عورتوں کی حکومت اور سیاست
مصنف: ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر سارہ علی
ڈاکٹر خالد سہیل کا خط
محترمہ و معظمہ سارہ علی صاحبہ!
آپ نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مجھ سے عالمی سیاسی پس منظر میں عورتوں کی حکومت اور سیاست کے بارے میں میری رائے پوچھی ہے۔
میں آپ سے پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ نہ تو میں کوئی سیاسی لیڈر ہوں، نہ ہی سیاسی کارکن اور نہ سیاسی تجزیہ کار۔ عالمی سیاست کے بارے میں میری رائے طالب علمانہ، امن پسندانہ اور درویشانہ ہے۔
مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بنگلہ دیش کی سیاسی لیڈر شیخ حسینہ واجد کو فوج نے بتایا کہ شہر میں طلبا و طالبات کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ان کے شاہی محل کی طرف رواں دواں ہے اور ان کے پاس فرار ہونے کے لیے صرف پینتالیس منٹ ہیں۔ اس کے بعد ان کی جان خطرے میں ہوگی۔
شیخ حسینہ واجد گھر چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھیں۔ فوج کی درخواست پر ان کی بہن نے انہیں فرار ہونے کا مشورہ دیا وہ پھر بھی نہ مانیں۔ آخر فوج نے ان کے بیٹے سے رابطہ کیا اور حالات کی سنگینی کی نشاندہی کی۔ بیٹے کے کہنے پر وہ گھر چھوڑنے پر تیار ہو گئیں اور ایک ہیلی کوپٹر میں بیٹھ کر ہندوستان چلی گئیں۔
شیخ حسینہ واجد کا خیال تھا کہ ہندوستان میں چند گھنٹے قیام کے بعد وہ انگلستان چلی جائیں گی جہاں انگلستان کی حکومت انہیں سیاسی پناہ دے دے گی لیکن انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ نہ صرف انگلستان نے انہیں سیاسی پناہ دینے اور رفیوجی ماننے سے انکار کر دیا بلکہ امریکہ نے بھی ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔
سارہ علی صاحبہ!
کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔ وہ عورت جو پچھلے پندرہ سال سے بنگلہ دیش کی ایک صاحب اقتدار شخصیت تھیں اب افسوسناک حد تک بے یار و مددگار ہیں۔ بنگلہ دیش کے طلبا و طالبات شیخ حسینہ واجد کو ہندوستانی حکومت سے واپس مانگ رہے ہیں تا کہ وہ ان سے پچھلے پندرہ سال کے ظلم و جبر کا بدلہ لے سکیں۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سیاسی بحران کے دوران بنگلہ دیش کے طلبا و طالبات نے پروفیسر محمد یونس سے، جنہیں گرامین بینک اور لاکھوں عورتوں کو قرضے دینے کی وجہ سے 2006 کا امن کا نوبل انعام ملا تھا، رابطہ قائم کیا اور درخواست کی کہ وہ اپنے ملک واپس لوٹیں، ملک کی باگ ڈور سنبھالیں اور جمہوری، منصفانہ اور عادلانہ الیکشن کی فضا قائم کرنے میں مدد کریں۔ پروفیسر محمد یونس نے ان کی دعوت قبول کر لی ہے۔ پروفیسر محمد یونس طلبا کی جنگ کو ایک آمر کے ظلم سے آزادی کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔
سارہ علی صاحبہ! آپ کی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپ کے خیال میں کسی ملک کو ان کو پناہ دینی چاہیے یا انہیں شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیشیوں کو واپس کر دینا چاہیے؟
