑھ چکی ہو کہ بین الکائناتی خلا میں گشت کر سکتی ہو؟ کم از کم ایک چیز، ایک عالمگیر زبان، سائنس۔
کشش ثقل کے بندھنوں کو توڑنا مشکل ہے۔ آپ کائناتی سمندروں میں صرف اس وقت سفر کر سکتے ہیں جب آپ کو ریاضی اور طبیعیات بولنا آتی ہو۔ لہذا کائناتی طور پر اجنبی (ایلین) ماہرین فلکیات وائجر کے خول پر کندہ خاکے کو ہماری کہکشاں میں وائجر خلائی جہاز کے گھریلو ستارے کو تلاش کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی بتا سکیں گے کہ خلائی جہاز کو کتنے عرصے پہلے لانچ کیا گیا تھا۔ اور یہ اہم ہے کیونکہ وائجر کے ریکارڈ کی متوقع زندگی ایک ارب سال ہے۔
چند لمحوں کے لیے ایک ماورائے ارضی ماہر آثار قدیمہ بن جایے۔ بین الکائناتی سمندر سے ایک نمونہ نکالا گیا ہے۔ یہ ان مخلوقات نے بنایا تھا جو تقریباً ایک ارب سال پہلے رہتی تھیں۔ آپ ان کے اور ان کی دنیا کے بارے میں کیا سمجھیں گے؟ انہوں نے ہمیں انسٹھ انسانی زبانوں میں اپنی موسیقی اور نیک خواہشات بھیجی ہیں۔
سیارہ زمین کے بچوں کی طرف سے ہیلو۔
اور ایک وہیل کی آواز۔
اور ایک صوتی مضمون جس میں سیٹرن پنجم راکٹ لانچنگ شامل ہے۔
ایک ماں کے اپنے نوزائیدہ بچے کے لیے پہلے الفاظ: اوہ، یہاں آؤ۔ اچھے بچے بنو، اچھے بچے بنو۔
نئی نویلی محبت میں گرفتار ایک نوجوان عورت کے دماغ کی لہریں۔
اور پلسار کی آواز۔
یہ سب ایک ارب سال تک زندہ رہیں گے۔
ایک ارب سال کتنا عرصہ ہوتا ہے؟ اگر آپ کائنات کی دھماکہ خیز پیدائش، بِگ بینگ کے بعد کے سارے وقت کو ایک ہی زمینی سال میں سکیڑ سکیں، تو ایک ارب سال اس سال کا تقریباً ایک مہینہ ہو گا۔ ایک ارب سال پہلے زمین پر کیا ہو رہا تھا؟ زمین کی زیادہ تر زمین ”روڈینیا“ نامی ایک براعظم میں جمع ہو گئی تھی۔ وہ ایک بنجر صحرا تھی۔ کوئی جانور نہیں تھا، کوئی پودا نہیں تھا۔ ایک ارب سال پہلے، ہماری فضا میں اتنی آکسیجن نہیں تھی کہ اوزون کی تہہ بن سکے، اور اس کے بغیر، الٹرا وایلیٹ تابکاری نے زندگی کو زمین کو نوآبادیاتی بننے سے روک دیا تھا۔
روڈینیا شاید موجودہ زمین سے زیادہ مریخ کی طرح نظر آتا تھا۔ دیو ہیکل عالمی سمندر بہت زیادہ بارش کے طوفان پیدا کرتا تھا جس کی وجہ سے سیلاب اور کٹاؤ ہوتا تھا۔ گلیشیئرز بن گئے تھے، اور ان کی سست لیکن انتھک حرکت نے زمین کو نئی شکلوں میں تبدیل کر دیا۔ واحد خلیے والے جانداروں نے سمندروں پر غلبہ حاصل کر لیا تھا، لیکن ”مائی کروبیل میٹ“ نامی کچھ کالونیاں موجود تھیں جو جلد ہی پہلے کثیر خلوی جاندار تیار کرنے والی تھیں۔

