کردار و رویے کی خرابی/ کنڈکٹ ڈس آرڈر
اویس کے والد فوج میں تھے جب کہ وہ اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ اس بچے کی پیدائشی طور پر پیشانی باہر کو نکلی ہوئی تھی، جس کو آپریشن کے ذریعے ٹھیک کرنے کی کوشش تو کی گئی لیکن کافی حد تک نقص برقرار رہا۔
بعد کے دنوں میں جب وہ بڑا ہوا تو دیکھا گیا کہ اس میں نافرمانی کا عنصر بہت زیادہ تھا۔ وہ ایک بگڑا ہوا بچہ تھا۔ اس نے بہت جلد ہی سکول کی تعلیم چھوڑ دی۔
اپنی ماں کو وہ ہر طریقے سے ستاتا تھا اور تقریباً ہر چھوٹی بڑی بات میں وہ بہت بحث کا عادی تھا۔ اسکول تو وہ چھوڑ ہی چکا تھا اس لیے زیادہ تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکا۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ اس کا اپنے گاؤں کے برے افراد کے ساتھ میل جول ہو گیا جو کہ جرائم پیشہ تھے یا نشہ آور اشیا استعمال کرتے تھے۔ اب اس نے اپنے ماں باپ کے خلاف جانا شروع کر دیا اور اپنے گھر والوں کو بہت تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے باپ نے اس کو کئی دفعہ سزا بھی دی اور گھر سے بھی نکال دیا مگر بہت زیادہ مار پیٹ اور گھر سے نکالنے کی وجہ سے اس کے اندر ایک بغاوت پیدا ہو گئی۔
اس کے ماں باپ نے اس کی شادی کر دی، محض یہ سوچ کر کہ شاید شادی کے بعد وہ کچھ ذمہ دار انسان بن جائے گا۔ مگر تین بچے ہو جانے کے بعد بھی اس نے اپنے بیوی بچوں کو پالنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس کے اس رویے کی وجہ سے اس کے بچوں کے اندر احساس کمتری عود کر آیا اور ان کا گھر ایک بروکن فیملی کی صورت اختیار کر گیا۔ ان تمام عوامل نے مل کر اس کو ایک کمپلیکس شخصیت میں بدل دیا اور اس نے بڑھاپے تک خود کو درست کرنے کی زحمت نہیں کی۔ درحقیقت اس انسان کو کنڈکٹ ڈس آرڈر تھا جس کو کسی ماہر نفسیات سے مل کر بروقت تشخیص اور کونسلنگ کے ساتھ بہتر کیا جا سکتا تھا۔
انسان کے رویے اور کردار کی خرابی عموماً اس کے بچپن اور خاص طور پہ دور بلوغت سے شروع ہو جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے کے کچھ لوگ اخلاقیات اور قوانین کے تابع نہیں ہوتے اور وہ معاشرے میں مسائل پیدا کرتے ہیں، ایسے لوگ عموماً اینٹی سوشل ہوتے ہیں۔ کنڈکٹ ڈس آرڈر کے حامل لوگوں کے کردار میں جو جھول ہمیں نظر آتے ہیں ان میں عموماً جھگڑا، اشتعال انگیزی، غصہ، لالچ، دھوکہ، منافقت، دوسروں کے حقوق غصب کرنا ہیں۔
دوران تعلیم بھی ایسے بچوں سے ہمیں واسطہ پڑتا ہے کہ جو اپنی کلاس میں دوسرے بچوں کو بلی/bully کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں، ان سے چیزیں چھین لیتے ہیں، ان کے لنچ کھا جاتے ہیں، ان کو تنگ کرتے ہیں۔ اگر ان کی اصلاح نہ کی جائے تو یہ عادات پختہ ہو کر کنڈکٹ ڈس آرڈر میں بدل جاتی ہیں۔ کنڈکٹ ڈس آرڈر میں مبتلا بچے اور انسان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور ان کا یہ گمان ہوتا ہے شاید تمام لوگ ہی ان کے ساتھ برے ہیں اور کوئی بھی انسان ان ان کے حق میں اچھا نہیں ہے۔ اسی وجہ سے دوسروں کے لیے ان کا رویہ اکثر بہت زیادہ غصیلا اور دھمکی آمیز ہوتا ہے۔
کنڈکٹ ڈس آرڈر کی تین قسمیں ہوتی ہیں :
* پہلی قسم جو بچپن میں 10 سال سے پہلے ظاہر ہو جائے۔
* دوسری قسم دور بلوغت یا ٹین ایج میں ظاہر ہو۔
* تیسری قسم میں ذہنی بیماری اور منفی جذبات کے شروع ہونے کا صحیح وقت معلوم نہ ہو۔
کنڈکٹ ڈس آرڈر کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :
* بعض اوقات سر کے سامنے کی طرف پیشانی یا فرنٹل لوب میں کوئی پیدائشی نقص ہونا۔
* سر کی چوٹ لگنا۔
* ماحولیاتی عناصر جیسے کہ انسان کا بچپن میں جنسی، جسمانی یا جذباتی تشدد کا شکار ہونا۔
