داریوش مہر جوئی اور ایرانی سنیما


ایرانی سینما کی نئی لہر کے بانیوں میں سے ایک داریوش مہر جوئی اور اُن کی مصنفہ اہلیہ واحدہ محمدی اکتوبر 2023 میں ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور انہیں تہران میں چاقو کے پے درپے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ان کی اموات سے ایرانی سینما کا ایک طویل باب ختم ہو گیا۔ مہر جوئی چوراسی برس کے تھے اور یہ بات حیران کن ہے کہ ایک ایسے جوڑے کو اس طرح کیوں قتل کیا گیا جس نے ایران میں سینما کے فن اور اس ہنر کی ترویج کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی تھیں۔

مہر جوئی ایرانی سنیما کی نئی لہر کے بانیوں میں تھے اور اُن کی فلم گاؤ (گائے) عالمی سنیما میں بنائی جانے والی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ 1969 کی یہ فلم ایک کلاسک کا درجہ رکھتی ہے اور سینما کا کوئی بھی مدّاح اس فلم کو دیکھے بغیر سنیما کا شائق ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس مضمون کا مقصد مہر جوئی کے حالاتِ زندگی بتانا نہیں ہے کیوں کہ یہ سب کوئی بھی انٹرنیٹ پر یا اُن کی موت پر لکھے جانے والے مضامین میں دیکھ سکتا ہے۔

یہاں ہم اس بات کا زیادہ ذکر کریں گے کہ کن حالات میں مہر جوئی نے اپنی زندگی کی بہترین فلمیں تخلیق کیں اور کن لوگوں سے انہوں نے فیض حاصل کیا اور پھر کیسے انہوں نے دیگر فلم سازوں کو متاثر کیا۔ 1960 کے عشرے کا ایران استبداد پر مبنی شاہانہ حکومت کے زیرِ اقتدار تھا۔ شاہ ایران نے 1950 کے عشرے میں ڈاکٹر محمد مصدق کی ان کوششوں کو سختی سے کچل دیا تھا جو جمہوریت کے لیے تھیں۔

1950 کے عشرے میں مشرقِ وسطیٰ میں قوم پرستی اُبھر رہی تھی اور کئی ممالک میں برسرِ اقتدار حکمران طبقے اپنی بالا دستی کو خطرے میں محسوس کر رہے تھے۔ مصر میں جمال عبدالناصر، ایران میں مصدق، عراق میں عبدالکریم قاسم، شام میں صلاح جدید اور حافظ الاسد اور بہت سے دیگر رہ نما مشرقِ وسطیٰ میں اُٹھنے والی قوم پرستی کی تحریکوں کے قائد تھے۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کے اختیارات کم کرنے کی ایک کوشش ناکام ہو چکی تھی اور 1960 کے عشرے تک ایران میں تقریباً تمام اختلافی آوازوں کو دبانے کا عمل عروج پر تھا۔ ان حالات میں ہمیشہ ایسے مصنف، کالم نویس، جمہوریت پسند اساتذہ ہوتے ہیں جو عوام کے خیالات اور جذبات کے اظہار کے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں۔

جب داریوش مہر جوئی فلمی اکھاڑے میں اترے تو وہ پرفارمنگ آرٹس کے کئی شعبوں میں گہری دل چسپی رکھتے تھے۔ جن میں رقص، ڈراما، فلم، موسیقی اور مصوری شامل تھے۔ ادب اور فلسفے میں اُن کی دل چسپی کی بدولت وہ بہت کچھ کہنے کی صلاحیت حاصل کر پائے جو الفاظ میں لکھنا ممکن نہیں تھا۔ گاؤ، مہر جوئی کی پہلی فلم نہیں تھی نہ وہ اچانک سامنے آئی تھی 1920 کے عشرے سے لے کر 1940 کے عشرے تک ایران میں کم از کم ایک درجن ایسی شخصیات جنم لے چکی تھیں جن کو آگے چل کر ایران کے فنون، ثقافت، ادب اور سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔

ابراہیم گلستان 1922 میں پیدا ہوئے اور نوجوانی میں ہی بائیں بازو کی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔ اُنہوں نے 1957 میں ایران کا پہلا فلم اسٹوڈیو کھولا جس نے 1960 کے عشرے میں ایرانی سنیما کی نئی لہر کی راہ ہموار کی۔ عزت اللہ انتظامی نے 1924 میں آنکھیں کھولیں اور وہ بھی آگے چل کر ایران کے نمایاں ترین اداکاروں میں شامل ہوئے اور فلم گاؤ میں بھی بہتری کردار نگاری کی۔ گلستان اور انتظامی دونوں ایرانی سینما کی بزرگ ترین شخصیات میں شمار ہوئے اور انتظامی نے 94 سال کی عمر پا کر 2018 میں وفات پائی جب کہ گلستان ایک سو ایک سال کی عمر پا کر 2023 میں روانہ ہوئے۔ اور ہاں ایک خاتون بھی تھیں فخری خوروش جن کی ولادت 1929 میں ہوئی اور انہوں نے نئی لہر کی فلموں میں خود کو خوب منوایا۔ وہ بھی ایک طویل عمر پا کر چورانوے برس کی عمر میں 2013 میں فوت ہوئیں۔

علی شریعتی کی ولادت 1933 میں ہوئی جنہوں نے آنے والے عشروں میں ایران کے ایک عظیم دانشور کے طور پر شان دار تحریریں چھوڑیں اور سیاسی اور سماجی عمل کو غالباً سب سے زیادہ متاثر کیا۔ فروغ فرخ زاد اور جمشید مشایخی 1934 میں اس دنیا میں آئے۔ فرخ زاد صرف بیس سال کی عمر میں ہی ایران کی نمایاں شاعرہ بن چکی تھیں اور مشایخی ایک بڑے اداکار کے طور پر اُبھرے۔ علی نصیریان اور غلام حسین ساعدی بھی 1930 کے عشرے کے وسط میں پیدا ہوئے۔ نصیریان معروف اداکار اور مصنف بنے جب کہ ساعدی نے ادبی دنیا میں بہترین افسانہ نگار کے طور پر اپنا مقام بنایا۔ بہروز وثوقی، ہژیر داریوش اور داریوش مہر جوئی 1930 کے عشرے کے اواخر میں اس دنیا میں آئے جب کہ عباس کیارستمی، مسعود کیمیائی، ناصر تقوی، رضا اصلافی، سہراب شہید ثالث، ہمایوں ارشادی 1940 کے عشرے والی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن میں زیادہ تر نے ایرانی سینما کی نئی لہر کے آغاز اور ارتقا میں کسی نہ کسی طرح اپنا حق ادا کیا۔

1961 میں فروغ فرخ زاد نے گلستان کے ساتھ اپنی اداکارانہ زندگی کا آغاز کیا اور ایک دستاویزی فلم کینیڈا کے ہدایت کار بیوبرٹ ایکٹوئن کے ساتھ بنائی جس میں چار ممالک میں شادی کی رسومات فلم بند کی گئیں۔

1963 میں ایرانی سینما کی نئی لہر کی ابتدائی علامات ظاہر ہوئیں جن کا اظہار دو شان دار فلموں سے ہوا۔ ”خانہ سیاہ است“ (مکان کالا ہے ) کی ہدایت کار فروغ فرخ زاد تھیں اور اُن کے ساتھی گلستان اس کے فلم ساز تھے۔ دوسری فلم ”جلد مار“ یعنی سانپ کی کھال ”تھی جس میں ہژیر داریوش نے ڈی ایچ لارنس کے ناول“ لیڈی چیٹرلیز لوور ”کی کہانی کو استعمال کیا۔“ خانہ سیاہ است ”شمالی ایران کی جذامی کالونی کی کہانی ہے۔ یہ فروغ فرخ زاد کی ہدایت کاری میں واحد فلم تھی۔ گو کہ یہ فلم تعلیمی اور معلوماتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ شاہ ایران کے ماتحت جذام زدہ سماج کی علامتی عکاسی بھی کرتی ہے۔

”جلد مار“ میں فخری خوروش نے ایک ڈھلتی عمر کی عورت کا کردار نبھایا ہے۔ اس فلم میں عمومی میلو ڈراما سے ہٹ کر کہانی دکھائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ شاہ کہ دور میں میلو ڈراما حکومت کا پسندیدہ ذریعہ تھا جس کے ذریعے ایران کی خوش حال اور خوش باش تصویر کشی کی جاتی تھی اور عوام کے اصل مسائل سے روگردانی فلموں کا معمول تھا۔ ”جلد مار“ فلم میں بڑے لطیف انداز میں اور نفیس پیرائے میں ہدایت کاری کے ذریعے کہانی کو برتنے کا نیا اسلوب متعارف کرایا گیا جس سے ناظرین میں تنقیدی سوچ استعمال کر کے سماج کے جمود پر سوال اُٹھانے کی ترغیب دی گئی۔

”خانہ سیاہ است“ اور ”جلد مار“ دونوں تجرباتی اور نسبتاً کم دورانیے کی فلمیں تھیں جنہوں نے ایرانی ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے لیے دستاویزی اور فیچر فلموں دونوں کی تیکنیک استعمال کی گئی۔ ان فلموں میں بہت کم وسائل سے کام لیا گیا۔

پھر 1964 میں ابراہیم گلستان نے اپنی فلم ”خشت و آئینہ“ (آئینہ اور پتھر) کے ذریعے ایک بڑا دھماکہ کر دیا۔ یہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی کہانی ہے جسے پچھلی نشست پر ایک نوزائیدہ بچہ ملتا ہے جو غالباً ایک جوان عورت مسافر نے اس کی ٹیکسی میں چھوڑ دیا تھا۔ اس فلم پر اطالوی نو حقیقت پسندی کا اثر نمایاں ہے۔ اطالوی نو حقیقت پسندی نے 1940 اور پچاس کے عشروں میں عالمی سینما پر گہرے اثرات ڈالے تھے۔  ”خشت و آئینہ“ کے ذریعے ہمیں 1960 کا ایران سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے جہاں ایک غیر شادی شدہ جوڑا راتیں ساتھ گزار سکتا ہے مگر ایک بچے کو گود لینے سے ڈرتا ہے جو غالباً ناجائز ہے۔ اس فلم کا آخری منظر جس میں ایک یتیم خانہ لاوارث بچوں سے پْر دکھایا گیا ہے بہت متاثر کن ہے۔

فروغ فرخ زاد اور گلستان ایک دوسرے کے قریبی معاون تھے اور شاید ان میں رومانی رشتہ بھی تھا مگر بدقسمتی سے فرخ زاد 1967 میں ایک کار حادثے میں ماری گئی جس کے بعد گلستان بھی جذباتی طور پر ٹوٹ پھوٹ گیا۔ پھر گلستان اس سانحے کے بعد کوئی بھی قابلِ ذکر فلم نہ بنا سکا اور چند سال بعد ایران سے برطانیہ منتقل ہو گیا جہاں وہ لکھنے پڑھنے کا کام کرتا رہا۔

1960 کے عشرے کے اواخر تک دو اور ہدایت کار منظر عام پر آئے جنہوں نے نئی لہر کو آگے بڑھایا۔ یہ تھے مسعود کیمیائی اور داریوش مہر جوئی جو دونوں ابھی تیس سال کے بھی نہیں تھے۔ مسعود کیمیائی نے بہروز وثوقی اور جمشید مشایخی کے ساتھ مل کر ”قیصر“ نامی فلم بنائی جب کہ انتظامی نے ”گاؤ“ تخلیق کی۔ ”قیصر“ کی کہانی عزت کے نام پر قتل کے گرد گھومتی ہے جب ”قیصر“ (بہروز) اپنی بہن کے ریپ اور خود کشی کا بدلہ لیتا ہے۔ ”قیصر“ فلم کا ایک منظر جو غسل خانے میں قتل کی عکاسی کرتا ہے دراصل الفریڈ ہیچکاک کی فلم ”سائیکو“ کے ملتے جلتے منظر کی یاد دلاتا ہے۔

لیکن 1969 کی سب سے منفرد فلم ”گاؤ“ تھی جس کی ہدایت کاری داریوش مہر جوئی کی تھی۔ اس فلم پر ذرا تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس فلم نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی توجہ حاصل کی تھی۔

خیال رہے کہ شاہ ایران کے دور میں اظہارِ رائے کے لیے بڑے محتاط رہنے کی ضرورت تھی اس لیے مہر جوئی نے ایک علامتی ناٹک کا شاہکار تخلیق کر ڈالا جس میں ایک سادہ دیہاتی شخص اپنی گائے سے شدید لگاؤ رکھتا ہے۔ اس کی کہانی ساعدی کے ایک افسانے سے ماخوذ ہے اور اس فلم میں عزت اللہ انتظامی، علی نصیریان اور اور جمشید مشایخی نے شان دار کردار نگاری کی ہے۔ یہ فلم میری پسندیدہ ترین فلموں میں شامل ہے۔ اس کے بعد مہر جوئی نے انتظامی اور نصیریان کے ساتھ مل کر اپنی پوری فلمی زندگی میں بار بار کام کیا۔

فلم ”گاؤ“ میں مشت حسن نامی ایک کسان ہے جو دور دراز کسی گاؤں میں رہتا ہے۔ اس کا اپنی گائے سے قریبی رشتہ ہے جو اس کا واحد اثاثہ بھی ہے اور گاؤں کی اکلوتی گائے بھی جو گاؤں کے لوگوں کی دودھ کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ گاؤں میں زیادہ تر بوڑھی خواتین رہتی ہیں۔ جب حسن کس کام کے سلسلے میں کچھ روز کے لیے گاؤں سے باہر جاتا ہے تو گاؤں والوں کو اچانک پتا چلتا ہے کہ گائے پُر اسرار طور پر مر چکی ہے۔ وہ گائے کو دفن کر دیتے ہیں اور واپسی پر حسن کو بتاتے ہیں کہ وہ کہیں بھاگ گئی ہے۔ اس خبر پر حسن ایک افسردگی کی کیفیت میں چلا جاتا ہے اور گائے کے باڑے میں جا کر عجیب حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ اب وہ مستقل ہی باڑے میں رہنے لگتا ہے اور رفتہ رفتہ گائے کی شناخت اختیار کر لیتا ہے یعنی گائے جیسا ہی بننے لگتا ہے۔ جب لوگ اسے ہسپتال لے جانے لگتے ہیں تو وہ خودکشی کر لیتا ہے۔

اس فلم کو بنانے میں حکومت نے کچھ رقم دی تھی کیوں کہ شاہ ایران کی حکومت فلم کے ذریعے اچھی دیہی زندگی کی عکاسی کرنا چاہتی تھی مگر منفی عکاسی کرنے کی پاداش میں اس فلم پر پابندی بھی لگا دی گئی۔ واضح طور پر یہ فلم پہلوی خاندان پر تنقید تھی اور جب اسے بین الاقوامی پذیرائی ملی تو حکومت کو اس کی نمائش کی اجازت دینا پڑی ”گاؤ“ بلاشبہ ایرانی سنیما میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ اس کے ذریعے پہلوی حکومت کے بڑھتے ہوئے وسوسے اور شاہ پرستی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت پہلوی خاندان ایرانی بادشاہت کی ڈھائی ہزار سالہ تقریبات منانے کی تیاری کر رہا تھا۔ جب کہ ایرانی عوام شدید بیگانگی کا شکار تھے اور مردہ گائے ایک طرح کی مردہ بادشاہت کی علامت تھی جس سے شاہ ایران چمٹا ہوا تھا جب کہ بادشاہت (گائے ) اپنی زندگی پوری کرچکی تھی۔

مہر جوئی نے ”گاؤ“ میں تقریباً وہ ہی طریقہ استعمال کیا جو اس سے تقریباً نصف صدی قبل جرمن ہدایت کار ایف ڈبلیو مرناؤ نے ”آخری ہنسی“ (THE LAST LAUGH) میں کیا تھا۔ یہ فلم 1924 میں بنائی گئی تھی جس میں ایک بڑے ہوٹل کے دربان کو اپنی وردی سے شدید محبت ہے کیوں کہ اس سے اس کی محلے میں عزت ہے اور پڑوسی وردی دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ فوجی عہدے پر فائز ہے۔ غالباً مہر جوئی نے اس کا خیال اپنے ادب و نفسیات کے مطالعے سے حاصل کیا۔ فرانز کافکا کی کتاب ”قلب ماہیت“ (METAMORPHOSIS) اور ”نفسیاتی مرض بوان تھراپی (BOANTHROPY) دونوں یہاں کارفرما نظر آتے ہیں۔ بوان تھراپی ایسا نفسیاتی مرض ہے جس میں کوئی شخص خود کو گائے یا بھینس سمجھنے لگتا ہے۔

