جنسی استحصال


یک طرفہ محبت اور یک طرفہ نفرت کی طرح جنسی استحصال بھی یک طرفہ و دوطرفہ ہوتا ہے فرق اس میں یہ ہے کہ یک طرفہ میں استحصال ایک فریق کا ہوتا ہے جو عام طور پر اور زیادہ تر معاملات و حالات میں عورت ہوتی ہے۔ دوطرفہ میں استحصال فریقین میں سے کسی کا نہیں ہوتا، الٹا وہ مزے کرتے کراتے ہیں اور دور رس (معاشی و اختیاراتی) فائدے حاصل کرتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ یہاں لفظ ”استحصال“ کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟ کہیں اس طرح لفظ ’استحصال‘ کا ’استحصال‘ تو نہیں ہو رہا؟ قلم کار لفظ کے استعمال کی ذمہ داری اٹھانے اور قبول کرنے کا پابند ہے تو عرض ہے کہ ہمارے اطراف جو استحصالی نظام کام کر رہا ہے اس میں ”جنسی تعلقات“ بڑا کردار ادا کر رہے ہیں لہٰذا استحصال کی وہ قسم جس میں جنسی تعلقات کی کارفرمائی ہو ”جنسی استحصال“ کہلاتے ہیں (گویا جنس خود گریہ کناں ہے کہ اسے جس مقصد ِ عظیم یعنی نسل انسانی کی بقا کے لیے ودیعت کیا گیا تھا وہ ایک طرف اس سے زائد و ناجائز کام لے رہا ہے اور دوسری طرف اوور ٹائم لگا کر ساتھ معاشی مزے الگ اٹھا رہا ہے)۔

یک طرفہ جنسی استحصال جنسی بھوک کی حیوانی شکل ہے، یہ شکل جن جن شکلوں میں سامنے آتی ہے وہ الگ ہولناک داستانیں رکھتی ہیں۔ اس میں ایک فریق خود کو مجبور، لاچار اور بے بس پاتا ہے، اپنا آپ ’مردانہ‘ حالات کے سپرد کرتا ہے اور کوئی اٹکا ہوا مسئلہ سیدھا کر لیتا ہے بعد میں خواہ کڑھتا رہے اور دوسرے کو خود کو حالات کو گالیاں دیتا رہے۔ آج کل ملیا لم کی فلم انڈسٹری کی خبریں یک طرفہ جنسی استحصال کے خلاف ایک بڑی مثال اور بیداری کی لہر ہے۔ قانون پاکستان میں بھی بن گیا ہے ، قانون سازی بڑا قدم ہے لیکن قانونی راستہ اختیار کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی اور جو یہ راستہ اختیار کرتا ہے وہ نظیر ضرور بنتا ہے سنگ ِ میل نہیں، سنگِ میل اجتماعی آواز بنتی ہے جیسا کہ ملیا لم مولی وڈ میں ہو رہا ہے۔

دوطرفہ جنسی استحصال فریقین کی باہمی رضامندی سے خوشی خوشی ہوتا ہے، دونوں اپنے اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جان توڑ کوششیں کر رہے ہوتے ہیں، پھر دونوں اپنے اپنے مقاصد حاصل کرلیتے ہیں اور ٹاٹا بائے بائے کرتے ہیں اس ان کہے ان سنے ایفائے عہد کے ساتھ کہ اگر وقت نے دونوں کو پھر ملایا تو اسی طرح ضرور اور خوشی خوشی ملیں گے کہ خوشیوں بھرے رستے یہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر فریقین رضامند ہیں تو استحصال کس چڑیا کا ہوا؟

جواب یہ ہے کہ ہمارے اطراف جو نظام پھل پھول رہا ہے، جو فصل بوئی جا رہی ہے، جو کھیت لہلہا رہے ہیں، جو پیداوار بڑھ رہی ہے، اس کی بنیاد میں جو بیج بوئے گئے ہیں ان میں دو اہم بیج ”سیاسی و سیکسی“ کے ہیں ؛ تو استحصال کس کا ہوتا ہے؟ (ہنسیے گا نہیں، یہ میرا ذاتی خوف ہے، مجھے لگتا ہے کہ اب اخلاقیات محض مضحکہ اڑانے کے لیے رہ گئی ہیں) اخلاقیات اور شفافیت کا اور قتل ہوتا ہے میرٹ کا ۔

