کلکتہ ریپ کیس اور فیس بکی مخلوق


9 اگست کی صبح 31 برس کی ایک زیرِ تربیت خاتون ڈاکٹر کلکتہ کے مشہور ”آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل“ کے سیمینار ہال میں نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی۔ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔ معاملہ جب میڈیا نے اجاگر کیا تو پورا بھارت ہل گیا۔ چھ گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جس کی شناخت سنجے رائے کے نام سے ہوئی اور وہ کلکتہ پولیس کا رضا کار نکلا۔

درندے کی دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ وہ یہ دل دہلا دینے والا جرم کر کے بھی گھر چلا گیا اور آرام سے سو گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں سیمینار ہال میں چار مرد دکھائی دیے جن میں سے تین وہ تھے جن کے ہسپتال میں کوئی نہ کوئی قریبی رشتہ دار داخل تھے جبکہ چوتھا سنجے رائے تھا جو ”دی سٹیٹسمین“ اخبار کے مطابق بلیو ٹوتھ بھی لاش کے پاس چھوڑ گیا۔ کلکتہ پولیس نے جب سی سی ٹی وی فوٹیج اور بلیو ٹوتھ کی بنیاد پر سنجے رائے کو پکڑا تو اس کے چہرے پر ناخنوں کے نشانات پائے گئے جو اس بات کا ثبوت تھے کہ مقتولہ نے اپنے بچاؤ کی خاطر ہر ممکن مزاحمت کی۔

”انڈیا ٹوڈے“ کے مطابق سنجے رائے نے نہ صرف دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے بلکہ پولیس افسران کو یہ بھی کہا ہے کہ مجھے پھانسی دے دو۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سنجے رائے نہ صرف پورن فلمیں دیکھنے کا عادی ہے بلکہ اپنی والدہ، بہن اور بیوی کو بھی جسمانی تشدد کا نشانہ بنا چکا ہے اور چند برس قبل اس کی ساس نے اس کے خلاف بیوی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس کو ایک رپورٹ درج کروائی تھی۔

اس وقت پورے ہندوستان میں اس دل دہلا دینے والے واقع کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز نے ہڑتال کر رکھی ہے۔ کلکتہ نہ صرف بھارت کی ریاست مغربی بنگال کا دارالحکومت ہے بلکہ دنیا کا ایک مشہور تاریخی شہر بھی ہے۔ کلکتہ میں یہ بہیمانہ واقعہ اس وقت رونما ہوا ہے جب مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ایک خاتون ممتا بینر جی ہیں۔ 2011 سے مسلسل تیسری بار مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ بننے والی ممتا بینرجی ایک بے مثال لیڈر ہیں جن کی قابلیت اور سادگی کی وجہ سے مغربی بنگال کی عوام انہیں ”دیدی“ کہتی ہے۔ آپ بنگال کی اس دیدی کی اہلیت ملاحظہ کریں کہ انہوں نے 1997 میں انڈین نیشنل کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے 1998 میں اپنی جماعت ”آل انڈیا ترنمول (گراس روٹس) کانگریس“ کی بنیاد رکھی اور بنگال سے بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کا صفایا کر دیا۔

کلکتہ والے واقعہ کے متعلق جہاں ڈاکٹرز اور عام شہری احتجاج کر رہے ہیں وہاں ممتا بینر جی نے بھی اپنی ریاست مغربی بنگال اور ہندوستان کی عورتوں کی آواز بنتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو کل یعنی اتوار تک اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے اور ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس ریاست کے دارالحکومت میں یہ افسوس ناک واقعہ ہوا ہے اس ریاست کی با اختیار اور طاقتور وزیر اعلی کو بھی ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ زیرِ تربیت ڈاکٹر کے ساتھ جنسی درندگی کا یہ ہولناک کھیل کیسے کھیلا گیا اور اس درندگی کا مظاہرہ کرنے والا ایک درندہ تھا یا ایک سے زیادہ تھے؟ اور نہ ہی اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی مکمل تفصیلات ابھی تک بھارت کی مشہور تحقیقاتی ایجینسی ”سی بی آئی“ کو معلوم ہو سکی ہیں لیکن ہندوستانی اور پاکستانی فیس بکی مخلوق کے کیا کہنے جس نے اپنے اپنے بیڈ رومز میں بیٹھ کر کلکتہ والے واقعہ کا سارا کچا چٹھہ کھول کر اپنے اپنے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹس پر لگا کر سی بی آئی کا کام آسان بنا دیا ہے۔