اور اب سے ایک ارب سال بعد ہماری زمین کیسی ہوگی جب، ہمارے شہر، مصری اہرام، چٹانی پہاڑ، سب خاک میں مل جائیں گے؟ بہت ہی کم چیزیں ہیں جو ہم اتنے دور دراز وقت کے بارے میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں۔ صرف ایک چیز جو ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زمین جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں یہ اتنی بدل جائے گی کہ ہم اسے گھر کے طور پر شاید ہی پہچان سکیں۔ لیکن اب سے ایک ہزار ملین سال بعد بھی، ہم کون تھے اور جو موسیقی ہم نے اس طویل موسم بہار میں بنائی تھی وہ زندہ رہے گی۔ اس دور کے مستقبل میں، ہمارے سورج نے کہکشاں کے مرکز کے گرد مزید چار مدار مکمل کر لیے ہوں گے اور وائجرز سورج سے بہت دور جا چکے ہوں گے۔
ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کارل سیگن وائجر کی امیجنگ ٹیم کا رکن تھا، اور یہ اس کا خیال تھا کہ وائجر ایک آخری تصویر لے۔ ایک نسل پہلے، چاند پر اپالو کی آخری پرواز پر ایک خلاباز نے پوری زمین کی تصویر لی تھی۔ زمین کو ایک سیارے کے طور پر ہماری کھینچی ہوئی سرحدوں کی لکیروں کے بغیر ”ایک“ دنیا کے طور پر پہلی بار دیکھا گیا۔ وہ شاندار تصویر ہماری دنیا میں ایک نئے شعور کی علامت بن گئی۔ کارل کو اس عمل میں اگلے قدم کا احساس ہوا۔ اس نے ناسا کو راضی کیا کہ وائجر اول کے کیمرے کو اس وقت واپس زمین کی طرف موڑا جائے جب خلائی جہاز نیپچون سے آگے جا چکا تھا۔ ایک آخری نظر اپنے گھر کی طرف، جسے اس نے ”ہلکا نیلا نقطہ“ کہا۔
”یہ یہاں ہے۔ یہ گھر ہے۔ یہ ہم ہیں۔ اس پر، ہر وہ شخص جس سے آپ پیار کرتے ہیں، ہر وہ جسے آپ جانتے ہیں، ہر وہ جس کے بارے میں آپ نے کبھی سنا ہے، ہر وہ انسان جو کبھی تھا، اپنی زندگی بسر کی۔ ہماری خوشی اور مصائب کا مجموعہ، ہزاروں پراعتماد مذاہب، نظریات اور معاشی عقائد، ہر شکاری اور گھات لگانے والا، ہر بہادر اور بزدل، تہذیب کا ہر خالق اور تباہ کرنے والا، ہر بادشاہ اور عامی، ہر نوجوان محبت کرنے والا جوڑا، ہر ماں اور باپ، پر امید بچہ، موجد اور متلاشی، اخلاق کا ہر استاد، ہر بدعنوان سیاست دان، ہر سپر اسٹار، ہر اعلیٰ رہنما، ہماری نسل کی تاریخ کا ہر سنت اور گنہگار، سورج کی شعاع میں لٹکے ہوئی دھول کے ایک ذرے پر وہاں رہتا تھا۔
زمین ایک وسیع، کائناتی میدان میں ایک بہت چھوٹا سا سٹیج ہے۔ ان تمام جرنیلوں اور شہنشاہوں کی طرف سے بہائے گئے خون کے دریاؤں کے بارے میں سوچیں تاکہ شان و شوکت اور فتح کے ساتھ وہ ایک نقطے کے ایک حصے کے لمحاتی مالک بن سکیں۔ اس پکسل کے ایک کونے کے باشندوں کی طرف سے کسی دوسرے کونے کے عام باشندوں پر نہ ختم ہونے والے ظلم کے بارے میں سوچیں۔ ان کی غلط فہمیاں تعداد میں کتنی زیادہ ہیں، وہ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے کتنے بے چین رہتے ہیں، ان کی نفرتیں کتنی پرتشدد ہوتی ہیں۔
ہمارا خود کو ظاہر کرنا، ہماری اپنی تصوراتی اہمیت، وہ فریب جیسے ہمیں کائنات میں کچھ مراعات یافتہ مقام حاصل ہے، اس ہلکی روشنی کے نقطہ سے چیلنج ہو جاتا ہے۔ ہمارا سیارہ عظیم کائناتی اندھیرے میں ملفوف ایک تنہا دھبہ ہے۔ اپنی مبہم کیفیت میں، اس ساری وسعت میں، اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے بچانے کے لیے کہیں اور سے کوئی مدد آئے گی۔
