مُلازم رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کر لیں


محبتوں کے دُکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں تو یہ عمر بھی نہیں دیکھتے۔ میں نے چائلڈ لیبر کے خلاف بہت لکھا ہمیشہ غریبوں کا ساتھ دیا مگر اس دفعہ مجھے تصویر کا دوسرا رُخ بھی نظر آیا۔ جب تک میں نے بُرائی کے پھل کو نہیں دیکھا تھا میں سمجھتی رہی کہ لوگ غریبوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ہم اپنی نواسی کی پیدائش کے چھے ماہ بعد ہمراہ بیٹی اور نواسی کے امریکہ سے لاہور آئے تو لاڈلی بیٹی کو ایک عدد آیا نما عورت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں ہمیشہ سے اس بات کے خلاف رہی کہ بچے کو ماں کے علاوہ کوئی اور دیکھے۔ پاکستان آنے سے پہلے ہی بیٹی نے اپنی چند سہیلیوں کو لڑکی ڈھونڈنے کے لیے کہہ رکھا تھا۔

لاہور پہنچنے کے بعد ایک ادھیڑ عمر عورت کسی سہیلی کے حوالے سے اپنی جوان لڑکی کے ساتھ کام کرنے کو آئی اور تقاضا کیا ہم ماں بیٹی دونوں کو رکھیں۔ جبکہ ہمیں ایک کی ضرورت تھی۔ خیر میری سادہ لوح بیٹی نے دو لوگوں کی تنخواہ پر انہیں رکھ لیا۔ میں منع کرتی رہی کہ بیٹا ہمیں دو لوگوں کی ضرورت نہیں مگر آج کل بچے کہاں مانتے ہیں۔ ابھی اس بات کو چند دن ہی ہوئے تھے کہ ایک روز دوپہر میں کھانے کے بعد میری بیٹی نے اس عورت کو نسوار کھاتے ہوئے دیکھ لیا انہی گندی انگلیوں سے وہ ننھی بچی کے کام کرنے لگی۔ اس کو تو فارغ کر دیا مگر اب ایک نئی لڑکی کی تلاش شروع ہو گئی۔

معلوم ہوا کہ اب تو رشتے والی آنٹیوں کی طرح ملازم رکھوانا بھی ایک مکمل کاروبار بن چکا ہے۔ اس کے لیے ایجنسیاں ہیں اور اس کو چلانے والے ایجنٹ۔ ایک رشتے دار کے توسط سے کسی کا نمبر لیا کیونکہ وہ خود بھی اپنے بچوں کے لیے ان سے لڑکیاں منگواتے ہیں۔ خیر ہماری بات چیت ہوئی جس میں سے ایک لڑکی جس کی عمر 17 برس تھی اور اس کے پاس موبائل فون نہیں تھا کہ اسے گھر سے اجازت نہ تھی۔ ہم نے سوچا یہی بہتر ہے کم از کم فون کی کِل کِل سے تو بچیں رہیں گے۔ یوں وہ لڑکی ہمارے گھر چھوٹی گڑیا کے کام کرنے آئی۔ اچھی لڑکی تھی تمیزدار اور بہت چاق و چوبند۔ ذہین کہ فوراً کام سمجھ جاتی ویسے تو کام کوئی خاص تھا نہیں کہ میرے پاس استری والی الگ، دُھلائی والی الگ، صفائی ستھرائی والی الگ۔ نواسی کے بھی سبھی کام تو بیٹی خود ہی کرتی ہے۔ بس نہلاتے ہوئے اُسے ایک مدد گار کی ضرورت تھی۔

خیر وہ لڑکی جلد ہی ہمارے ساتھ گُھل مِل گئی۔ ہمیں بھی وہ بہت پیاری لگنے لگی۔ اپنے فارغ اوقات میں مَیں اُسے پڑھانے بھی لگی کہ وہ تھوڑا بہت حروف کی پہچان وغیرہ جانتی تھی۔ مجھ سے باتوں کے دوران اس نے بتایا کہ وہ نو برس کی عمر سے کام کر رہی ہے۔ مرا دل پگھل گیا کہ میرے خدا نے مجھے ہمدردی کے اس جذبے سے نوازا ہے کہ میں دوسروں کا درد محسوس کر سکتی ہوں۔ اس دوران ہمارے جیٹھ کی بیٹی کی شادی تھی جس کے مختلف پروگرام ہفتے ڈیڑھ تک چلتے رہے۔ اس شادی کے لیے ہم نے اسے چند ریڈی میڈ سُوٹ بھی خرید کر دیے۔ وہ زیادہ تر ہمارے سامنے ہی رہا کرتی تھی ہم بہت خوش تھے کہ اس کے پاس موبائل فون نہیں۔

اَب آتے ہیں کلائمکس کی طرف جس دن ہماری بھتیجی کی شادی تھی اس روز وہ لڑکی بے چین سی پھرے جا رہی تھی۔ ایم۔ ایم۔ عالم روڈ پر بڑے بھائی کے پلاٹ پر بارات آنا تھی۔ ہم سب پہنچے اور جب کھانا کھا چکے تو میری بیٹی اسے ڈھونڈنے لگی اب وہ دکھائی ہی نہ دے۔ اِدھر اُدھر بھاگ واش روم میں چیک کیا مگر وہ نہ ملی۔ میری بیٹی تو رونے لگی اور مجھ سے الجھنے لگی کہ آپ نے اس پر نظر نہیں رکھی۔ میں الگ ہکا بکا کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ بقیہ فنکشن کا تو خیال ہی نہ رہا سب اسے ڈھونڈنے میں لگ گئے۔ اسی دوران بڑے بھائی کے ڈرائیور نے بتایا کہ لڑکی گلی میں باتیں کرتی جا رہی تھی اس نے کانوں میں بلوٹوتھ لگایا ہوا تھا۔ ہم انگشتِ بدنداں رہ گئے کہ اس کے پاس تو فون نہیں تھا۔ خیر ہمارے میاں صاحب نے 15 پر فون کر کے اطلاع دی اور اس ایجنٹ اور ساتھ ہی اس کے والدین کو بھی۔ پہلے پولیس افسر پہنچے اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ماں باپ بھی آ گئے وہ بھی موبائل فون سے لاعلمی ظاہر کرتے رہے۔ خیر ان کے بیان وغیرہ لے لیے کہ لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے۔ ہم اس کے بعد گھر پہنچے اور اس کا سامان چیک تو اس میں سے فون کا چارجر نکلا اور ایک چِٹ جس پر درج نمبر کے ساتھ لکھا تھا اس پر کال کرنی ہے۔

ہم اپنی بے وقوفی پر شرمندہ ہوتے رہے کہ یہ سامان پہلے کیوں چیک نہ کیا۔ اتنے میں ہمارے بھتیجے کا فون آ گیا کہ وہ لڑکی اسی جگہ جہاں شادی تھی واپس پہنچ چکی ہے۔ ہم چونکہ ایم۔ ایم۔ عالم روڈ کے قریب ہی رہتے ہیں میرے میاں گاڑی لے گئے اسے بٹھایا اور غالب مارکیٹ کے تھانے میں جہاں اس کے والدین بیٹھے تھے پہنچایا۔ وہاں اس نے بیان ریکارڈ کروایا کہ وہ باتھ روم استعمال کرنے گئی اور رستہ بُھول گئی وہ ہر گز اس بات کو نہیں مانی کہ اس کے پاس فون ہے۔ 9 بجے سے وہ غائب ہوئی اور ساڑھے بارہ واپس آئی۔ بہرحال ہم نے شکر ادا کیا وہ مل گئی۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ کبھی بھی بغیر جان پہچان کے ملازم نہ رکھیں۔ کم عمر لڑکیاں تو بالکل بھی نہ رکھیں۔ یہ بھی پورا ایک مافیا ہے کہ رکھوانے والے ایک مہینے کی تنخواہ کے برابر کمیشن رکھ لیتے ہیں۔ عائشہ کے سامان میں سے جو ڈائری نکلی اس میں کسی لڑکے کے نام محبت کے خطوط لکھے ہوئے نکلے۔ وہ یقیناً اسی لڑکے کے ساتھ سیر سپاٹے کو گئی ہو گی۔ محبتوں کے چکر بھی عجیب ہوتے ہیں نہ عمر دیکھتے ہیں نہ وسائل۔

Facebook Comments HS