ایک صاحب ملے، وہ پاکستان ٹیلی وژن کے ماحول کے بارے میں اپنے مشاہدات پر مبنی پروڈیوسروں کا اور کہیں ان کی بیگموں کا نام لے کر پروڈیوسروں کے کمروں کو ان کی عین موجودگی میں بیک وقت دو پروڈیوسروں کی دائیں بائیں دو خواتین کے ساتھ مشغولیت کا تذکرہ کر رہے تھے، یہاں میں پہلے پریشان اور بعد میں الرٹ کہ مجھے کیا سوچ کر بتا رہے ہیں۔ شاید یوں ہے کہ شوبز کی دنیا میں ہر ایک سیڑھی پر کوئی ایک اپنا خراج وصول کرنے کے لیے موجود ہے۔ جو مضبوط سماجی پس منظر رکھتی ہوگی، جن کے والد والدہ پروڈیوسر یا فن کار ہوں گے ان کے لیے حالات مختلف ہوں گے لیکن شوقین خواتین کے لیے یکسر مختلف و برعکس و بدتر۔

اسی طرح ایک پی ایچ ڈی خاتون نے مجھ سے کہا کہ اگر کسی خاتون کے ساتھ بھی پی ایچ ڈی کرو تو وہ بھی ”بھیجتی ہے“، قطع نظر اس کے کہ میں انہیں جانتی ہوں اتنا کھلا اعتراف کہ میرا منہ اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ خوش شکل خواتین کے لیے اگر اچھی شکل استعمال کرنا چاہیں تو ہتھیار اور اگر نہ چاہیں تو مصیبت ہے، بقول شاعر عالم گیر خان کیف (بشکریہ ریختہ)

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

منٹو کے اپنے زرّیں خیالات و افکار کہ اس کے نزدیک عورت ہونا ہی کافی ہے۔ ہولناک خبروں کے مطابق زندہ کی بھی قید ختم۔

سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک یہ فطری و پیدائشی بھوک ہے جس کے مظاہر بچپن سے ہی آشکار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر اس فطرت کی تہذیب ہوئی اور تہذیب نے اقبال کے اس شعر کے مصداق کہ

بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہوسکا وہ تو کر

حقیقتاً وہ کام کیا جو فطرت سے نہ ہوسکا۔ مذہب نے اپنا کام کیا، اخلاقیات نے اپنا اور دونوں نے مل کر ۔ ”مذہبی اخلاقیات“ کے نام سے ”علمی و نظریاتی“ سطح پر مشترکہ کام بھی کیا لیکن عملی سطح پر طور پر وہ (آدمی) حالیہ معروف و بد نام ’طاغوت‘ ہی ثابت ہوا، ”آدمی“ یعنی آدم کی اولاد، اس میں مردو زن دونوں شامل ہیں۔

لفظ جس تصور کو پیش کرتا ہے، بظاہر مہین لیکن فی الواقع واضح فرق کے ساتھ ؛ مثلاً بے باکی اور بے ہودگی، صاف گو اور منہ پھٹ، مستقل مزاج اور ڈھیٹ، اسی طرح سچائی اور پردہ دری کا فرق۔ آدھا سچ جھوٹ کے برابر ہوتا ہے، اگر لکھو تو پورا سچ لکھو، یعنی وہ عہدے دار مرد کہ اگر اس کے پاس وہ عہدہ اور اختیار نہ ہوتا تو عورت اس کے پاس نہ آتی، تو عورت کے نام سے پہلے اس کا نام آنا چاہیے، یہ کہاں کا انصاف ہو گا کہ صرف عورت کا نام آ جائے؟ خدا بھلا کرے معروف سینئر صحافی حمیرا اطہر کا کہ خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے شعبے میں منعقدہ ایک سیمینار میں انہوں نے کہا کہ میں نے خبر کو اس طور پر لکھنے پر اعتراض کیا کہ ”لڑکی اپنے آشنا کے ساتھ فرار“ ، جب کہ بھاگے دونوں ہیں۔ ”

دو طرفہ عمل میں بدنامی عورت کا مقدر کیوں جب کہ معاشرہ مردوں کا ؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسی گورنر کے لیے فرمایا جو تحائف وصول کر رہے تھے کہ ”وہ گھر میں بیٹھیں پھر دیکھیں کہ انہیں کتنے تحائف وصول ہوتے ہیں ’۔‘ ۔ تحائف کی یہ بارشیں عہدے کے سبب ہیں۔ استحصال عہدے کا نا جائز و غیر قانونی استعمال ہے، استحصال ’میرٹ‘ کا اپنا کام نکلوانے کے لیے خود کو پیش کرنا اور اس پیش کش کو قبول کرنا ہے۔ بل کلنٹن جنسی اسکینڈل اس کے عہدے کی وجہ سے بڑا مقدمہ تھا اور ملیالم مولی وڈ اسکینڈل اجتماعی آواز کی وجہ سے بڑا مقدمہ بنا ہے، می ٹو ایک بڑی تحریک بنی یہاں خود کو پیش کرنا بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا یک طرفہ جنسی استحصال میں، دو طرفہ جنسی استحصال میں کسی اعتراف کا کوئی سوال نہیں، لیکن سوال تو بنتا ہے۔

Facebook Comments HS