عالمی صورت حال یہ ہے کہ جہاں بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد کا سورج غروب ہو رہا ہے وہیں امریکہ کی کمالا ہیرس کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔
جو بائیڈن کے استعفیٰ کے بعد امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی نے کمالا ہیرس کو اپنا صدارتی امید وار چن لیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کمالا ہیرس ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرا سکیں گی؟ کیا کمالا ہیرس ہلری کلنٹن سے زیادہ مقبول ہیں؟ کیا کمالا ہیرس امریکہ کی پہلی عورت صدر ہوں گی؟
جو لوگ کمالا ہیرس کا ہندوستان کی اندرا گاندھی، پاکستان کی بے نظیر بھٹو اوربنگلہ دیش کی شیخ حسینہ واجد سے مقابلہ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی عورتیں وزیر اعظم اپنے اپنے باپ کی وجہ سے مقبول ہوئیں۔ اگر ان کے باپ مقبول سیاسی لیڈر نہ ہوتے تو یہ عورتیں بھی وزیر اعظم نہ بنتیں۔
ان کی نگاہ میں کمالا ہیرس اپنے باپ کے کندھوں پر چڑھ کر لیڈر نہیں بنیں۔ آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا امریکہ ایک عورت صدر کے لیے تیار ہے؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عورت حکمران مرد حکمرانوں سے زیادہ ظالم و جابر ہوتی ہیں ایسے لوگ اپنے موقف کی تائید میں اندرا گاندھی، مارگریٹ تھیچر، گولڈا میر اور شیخ حسینہ واجد کی مثالیں دیتے ہیں؟
کیا آپ اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں؟ اگر یہ تاثر درست ہے تو ایسا کیوں ہے؟
چونکہ آپ عورت کی نفسیات اور سیاسیات سے مجھ سے زیادہ واقف ہیں اس لیے میں آپ کی رائے اور تجزیے کا انتظار کروں گا؟
آپ کی تخلیقات کا مداح
خالد سہیل
ڈاکٹر سارہ علی کا جواب
میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل،
ڈاکٹر صاحب میں نے آپ کا خط ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ پڑھا۔ آپ کے ساتھ گفتگو میرے لیے معلوماتی ہوتی ہے اور مجھے آپ کے تجزیے کا ہمیشہ انتظار ہوتا ہے آپ نے میری رائے مانگ کر مجھے معتبر کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب یہ موضوع عورتوں کی حکومت اور سیاست بہت وسیع موضوع ہے لیکن بطور سیاست کے طالب علم، نظریاتی کارکن اور بطور خاتون کے میں آپ کو اس کے چند پہلوؤں پر اپنی ناقص رائے سے آگاہ کر سکتی ہوں۔
ڈاکٹر صاحب!
میں جواب کا آغاز بنگلہ دیش سے کرتی ہوں۔ شیخ حسینہ واجد میرے لیے صرف حال نہیں بنگلہ دیش کے ماضی سے جڑی ایک کڑی ہیں اور یہی ان کا المیہ ہے کہ وہ اپنے تمام تر معاشی اصلاحاتی نظریے کے باوجود ماضی میں زندہ ہیں۔ ان کو یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ ان کے سامنے کھڑے نوجوان 1971 میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اس لیے ان کے دل و دماغ میں اس آزادی کی جنگ اور شیخ مجیب کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں۔ وہ حال میں جیتے ہیں اور حال کی حقیقت بھیانک
طبقاتی فرق،
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،
نام کی جمہوریت،
