”صد رنگ“ کی جلوہ گری
صد رنگ کے عنوان سے ”ہم سب“ پر دو کالم شائع ہوئے ہیں۔ جو در اصل ہم سب کے مدیر وجاہت مسعود صاحب کے ہمہ جہت شخصیت ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے لئے ہوئے، انٹرویوز ہیں۔ مسعود صاحب نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو خوب کنگھالا ہے۔ علم و ادب کی باتیں کیں، شعر و شاعری کا ذکر ہوا۔ شاعروں کو مقبول شعروں کے حوالے سے یاد کیا۔ یورپی نفسیات دانوں کو متعارف کرایا گیا، جو عام لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوتے ہیں۔ اُن کے وہ نظریے زیرِبحث لائے گئے جو نفسیاتی علاج میں معاون سمجھے جاتے ہیں۔ یقیناً یہ گفتگو نفسیاتی کلینک کرنے والے ڈاکٹر سہیل صاحب کی پیشہ ورانہ دلچسپی کا باعث تھی۔
دراصل یہ کائنات اور سماج اِنسانوں کے لئے المناک واقعات اور مسائل کی آماجگاہ ہے۔ خصوصاً کمزور کے رہنے کی یہ جا نہیں، کیونکہ وہ ہمہ وقت مظلوم اور محکوم ہوتا ہے اور کسی طاقتور کا ستم زدہ ہوتا ہے۔ فطری نظام بھی اُنہیں تحفظ نہیں دیتا، صرف خبردار کرتا ہے کہ خود حفاظتی کی قوت حاصل کرو یا فنا ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بابا نانک، بُدھا اور ڈاکٹر خالد سہیل جیسے دانشور ایسے اندوہناک حالات سے نمٹنے کے ڈھنگ سکھاتے ہیں۔ خاکسار نسوانی زندگی سے وابستہ دو واقعات یہاں درج کرتا ہے، جو ایک جگ بیتی اور ایک ہڈ بیتی ہے۔ یہ موضوع زیرِ بحث کو بخوبی عیاں کرتے ہیں۔
ہیو میکنیب نامی ایک برطانوی سیاح نے 1912 ء میں چترال کے علاقے کافرستان کا سفر کیا اور اِس پر کتاب لکھی۔ وہ لکھتا ہے کہ دوران سفر دیر کے پہاڑی علاقے کے ویرانے میں کچی جھونپڑی میں بیٹھی ہوئی بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس ایک عورت ملی۔ جس نے بتایا کہ وہ ایک بہت غریب گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ کبھی پیٹ بھر کے کھانے کو نہ ملتا تھا۔ جب وہ تیرہ سال کی ہوئی تو اُس کے باپ نے اُسے چند ایکڑ زمین کے عوض ایک وڈیرے کے ہاتھ بیچ دیا، جس نے اُسے اچھی خوراک، عمدہ لباس اور رہنے کو عالیشان گھر دیا۔ لیکن وہ روزانہ شراب کے نشے میں دُھت اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا۔ ایک دن حویلی کی ملازمہ نے اُسے بتایا کہ وہ حاملہ ہو گئی ہے اور وڈیرے کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ یہ خبر بھی دی کہ اُس کے باپ کی حالت بہت بہتر ہو گئی ہے۔ اُس نے نوکرانی سے کہا کہ مت نام لے اُس کے باپ کا ، کیونکہ اُسے اپنے باپ سے نفرت ہے۔ جس نے چند ایکڑ زمین کے بدلے اپنی معصوم بیٹی کو ایک وحشی درندے کے حوالے کیا تھا۔
وہ سیاح مزید لکھتا ہے کہ وڈیرے نے حسب معمول نئی دوشیزہ لانے کا پروگرام بنایا اور اُس حاملہ عورت کو بیکار جان کر ، ایک بوڑھے کسان کے حوالے کر دیا۔ وہ اُسے اپنے گاؤں لے گیا اور ایک کچی کوٹھری میں رہنے لگے۔ اُس نے بھی اُسے اِک داشتہ ہی سمجھا۔ بچے کی پیدائش کے بعد وہ اُسے مارتا، پیٹتا اور بھوکا رکھتا۔ شاید وہ چاہتا تھا کہ وہ گھر چھوڑ جائے، لیکن اُس نے ایسا نہ کیا۔ بالآخر ایک دِن بوڑھے نے دھکے دے کر اسے گھر سے نکال دیا۔ وہ اپنے جسم و جان اور بچے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے دوسروں کی ضرورت پوری کرنے لگی۔ جب اُس شرمناک فعل سے تھک گئی تو دنیا والوں سے دور جنگل میں آ کر اپنا جھونپڑا بنا لیا۔ وہ یہاں اپنے بچے کے ساتھ رہتی ہے، جو ایک بڑے آدمی کی اولاد ہے۔ اُس عورت نے مزید بتایا کہ اُسے اِن پہاڑوں اور وادیوں سے ڈر نہیں لگتا، یہ اِنسان سے بدرجہا بہتر ہیں کیونکہ یہ اُسے تنگ نہیں کرتیں۔
خاکسار اِس واقعہ کو ایک افسانہ یا فرضی کہانی خیال کرتا، اگر ایسے ایک کردار سے میرا ذاتی رابطہ نہ ہوتا۔ ہوا یوں کہ ایک جواں سال لڑکی میرے کلینک آئی۔ کرسی کو گھسیٹ کر میرے سے دور لے گئی اور بیٹھتے ہی پھٹ پڑی، کہنے لگی۔