کوئی موبائلی جنگجو یہ ”انکشاف“ کر رہا ہے کہ کلکتہ کی اس زیرِ تربیت ڈاکٹر کے یوٹرس میں 150 گرام سیمن پایا گیا جو ایک مرد کا ہو ہی نہیں سکتا۔ کوئی فیس بکی مجاہدہ یہ دعوی کر رہی ہے کہ ریپ کرنے والا ایک نہیں بلکہ آٹھ دس درندے تھے۔ کوئی یہ ”راز“ افشا کر رہا ہے کہ خاتون کے جسم پر ایک سو پچاس زخم پائے گئے۔ کوئی یہ دعوی کر رہی ہے کہ مقتولہ کی دونوں ٹانگیں اس درندگی کے ساتھ اطراف میں کھینچی گئیں کہ اس کا نافچہ (پیلوس ) ٹوٹ گیا۔ کوئی یہ کہہ رہی ہے کہ مقتولہ کی ہنسلی (کندھے کی ہڈی) بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ مقتولہ نے جو عینک لگا رکھی تھی اس کے شیشے مقتولہ کی آنکھوں میں دھنسے ہوئے تھے۔

میں نے جب مذکورہ بالا ”خوفناک انکشافات“ دیکھے تو مجھے اس لیے کوئی تعجب نہ ہوا کہ مجھے اتنا ادراک ہے کہ یہ موبائلی جنگجو ایک وقت میں صحافی بھی ہیں، تحقیقاتی افسر بھی ہیں اور جج بھی ہیں۔ کلکتہ میں ہونے والے اس افسوس ناک واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کیونکہ یہ ایک انسانی عمل نہیں بلکہ ایک وحشیانہ درندگی ہے۔ لیکن اس درندگی کے ساتھ بغیر تحقیق اور بغیر ثبوت کے فرضی کہانیاں نتھی کر دینا بھی انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔

پڑوس کے حالات کی تھوڑی بہت جانکاری رکھنے کے لیے میں پچھلے کئی سالوں سے ہندوستان کے بڑے انگریزی اخبارات پر ایک نظر ضرور ڈالتا ہوں۔ ہندوستان میں کئی اخبارات ایسے ہیں جن کی عمر دو سو سال سے زائد ہو چکی ہے۔ جہاں ”ٹائمز آف انڈیا“ اور ”ہندوستان ٹائمز“ پاپولر جرنلزم کے سر خیل ہیں وہاں ”دی ہندو“ ، ”دی سٹیٹسمین“ ، اور ”دی انڈین ایکسپریس“ جیسے اخبارات سنجیدہ اور معیاری جرنلزم کے استعارے ہیں۔

”انڈیا ٹوڈے“ اور ”نیوز 18“ نے کلکتہ والے واقعہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی حاصل کی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ ڈاکٹر کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مقتولہ کی آنکھوں، چہرے، سر، بازو، ہاتھوں، ہونٹوں، ٹھوڑی، پیٹ اور شرمگاہ پر زخم پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مقتولہ کے جنسی عضو کے اندر بھی زخم تھا جو Perverted Sexuality کی عکاسی کرتا ہے۔ یعنی مقتولہ کے اندر کوئی لوہے یا لکڑی کا آلہ ٹھونسا گیا۔ اگرچہ یہ درندگی بھی ایک انتہائی درندگی ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گلے کی ہڈی کے علاوہ مقتولہ کے جسم کی کوئی اور ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق کلکتہ کی اس زیرِ تربیت ڈاکٹر کا سر فرش یا دیوار کے ساتھ پٹخا گیا اور بعد میں گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا۔ گلہ دبانے سے ہی گلے کی ہڈی ٹوٹی۔

رہی بات مقتولہ کے اندر سے 150 گرام سیمن ملنے کی تو اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ 150 گرام وزن سیمن کا نہیں بلکہ تولیدی اعضا کا تھا۔ مقتولہ کے ساتھ یہ جنسی درندگی کرنے والا ایک درندہ تھا یا ایک سے زیادہ درندے تھے اس بات کا تعین ڈی این اے کی رپورٹ سے ہی ممکن ہے جس کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے لیکن فیس بکی مخلوق نے اپنی اپنی وال پر کلکتہ والے سانحے کا خود ہی ڈی این اے کر کے یہ بتا دیا کہ کلکتہ کی اس زیرِ تربیت ڈاکٹر کو اس وحشیانہ درندگی کا نشانہ بنانے والے آٹھ دس درندے تھے۔

خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پوری دنیا میں ہی ہوتے ہیں اور ساؤتھ افریقہ اس گھناؤنے جرم میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ مہذب ممالک میں ریپ کی تعریف بھی پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور اسلامی ممالک سے مختلف ہے۔ مثلاً یورپی ممالک میں اگر بیوی کی مرضی شامل نہ ہو تو خاوند کا جنسی عمل بھی ریپ ہی تصور ہو گا۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر تین عورتوں میں سے ایک عورت جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہے۔ ہمارے خطے میں بھارت اور پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کا سلسلہ ہر سال بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ ہمارا موازنہ تو بنتا ہی نہیں کہ بھارت کی آبادی ایک ارب پینتالیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور بھارت کا کل رقبہ بتیس لاکھ ستاسی ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ بھارت کی اٹھائیس ریاستیں اور چھ یونین ٹیریٹریز ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بھارت کے چونتیس صوبے ہیں۔

پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ اور رقبہ آٹھ لاکھ اکیاسی ہزار نو سو تیرہ مربع کلو میٹر ہے۔ یعنی آبادی کے لحاظ سے اگر پاکستان جتنے چھ اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان جتنے چار ملک ہوں تو ایک بھارت بنتا ہے۔ بھارت میں ہر سال تیس ہزار جبکہ پاکستان میں ہر سال چھ ہزار عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے۔ اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو جنسی درندگی کے اس کھیل میں ہم بھارت سے آگے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں اگر کسی عورت کے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی میڈیا میں اجاگر ہو جائے تو پورا بھارت سڑکوں پر امڈ آتا ہے لیکن ”پاک سر زمین“ پر کسی عورت پر چاہے جتنی بڑی قیامت ٹوٹ جائے ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ جو چند لوگ سڑک پر نکلیں ہم انہیں موم بتی مافیا کا خطاب دے دیتے ہیں۔

16 دسمبر 2012 کو دہلی کی ایک بس میں ایک طالبہ جیوتی سنگھ کے ساتھ چھ درندوں نے جنسی درندگی کی۔ لوہے کے راڈ اندر ٹھونسے۔ پورا بھارت ہل گیا تھا۔ حکومت نے جیوتی سنگھ کو علاج کے لیے سنگھا پور بھیجا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔ جنسی درندے کیفرِکردار تک پہنچے۔ جیوتی سنگھ کی زندگی پر تین فلمیں بنیں۔ جب تک اس کے والد نے اجازت نہ دی تب تک میڈیا نے جیوتی سنگھ کا اصلی نام نہ لکھا اور ”نربھایا“ ( نڈر) ، ”امانت“ ، ”دامنی“ (روشنی) اور ”India’s Braveheart“ کے علامتی نام استعمال کیے۔ اب کلکتہ والے واقعہ پر بھی پورا بھارت سراپا احتجاج بنا ہوا ہے لیکن اس واقعہ میں درندگی کا شکار ہونے والی زیرِ تربیت ڈاکٹر کا نہ صرف اصلی نام بلکہ اس کی تصویر بھی موبائلی جنگجوؤں نے سوشل میڈیا کے چوراہے پر لٹکا دی ہے۔

Facebook Comments HS