فلم گاؤ میں باکس آفس کام یابی کے کوئی مسالہ جات موجود نہیں تھے اور یہ بھی بہت کم وسائل کے ساتھ مختصر ترین مکالمے استعمال کرتی ہے۔ بزرگ خواتین کے کلوزپ یا قریبی شاٹ سے ستیہ جیت رے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ ستیہ جیت رے نے 1955 میں ”پاتھر پنچالی“ اسی طرح کی فلم بندی کی تھی۔ گاؤ میں کچھ ایسے نادیدہ دشمنوں کے خدشات بھی دکھائے گئے ہیں جو گاؤں والوں کو ڈراتے رہتے ہیں یہ علامت ہے ایسی حکومت کی جو مسلسل اپنے عوام کو خطرات سے خوف زدہ کرتی رہتی ہے۔

فلم گاؤ کے بعد نئی لہر کی مزید فلمیں آنے لگیں مثلاً ”آقائے ہلو“ مہر جوئی نے 1970 میں بنائی ناصر تقوی نے 1971 میں ”رہائی“ پیش کی۔ علی نصیریان نے فخری خوروش کے ساتھ ”آقائے ہیلو“ میں ایک ایسے دیہاتی کا کردار نبھایا ہے جو تہران جا کر اپنا گھر بسانے کے لیے بیوی کی تلاش میں ہے مگر اسے شہری مرد و خواتین دونوں دھوکے باز ملتے ہیں۔ ”رہائی“ بھی ایک کم وسائل سے بنائی جانے والی فلم ہے جس میں ایک مچھیرا لڑکا چھوٹی سی مچھلی پکڑ کر اسے قید رکھتا ہے مگر جب خود اس لڑکے کو ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے تو اسے آزادانہ نقل و حرکت کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جس پر وہ مچھلی کو واپس سمندر میں چھوڑ دیتا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب شاہ ایران کے خفیہ ادارے لوگوں کو پکڑ کر غائب کر دیتے تھے جن کا کوئی اتا پتا نہیں ملتا تھا۔ 1972 تک شاہ ایران لاکھوں ڈالر ایرانی بادشاہت کی ڈھائی ہزار سالہ سالگرہ پر لٹا چکا تھا جب کہ ایرانی عوام اس فضول خرچی پر شدید غصے میں تھے اور امراء سے نفرت کرنے لگے تھے۔

مہر جوئی نے 1972 میں فلم ”پُستچی“ (POSTCHI) یعنی ڈاکیا بنائی جو انیسویں صدی کے ایک جرمن ڈرامے سے ماخوذ تھی۔ جرمن ڈرامہ نگار جارج بوچنر (GEORG BUCHNER) کا ڈرامہ وائزیک (WOYZECK) بھی لیڈی چیٹرلیز لوور سے مماثلت رکھتا ہے۔

لیکن اس کی کہانی ذرا برعکس ہے۔ نصیریان ایک بیچارہ ڈاکیہ ہے جو نامرد بھی ہے۔ پھر اسے اپنے قرض اتارنے کے لیے دو ملازمتیں بھی کرنی ہوتی ہیں۔ اس کی بیوی ایک نوجوان سے جنسی تسکین حاصل کرنا چاہتی ہے اور ڈاکیہ کسی حکیم سے مدد کا طلب گار ہوتا ہے۔ پھر وہ کوئی لاٹری جیت کر اپنی قسمت بھی بدلنا چاہتا ہے۔ جب ڈاکیے کو اپنی بیوی کے ناجائز تعلقات کا علم ہوتا ہے تو وہ طیش میں آ کر اپنی بیوی کو ہی قتل کر دیتا ہے۔ یہ مہر جوئی کی دوسری فلم تھی جس پر پابندی لگی مگر عارضی طور پر۔ اس فلم نے علامتی طور پر ایرانی امراء کی قلعی کھول دی اور افسر شاہی کی بدعنوانی بھی بلکہ پورے نظام کی نا اہلیت کا پردہ چاک کر دیا۔

1970 کے عشرے کے اوائل میں ہی ایک اور ہدایت کار بھی ابھرے جنہوں نے بہت ہی کم چیزیں اور اداکار استعمال کر کے نئی لہر کی ایک اور شان دار فلم بنائی جس کا نام تھا ”طبیعت بے جان“ سہراب شہید ثالث نے یہ فلم 1974 میں پیش کی جس میں ایک ریل گاڑی کے پھاٹک کے قریب رہنے والا ایک بے جان سا گھرانا پیش کیا گیا۔

پھاٹک کا گیٹ کیپر اس مقام پر 33 سال سے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور دل چسپ بات یہ ہے کہ 1974 میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو بھی تخت پر بیٹھے ٹھیک 33 سال ہوئے تھے۔ فلم میں گیٹ کیپر کے لیے بڑا مشکل ہے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ یا سبکدوشی کو قبول کرے۔

1970 کے عشرے کے وسط تک علی شریعتی نے ایرانی سماج پر ایک دوسرے پہلو سے بھی اثر ڈالا تھا۔ علی شریعتی کو ”انقلابی شیعہ اور مارکس“ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ اپنی تحریروں اور تقاریر سے ایران میں لوگوں کے ایک بڑے حلقے کو متاثر کر رہے تھے اور حالات کے جمود کو للکار رہے تھے۔ کئی فلم ہدایت کاروں نے ایرانی سنیما کی نئی لہر کے دوران علی شریعتی کے اثرات قبول کیے۔

ان میں ایک رضا اصلانی تھے جنہوں نے 1976 میں ”شطرنج باد“ یا ہوا کی شطرنج نامی فلم بنائی۔ اس میں بھی علامتی طور پر شاہ ایران کی سفاک حکومت کو نشانہ بنایا گیا تھا جو اپنی عوام سے زیادہ اپنے اثاثوں اور وراثت کی فکر میں تھی۔

شطرنج باد ایک امیر گھرانے کی کہانی ہے جس میں ایک خانم بزرگ یا بوڑھی عورت کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور ایک ان کی وارث خانم کوچک یا چھوٹی بی بی جو مفلوج ہیں اور اب خاندان میں وراثت کے جھگڑے چل رہے ہیں جن میں نہ صرف گھر کے لوگ بلکہ ملازمین اور سوتیلے رشتے دار بھی شامل ہیں۔ اس فلم کی نمائش صرف ایک مرتبہ 1976 کو کی گئی اور پھر یہ منظر سے غائب ہو گئی۔ غالباً یہ شاہ ایران کے غصے کا نتیجہ تھا۔ لیکن عشروں کے بعد یہ فلم کہیں سے برآمد ہوئی اور اس کی بحالی کے بعد نمائش کی گئی۔ اس فلم نے راقم کو گارسیا لورکا کے ڈرامے ”دی ہاؤس آف برنارڈا البا“ (THE HOUSE OF BERNARDA ALBA) کی یاد دلا دی جس میں اُردو ترجمہ ”برجیس قدر کا کنبہ“ کے نام سے بھارت میں ہو چکا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور فلم بھی ذہن میں آئی جو فرنچ ہدایت کار ہینری کلوزو نے ”دیابولیک“ (DIABOLIQUE) کے نام سے بنائی تھی۔ فلم شطرنج باد میں ایرانی سماج کے تقریباً تمام طبقات دکھائے گئے ہیں جو اپنے مفادات کے لیے کشمکش کرتے ہیں۔

1977 میں شاہ ایران کے خلاف نفرت اور ناپسندیدگی مزید بڑھتی گئی اور دو اہم واقعات ہوئے ایک تو علی شریعتی برطانیہ میں پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے جہاں وہ ایران میں کئی سال کی قید و بند گزار کر پہنچے تھے اور اپنا علاج کرا رہے تھے۔ علی شریعتی کے حامیوں نے ایرانی خفیہ ادارے ساواک (SAVAK) پر ان کے قتل کا الزام لگایا اور شاہ کے خلاف بڑی آوازیں اُٹھنے لگیں جس پر 1977 کا دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ پہلوی حکومت میں سے سب سے طویل عرصے وزیر اعظم رہنے والے امیر عباس ہویدا کو بارہ سال بعد اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ علی شریعتی کی موت کے صرف دو ماہ بعد ہویدا کو برطرف کر دیا گیا۔

