باسی روٹی اور میٹھے ٹکڑوں کا کلچر


میرے والد صاحب صبح ناشتے میں ہمیشہ رات کی بچی ہوئی باسی روٹی اور پودینے یا سبز دھنیے کی چٹنی استعمال کرتے تھے۔ یا رات کا بچا ہوا سالن کھاتے تھے اور ہماری والدہ ہمیں ناشتے میں رات کی باسی روٹی گھی میں تل کر چائے کے ساتھ دیتیں جو اس قدر مزیدار ہوتی کہ آج تک اس کا ذائقہ نہیں بھولتا۔ چھوٹے بچوں کو ان کی چوری بنا کر دی جاتی تھی۔ اس کی وجہ غربت یا معاشی کمزوری نہ تھا۔ بلکہ رزق کا احترام اور اس کی قدر کرنا مقصود ہوتا تھا۔

رات کو ہمیشہ چند روٹیاں ضرورت سے زیادہ بنائی جاتیں تھیں تاکہ اگر کوئی مہمان یا مانگنے والا آئے تو پیش کی جائیں۔ دسترخوان کبھی خالی نہیں رکھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود اگر کوئی روٹی بچ جاتی تو انہیں سکھا کر ایک ٹوکری میں محفوظ کر لیتے تھے۔ جب تعداد اچھی خاصی ہو جاتی تو والدہ صاحبہ ان روٹیوں کو بھگو اور چور کر گڑ کے میٹھے ٹکڑے تیار کرتیں۔ جو سب گھر والے شوق سے کھاتے کیونکہ ان ٹکڑوں میں میوہ ڈال کر بے حد لذیذ بنایا جاتا تھا۔

اگر کبھی کوئی روٹی کا ٹکڑا یا رزق کا کوئی دانہ زمین پر گر جاتا تو اسے بے ادبی تصور کیا جاتا تھا۔ تو اس کے احترام میں ہمیں ہدایت تھی اسے فوری اٹھا کر اور چوم کر محفوظ کر لیا جاتا تھا۔ والدہ کہتی تھیں رزق کی بے ادبی سے رزق میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔ اس وقت فرج گھروں میں نہیں ہوا کرتے تھے فالتو کھانا اور سالن فوراً ہمسایوں کے گھر بھجوا دیا جاتا تھا تاکہ ضائع نہ ہو جائے۔ اس لیے ہمارے گھر میں شدید گرمی کے باوجود کبھی کھانا خراب نہیں ہوتا تھا۔

اس وقت ہمارے کلچر میں رزق کی تعظیم کے لیے باسی روٹی اور میٹھے ٹکڑے کھانا باعث عار نہیں بلکہ باعث فخر ہوتا تھا۔ کہتے ہیں ”رزق ہو یا محبت اس کی قدر نہ کرو تو چھن جاتی ہے“ ۔ اس لیے والد صاحب فرماتے تھے رزق کی بے قدری انسان کو فقیر بنا دیتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے ”اگر تم میری نعمتوں پر شکر کر گے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور ناشکری کر گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے“ (سورۃ ابراہیم )

حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے ”رزق کی بددعا سے بچو“ رزق کا ضیاع کفران نعمت ہوتا ہے روایت ہے کہ آپ ایک مرتبہ درس اخلاق دے رہے تھے۔ تو کسی نے پوچھا کہ زندگی میں اچانک عذاب اور پریشانیوں کے آنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا اچانک سے عذاب آنے کی وجہ رزق کی بددعا ہے پوچھا گیا یا امیرالمومنین وہ کیسے؟ تو فرمایا انسان جب بچے ہوئے کھانے کو زمیں پر پھینک دیتا ہے تو وہ بچا ہو رزق پیروں تلے کچلا جاتا ہے تو وہ فریاد کرتا ہے کہ اللہ تو نے مجھے انسان کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان میری قدر سے واقف نہیں ہے اور مجھے کچل کر گزر رہا ہے۔ اس لیے اگر دسترخوان سے گری روٹی اٹھا کر واپس رکھ دی جائے تو رزق اور غذا بندے کے لیے دعا کرتی ہے کیونکہ وہ پیروں تلے کچلی نہیں جاتی بلکہ کسی ضرورت مند کی خوراک بن جاتی ہے۔ رزق کی دعا سے انسان کے رزق میں مزید اضافہ اور برکت پیدا ہو جاتی ہے۔

کہتے ہیں تخلیق انسانی کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی وہ خوراک تھی کیونکہ انسانی زندگی کی تہذیب میں بھوک کا سب سے اہم کردار رہا ہے۔ اس لیے انسان نے سب سے پہلے بھوک مٹانے کے لیے سوچا اور بھوک دور کرنے کے لیے وسائل کی تلاش اس کی پہلی ترجیح قرار پائی۔ یوں اس نے زندہ رہنے کے لیے انسان دوست جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا سہارا لیا اور جانداروں کا شکار شروع کیا۔ جب ایک جگہ غذا کے یہ ذخائر ختم ہو جاتے تو وہ دوسری جگہ ذخائر کی تلاش میں سفر کرنے لگتا۔

