”درختی گھر“ کے افسانے : ایک تاثر


عکس پبلی کیشنز کے محمد فہد نے گزشتہ ماہ انیس احمد کا ناول ”نکا“ ارسال کیا تو اس کے ہمراہ عبدالوحید کے افسانوں کا مجموعہ ”درختی گھر“ بھی بطور تحفہ ارسال کیا۔ زندگی کی مصروفیات میں ایسا کھویا کہ اس کا مطالعہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ عبدالوحید سے اس پہلے میں اس حد تک واقف تھا کہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے طویل عرصے صدر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ میری ان سے واقفیت نہیں۔ یہ تو بھلا ہو محمد فہد کا جنھوں نے ان کے افسانوں کی پڑھت کا موقع فراہم کیا۔ درختی گھر کی اشاعت سے پہلے ان کے افسانوں کا مجموعہ ”قبل از مسیح“ بھی شائع ہو چکا ہے۔ فکشن سے دلچسپی رکھنے کے باوجود وہ میری نظروں سے اوجھل رہا ہے جس کا ذمہ دار میں اپنی سستی اور کاہلی کو ٹھہراتا ہوں۔ درختی گھر کے افسانوں میں مذہب، جنس، سیاست اور سماجی ناہمواری نمایاں موضوعات ہیں۔ پندرہ افسانوں پر مشتمل اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ اس پہ کہیں کسی نقاد کے رائے سے اپنا قد بڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی دیباچہ رقم کر کے قاری کی تفہیم کو کوئی خاص سمت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ کہیں پہ افسانہ نگار کا تعارف تک موجود نہیں لیکن اس کے باوجود قاری جب کتاب کو ایک بار پڑھنا شروع کر دیتا ہے تو پھر اسے مکمل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مذکورہ افسانوی مجموعے کا نمایندہ اور پہلا افسانہ ”درختی گھر“ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے جس میں رئیل سٹیٹ کے کاروبار کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جو صورتِ حال موجود ہے اس میں ہر چھوٹا بڑا شہر نواحی آبادیوں کو ہڑپ کرتا جا رہا ہے جس سے زراعت، ماحولیات اور معیشت کو تو نقصان پہنچ ہی رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صنعت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عام سی بات ہے کہ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری اگر صنعت کے بجائے پراپرٹی میں ہو رہی ہو تو اس سے ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ درآمدات بڑھ جاتی ہیں۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ گھر میں دروازے کی چٹخنی تک بیرون ملک میں بنتی ہے اور ہم محض اس کے صارف ہوتے ہیں۔ لوگ زندگی بھر کی کمائی ایک چھت کے لیے خرچ کر دیتے ہیں اور باقی ضروریاتِ زندگی محض ان کا خواب بن کر رہ جاتی ہیں۔ اس افسانے میں ملک فیاض کے کردار کے ذریعے اسی صورتِ حال کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں اس کا ایک پلاٹ فروخت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ایک کسان یا مزدور کے خاندان کا مستقبل بھی فروخت ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے افسانے کا اقتباس دیکھیے :

” زندگی ٹھیک چل رہی تھی لیکن یکا یک اس کے شوہر نے قسطوں پر پلاٹ کیا لیا جیسے زندگی اندھے کنویں میں جا پڑی، پلاٹ کی ڈاؤن پیمنٹ میں اس کا زیور گیا اور دو ہی مہینوں میں اس کے بچے اس کال کوٹھڑی میں آ پڑے۔ تین سال سے وہ اس گھر میں قید کاٹ رہی تھی“ ( ص: 17 )

مذکورہ افسانے میں ملک فیاض کا کردار، ہمارے سماج کے کئی حقیقی کرداروں سے کتنی مماثلت رکھتا ہے جہاں عوام سے لوٹے گئے پیسوں سے خیراتی کام بھی ہو رہے ہوتے ہیں اور ملک کی با اثر ہستیوں کو تحائف کی صورت میں مزید زمینیں ہتھیانے کے لئے رشوت بھی دی جا رہی ہوتی ہے۔

اس کتاب کا افسانہ ”تہوار مرتے نہیں“ لاہور شہر کی ثقافتی سرگرمیوں کو موضوع بناتا ہے۔ اس افسانے میں بسنت کے تہوار کو بطورِ خاص موضوع بنایا گیا ہے جس پر اب حکومت نے پابندی عائد کر دی ہے۔ ہمیشہ سے بسنت کا تہوار لاہور شہر کا تخصص رہا ہے جیسے لکھنو کی ثقافتی سرگرمیوں میں شاعری کو مرکزی اہمیت حاصل تھی بالکل ایسے ہی پرانے لاہور کے باسیوں کے لیے پتنگ بازی محبوبہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی پوری لغت تھی اور پیچ لڑانے کے جو قواعد و ضوابط ہیں وہ شاعری کی بوطیقا سے کم نہیں تھے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہری اس تہوار کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے لاہور کا رخ کیا کرتے تھے۔ مذکورہ افسانے کا مرکزی کردار بھی فرانس میں مقیم ہے جو اپنے دوستوں سمیت بسنت منانے کے لیے لاہور آیا کرتا تھا لیکن جب سے اس تہوار پر پابندی عائد ہوئی، اسے لاہور سے اب وہ دلچسپی نہیں رہی جو کچھ سال پہلے تھی۔

افسانہ ”جیکب کی نسل“ بھی ایک دلچسپ افسانہ ہے جس میں ہمارے سماج میں موجود اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور اس پر ان کا نفسیاتی ردِ عمل، ”بابے“ کے کردار کے توسل سے بیان کیا گیا ہے۔ افسانہ ”بوڑھی بہنیں“ میں بڑھاپے کی کیفیات اور مشکلات کو ماں اور خالہ کے کرداروں کے ذریعے خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ ”بابا رحمتا“ انصاف جیسے سماجی موضوع کو بیان کرتا ہے جس میں رحمتے کے کردار کے ذریعے چودھری جیسے ظالم کردار کو راستے سے ہٹایا جاتا ہے لیکن رحمتا انصاف میں اتنا سخت ہوجاتا ہے کہ لوگوں کو رحمتے سے وہی شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں جو کچھ عرصہ قبل چودھری سے تھیں۔ اس میں باؤ کافر کے کردار کو دانش مند اور تعلیم یافتہ دکھایا گیا ہے جو چیزوں کو مابعد الطبیعیاتی پس منظر کے بجائے حقیقی اور مادی تناظرات میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بابا رحمتا گاہے گاہے باؤ کافر سے مشورے طلب کرتا ہے کہ سماج میں تبدیلی لانے کے بعد اسے کیسے چلایا جائے مگر اُسے باؤ کافر کی بہت کم باتیں سمجھ آتی ہیں۔ افسانہ نگار افسانے کے آخر پر قاری کے لیے پیغام چھوڑتا ہے جو معنی خیز بھی ہے اور اسے سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔ ”بابا تو جرم سے پہلے انصاف کرتا ہے۔ جرم کے بعد کیا گیا انصاف تو بس بدلہ لینا ہوتا ہے، چاہے مظلوم خود لے یا منصف کو آگے کر دے“ مجموعے میں شامل افسانہ ”بھاری پتھر“ میں ماں اور بیٹی کے مابین مکالمے سے کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے جس میں مرد کے ذہنی امراض اور نفسیاتی کیفیات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جو اسے خود کشی کے مقام تک لے جاتی ہیں۔ عورت اگر مرد کے لاشعور کو سمجھ لے اور اس کے موافق برتاؤ کرے تو اس قسم کے مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔

عبدالوحید کے افسانوں کا ایک اہم موضوع مذہبی انتہا پسندی ہے جسے انھوں نے ”ابوجہل“ ، ”میرے بچے واپس کردو“ اور ”بیری اور تبوک“ جیسے افسانوں میں قاری کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ شدت پسند افراد دنیا کے تقریباً تمام معاشروں میں پائے جاتے ہیں۔ تشویش ناک صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ افراد معاشرے اور ریاست کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ پچھلے کئی سال سے اس عفریت کا شکار ہے اس نے نہ صرف ریاست بلکہ پاکستانی معاشرے میں موجود رواداری، تحمل اور برداشت پر گہرے زخم لگائے ہیں بلکہ ملکی سیاست میں بھی تبدیلی کا باعث بنا ہے۔ عبدالوحید نے اس دکھ کو محسوس کیا ہے اور ادیب کی حیثیت سے سماجی ذمہ داری نبھانے کا جتن کیا ہے۔ انھوں نے ان افسانوں میں جو کردار گھڑے ہیں ان میں ایک شدت پسند ملا اور اعتدال پسند مولوی کا کردار ہے جو ثنوی تضاد کی شکل میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ کون بہتر ہے اس کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا ہے۔

جنس ہمارے سماج میں ہمیشہ سے متنازع موضوع رہا ہے اردو کے کئی افسانہ نگاروں نے اس کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے جس میں سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، عزیز احمد، ممتاز مفتی اور واجدہ تبسم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ جنسی موضوعات کے باعث ان کو معتوب بھی ٹھہرایا گیا لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے کسی تخلیق کار میں یہ جرات پیدا نہیں ہو سکی کہ وہ جنس کی لذت اور تخلیقیت کو ایک دوسرے سے وابستہ کر کے پیش کر سکے۔ معروف نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ نے تو ہر قسم کے آرٹ اور ادب کو جنس کا مرہونِ منت خیال کیا ہے۔ عبدالوحید یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنس کی فلسفیانہ حقیقت اور اس کے جلال و جمال سے واقف ہیں، اس لیے انھوں نے اس سے گریز کرنے کے بجائے، اسے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ اس موقع پر ڈی ایچ لارنس کی اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ شعلہ اور آگ کی طرح جنس اور حسن ایک ہی چیز ہے اس لیے حسن سے پیار کرنے کے لیے جنس کا احترام لازمی ہے۔ عبدالوحید نے اس ضمن میں جو اسلوب اختیار کیا ہے اس میں تخریب یا درندگی کے جذبات نہیں ابھرتے۔ ان کے افسانے ”گومگو کوکھ اور بیج“ اور ”لولی لنگڑی بے چینی“ اس حوالے سے اہم ہیں۔ ”ایک اختیاری وجود“ میں انھوں نے چاند کے کردار کے ذریعے ہم جنس پرستی جیسے حساس موضوع کو بھی چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے جنسیت کو بڑی مہارت سے متنیت میں سمویا ہے۔ ان کے افسانے ”گومگو کوکھ اور بیج“ سے ایک اقتباس دیکھیے :

”تمھیں پتا ہے جنسی زندگی میں کنفیوژن کا دوسرا نام Condom ہے جس کا ہر بندہ عجیب عجیب طرح سے شکار ہوتا ہے۔ ایک ڈبی جو شروع میں بندہ میڈیکل سٹور سے شرماتے شرماتے لیتا ہے، وہ بعد میں مذاق ہی مذاق میں ایک ڈبہ بھی لے لیتا ہے اور پھر ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ بندہ جان بوجھ کر اس خریداری کو بھولنے لگتا ہے۔“ (ص: 95 )

جنس کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے جس کے باعث دنیا کے ہر اچھے ادیب نے اسے موضوع بنایا ہے۔ عالمی سطح پر ڈی ایچ لارنس، کینتھ واکر اور ہیولاک ایلس نے اس حوالے سے خاص شہرت حاصل کی۔ ہیولاک ایلس تو اسے زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی خیال کرتی ہیں۔ کلاسیکی عربی ادب اور سنسکرت شاعری میں اس کے بے شمار نمونے موجود ہیں جن پر بات کی جائے تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ عبدالوحید کی یہ خاص بات ہے کہ انھوں نے جنس کا یہ تصور کہیں سے برآمد نہیں کیا بلکہ ہمارے معاشرے میں موجود جنسی اور جذباتی رجحانات سے کشید کیا ہے۔

”تصویر والی رات“ اور "قہقہے اور قے ”میں انھوں نے پاکستانی سیاست میں خفیہ اداروں کے عمل دخل کی قلعی کھولنے کی جرات کی ہے جنھوں نے جمہوری عمل کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اسے طاقتور ہونے میں خاصا وقت لگے گا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان میں ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کی عوام کے زور سے اقتدار حاصل کرنے کے بجائے خفیہ اداروں کی طاقت سے اقتدار حاصل کرنا ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتوں کی طاقت ان کا منشور نہیں بلکہ اس میں موجود سیاسی شخصیات ہیں جن کے بل بوتے پر وہ نام نہاد جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں مگن ہیں۔

عبدالوحید کے افسانے عمدہ اور منجھے ہوئے فنکار کی تخلیق ہیں جن میں افسانے کے فنی خصائص کو ملحوظِ خاطر رکھنے کے ساتھ ساتھ، افسانہ نگار نے اس میں موجود مواد کے توسل سے معاشرتی رویوں اور جدید سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی صورتِ کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہیئت، اسلوب اور مواد کی ہم آہنگی نے انھیں ان افسانوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جو اردو کے عمدہ افسانے شمار ہوتے ہیں۔ ”درختی گھر“ کے بعد عبدالوحید کے مزید افسانوں کا انتظار رہے گا۔

Facebook Comments HS