زمین واحد دنیا ہے جو اب تک زندگی کو پناہ دینے کے لیے جانی جاتی ہے۔ کم از کم مستقبل قریب میں کوئی اور جگہ نہیں ہے، جہاں ہماری نسلیں ہجرت کر سکیں۔
گھومنے کے لیے، ہاں۔
رہنے کے لیے، ابھی نہیں۔
پسند کریں یا نہ کریں، ابھی تک، زمین ہی وہ جگہ ہے جہاں ہم رہ سکتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ فلکیات ایک عاجزانہ اور کردار ساز تجربہ ہے۔ شاید اس دُور کی تصویر سے بہتر انسانی تصورات کی حماقت کا کوئی مظاہرہ نہیں ہے۔ میرے نزدیک، یہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ مہربانی سے ملنے اور ہلکے نیلے نقطے کو محفوظ رکھنے اور اس کی قدر کرنے کی ہماری ذمہ داری کو واضح کرتا ہے، یہ واحد گھر ہے جسے ہم جان پائے ہیں۔ ”
ہم، دھول کے اس دھبے پر رہنے والی چھوٹی سی مخلوق، کیسے یہ جاننے میں کامیاب ہو سکی کہ ملکی وے کے ستاروں کے درمیان خلائی جہاز کو کیسے بھیجنا ہے؟ صرف چند صدیاں پہلے، کائناتی وقت کا محض ایک سیکنڈ میں، ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے کہ ہم کہاں اور کب تھے۔ باقی کائناتوں سے غافل، ہم نے ایک قسم کے قید خانے کو آباد کیا۔ ایک چھوٹی سی کائنات جو ایک خول میں بند تھی۔ ہم اس قید خانے سے کیسے فرار ہوئے؟ یہ تلاش کرنے والوں کی نسلوں کا کام تھا جنہوں نے دل میں پانچ سادہ اصول بسا لیے تھے۔
پہلا: اختیار سے سوال۔ کوئی خیال صرف اس لیے درست نہیں ہے کہ کوئی ایسا کہتا ہے، بشمول میرے۔
دوسرا: خود سوچنا۔ اپنے آپ سے سوال۔ کسی چیز پر یقین نہ کرنا کیونکہ آپ چاہتے ہیں۔ کسی چیز پر یقین کرنے سے وہ ہو نہیں جاتی۔
تیسرا: مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہونے والے شواہد کے ذریعے نظریات کی جانچ کرنا۔ اگر کوئی پسندیدہ خیال اچھی طرح سے ڈیزائن کردہ ٹیسٹ میں ناکام ہو جاتا ہے، تو وہ غلط ہے! اس کو برداشت کرنا۔
چوتھا: ثبوت کی پیروی کریں، جہاں بھی یہ لے جائے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تو فیصلہ محفوظ رکھیں۔
پانچواں : اور شاید سب سے اہم اصول یاد رکھیں، آپ غلط ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہترین سائنسدان بھی کچھ چیزوں کے بارے میں غلط رہے ہیں۔ نیوٹن، آئن سٹائن اور تاریخ کا ہر دوسرا عظیم سائنسدان، ان سب نے غلطیاں کیں ہیں۔ یقیناً انہوں نے کی ہیں۔ وہ انسان تھے۔
سائنس خود کو اور ایک دوسرے کو بے وقوف بنانے سے روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ کیا سائنسدان گناہ کو جانتے ہیں؟ بالکل۔ ہم نے سائنس کا غلط استعمال کیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے پاس ہر دوسرا اوزار تھا، اور اسی لیے ہم اسے طاقتور چند لوگوں کے ہاتھ میں چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ جب سائنس ہم سب کی ہو گی، اس کے غلط استعمال کا امکان اتنا ہی کم ہو گا۔ یہ اقدار جنونیت اور جہالت کے رویوں کو کمزور کرتی ہیں اور آخر کار کائنات زیادہ تر تاریک ہی ہے، روشنی کے جزیروں سے چمکتی ہے۔
