کنوارے کی فریاد


’ آج سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو‘ اس خدائی حکم کے بعد آدم اور حوا کو جنت سے نکال دیا گیا آسمانی صحائف تو گیہوں پر الزام دھرتے ہیں تاثیر بھی تو گرم ہے اس میوے کی ہمیشہ سے لباس فطرت میں کود پھاند کرتے آدم کو برہنگی کا احساس دلا دیا۔ سائنس کے مطابق ہومو سپیئن سے پہلے ہومونی انڈرتھل زمین پر بستے تھے۔ بھلے ہی اس نے تہذیب ایجاد کر لی لیکن ہر دور کا انسان اپنی ساخت، خصلت اور سرشت میں جانور ہی تھا۔ جناور پھر جناور ہے تھک کر سو جاتا ہے لیکن انسانی عقل نے اسے لامحدود حد تک ایذا پرستی کی شمتا دی ہے۔ یہ اپنی کج خیالی سے مستی میں آ کر جشن مناتا ہے۔ جس دن اچھا کماتا ہے، پیٹ بھر کر کھاتا ہے اسی شام مجرہ کرتا ہے۔ مروت اتنی کہ خواتین کی سنگت میں قدم بھی پھونک پھونک کر رکھنا، نظریں نیچی ساتھ مہذب گفتگو مگر نجی محفلیں اسی کے اشارہ ابرو کے لیے مچلتی، ترستی مسلتی ہوئی۔ سیانے اس ناآسودگی کو آرٹ بھی بولتے ہیں۔

کلینک پر ڈورے ڈالنے والیاں آئیں گی، ہماری طرح نہ کرنا اور سہیلیاں مت بنانا اب یہ مثال تم ہم پر مت آزماؤ ہم پرانے لوگ ہیں ہمیں اجازت ہے۔ اگر ابا جی میری شادی کروا کر ایک اچھے ڈیڈی کا ٹائٹل جیتنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اُنہیں مشرقی والد کی طرح میرا رشتہِ پھر میرا مکان اور خرچے کا ٹھیکہ بھی اٹھانا ہو گا۔ اُنہیں سمجھنا ہو گا کہ روٹی تو ہم روز کھاتے ہیں لیکن وہ کبھی ہمارے خوابوں میں نہیں آتی۔ اور جسم کی بھوک تزکیہ نفس سے نہیں مٹتی۔ جنسی تعلق استوار کرنے کے لیے نیچر ہم سے بہت سارے نیچ کام کراتی ہے۔ اور کمال کی بات یہ کہ ہم خود فریبی میں قدرت سے بھی زیادہ ستھرے ہو گئے ہیں۔ صاحب فرائیڈ کا نام سن کر ایسے بدک جاتے ہیں جیسے کسی نے ان کے ریشمی ازار بند کا پھندنا نوچ ڈالا ہو۔ بیٹا کتنے کریپ ہو گئے ہو تم۔ جیسے قدرت تو شراب کے نشے میں دھت تھی جب اس نے آکسیٹوسن کے اخراج کو آرگیزم سے جوڑ دیا۔ حضرت لڑکا شادی صرف درجہ بالا مقصد کے لیے کرتا ہے، پہلا بچہ بس کباب میں ہڈی ہوتا ہے۔ بڑے ہو کر والدین اس کو خوب کیش کراتے ہیں اور پھر ترکے کی تقسیم کے وقت وہی اس کے سب سے بڑے دشمن ہوتے ہیں۔

اپنی ساری حیوانی خصلتوں کے ہم نے فینسی نام رکھ لیے ہیں۔ لاڈ بھی ایک نفسیاتی حربہ ہی ہے جس کی اوٹ میں ہم مذاق اڑا کر دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور ظاہراً سگے بھی بنے رہتے ہیں۔ ہم انسانوں کا ہر ایکٹ دوسروں کی اٹینشن سے ویلیڈیشن تک سر تا پا فراڈ ہوتا ہے۔ کیا دیدہ زیب کپڑوں، اونچی ہیل کے سینڈلز، چمکتی پنڈلیوں کی نمائش میں گہرا نفسیاتی راز پنہاں نہیں۔ کیا کاروباری مقاصد کے لیے عورت اور مرد کی اوبجکٹفکیشن صدا بہار انڈسٹری نہیں۔ آسان بھاشا میں بولیں تو سیکس اور سپرچویلٹی دونوں بکتے ہیں۔ تنگ موری کے کھڑے پاجامے اور حجاب ایک ہی ٹھیلے پر بکتے ہیں لیکن اثر دونوں کا سو بٹا سو ہے ایک دنیا کو تھامتا ہے اور دوسرا آخرت میں آنکھ مچولی کے در وا رکھتا ہے۔ بندہ بولے ایسی منٹو گیری سے کیا نکالنا کہ کرنی شیرنی نے من مرضیاں ہی ہیں تو لوک سبھا میں بھاشن بازی کیوں۔ سمجھا کر استاد انسان ایسے ہی ہوتے ہیں۔

پوسٹ ماڈرن انسان ہومو ڈوّس بھی ایسا ہی ہو گا اپنے بچوں کو آنے والی زندگی میں امید اور ترقی کی نوید لیکن پرائے بچوں کے لیے وہی پرانی تاریخ اور کاٹھے ہیروز کی کہانیاں۔ تاریخ کچھ عرصے بعد ہر نظریے کا پیٹ چاک کر دیتی ہے۔ اگر سیب کانے ہیں تو گاہک کو بتا کیوں نہیں دیتے۔ کھا کر تو ویسے بھی پتا چل جائے گا۔ پھینکنے اس نے باہر ہی ہیں تو چندہ پہلے ہی بول دو ناں۔ ایسے تمہارے لونڈے تمہاری معاشرت اور اخلاقیات کا تیا پانچہ تو نہیں کریں گے۔ میں نے بڑے خواجہ صاحب سے پوچھا دادا جی ٹھرک کا کوئی علاج نہیں، بولے کر لو بیٹا نہیں تو ہماری عمر میں کرنا پڑے گا۔ بس اتنی سی بات ہے، انسان کے شرف کی داستان۔ اسی لیے سیانے بولتے ہیں جب لڑکے بڑے ہو جائیں تو پان چھالیہ بڑی کٹوری میں لایا کرو۔ لڑکوں سے چُھپ کر اکیلے پان کھاؤ گے تو ایسے ہی تمہارے پول کھولتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS