ٹرمپ کی جیت: ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے
ویسے تو 2024 ءکے امریکی انتخاب کے متعلق یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ ”نیک ٹو نیک“ مقابلہ ہو گا۔ امریکی پول سروے کے ادارے یہ تاثر دے رہے تھے کہ لگتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ہو گی اور کملا ہیرس پہلی خاتون امریکی صدر بن کر تاریخ رقم کریں گی بہت سے مواقع پر دونوں امیدواروں کی مقبولیت کے عوامی اعداد و شمار میں ایک آدھ فیصد کا فرق دکھایا جاتا رہا مگر جب رزلٹ آیا تو سارے کے سارے سروے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شہ سرخیوں میں ہیرو کی طرح واپسی ہوئی۔ امریکا کے 47 ویں صدر بننے کے لیے ٹرمپ نے دو قاتلانہ حملے، کانگریس کے الزامات کی بوچھاڑ، حتیٰ کہ فردِ جرم کے آگ کے دریا کو عبور کیا۔
حالیہ انتخابات کوایک جانب مغرب کے نیو لبرل ازم کا اختتام سمجھا جا رہا ہے اور امریکہ کے اس طرح کے زوال کی پیشگوئی کی جا رہی ہے جس طرح سوویت یونین کے کمیونزم کا سورج غروب ہوا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ امریکا ایک بہترین معیشت، طاقتور ملٹری اور دنیا کے زرمبادلہ کے ذخائر کا بے تاج بادشاہ ہے۔ اس کی سلطنت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس لیے اس کے زوال کی بات ابھی قبل از وقت ہے۔
ٹرمپ کی جیت اور کاملہ ہیرس شکست کے مختصر محرکات یہ ہیں۔
•ووٹروں کے لیے معیشت پہلا مسئلہ تھا زیادہ تر امریکی ہر روز بڑھتی مہنگائی سے تنگ تھے۔ اسی لیے یہ سوال اٹھایا گیا ’کیا امریکہ نے اس لیے ایک آمر کو منتخب کر لیا کہ اسٹور میں ناشتے میں کھائے جانے والے سیریل کی قیمت 7.99 ڈالر ہو گئی تھی؟‘
دو تہائی امریکیوں کے خیال میں معاشی منظر نامہ خراب ہے۔ بر سر اقتدار نہ ہونے کے باعث ٹرمپ پر بھروسا کیا گیا کہ وہ مہنگائی کا خاتمہ کریں گے۔ معیشت کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھنے والے 80 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا۔
•ٹرمپ خوش قسمت ہیں کہ 6 جنوری 2021 کے ہنگاموں، مختلف معاملات میں فردِ جرم کے سلسلے یا عدالت کی سنائی گئی سزا، کے باوجود، ٹرمپ کی حمایت سارا سال 40 فیصد یا اس سے زائد شرح پر مستحکم رہی۔ ٹرمپ کو صرف محدود تعداد میں غیر فیصلہ کن ووٹرز کو قائل کرنا پڑا۔
•ووٹرز نے امیگریشن کے معاملے میں ٹرمپ پر زیادہ اعتماد کیا۔ وہ گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں لاطینی نژاد امریکیوں میں زیادہ مقبول تھے۔
• یونین ورکرز جیسے کئی حلقے جو روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے حامی تھے ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کے باعث اس بار ریپبلکنز کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
•ٹرمپ نے اپنے غیر متوقع رویے کو ایک طاقت کے طور پر متعارف کرایا۔ ٹرمپ یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ جب وہ وائٹ ہاؤس میں تھے تو کوئی بڑی جنگ شروع نہیں ہوئی۔ اس بار بھی وعدہ کیا کہ وہ جنگ مخالف پالیسی اپنائیں گے۔ بہت سے امریکی یوکرین اور اسرائیل کی اربوں ڈالر کی امداد پر ناراض تھے اور سمجھتے تھے کہ بائیڈن کے دور میں امریکہ کمزور ہوا اسی لیے میک امریکہ گریٹ اگین ’کے ٹرمپ حامی بڑھتے گئے۔
•کملا ہیرس عوام کو یہ نہ بتا سکیں کہ وہ، جو بائیڈن سے مختلف ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے خواتین کی جنسی ہراسانی کو اپنے حق میں استعمال نہ کر پائیں کیونکہ بائیڈن بھی اسی فعل میں ملوث رہ چکے تھے۔
•ٹرمپ کی عمر پر تنقید نہیں کرسکیں کیونکہ بائیڈن بھی زائد العمر تھے نہ ہی ٹرمپ کی ذہنی حالت پر تبصرہ کرسکیں کیونکہ بائیڈن بھی بظاہر ذہنی مسائل کا شکار تھے۔
• کملا کے پاس پرچار کرنے کے لیے صرف ان کی ذات تھی۔ نینسی پلوسی اور باراک اوباما کی سرپرستی کے باوجود نائب صدر ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس کوئی قابلِ ذکر ایجنڈا نہیں تھا۔
•کملا کے بنیادی سیاسی نظریات تک واضح نہیں تھے۔ مسئلہ فلسطین سے لے کر ہر معاملے میں اپنا موقف تبدیل کیا۔
• معیشت کو اپنی انتخابی مہم کا محور نہ بنا سکیں وہ جو بائیڈن کی امریکی معیشت کو بطور معجزہ بیان کرتی رہیں۔ محنت کش طبقہ کی تنخواہوں، ان کی خوراک سیکورٹی یا ہیلتھ انشورنس تک رسائی کم ہونے جیسے مسائل نظر انداز کیے۔
•کملا نے دائیں بازو کی جماعت (ریپبلکن) کی اقتدار میں واپسی سے بہتر خود کو صدر بننا قرار دیا۔ ’دوبارہ (ٹرمپ) نہیں‘ کا راگ الاپتی رہیں۔ یہ فسانہ سنایا جاتا رہا کہ ٹرمپ کی جیت تعصب، نسل پرستی، صنفی عدم مساوات اور فاشزم کی جیت ہوگی۔ یوں ؛
؎ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے
حقیقت یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی جس میں ہنری کسنجر سے لے کر ڈونلڈ رمزفیلڈ اور جان بولٹن، غزہ میں بچوں کے قتل عام پر ڈیموکریٹس سے بہتر اور محتاط موقف اختیار کیے رہے۔ ’۔ یوں میڈیا کی جانب سے قرار دیے گئے‘ اہم ترین انتخابات ’میں، ایک کاروباری ارب پتی کے ہاتھوں نسل کشی کے حامیوں کو شکست ہوئی۔
ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ امریکی سینیٹ میں بھی ری پبلکنز نے غلبہ حاصل کر لیا ہے، کانگریس میں بھی ان کی زیادہ نشستیں ہیں جبکہ وہ سپریم کورٹ کے ایک تہائی ججز کا بھی تقرر کریں گے۔ پاپولسٹ نظریہ پروان چڑھتے ہوئے یہ یقینی بنا رہا ہے کہ ٹرمپ ایک بڑا نام ہے۔ ٹرمپ کہتے ہیں، ’یہ حقیقتاً امریکہ کا سنہری دور ہو گا‘ ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تین مرتبہ صدارتی الیکشن لڑا دو بار وہ جیتے ایک بار ہارے۔ 2016 ء میں ہیلری کلنٹن اور 2024 ء میں کملاہیرس کو ہرایا۔
کملا کی ہار کی سب سے بڑی وجہ 7 اکتوبر 2023 ءسے شروع ہونے والی اسرائیل کی غزہ پر یلغار تھی جس میں 50 ہزار سے زیادہ بے گناہ فلسطینی لقمہ اجل بن گئے۔ بائیڈن نے کھل کر اسرائیلی حمایت کی۔
ان کی اس پالیسی سے امریکہ میں امریکی عرب اور دوسرے مسلمانوں نے بائیڈن کے خلاف ووٹ دیے۔ اس کے علاوہ گورے امریکیوں کی بہت بڑی تعداد انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر ان کی مخالف ہو گئی۔ اس الیکشن میں ایک نیا فیکٹر سامنے آیا امریکی مسلمانوں کا ووٹ بینک ہمیشہ بکھرا رہا وہ مذہبی، نسلی یا علاقائی پس منظر سے اوپر اٹھ کر امریکی ایشوز کی بنیاد پر ہمیشہ ووٹ دیتے رہے۔ لیکن اس دفعہ بائیڈن کی اندھا دھند اسرائیلی حمایت کی وجہ سے انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بائیڈن اور ٹرمپ کی پالیسی میں فرق نہی، ٹرمپ کو ووٹ دیا۔
کملا ہیرس کے لیے موقع تھا کہ وہ بائیڈن کی اسرائیل کو دی گئی خطیر فوجی امداد 30 ارب ڈالر سے خود کو لا تعلق کرتیں لیکن انہوں نے ہر تقریر میں بائیڈن کی تائید جاری رکھی جس کی انہیں قیمت چکانا پڑی۔ بہت سے ووٹرز نے ٹرمپ سے محبت کی بجائے بائیڈن سے نفرت کی بنا پر ووٹ دیا۔ امریکی عربوں میں ایک گہرا تاثر پایا جاتا تھا کہ غزہ اور لبنان پر گرنے والا ہر میزائل اور ہر ڈرون حملہ امریکی ڈیموکریٹس حکومت کا بھیجا ہوا ہے۔ بہر حال امریکی انتخابات کا اونٹ ایک کروٹ بیٹھ گیا ہے۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ مستقبل میں امریکہ میں کیا کچھ بدلتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی پالیسیوں میں کتنا سدھار آتا ہے؟