آزادی رائے کا فقدان
اور آمرانہ حکومتی رویہ ہے جس نے آہستہ آہستہ معاشرتی بے چینی اور فرسٹریشن کو جنم دیا۔ جس کی موجودگی میں بنگلہ دیش ایک پریشر ککر بن گیا جو جب پھٹا تو اس نے عوامی لیگ کے اقتدار کے چیتھڑے اڑا دیے۔ بنگالی طالب علم بہت باشعور ہیں۔ لیکن ان طلباء کی بدقسمتی ہے کہ وہ نظریے اور نظریاتی لیڈر شپ کی عدم موجودگی میں صرف ایک ہجوم ہیں اور ان کی قربانیوں کو ایک بار پھر بنگلہ دیش کی اشرافیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ سادہ الفاظ میں صرف چہرے تبدیل ہوئے ہیں نظام وہیں کا وہیں ہے اور انتہا کے طبقاتی فرق کی وجہ سے کچھ عرصے بعد پھر اس طرح کے جذبات کا الاؤ پھٹ پڑے گا۔
حسینہ واجد نے طاقت کے اندھے استعمال کو ترجیح دی اور اشرافیہ خاص کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس خطرے کو محسوس کیا کہ اگر یہ تحریک اسی طرح چل پڑی تو سب کی چھٹی ہو جائے گی اس لیے صرف ایک مہرے کی قربانی دے کر باقی شطرنج کی بازی بچا لی گئی اور نوجوانوں کو عبوری حکومت کی لالی پاپ تھما دی گئی۔
ڈاکٹر صاحب یہ سچ ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت نے بنگلہ دیش کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے اوپر قابو پایا، شرح خواندگی کو بڑھایا اور معشیت کے میدان میں ترقی کی۔ لیکن یہ سب کیپٹلسٹ نظام کی وہ خیرات ہے جو مٹھی بھر افراد تک پہنچ پاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے آزادی اظہار کو سلب کیا اور جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹر شپ کی طرف چلی گئیں۔ پندرہ سالہ اقتدار میں رہنے کے کے بعد بھی وہ حکومت سے چمٹی رہیں کیونکہ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کو اپنے والد کی مرہون منت سمجھتی ہیں اس لیے وہ بادشاہت کی طرز حکمرانی کو اپنا حق سمجھتی ہیں، جمہوریت یا عوام کا فیصلہ نہیں۔
ڈاکٹر صاحب وہ عمر کے جس حصے میں ہیں ایک بار پھر اقتدار میں آنا مشکل ہے۔ لیکن اگر 81 سالہ ڈاکٹر یونس اور 78 سالہ خالدہ ضیا دوبارہ میدان سیاست میں اتر سکتے ہیں تو حسینہ واجد کیوں نہیں جب تک زندہ ہیں۔ اشرافیہ کے یہ نمائندے کیپٹلزم کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے اور ظلم کے نظام کو قائم رکھنے کے لیے حاضر ہیں۔ جمہوریت خواص کا نہیں عوام کا نام ہے۔ یہ حق صرف عوام کے پاس ہے کہ وہ کس کو بغیر کسی ڈر کے اپنے لیے منتخب کرتے ہیں اور ان نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر کام کریں ورنہ آمر آمر ہوتا ہے چاہے سویلین ہو یا فوجی۔ انقلاب نظام کی تبدیلی کا نام ہے چہروں کی تبدیلی کا نہیں۔
آپ نے اپنے خط میں برصغیر کی دو اور خاتون وزرائے اعظم کا ذکر کیا۔ ہندوستان کی اندرا گاندھی اور پاکستان کی بے نظیر بھٹو۔ ڈاکٹر صاحب اندرا گاندھی بہت ذہین اور مضبوط اعصاب کی خاتون تھیں اور ان کی الیکشن مہم غربت مٹاؤ کو عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ لیفٹ کے بہت قریب تھیں۔ میری نظر میں وہ کنفیوژن کا شکار تھی وہ کبھی بھی کھل کے لیفٹ کے معاشی ایجنڈے کو نہیں اپنا سکیں اور ہر کسی کو خوش کرنے کے چکر میں وہ نہیں کر سکیں جس کی ان میں صلاحیت تھی۔ دوسرا ان کا آمرانہ رویہ تھا جس نے ان کو نقصان پہنچایا۔