” مجھے مجبور کیا گیا ہے کہ میں آپ سے اپنا علاج کرواؤں، سو میں آ گئی۔ ایک بات سن لیں ڈاکٹر صاحب، کہ مجھے دنیا بھر کے مردوں سے نفرت ہے۔ میرے قریب نہ آئیں، دور سے ہی مجھ سے بات کریں۔ میرا مرض یہ ہے کہ مجھے نیند نہیں آتی، بھوک نہیں لگتی۔ صحت روز بروز گرتی جا رہی ہے، وزن کم ہو رہا ہے۔ اگر آنکھ لگ ہی جائے تو خوفناک اور ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ میں چیخیں مارتے ہوئے نیند میں اُٹھ کر بھاگتی ہوں اور دیواروں سے ٹکرا کر گرتی ہوں، تو آنکھ کھل جاتی ہے۔ اِسی مرض کی دوائی لینے آپ کے پاس آئی ہوں۔“
اُس کے خاموش ہونے پر میں نے کہا۔ ”بیٹی! معالج ہونے کے ناتے مجھے ہمدردی ہے تم سے، میں پوری کوشش کروں گا تمہیں اِس تکلیف دہ کیفیت سے نکالنے کی۔ لیکن اِس مقام پر پہنچانے والے کوئی حالات ہیں، جو جہاں تک ممکن ہو بتاؤ تاکہ بہتر دوائی تجویز ہو سکے۔ لیکن ایک تصحیح کر لیں کہ اُس مرد یا اُن مردوں سے جی بھر کر نفرت کریں، جنہوں نے تم پر ستم ڈھائے اور تمہیں اِس حالت اور سوچ تک پہنچایا ہے۔ لیکن دنیا کے جملہ مردوں کو بُرا نہ جانو، انہیں میں تمہیں غمخوار اور ہمدرد ملیں گے۔ یہی اِس دنیا کی رِیت ہے۔“ اِس پر وہ کہنے لگی۔
” فی الحال نا ممکن، بہرحال سنیئے! میں فسٹ ایئر پری میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی، ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ حُسن و شباب فطرت نے جی بھر کے دے رکھا تھا۔ میں کالج جانے کے لئے گھر سے نکلتی تو چوکوں اور چوباروں میں لوگ میری ایک جھلک دیکھنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے۔ میں کسی کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھتی، سر نیچا کیے اپنی ڈگر پر چلتی رہتی۔ میرا ایک ہی ارمان تھا کہ میں ڈاکٹر بن کر اپنا مستقبل سنواروں اور انسانوں کی خدمت کروں۔ میں تعلیمی منازل ہنسی خوشی طے کر رہی تھی کہ ایک دن یہ بُری خبر مجھے سنائی گئی کہ میں کالج چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو نے والی ہے۔ لیکن کس سے؟ میرے ابوّ کے بچپن کے دوست، ایک بُڈھے کھُوسٹ سے، جسے میں کبھی انکل کہا کرتی تھی۔ اُس کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور سب بچے شادی شدہ تھے۔ مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ میرا باپ یہاں میری شادی پر کیوں راضی ہوا تھا؟ کوئی مالی مفاد لیا یا دوستی کا بھرم نبھایا تھا۔ بہر حال شادی ہوئی اور میں چیختی، چلاتی، روتی دھوتی ڈولی میں بیٹھ کر اُس بُڈھے کے گھر سِدھاری اور مجھ پر ظلم و ستم شروع ہو گئے۔ مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ مردوں کے دو روپ ہیں۔ دن کی روشنی میں نظر آنے والی مہذب اور مومنانہ صورتیں رات کے اندھیرے اور تنہائی میں درندہ بن جاتی ہیں۔ وہ انسان نما درندہ ہر حوالے سے بُڈھا کھُوسٹ تھا۔ میرے نازک حصّوں پر جلتا سگریٹ لگا کر اور چٹکیاں بھر کے جنسی حظ اُٹھاتا تھا۔ اِس سے زیادہ میں کچھ بیان نہیں کر سکتی۔ ایک کاغذ پر الفاظ میں حالات بتانے کی کوشش کی ہے، اِس شرط پر یہ کاغذ دوں گی کہ میرے سامنے پڑھ کر اِسے ضائع کر دو گے۔“
اُس نے وہ تحریر مجھے دی اور دور بیٹھے ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی۔ میں نے وہ کاغذ پڑھا اور پھاڑ کر ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ سعادت حسن منٹو کا افسانہ ”شادو“ میرے ذہن میں گھوم گیا۔ اُس کاغذ پر جو لکھا تھا، نہ وہ بتایا جا سکتا ہے اور نہ یہ کالم اُن حقائق کا متحمل ہے۔ میں نے اُن حالات کی شدید مذّمت کی اور اُس سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ چند ماہ کے علاج اور ذہنی تربیت سے وہ لڑکی زندگی کی دوڑ میں شامل ہو گئی۔ پہلے ٹیوشن پڑھائی پھر سکول کھولا، شادی کی، بچے پیدا کیے اور ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگی۔ البتہ وہ آج بھی آبدیدہ ہو جاتی ہے یہ سوچ کر کہ اُس کے نوعمری کے خواب اور عزائم پورے نہ ہوئے تھے۔ مذکورہ بالا دونوں واقعات کی نفسیاتی تشریح و توضیح گرین زون فلاسفی کے ماہر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب ہی بہتر کر سکتے ہیں۔