اسی برس مہر جوئی نے اپنی اگلی فلم ”دائرہ مینا“ پر کام شروع کیا اور اسے 1978 میں پیش کر دیا۔ اس فلم میں ایران سماج کی مایوس کن تصویر پیش کی گئی جہاں خون کی بوتلوں کا کالا بازار کام کر رہا ہے۔ مہر جوئی نے اپنی فلم کی کہانی حقیقی واقعات سے اخذ کی جو ان کے دوست مصنف ساعدی نے خود دیکھے تھے اور اُن پر ایک ڈرامہ بھی تحریر کیا تھا۔ ایک نوجوان اپنے قریب المرگ باپ کے ساتھ ایک غریب علاقے سے شہر کے ہسپتال جاتا ہے جہاں علاج بہت مہنگا ہے۔ ایک بے ضمیر ڈاکٹر سمیری (اداکار انتظامی) نوجوان کو اکساتا ہے کہ وہ رقم کے بندوبست کے لیے خون کی بوتلوں کی خرید و فروخت کا غیر قانونی کام کرے۔

فلم میں حقیقت نگاری اور علامتی اظہار دونوں سے کام لیا گیا ہے اور دکھایا ہے کہ کیسے پورا سماج بدعنوانی کا شکار ہے جس میں خود وہ لوگ بھی شامل ہیں کہ جن کا کام صحت کی بحالی اور حفاظت ہے۔

اس دور میں ایران بڑی سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا جس کے نتیجے میں بالآخر 1979 کا انقلاب برپا ہوا اور جس کے ساتھ ہی ایرانی سنیما کی نئی لہر بھی اپنے اختتام کو پہنچی۔ 1981 میں مہر جوئی اپنے خاندان کے ساتھ ایران سے فرانس منتقل ہو گیا جہاں چند سال رہنے کے بعد واپس آ کر کئی بہترین فلمیں بنائیں۔

1987 میں فلم ”اجارہ نشین ہا“ یعنی کرایہ دار فلم بنائی جو ایک مخدوش عمارت کی کہانی ہے جو خود ایرانی سماج کی علامت ہے۔ 1990 میں فلم ”ہامون“ ایک ایسے نوجوان جوڑے کی کہانی ہے جو اپنی آرزوؤں کو بکھیرتے دکھاتا ہے اور خود نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ فلم ہالی وڈ کی فلم ”ریوولوشنری روڈ“ (REVOLUTIONARY ROAD) سے ملتی جلتی ہے جو سیم مینڈس نے بنائی تھی۔

مہر جوئی کی فلم ”لیلیٰ“ 1997 میں آئی جس میں ایک بانجھ نوجوان عورت کی کہانی ہے جس کی ساس اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی دوسری شادی کرا دے۔

1998 میں مھر جوئی نے ”درخت گلابی“ (ناشپاتی کا درخت) نامی فلم بنائی جس میں ایک مصنف لکھنے سے قاصر ہے اور اپنے بچپن کے دن یاد کرتا رہتا ہے۔ سن 2000 کے عشرے میں مہر جوئی نے ایک درجن سے زیادہ فلمیں بنائیں مگر راقم کی نظر میں دو فلمیں سب سے اچھی تھیں۔ ایک تو فلم ”مہمان ماما“ یعنی ”امی کے مہمان“ جو 2004 میں بنی اور سنتوری یا موسیقار جو 2007 میں بنائی گئی۔

گو کہ ایرانی سینما کی نئی لہر 1980 میں تقریباً ختم ہو گئی لیکن اسلامی انقلاب کے بعد کئی شان دار فلمیں تخلیق کی گئیں اور بڑے ماہر ہدایت کار سامنے آئے لیکن ان کے لیے ایک اور مضمون کی ضرورت ہے۔ مہر جوئی اس لہر کے غالباً آخری علم بردار تھے۔

Facebook Comments HS