جب یہ بھی مشکل لگا تو اپنی غذا خود پیدا کرنے کے لیے زراعت اور کاشتکاری کا آغاز شروع کیا۔ ایک جانب تو پیداوار میں اضافے کی جد و جہد سے زراعت کے نئے نئے طریقے ڈھونڈھنے لگا تو دوسری جانب غذا کی کمی کے بحران کی صورت میں پیداوار کو محفوظ کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے لگا۔ جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ بھوک سے کیسے بچا جائے اور پیٹ کا دوزخ کیسے بھرا جا ئے۔ بڑھتی ہوئی ضروریات نے اسے خوراک کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان کے حصول کے لیے جنگ پر آمادہ کر دیا اور دنیا میں جنگوں کی ابتدا خوراک کے حصول کے لیے ہی شروع ہوئی باہمی جنگوں میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

جنگوں میں مخالف کے کھیتوں اور خوراک کے ذخائر کو آگ لگا کر جلایا اور برباد کر دیا جاتا تھا۔ ایک دوسرے کا محاصرہ کر کے ان کی خوراک بند کردی جاتی تھی۔ تاکہ بھوک سے تنگ آ کر وہ ہتھیار ڈال دیں اور ان کے وسائل اور خوراک پر قبضہ کر لیا جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آج بھی بھوک کے سامنے بہادری، شجاعت اور اسلحہ بے کار ہو جاتا ہے ۔ بھوک انسان کو مجبور اور تبدیل کر دیتی ہے۔

سعادت حسن منٹو کہتے تھے ”دنیا میں جتنی لعنتیں ہیں بھوک ان کی ماں ہے“ بھوک امیر اور غریب میں فرق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بھوکے اور فاقہ زدہ لوگوں کو اپنے وقار اور عزت سے بھی محرومی کا باعث بنتی ہے یہاں تک کے بھوک کے باعث لوگ اپنے بچے تک بیچ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بروقت غذا کا حصول انسانیت کے لیے سب سے بڑی نعمت خداوندی قرار پاتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں ”وقت“ کے بعد اللہ کی جس نعمت کا سب سے زیادہ ضیاع دیکھنے میں آ رہا ہے وہ ”رزق“ ہے جو ایسی بے بہا نعمت ہے جس سے آج بھی دنیا کی تیس فیصد آبادی محروم ہے۔ افسوس یہ ہے کہ رزق کی ناقدری اور ضیاع کے جرم میں غیر مسلم اور مسلم دونوں برابر کے شریک ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پوری دنیا میں پچاس فیصد غذا ضائع ہوتی ہے جبکہ پوری دنیا کے بیس فیصد لوگ بھوکے سوتے ہیں۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں صرف تقریبات میں سالانہ چھتیس ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔

ہمارے گھروں، شادی ہالوں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ میں کھانا نہ صرف بچ جاتا ہے بلکہ جھوٹا ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے یہی نہیں درست طریقہ کار نہ اپنانے کی باعث ہماری بڑی مقدار میں اجناس، فروٹ اور سبزیاں خراب ہو کر بھی ضائع ہو رہی ہیں ہماری سبزی اور فروٹ منڈی میں لاکھوں ٹن سبزی اور فروٹ خراب ہو کر پڑا نظر آتا ہے۔ لیکن انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح پر اسے بچانے اور محفوظ کرنے کی کوئی جدید منصوبہ یا کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔

یاد کریں آپ کبھی بچوں کے ساتھ ہوٹل گئے ہوں اور کھانا پورا ختم کر کے اُٹھے ہوں؟ کھانا آرڈر کرتے ہوئے کم پڑ جانے کے خوف سے اور مہمانوں پر رعب ڈالنے کے لیے ضرورت سے زیادہ کھانا منگوایا جاتا ہے ۔ شادی کی تقریب ہو یا میت کے گھر کا کھانا، اپنی پلیٹیں اس خوف سے ضرورت سے زیادہ بھر لی جاتی ہیں کہ شاید دوبارہ نہ مل سکے۔ جبکہ وہ ہمیشہ بچ کر ضائع ہوتا ہے۔ یہ رویہ اب رفتہ رفتہ ہمارا کلچر بن چکا ہے۔ اگر سوچا جائے تو ضرورت سے زیادہ کھانا منگوانا اور ضائع کر دینا ان غریب لوگ سے ظلم ہے جو ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ صرف صوبہ پنجاب میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ڈسپوزل آف ایکسس فوڈ کے نام سے ایک ریگولیشن متعارف ضرور کرایا ہے۔ مگر اس پر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ خوراک کا ضیاع ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں میں اس سلسلے میں قانون سازی کا بھی فقدان نظر آتا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

ہمیں اس سلسلے میں صرف حکومت پر ہی سب کچھ نہیں چھوڑ دینا چاہیے بلکہ اس بارے میں شعور اور آگاہی کا فرض ہر سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مسجد و منبر، میڈیا، سیاسی و سماجی، مذہبی تنظیموں، دانشوروں، اساتذہ سب کو اس ضیاع کو روکنے کے لیے اپنا اپنا کردار اور فرض ادا کرنا ہو گا شاید ہمیں آج قانون اور اس پر عمل درآمد سے زیادہ اس بارے میں عام آدمی میں آگاہی کے ساتھ ساتھ شعور اور احساس پیدا کرنے اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستان سے بھوک کا خاتمہ ہو سکے اور یہاں کا کوئی ایک فرد بھی بھوکا نہ سوئے۔

یاد رکھیں خدمت انسانیت ہمارے رب کی رضا ہے۔ آئیں کھانے پینے میں سادگی اختیار کریں اور رب کی رضا کے لیے باسی روٹی اور میٹھے ٹکڑوں بچے ہوئے کھانے کو مستحقین تک پہنچانے کے اپنے پرانے کلچر کو پھر سے فروغ دیں اور رزق کی بددعا سے بچیں۔

Facebook Comments HS