ان کے بیٹے سنجے گاندھی بھی اسی شخصیت کے حامل تھے جس نے نہ صرف ان کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے نفرت پیدا کی اور رہی سہی کسر ایمرجنسی اور آپریشن بلو اسٹار نے پوری کردی۔ اندراگاندھی پاکستان کے قیام کو اپنے والد جواہر لال نہرو کی شکست سمجھتی تھیں اس لیے وہ اس انتقام کی سوچ سے جڑی رہیں۔
پاکستان کی بے نظیر بھٹو بے انتہا ذہین عوام دوست اور بہادر سیاست دان تھیں۔ سب خواتین کو ان کی کتاب ”Daughter of the East“ پڑھنی چاہیے لیکن بے نظیر کی بدقسمتی تھی کہ وہ پاکستان جیسے گھٹن زدہ معاشرے کا حصہ تھیں۔ جہاں ہر لمحہ ان کی کردارکشی کی جاتی تھی۔ اس کردارکشی نے ساری عمر ان کا پیچھا کیا۔ 2007 میں جب وہ پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد کے لیے واپس آ رہی تھیں تو ان کے بارے میں یہ خبریں پھیلائی جا رہی تھیں کہ آصف زرداری ان کو طلاق دے رہے ہیں اور وہ نیو یارک میں کسی اور عورت سے شادی کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب یہ خاتون پاکستان کی وہ سیاستدان تھیں جس نے ہر تکلیف برداشت کی سویلین سپریمیسی کے لیے اور کبھی اپنے عوام کو دھوکہ نہیں دیا۔ سکھر جیل میں انتہائی گرمی میں قید تنہائی کاٹی، لاٹھیاں ڈنڈے کھائے اور انتہا یہ کہ جب پرائم منسٹر بنیں تو فوج نے ان کا احترام کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ خاتون سیاچین گئیں کہ یہ فوجی بھی میرے عوام سے تعلق رکھتے ہیں اور میرے بھائی بیٹے ہیں۔ ان کی کردارکشی کا الم ناک پہلو یہ تھا کہ ان کے خاوند آصف علی زرداری کو گیارہ سال جیل میں بند رکھا گیا اور ان کو یہ آپشن دیا گیا کہ وہ بے نظیر کو طلاق دے دیں تو چھوڑ دیا جائے گا۔
یہ سب ہمارے معاشرہ کی نام نہاد تہذیب، مشرقی روایات اور اسلامی اقدار کے منہ پر تھپڑ ہے۔ ان کو دو دفعہ اقتدار ہاتھ پیر باندھ کر دیا گیا لیکن اس میں بھی انہوں نے عوام دوست پالیسیاں اپنائیں۔ ان کی حکومت کی تین عوام دوست پالیسی جو میرے لیے بہت اہم ہیں
وہ پولیو کے قطروں کی مہم تھی جس کا آغاز انہوں نے اپنی بیٹی آصفہ بھٹو کو قطرے پلا کر کیا کیونکہ الزام تھا کہ بے نظیر پاکستان کے بچوں کو ان قطروں سے infertile کرنا چاہتی ہیں،
دوسرا iodized نمک کا اجرا تھا کہ اس وقت پاکستان میں hypothyroidism epidemic بن چکا تھا اور اس بروقت فیصلے نے پاکستان میں اس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا
اور تیسرا women health workers کا آغاز تھا۔ پاکستان ماں اور بچے کی زچگی میں اموات کی سب سے زیادہ شرح رکھتا ہے اور بے نظیر کا وژن تھا کہ یہ ہیلتھ ورکرز مڈوائف کی طرز پہ ہر محلے میں موجود ہوں اور زچگی کے عمل کو آسان بنائیں اور فیملی پلانگ میں خواتین کی مدد کریں۔ ان کی موت کے بعد ان کے آئیڈیا بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام نے پاکستان کی لاکھوں غریب خواتین کو ریاست کی طرف سے معاشی اسپورٹ کا حقدار بنایا جس کی دو اچھی باتیں ہیں
ایک یہ کہ یہ صرف عورتوں کو مل سکتا ہے اوردوسرا ان کے پاس اس کو لینے کے لیے شناختی کارڈ ہوں
ہمارے لبرلز اس حقیقت سے ناآشنا ہیں کہ اس پروگرام کی وجہ سے مردوں نے دیہات میں عورتوں کے شناختی کارڈ بنے دیے ورنہ اس کہ بھی اجازت نہیں دی جاتی تھیں کہ بے نام بے شناخت عورتیں جن کا کسی کھاتے میں شمار نہیں ان کو کاری کر کے مار دینا آسان ہے۔
بے نظیر بھٹو، اندرا گاندھی اور حسینہ واجد سے اس لیے مختلف ہیں کہ ان کے اندر معاف کر دینے کی بے پناہ طاقت تھی وہ وژنری تھیں اور ماضی کے مقابلے میں حال اور مستقبل پہ نظر رکھتی تھیں۔ ان کی صرف ایک بدقسمتی تھی کہ وہ پاکستان جیسے معاشرے کا حصہ تھیں جس کے پڑھے لکھے مرد بھی آخری وقت تک ان کی طلاق کے خواہشمند تھے اور اس جھوٹ سے اپنی انا کو تسکین دیتے تھے کہ آصف زرداری بے نظیر کے منہ پر چانٹے مارتے ہیں۔
آپ نے مجھ سے ان تینوں خواتین اور کمالا ہیرس کے بارے میں سوال کیا کہ یہ تینوں خواتین موروثی سیاست کی وجہ سے سیاست کر پائیں اور کمالا اپنے بل بوتے پر سیاست میں آئیں۔
ڈاکٹر صاحب! موروثی سیاستدان میرے لیے کوئی بری بات نہیں اگر وہ اس جگہ کے قابل ہے اور عوام کی صحیح نمائندگی کر رہا ہے ہے کیا ڈاکٹروں کے بچے ڈاکٹر نہیں بنتے ہم ان کو موروثی ڈاکٹر کہتے ہیں؟ اس لیے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب آپ ایک چیز سے بہت بچپن میں ایکسپوز ہوتے ہیں اگر آپ کے اندر اس کا ٹیلنٹ بھی ہو تو وہ آپ کا passion بن جاتا ہے۔
حسینہ واجد اور بے نظیر کے کیس میں اور بہنیں بھی تھیں انہوں نے یہ مقام کیوں حاصل نہیں کیا کیونکہ ان کے اندر وہ ریزیلنس اور حوصلہ نہیں تھا جو ایک آمر کی فاشزم سے ٹکرانے کے لیے چاہیے تھا ان دونوں نے آمریت کا مقابلہ کیا اسلامی فاشزم کا مقابلہ کیا اور حسینہ واجد نے تو اسلامی فاشسٹوں کی بنگلہ دیش سے چھٹی کرا دی جو ان کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
جہاں تک کمالا ہیرس کا تعلق ہے وہ ماڈرن امریکہ کی نمائندہ ہیں اور یہ 2024 ہے۔ برصغیر کی ان تینوں خواتین نے یہ کارنامے انتہائی پسماندہ معاشروں میں 1970 1980 اور 1996 میں سرانجام دیے یہ ٹائم لائن اس لیے اہم ہے کہ صرف 2016 میں ہیلری کلنٹن کو جس قسم کے رویے کا سامنا کرنا پڑا وہ اب کمالا کو 2024 میں نہیں کرنا پڑ رہا کیونکہ آج سوشل میڈیا پر Gen z کا غلبہ ہے اور وہ جینڈر اور racism دونوں پر یقین نہیں رکھتے اور ان کی بڑی تعداد باشعور ہے۔
دوسرا معاشرتی اور معاشی فرق برصغیر میں امیر خواتین کو جو آسائش اور طاقت میسر ہے وہ ایک عام خاتون کو جو مڈل کلاس یا غریب ہے نہیں اس لیے اور ہماری سیاست میں برادری اور ذات سسٹم کلاس سسٹم ایک اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن میں یہ نہیں کہوں گی امریکہ میں ایسا نہیں اپر مڈل کلاس یا اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے کانگرس کے ارکان زیادہ تعداد میں ہیں اور اسرائیلی لابی بہت بڑا فیکٹر ہے لیکن امریکہ کی جمہوریت برصغیر کی جمہوریت سے پرانی اور فوجی شب خون سے عاری ہے اور کمالا ہیرس کوئی معمولی خاتون نہیں
وہ اٹارنی جنرل کیلیفورنیا رہ چکی ہیں،
سینیٹر رہی ہیں
پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہوئی ہیں
ان کے اندر وہ سب خوبیاں ہیں جس سے وہ ٹرمپ کو ہرا سکتی ہیں۔ وہ اپنی Afro Asian heritage کی وجہ سے اٹھارہ سال سے پینتیس سال کی نوجوان خواتین اور مردوں میں ایک کلچرل phenomenon بن کر ابھری ہیں جیسے ٹرمپ رائٹ ونگ میں۔ وہ ایک انتہائی قابل خود اعتماد اور articulate خاتون ہیں جن کو ٹرمپ سے کوئی خوف نہیں۔
سونے پر سہاگہ ان کے خاوند ایک امیر یہودی ہیں اس لیے ڈیموکریٹ یہودیوں کی حمایت بھی ان کو حاصل ہے، وہ خواتین جو پڑھی لکھی خودمختار ہیں اور ابارشن کے ریپبلکن نقطہ نظر کی مخالف ہیں ان کا ووٹ بھی ان کو جائے گا اور پڑھا لکھا مڈل کلاس بھی ان کو ووٹ دینے کے لیے باہر آئے گا۔ صرف مسئلہ ان کو مسلمان ووٹ بنک سے ہو گا جو پکا ڈیموکریٹ ووٹر رہا ہے اور فلسطین کے مسئلے پر ان کے رویے سے نالاں ہے وہ ان کو ووٹ نہیں دے گا اور نہ ہی ٹرمپ کو۔
ڈاکٹر صاحب عورتوں کی حکمرانی کے لیے کبھی کوئی معاشرہ تیار نہیں ہوتا یہ وہ حق ہے جو آگے بڑھ کر اپنے زور بازو پر لینا پڑتا ہے اور کمالا ہیرس میں یہ زور بازو اور کرشمہ موجود ہے۔
ڈاکٹر صاحب آپ نے مجھ سے پوچھا کہ لوگوں کے خیال میں عورتیں زیادہ سخت گیر حکمران ہوتی ہیں کیوں؟ اس لیے کیونکہ ان کو اپنے آپ کو منوانے کے لیے ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ Good women کا سانچہ پھر اس کے اوپر سخت گیری کا ملمع چڑھانا پڑتا ہے کیونکہ اگر یہ نہ کریں تو یہ دنیا ان کی نرم خوئی کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ آپ کو یہ سخت گیر رویہ کمالا ہیرس میں بھی ملے گا۔
حسینہ واجد یہ نہ کرتیں تو جماعت اسلامی کے غنڈے ان کو کھا جاتے۔ جیسے بے نظیر کی کردار کشی کر کر کے ان کو شرمندہ کیا گیا۔ یہ سخت گیری صرف خاتون حکمران نہیں ہر ورکنگ وومن کی مجبوری ہے چاہے وہ گھر میں کام کرنے والی مائی ہے یا منسٹر، اس کی مسکراہٹ کا صرف ایک مطلب لیا جاتا ہے کہ یہ خاتون میرے ساتھ بستر میں جانے کے لیے تیار ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرد اور عورت کے لیے ایک ہی عہدے تک پہنچنے کا راستہ ایک نہیں۔ میں ایک مثال سے اس کو واضح کر سکتی ہوں کہ اگر کمالا ہیرس کے پانچ بچے تین مختلف شوہروں سے ہوتے اور ایک کیس میں وہ ایک adult film star کے ساتھ جسمانی روابط بھی ثابت ہو چکے ہوتے تو کیا پھر بھی ان کو صدر کا امیدوار چنا جاتا یا بے نظیر بھٹو عمران خان کی طرح برطانیہ اور امریکہ میں رنگین زندگی کی مالک ہوتیں اور اپنے خاوند کو چھوڑ کر ایک دوسرے مرد سے شادی کر لیتیں تو بھی پاکستانی قوم ان کو اپنا وزیراعظم چنتی یا اندرا گاندھی اپنے خاوند کے ہوتے ہوئے کسی اور مرد کے لیے محبت کے جذبات رکھتیں پھر بھی نہرو کی طرح بڑی لیڈر مانی جاتیں۔
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
آپ کی شاگرد، دوست اور چھوٹو
سارہ علی