* خاندان کی اکائی میں کسی قسم کا مسئلہ ہونا جیسے کہ بروکن فیملی، سنگل پیرنٹنگ، یتیمی وغیرہ۔
* والدین کا ڈرگز یا الکوحل استعمال کرنا۔
* غربت۔
* نفسیاتی مسائل کا شکار ہونا۔
* فیملی ہسٹری۔
* احساس محرومی یعنی اگر کسی بچے کو بہت زیادہ نظر انداز کیا جائے، پیار و محبت جس کا وہ حق رکھتا ہے وہ اس کو نہ دیا جائے۔
* بے جا آزادی۔
* تعلیم و تربیت کی کمی۔
کنڈکٹ ڈس آرڈر کی مندرجہ ذیل علامات ہوتی ہیں :
* حد سے نکلنا (کنڈکٹ ڈس آرڈر میں مبتلا بچوں اور بڑوں کو قابو کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے ) ۔
* یہ لوگ کسی قسم کے اصول و ضوابط کو نہیں مانتے۔
* نہایت جلد باز اور بے صبرے ہونا۔
* نتائج کی پرواہ نہ کرنا۔
* دوسروں کے جذبات کی پرواہ نہ کرنا۔
* انتہائی غصیلا اور اشتعال آمیز رویہ۔
* دوسروں کا مذاق اڑانا اور ان کو bully کرنا۔
* دھوکے باز فطرت رکھنا۔
* تباہ کن رویہ رکھنا۔
* اصول و ضوابط کو توڑنا۔
* انتہائی ظالم ہونا۔
* کسی دوسرے جانور یا انسان کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کرنا۔
* کوئی ہتھیار استعمال کرنا مثلاً بلا، ڈنڈا، چاقو یا پستول وغیرہ۔
* جھوٹ بولنا۔
* کسی کے گھر، دفتر یا پراپرٹی میں زبردستی یا دھوکے سے داخل ہونا۔
* چوری کرنا۔
* دھاندلی کرنا۔
* کہیں پر آگ لگانے کی کوشش کرنا۔
* سکول، کالج یا دفتر سے دھوکے سے باہر نکل جانا۔
* گھر سے بلا اجازت باہر رہنا۔
* نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا۔
* دور نوجوانی سے ہی جنسی حرکات میں ملوث ہونا۔
* والدین، اساتذہ اور اپنے بڑوں کی نافرمانی کرنا۔
کنڈکٹ ڈس آرڈر کی شرح کسی آبادی میں تقریباً 2 ٪ سے 10 ٪ کے درمیان ہوتی ہے
علاج اور پرہیز:
* اگر کسی کے رویے کے اندر آپ کو کوئی چیز بہت عجیب محسوس ہو تو یہ بہت ضروری ہے کہ اس کو ماہر نفسیات کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ اس کی صحیح طریقے سے تشخیص اور علاج کر سکے۔
* بعض اوقات ماں باپ اپنے بچوں کو اس طرح کے کنڈکٹ ڈس آرڈر کی وجہ سے بہت زیادہ سزا دیتے ہیں ایسے بچوں کو بعض اوقات گھر اور سکول میں بھی بہت زیادہ تشدد اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ ان کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
بے جا تشدد، سختی، ذلت اور گھر سے نکالے جانے کی وجہ سے ایسے لوگ اکثر باغی ہو جاتے ہیں اور گھر کو چھوڑ کے چلے جاتے ہیں۔
کم عمری میں گھر چھوڑ دینے کی وجہ سے اپنے جیسے غلط اور خطرناک لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنتے ہیں اور معاشرے کے لیے ایک نا ختم ہونے والا درد سر بن جاتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنے گھر سے کبھی نہ نکالیں۔
* والدین کا اولاد کے لیے پیار، محبت اور شفقت بھرا رویہ ان کے اندر منفی جذبات کو ختم کرنے کا باعث بنتا ہے اور اس سے وہ معاشرے کے ایک انتہائی بہترین انسان بنتے ہیں۔
* ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اپنے گھروں کے ماحول کو مثبت رکھیں۔ صرف مثبت ماحول ہی ایک بہترین انسان کی پرورش کر سکتا ہے۔
* اگر کنڈکٹ ڈس آرڈر کی تشخیص نہ کی جائے اور ان کے علاج معالجے کی طرف توجہ نہ دی جائے تو یہ بہت جلد نشہ آور اشیاء، خطرناک ہتھیاروں کے استعمال اور قانون شکنی کی راہ پر چل پڑیں گے اور معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن جائیں گے۔
* ترقی یافتہ ممالک کے قیدیوں کی ذہنی صحت کے لیے ماہر نفسیات کی مدد لی جاتی ہے تاکہ جب وہ جیل سے رہا ہوں تو معاشرے کے اچھے مثبت کردار بن کے باہر آئیں۔ ہمارے ملک میں بھی قیدیوں کو ماہر نفسیات سے رہنمائی کی سہولت ملنی چاہیے۔