زمین کی عمر جاننا یا ستاروں کا فاصلہ سیکھنا یا زندگی کیسے رہنے کا قابل ہوتی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ٹھیک ہے، اس کا ایک حصہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنی بڑی کائنات میں رہنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم میں سے کچھ کو یہ چھوٹی پسند ہے۔ ٹھیک ہے۔ قابل فہم ہے۔ لیکن مجھے یہ بڑی پسند ہے۔ اور جب میں یہ سب کچھ اپنے دل اور دماغ میں بسا لیتا ہوں تو میں اس سے خوش ہوتا ہوں۔ اور جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے، تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ حقیقی ہے، کہ یہ صرف میرے اپنے دماغ کے اندر ہونے والی کوئی چیز نہیں ہے، کیونکہ اس سے فرق پڑتا ہے کہ کیا سچ ہے، اور ہمارا تخیل فطرت کی زبردست حقیقت کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ ان تاریک جگہوں میں کیا ہے، اور بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کائناتی افق سے باہر کیا ہے، اور زندگی کیسے شروع ہوئی۔ کیا کائنات میں اور بھی ایسی جگہیں ہیں جہاں مادہ اور توانائی زندہ اور باخبر ہو چکی ہے؟ میں اپنے آبا و اجداد کو جاننا چاہتا ہوں۔ ان سب کو۔ میں نسلوں کے سلسلے میں ایک اچھی، مضبوط کڑی بننا چاہتا ہوں۔ میں اپنے بچوں اور آنے والے بچوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔ ہم، جو مقامی آنکھیں او ر کان رکھتے ہوئے کائنات کے بارے میں خیالات اور احساسات کو مجسم کرتے ہیں، ہم نے مادے کے ارتقاء پر غور کرنے والی اپنی اصل ستاروں کی کہانی سیکھنا شروع کر دی ہے، اور اس طویل راستے کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ہم جود اپنے شعور تک پہنچے تھے۔
ہم اور اس سیارے پر موجود دیگر جاندار اربوں سال پر محیط کائناتی ارتقاء کی میراث رکھتے ہیں۔ اگر ہم اس علم کو دل میں بسا لیں، اگر ہم فطرت کو جانیں اور اس سے محبت کریں جیسا کہ یہ واقعی ہے، تو ہمیں یقین ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں زندگی کی زنجیر کی مضبوط کڑیوں کے طور پر یاد رکھیں گی۔ ہمارے بچے اس مقدس تلاش کو جاری رکھیں گے، ہمیں بالکل اسی طرح ڈھونڈے گے جیسا کہ ہم نے اپنے سے پہلے آنے والوں کو ڈھونڈا تھا، اور ایسے عجائبات دریافت کریں گے جن کا کائنات میں ابھی تک خواب بھی نہیں دیکھا گیا۔
(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم ”کوسموس“ کی تیرہویں اور آخری قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )


