قرطاس پہ دستک
پتا ہی نہیں چلا کب ہم کواڈرینگل سے نکلے اور ڈائی سیکشن ہال میں داخل ہو گئے۔ یہی وہ دبدھا تھی جسے میں کبھی سلجھا نہ پایا۔ سنگ مرمر کی سلیبوں پر لیٹی ہوئی ڈیڈ باڈیاں میرا منہ چڑاتی تھیں۔ میں نے کئی بار سکیلپل اٹھایا، لیکن جونہی میں کٹ لگانے کی کوشش کرتا، میرے اعصاب جھنجھنا اٹھتے۔ میں نے بیسیوں مرتبہ ڈائی سیکشن کا ارادہ کیا، مگر ہر بار میرے اندر کے شاعر نے میرے اندر کے مسیحا کو مات دے دی!
ڈائی سیکشن ہال کے بالکل سامنے ایک نہایت حسین و جمیل روزی گارڈن ہے، جس میں انواع و اقسام کے پھول کھلتے ہیں۔ میں نے متعدد بار اِن کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ پھر ایک روز مجھے وہ کوریڈور دکھائی دیا، جو انہیں آپس میں ملاتا تھا۔ تب کہیں جا کر اندازہ ہوا کہ یہ زندگی اور موت کا نقطۂ اتصال تھا، اور ہم سب اِس اٹوٹ بندھن کی ناجائز اولاد!
اچانک ہمارے قدموں کی رفتار تیز ہو گئی اور ہم اِس ازلی سوال سے نظریں چراتے، مصطفیٰ کمال پاشا آڈیٹوریم کے وسیع و عریض لاؤنج میں داخل ہو گئے، جہاں انس فرید اور اس کے ساتھیوں نے نہایت گرمجوشی سے ہمیں ریسیو کیا۔ یہاں ایک جشن کا سا سماں تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہم راستہ بھٹک کر کسی آرٹ گیلری میں آ گئے ہوں۔ ہر طرف تخلیقی خیالات کا دور دورہ تھا۔ کہیں بلائنڈ بک ڈیٹ چل رہی تھی، تو کہیں بلیک آؤٹ فکشن اور پوئٹری کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ایک دیوار پر ’چند تصویرِ بُتاں‘ دکھائی دیں، مگر ”حسینوں کے خطوط“ غائب تھے۔ میں نے مصور کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو قلندرِ دوراں، جناب شہیر پوکی نے بتایا کہ یہ سب عادل عزیز نامی ایک بھلے مانس کی کارستانی ہے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ عادل ایک ہمہ جہت فنکار، اور نشتر آرٹس اینڈ فوٹوگرافک سوسائٹی کا صدر ہے!
ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ جس بھی سٹال پر جائیں، اُسے خوب اچھی طرح سے پھرول لیں۔ اِس دوران ایک سفید چارٹ دکھائی دیا، جس پر ہماری کتابوں کے نام درج تھے۔ میں ”نرکھ میں نرتکی“ کو جلی حروف میں لکھا دیکھ کر مسکرایا تو اچانک کچھ پردہ دار بیبیوں نے دھاوا بول دیا اور ہم سے شاعرانہ کسوٹیاں حل کروانے لگیں۔ شکیب بھائی نے پہلے ہی ہلے میں ساٹھ فی صد اشعار بوجھ لیے۔ باقی کا کام لیاقت علی نے کر دیا۔ میں اور عاقب قریشی بغلیں جھانکتے رہ گئے!
وقت اتنی تیزی سے گزرا کہ پتا ہی نہیں چلا، کب گھڑی کے کانٹوں نے بارہ کا نفسیاتی ہندسہ عبور کر لیا۔ انس فرید چاہتا تھا کہ تقریب کا آغاز کیا جائے، جبکہ ہم ابھی سٹالز کی رونق بڑھانے پر بہ ضد تھے۔ مجبوراً ٹاس کرنا پڑا۔ ہم نے ’ہیڈ‘ مانگا اور منہ کی کھائی۔ اس نے ’ٹیل‘ کہا اور سرفراز ہوا! میں بہادر تھا لیکن ہارے ہوئے لشکر میں تھا!
جونہی ہم مین آڈیٹوریم میں داخل ہوئے اور اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھے، انس نے بھاگ کر مائیک سنبھال لیا اور صدارتی خطبہ دینے لگا۔ اس نے بتایا کہ بارہ بج کر بارہ منٹ ہوئے ہیں اور ہال میں بھی بارہ ہی لوگ موجود ہیں، جو بلاشبہ ایک غیر معمولی اتفاق ہے۔ شکیب بھائی نے انکشاف کیا کہ آخری بار یہ محیر العقول واقعہ ہونولولو کے مقام پر پیش آیا تھا۔ عاقب قریشی نے فوراً چیٹ جی پی ٹی کھولی اور ان کے موقف کی تائید کی۔ ساحر شفیق کا کہنا تھا کہ ان کے اصل مخاطب وہ خود ہیں، لہٰذا سامعین بارہ ہوں یا بارہ ہزار، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیاقت علی نے واضح کیا ادب اور میلے میں فرق ہوتا ہے۔ خرم شہزاد کا خیال تھا کہ اگر اس معاملے کو درست جزئیات کے ساتھ سمجھنا ہے تو فوکو کے طاقت اساس فلسفے سے معاونت لی جائے! اِس سے پہلے کہ میں جھنجھلا کر واک آؤٹ کر جاتا، میری نظر فرحان جمیل ہاشمی پر جا پڑی۔ میں ایک دم ٹھٹھک گیا۔ کیا یہ وہی فرحان جمیل ہاشمی تھا جو مجھ سے ایک سال جونئیر تھا، یا میری ڈھلتی ہوئی نظر کو دھوکا ہو رہا تھا؟ اس کی آنکھوں میں بھی شناسائی کی رمق لہرائی۔ ہم کافی بدل گئے تھے، مگر اتنے بِھی نہیں کہ ایک دوسرے کو پہچان نہ پاتے!
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم ”کیوپڈز“ کے نام سے معروف تھے، تاہم ہمیں ”سٹوپڈز“ کہنے اور سمجھنے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ اپنے تئیں ہم ’محبت کے دیوتا‘ تھے، لیکن ہماری شکلوں سے ٹپکتی ہوئی وحشت کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ کالج کی کوئی ایک بھی لڑکی ہمیں منہ لگانے پر تیار نہ ہوئی۔ اِس دوران ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم بھی چلائی گئی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہم پینڈو اور غلیظ ہی نہیں، جھوٹے اور مکار بھی ہیں۔ آصف نور کے بارے میں تو یہاں تک مشہور کر دیا گیا کہ وہ شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہونے کے باوجود کلاس کی ہر لڑکی کو دیکھ کر رال ٹپکاتا ہے، جبکہ ہم اس بات کا حلف دے سکتے تھے کہ پہلی دونوں باتیں سراسر جھوٹ ہِیں۔ قریب تھا کہ ہماری ذلت کی کہانیاں کالج سے نکل کر پورے شہر میں پھیل جاتیں، قسمت کی دیوی کو ہم پر رحم آ گیا۔ اس نے ہماری لُٹی پُٹی عزت کی رکھوالی کے لیے ایک جونئیر کلاس بھیج دی، جو ہم سے ایک گرینڈ ویلکم پارٹی کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتی تھی۔ مسئلہ مگر یہ تھا کہ ہماری کلاس ہمارا بائیکاٹ کر چکی تھی، اور اُُن کی مالی شمولیت کے بغیر اڑھائی سو افراد کے لیے فنکشن کا انعقاد پہاڑ اٹھانے کے مترادف تھا۔ ایک جانب غربت کا مینارِ پاکستان تھا اور دوسری جانب عزت کا جنازہ۔ آخرکار ہم نے اپنے شریف النفس والدین سے ایک سال کا ایڈوانس جیب خرچ لے کر بہ مشکل عزت بچائی۔ اس دوران ہم نے ایک شارٹ فلم بھی بنائی جس کے ہیرو میں اور ساجد اختر تھے، جبکہ ہیروئن کا رول فرحان جمیل ہاشمی نے سر انجام دیا۔ بعد وہ دن بھی آئے، جب ہمیں لڑکی کا رول پرفارم کرنے کے لیے سچ مچ کی لڑکیاں دستیاب تھیں، مگر فرحان مجھے اس لیے بے حد عزیز رہا کہ وہ میری زندگی کی پہلی ہیروئن تھا!
فرحان جمیل ہاشمی سے رخصت چاہی اور ہال کا طائرانہ جائزہ لیا تو کہانی بدل چکی تھی۔ نہ صرف یہ کہ حاضرین کی تعداد بارہ سے بڑھ کر ایک سو بیس ہو گئی تھی، بلکہ ان کا جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔ اسی اثناء میں پینل ڈسکشن شروع ہو گئی، جس کا عنوان ”اختلاف رائے میں عدم برداشت“ تھا اور اِسے انس فرید ماڈریٹ کر رہا تھا۔ لیاقت بلوچ، راشد کوثر، لائبہ ممتاز اور منتقا فیاض نے بہت تحمل سے ایک دوسرے کی بات سنی۔ ان کی مدلل گفتگو اور متوازن دلائل سن کر کافی حیرانی ہوئی۔ وہ چاروں اہلِ نظر ہی نہیں، اہلِ مطالعہ بھی تھے۔ ایک ہمارا دور تھا کہ جب کتابوں کی فہرست میں ”آئی ڈونٹ لائیک بکس“ لکھ کر کالر اکڑائے جاتے تھے، اور غیر نصابی کتابیں پڑھنے والوں کو خبطی سمجھا جاتا تھا۔ اختلافِ رائے کو انکارِ ذات نہ سمجھنے کی بات ہوئی تو مجھے وہ تمام گھمسان کے رن اور تاریخی لڑائیاں یاد آئیں، جو ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوئی تھیں۔ ایک بار تو یہ بِھی ہوا کہ سٹوڈنٹس نے ایک دوسرے کی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں جلا دیں۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم مناظرے کے دور میں پیدا ہوئے، ہمیں مکالمہ نصیب نہ ہو پایا!
اگلی پینل ڈسکشن کا عنوان ”مرڈر آف ہسٹری ان پاکستانی لٹریچر“ تھا جس کی نظامت پیرِ فرتوت، جناب عاقب قریشی نے کی۔ میڈم عذرا، لیاقت علی، خرم شہزاد، ساقی حسن اور راقم الحروف کا مشترکہ خیال تھا کہ ہمیں جان بوجھ کر جاہل اور پسماندہ رکھا گیا تاکہ ہم کسی مثبت سماجی تبدیلی کا حصہ نہ بن پائیں۔ فزیالوجی کے استاد، ڈاکٹر ساقی حسن کی شعلہ بار مگر خرد افروز گفتگو سن کر دِلی مسرت ہوئی۔ یہ اندازہ بھی ہوا کہ آج کا نشتر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ایسے گنتی بھر استاد بھی موجود ہوں تو تبدیلی کا امکان باقی رہتا ہے۔ ورنہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے ہی!
ساحر شفیق نے کہا ہم ایک غلام زندگی کے جہنم میں قید ہیں، جہاں ادب کے نام پر خوشامد، اور تاریخ کے نام پر گالی سکھائی گئی۔ ان کا خیال تھا ہم زومبیز کے عہد میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ ہائیکو اور نثری نظمیں سنائیں اور ڈائس سے نیچے اُتر آئے، مگر اسی اثناء میں چیونٹیوں کا ایک گروہ ان کی کچھ آزاد نظموں کو اپنی پشت پر بِٹھا کر لے آیا۔ وہ چاہتے تو ہمیں ”بے چارا سٹیفن“ اور ”تپسیا“ بھی سنا سکتے تھا، لیکن ہماری خوش نصیبی کہ انہوں نے ”جپسم“ کا انتخاب کیا۔ باقی لوگوں کے تاثرات کا تو علم نہیں، مگر اِس ایک نظم کو سنتے ہوئے مجھے کئی بار گوزبمپس محسوس ہوئے۔ خود عاقب قریشی نے بھی کم و بیش اسی کیفیت کا اظہار کیا۔ میں نے وجہ دریافت کی تو کہنے لگا یہ ہر اِس آدمی کی نظم ہے جسے محبت کے اظہار میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے ایک دم فلمسٹار ننھا یاد آ گیا، جو نازلی سے دیوانہ وار محبت کرتا تھا، مگر کبھی اِس کا اظہار نہ کر پایا، یہاں تک کہ ایک روز اس نے اپنی کنپٹی پر پستول رکھا اور گولی چلا دی!
ایک دم خون کے چھینٹے اُڑے اور میرا چہرہ گلنار ہو گیا! شاید میرے اندر کی بلائیں بیدار ہو رہی ہیں! ایک بوڑھے آدمی نے میری کمر پر لات رسید کی اور میں کیچڑ کے تالاب میں جا گرا! نیولوں کا ایک گروہ میری بو سونگھتا پھر رہا ہے! جیسے ہی وہ میرے قریب آئیں گے، میں اپنی شلوار کے نیفے میں چھپ جاؤں گا، اور تب تک چھپا رہوں گا جب تک میری ٹانگیں میرے قد سے بڑی نہیں ہو جاتیں! اِس سے پہلے کہ مجھے سٹیج پر بلایا جائے، مجھے اپنے اندر کی بلاؤں سے لڑنا ہو گا! ایک بھوری آنکھوں والی گڑیا کدکڑے لگاتی ہوئی آئی اور میری گود میں لیٹ گئی! جونہی میں اس کے ماتھے پر بوسہ دینے کے لیے جھکوں گا، وہ اپنی بغل سے چھری نکالے گی اور میری شہ رگ کاٹ ڈالے گی! اب تک یہ سینکڑوں بار ہو چکا ہے، مگر شہ رگ کٹنے کا خوف مجھے بوسے کی لذت سے محروم نہیں رکھ سکتا! میں سراسیمگی کے آسیب کو اپنی حصے کی روشنی اور امید نہیں چھیننے دوں گا! میں اپنی ہر سانس کا استعمال خود کروں گا، چاہے وہ کتنی ہی حقیر اور معمولی کیوں نہ ہو! میں کیچڑ کے تالاب میں کنول کے پھول اگاؤں گا، اور ایک روز خود بھی ویسا ہی ایک پھول بن کر اُسی تالاب میں سما جاؤں گا!
میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا سٹیج پر نمودار ہوتا ہوں! بیچ میں انیس سالوں کا وقفہ ہے، اور سنانے کے لیے ہزارہا کہانیاں! کیوں ناں وہیں سے شروع کریں جہاں پر کہانی کا اختتام ہوا تھا؟

