ٹرمپ کی آمد مرحبا
دسمبر کی چھٹیاں آتے ہی بیشتر پاکستانی سائبیریا کی مرغابیوں کی طرح اپنے وطن لوٹتے ہیں۔ اب دسمبر ایسا ہو چلا ہے کہ مساکین اور غریب غربا بے چارے تو ٹھیلے پر مرغی کے سوپ پی کر دسمبر کے اشعار سنا کر جی برما لیتے ہیں مگر یورپ امریکہ کے دیسی گھر آیا میرا پردیسی کی دھن پر ناچتے وطن لوٹ آتے ہیں۔ آپ بھی ان اردو میڈیم فقرا مساکین کی دل جوئی کے لیے دو شعروں کا مزہ لے لیں۔
دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی
ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے
یہ سال بھی اداسیاں دے کر چلا گیا
تم سے ملے بغیر دسمبر چلا گیا
امریکہ اور یورپ سے آنے والوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے
یورپ والے پاکستانی تارکین وطن تو امریکہ سے آنے والوں کے مقابلے میں بالکل ویسے ہیں جیسے سعودیوں کے سامنے مصری اور یمنی عرب۔ مال و منال کی کثرت و قلت سے پرے ان دو کا عربی تفاخر ان کی ناک سے مکھی بن کر چپکا دکھائی دیتا ہے ویسے ہی یورپ ترک وطن کر کے جانے والوں کا اترانا بھی لاہور کی اسموگ کی مانند سانس میں تکلیف پیدا کرتا ہے۔ اپنے ہیں سو اگنور کر کے بڑھ جاتے ہیں۔
ان امریکی مہمانوں کے لیے دسمبر کی آمد اہل سلوک و تقوی کے لیے رمضان کی آمد جیسی ہے۔ ان سب کے لیے دعوتوں میں اچھے کھانے رج کے کھانے کو ملتے ہیں جاپانی چینی دیسی حیدرآبادی کھانوں کے اب تو بڑی دعوتوں میں اسٹال لگے ہوتے ہیں۔ اس لٹ لنگر کے برعکس مین ہٹن نیویارک میں تو پائے کی ایک پلیٹ ہی پینتالیس ڈالر کی ہے، پائے کی نلی کا گودا بھی گلے میں کیکٹس بن کر اٹکتا ہے اوپر سے ڈالر کو جب روپے میں تولتے ہیں پہلی پلیٹ پر ساڑھے بارہ ہزار کا چونا لگ جاتا ہے۔ ان کے لیے اللہ کی نعمتیں بے شمار یہاں کے چشمے، دانت کی مرمت، پارلر میں بالوں کی اسٹریکیں، بکنی اور برازیلین ویکس، تولیے چادروں کی خریداری۔ سو پیار میں سودا نہیں۔ ان کی دعا ہوتی ہے کہ یا اللہ تو شادیوں میں اضافہ کر اور پاکستان کو جیسے تیسے روتا پیٹتا قائم رکھ۔
یہ مہمان پچھلے سال جس لڑکی لڑکے کی شادی میں گئے تھے۔ وہ اب سسی بے خبری کا حال لٹیا ہوا شہر بھنبھور تو نہیں۔ پچھلی شادی میں جو دولہا دلہن تھے اب وہ وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس ہیں۔ سینہ کوبی اور رانڈ رونا ہی نہیں مکتا۔ ایسی شادیوں میں پچھلے سال والی دلہن کی سجاوٹ میں کوئی کمی نہیں بس وہ دیکھنے میں دلہن نہیں ویکنسی کا ترغیب گناہ دیتا کوئی حسین بل بورڈ ہے۔ ان مہمانوں کو اس کی برباد شدہ شادی کی پہلے ہی خبر مل چکی ہوتی ہے کہ وہ تو ٹوٹ گئی ٹوٹ کے چور ہو گئی۔ جاننے والے قریبی ہوں تو پار سال کی مبارکباد، پرسے میں بدل جاتی ہے۔ امریکہ سے آنے والوں نے لڑکی والوں کا کھانا کھایا تھا تو اب لڑکے کی برایئاں بیان ہوں گی۔ ”میرے میاں نے تو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا کہ ذاکر خان کی بھاشا میں لونڈا اتنا کڑک نہیں سالڈ gay ہے، ایک دم چھکا“ ۔ یہ سن کر سب کی کھلی چھوٹے گی ہنسی کا برج الخلیفہ اور اونچا ہو جائے گا اسی میں کوئی بدیسی مہمان نکتہ اٹھائے گا ”ابھی ٹرمپ کے سفیر گرنیل اور لکسم برگ کے Xavier Bettel اور فرانس کے وزیر اعظم Gabriel Attal ہو تو وہاں ویسٹ میں اٹ از اوکے۔ نو باڈی کیرز۔ پرنسل چوائس۔ ادھر پاکستان بابا way no۔ یاد نہیں ایک مولوی کا تو وہ حال کیا کہ کاٹ کے لے گئے۔ پیچھے والوں نے شرم کے مارے پوسٹ مارٹم بھی نہیں کرایا ”۔
ایسی ہی ایک شادی میں جو چار پانچ اہل دید و فہم امریکہ سے آئے تھے اور دیسی ٹیلر سوئفٹوں اورترپتی دھمریوں کی مہندی ڈانسز کے نام پر اچھل کود سے بے زار بیٹھے تھے کہ فائر وال اور شب کے جنات ڈالوں کے خوف سے سب نے بہتر جانا کہ ملکی سیاست پر بات کرنے سے بہتر ہے کہ ٹرمپ کی آمد مرحبا کا غلغلہ بلند ہو تاکہ ویٹروں میں اگر ایجنسی والے گھسے ہوئے ہوں تو کچھ رپورٹ کرنے کو ہات نہ لگے۔ ان کے پلے نہ یہ انگریزی نام پڑیں گے نہ رپورٹ ہوگی۔ را اور موساد تو ویسے بھی صرف اسلام آباد کی بڑی شادیوں میں جاتی ہے۔ مہمانوں کے اس گروپ نے جب دیکھا کہ کوئی ویٹر پیٹر جاسوس قسم کا حوالدار قریب نہیں تو ایک مہمان کہنے لگا
اسٹیبلشمنٹ کہیں کا بھی ہو اپنی آدھی روٹی پر دال کھینچتا ہے۔ ان کے کارندے جانتے ہیں کہ نوکری کے یہ آخری سال ہیں جو لوٹنا ہے لوٹ لو۔ بعد میں کس نے پوچھنا ہے۔ جب سیل فون نہ تھے تو مشہور صحافی ارد شیر کاؤس جی کے ہاں فون سے ڈائریکٹ ڈائلنگ کرتے کرتے مشہور بیوروکریٹ روائیداد خان زچ ہو گئے۔ فون مل کے نہیں دیا تو شکایت کرنے لگے اس پر اردشیر نے اپنی مخصوص بہن والی گالی دوستانہ لہجے میں دے کر کہا۔ جب سیکرٹری تھا تو کیوں نہیں سوچا کہ لوگوں کو فون ملانے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ مہمان کہنے لگے
جب ان کو لگا کہ ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات بڑھنے لگے ہیں تو پہلے تو نو مئی کی طرح انہوں نے بھی چھ جنوری کرا دیا تاکہ ٹرمپ کی منجھی ٹھوک دیں۔ کیس پر کیس تاریخ پر تاریخ۔ سرکار سے جڑا ہر سپاہی اللہ دتا کہتا پھرتا تھا کہ دیکھنا اس کو جیل میں سڑا کے ماردیں گے۔ مقدموں سے بات نہ بنی تو پھر نیم پاگل بڈھے ریان روتھ سے چودہ جولائی کو قاتلانہ حملہ کرا دیا
اس پر ایک اور مہمان گویا ہوئی کہ ٹرمپ کے خلاف سب تھے پینٹا گون، بیوروکریسی، کارپوریشن یوکرین والے۔ میڈیا تو ان سب سے بڑھ کر۔ کہیں سے نکتہ بلند ہوا کہ امریکہ کی چھ بڑی کمپنیاں ان کا نوے فیصد میڈیا کنٹرول کرتی ہیں۔ وہی مہمان ایک ادا سے بال جھٹک کر کہنے لگی پری سائزلی (بالکل ایسا ہی ہے) اور فیصل ووڈا کے لائے ہوئے فوجی بوٹ کی طرح اپنا سینڈل اتار کر خالی کرسی پر رکھ کہنے لگی کبھی سوچا کہ ٹرمپ زیادہ اہم ہے کہ برائین تھامپسن ہیلتھ کئیر والا۔ اس کے قاتل Luigi Nicholas Mangione، 26 کو کتنی پراجیکشن دی ہے مگر کوئی اس پر راضی نہیں کہ اس کا کچا چٹھا کھولے کہ ٹرمپ کے قتل کی سازش کرتے وقت ریان روتھ کے پیچھے سوڈان تھا یا پھر اس بھوتنی کے بھانجے نے مکیش بھٹ کی بیٹی اور کپور خاندان کی بہو عالیہ بھٹ کے کہنے پرٹرمپ پر گولی چلائی تھی۔
ٹرمپ کی آمد اب کی دفعہ جن چند وعدوں پر مبنی ہے اس میں سر فہرست یہ ہیں۔ ان کا اندراج اس لیے ضروری ہے کہ عمران خان واپس آئیں تو انہیں بھی بے رحم بدلحاظ محاسبے کے سائے میں ایسا ہی کچھ کرنا چاہیے۔ ورنہ معاملہ بقول صوفی تبسم وہی رہے گا کہ
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
ٹرمپ کا فیصلہ ہو گا کہ
اول :۔ میکسکو امریکی سرحد بند کردی جائے گی۔ اسی باب میں غیر قانونی تاریکن وطن کو ڈی پورٹ کر دیا جائے۔
دوم:اب کی دفعہ ٹرمپ کا یکسوئی سے ایک ہی نعرہ تھا۔
Drill, baby, drill
یعنی تیل معدنیات اور دیگر انرجی وسائل کی تلاش کرو۔ آپ کا تو سارا زور آئین عدالتوں پر رہا اور فارم سنتالیس کاسہاگ بچانے پر رہا۔ وہ ذرا مختلف انداز سے وسائل میں اضافے کا سوچتے ہیں۔ اسے fracking boom کا نام دیتے ہیں۔ Fracking دراصل وہ طریق کار ہے جس میں ڈرل مشینوں سے قدرتی وسائل تیل گیس، تھرمل اور آبی ذخائر تلاش کرتے ہیں۔ ایک عرصے سے امریکہ کی بڑی کمپنیاں تیل گیس کے کاروبار سے ماحولیاتی دباؤ کے کی وجہ سے کاروبار سے باہر ہو رہی تھیں۔ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ اس وجہ سے امریکہ میں بے روزگاری اور غربت مین اضافہ ہو رہا تھا۔ ٹرمپ جو پانامہ کینال کے ساتھ گرین لینڈ پر تسلط کی بات کرتے ہیں اس کی تہہ میں یہ ہی عوامل کارفرما ہیں کیوں کہ گرین لینڈ افغانستان کی طرح قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اب امریکہ نائجیریا وینزویلا اور پاکستان نہیں کہ تیل سونا اور تانبا ہو اور غربت آنکھوں میں برف والے سوئے چبھوتی ہو۔
سوم۔ اور یہ ماحولیات کس بلا کا نام ہے۔ ٹرمپ کا یہ اکثر سوال ہوتا ہے کپتان کی وزیر کو تو Environment کے درست ہجے بھی نہیں آتے تھے وزیر بنتے ہی دھڑلے سے اپنی استانی بہن کو انسداد دہشت گردی کے محکمے میں وزارت داخلہ کے سیکرٹری کے پاؤں پکڑ کر نوکری دلوا دی ہر چند کہ اس ڈائریکٹر انسداد دہشت گردی بے چاری کو ایک عرصے تک یہ بدگمانی رہی کہ وہ جو لیاری گینگ وار سے جڑا بڑا نام تھا غفار ذکری وہ دراصل اس لیے ذکری کہلاتا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے قلب ذاکر سے آراستہ وجود تھا۔ یہ لطائف ستہ (ذکر کے چھ بدنی مقامات) کے ان اعلی مدارج پر فائز تھا جس پر سلطان الذکر کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ راہ سلوک کا قلب اربعین کے چند چلوں کے بعد اگر سلطان الذکر پر جاری ہو جائے تو مسافرکو ہر چیز درختوں کے پتے کی جنبش ہوا کا شور، لہر کی قلقل سے وہی ایک ذکر سنائی دیتا ہے جس سے سینے میں ایک عجب جوش و خروش بلند ہوتا ہے اس شور سے ایک عجیب مستی و استغراق طاری ہوجاتا ہے۔ اللہ کے فضل و احسان کا ایک نفیس ادراک ہوتا ہے بندہ کنگنا رناوت کو سامنے دیکھ کر بھی سدھ گرو بنا رہتا ہے۔ یہ غفار ذکری تو ان کے نزدیک ایسا ہینڈ سم تھا کہ جسے شاہ رخ سلمان کے ساتھ بالی ووڈ میں کام ملنا تھا۔ آخر کار نگر جنا، جیکی شروف، جانی لیور نواز الدین صدیقی اور پریش راول اس سے زیادہ ہینڈ سم نہ تھے۔ سو یہ دفتر بے معنی جسے ماحولیات کا تحفظ کہتے ہیں اسے ٹرمپ کے ہاں معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ مانا جاتا ہے
چہارم :۔ کپتا ن کی طرح ٹرمپ کیمپ میں بھی یہ خیال ہے کہ جس طرح نو مئی کی سازش بھارت کی خفیہ ایجنسی را نے اس وقت کی پنجاب سرکار سے پیسے پکٹر کر برپا کی تھی بالکل ویسے ہی سن 2021 میں چھ جنوری کو جو شر پسند لاہور کا جناح ہاؤس مان کر وہائیٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس کی بلڈنگ کیپٹل ہل پہنچ گئے تھے وہ سب بائیڈن کے لوگ تھے اور اس کے چکر میں ٹرمپ کے جانثار ان کے اپنے صنم جاوید، خدیجہ شاہ بلاوجہ سرکار نے مقدمات میں دھر لیے۔ ان کو عام معافی دے دی جائے گی اور ممکن ہوا تو ان کو کسٹم کے محکمے، سندھ پولیس، ریونیو کھاتے میں ڈی ایس پی مختار کار، ہائی کورٹ کا جج بھی لگا دیں گے۔ پارٹی کے لیے ان کی بہت قربانیاں ہیں انہوں نے اپنی ننگی پیٹھ پر کوڑے بھی کھائے ہیں۔ آخر ایک مرتبہ بے نظیر نے بھی تو جہانگیر بدر کو چیف جسٹس لگانے کا ارادہ کر لیا تھا۔
پنجم: ہمارے ایک دوست بہت عرصہ امریکہ رہے، بیگم اور شہریت وہیں کی ہے۔ مال بہت بنایا۔ امریکہ مقتدرہ کے ساتھ بہت ہائی فائی قسم کے تعلقات ہیں۔ اتفاق یوں ہوا کہ ان کی اور کملا حارث کی جوانی میں ان کا دفتر کمالا حارث کا دفتر جڑا جڑا تھا۔ سو ربط بھی بہت کامیاب تھا۔ کہتے ہیں ایسی چلتر عورت ہے کہ اپنے سائے سے بھی ساتھ چلنے کا معاوضہ مانگ لیتی ہے۔ بہت لبرل ہے۔ شاہد آفریدی کی طرح کریز سے باہر نکل کر کھل کے کھیلتی ہے۔ ایسا ہی بائیڈن اور اس کا بیٹا بھی تھا۔
ویسے تو ٹرمپ بھی کوئی تہجد گزار مفتی نہیں۔ مگر یہ جو گروہ بائیڈن کے ساتھ جڑا تھا اس کے ہاں جنس اور بے راہ روی کا بہت چلن تھا۔ جان لیں امریکہ یورپ کے مقابلے میں خاصا قدامت پسند ہے۔ یہاں سڑکوں پر شراب پینا منع ہے کرغزستان کے بس اسٹاپ اور میلان اٹلی کی گلیوں میں اگر آپ اپنی رفیق راہ وحشت وصال سے مغلوب ہو کر آئی ایم کی طرح قرضے کی مطلوبہ قسط جاری کر کے through ہو جائے تو جملہ مومنین توبہ تلا کر کے گزر جاتے ہیں۔ امریکہ میں ایسا کچھ نہیں۔
اس قدامت پرست امریکہ میں بائیڈن کے عہد میں اگر بچہ یا بچی اسکول کی ہیڈ مسٹریس یا پرنسپل کو کہتا کہ اسے باجی مہک ملک، باجی محرب معیز اعوان یا نانا پاٹیکر سے سچا پیار ہے مجھے بھی ویسا ہی بنا دیں تو اس کا سرکاری خرچ پر آپریشن کرادیا جاتا والدین کی مرضی نہ چلتی۔ جامعات اور دیگر اداروں میں LGBTQ کے لیے بڑی خصوصی نوازشات اور وظائف مختص تھے۔ ان افراد کے مشہور رسالے The Washington Blade کو ایک انٹرویو میں صدر بائیڈن نے کہا تھا
میری سرکار امریکہ کیmost pro۔ LGBTQ in American history ہے۔ امریکہ میں لوگوں کا کہنا تھا کہ اب کوئی کھسرہ بھی چاہے تو ملک کی فوج کا علانیہ آرمی چیف بن سکتا ہے۔ چھپ چھپا کے وردی پہن کر جینا کوئی جینا نہیں۔ اس مادر پدر آزادی کو امریکہ کی وہ دین پرست خواتین اور مرد جو فرحت ہاشمی اورEMAM (انجنئیر محمد علی مرزا) جیسے اپنے عیسائی مبلغین اور پادریوں کی ہر بات کو سچا مانتی ہیں بہت نالاں تھیں۔ وہ اسے بے راہ روی اور بدکاری مانتی تھیں۔ اس وجہ سے ٹرمپ کو سفید فام دین دار ووٹ بہت پڑا۔ جب وہ جیت گئے اور ایک تقریب منقعد ہوئی۔ ایک حمد وہاں سیدنا عیسی کے حوالے سے خوب گائی گئی کہ How Great Thou Art (اے خداوند مسیح تم کتنے عظیم ہو) ۔ ٹرمپ کو اکثریت سے فارم سنتالیس کی مدد کے بغیر جتانے والا یہ کل 20 % ووٹ تھا اور یہ بہت واضح اور غیر متزلزل ووٹ تھا۔
ششم: بتایا نا کہ صدر ٹرمپ ماحولیات کے تحفظ کو مجذوب کی بڑ مانتے ہیں۔ چین ایسی کوئی پالیسی پر عمل نہیں کرتا۔ بائیڈن نے جب امریکہ کے لیے بجلی کار کو فوقیت دی تو چین کے پاس ایک واضح برتری بجلی کار بیٹری کے حوالے سے تھی۔ ٹرمپ چین کی اس برتری کو امریکہ میں ہیوی ٹیریف سے قابو کرنا چاہتے ہیں۔
بائیڈن دور میں اگر آپ بجلی کی کار خریدتے تو ٹیکس میں اس کی مالیت کی نصف رعایت دی جاتی تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی اس پالیسی کی زد میں ان کے سب سے بڑے کرم فرما اور دنیا کے مالدار ترین فرد ایلن مسک بھی آتے ہیں جن کی ٹیسلا کار امریکہ کی لیڈنگ بجلی کار مینوفکچرر ہے ہیں اور ٹرمپ کی انتخابی مہم میں وہ سب سے بڑے انفرادی سرمایہ کار ہونے کا درجہ رکھتے ہیں ان کا اس مہم پر پچیس کروڑ ڈالر کا سرمایہ لگا۔ جب امریکہ نے چین کو آنکھیں دکھانا شروع کیں تو چالاک چینی اپنی فیکٹریاں پڑوس کے دیس میکسکو لے آئے۔ تاکہ اپنا مال میکسکو میں بنا کر امریکہ ایکس پورٹ کر سکیں۔ ڈیوٹی اور ٹیریف کی چھوٹ کی رعایتوں کے مزے لوٹیں۔ اب آپ چین جائیں تو آپ کو علم ہوتا ہے کہ چینی ہر اس شے کو جس کی پشت آسمان کی طرف ہو، کھا جاتے ہیں سوائے ٹیبل کے۔ سو ان سے تجارت اور دیگر معاملات کرتے وقت خصوصی احتیاط کرنا ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی پچھلی حکومت میکسکو سے مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے امریکہ وہاں صنعت کاری کو بہت ترجیح دے رہی تھی۔ سو چینیوں نے چونا لگانے کا نیا سوانگ رچایا۔ اپنی فیکٹریوں کے مراکز میکسکو کی سستی لیبر کا فائدہ اٹھا کر وہاں قائم کرنا شروع کردیے۔ اس سے یوں لگتا کہ مال میڈ ان چائنا نہیں، بلکہ میڈ ان میکسکو ہے۔ سو جوتے لے لو پیسے دے دو۔
بھارت اور چین یہ دو ملک ایسے ہیں کہ یہاں کے باشندے بھلے سے کھڑے بطور وکٹ کیپر کے ہوں مگر کیچ پکڑنے مڈ آف اور کور پوائینٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔ تجارت میں مال بنانا کوئی ان دو ملکوں کے باشندوں سے سے سیکھے۔ آپ کو کیا پتہ کہ عمان میں کانس کی گوکل داس کھیم جی کو سلطنت عمان باقاعدہ شیخ کا درجہ دے چکی ہے ان کا رام داس کھیم جی گروپ اس وقت عمان کا مالدار ترین گھرانا ہے اور وہ دنیا کے واحد ہندو شیخ ہیں یہ ٹائیٹل ان کی فیملی میں موجود ہے اور اب ان کا پوتا پنکج کھیم جی اس کا حق دار ہے۔ پاکستانیوں نے تو مشرق وسطی میں ان کی ترقی میں خون جگر شامل کر کے بھی ہر جگہ ذلت سمیٹی مگر بھارتی جانتے ہیں کہ عربوں کی آنکھ میں کاجل بن کے کیسے رہنا ہے۔
ہمارے دوست کا برطانوی نژاد بیٹا دوبئی ایک بڑے رول کے فائنل میں تھا۔ ایک سرسری آخری میٹنگ کے بعد تعیناتی کی منظوری کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس نے برطانیہ میں پیکنگ شروع کردی تھی۔ گورے باس نے اسے نوید دی تھی کہ وہ منتخب ہو رہا ہے۔ کیوں کہ وہ سب سے زیادہ کوالی فائیڈ ہے۔ ریجن مشرق وسطی ہے۔ پراڈکٹ نئی، مگر بے حد قابل فروخت۔ فیصلہ سازی کے آخری راؤنڈ میں دو بھارتی شامل تھے انہوں نے بورڈ سے منظوری لی کہ اس ریجن میں نیپال بھوٹان اور بھارت کو بھی شامل کر لیں۔ بھارت بڑی مارکیٹ ہے۔ نئی پراڈکٹ کے حساب سے نقصانات وہاں سے کوور ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی امیدوار کو کسی اور نئی جگہ فٹ کر دیں گے مگر وہ بھارت کی وجہ سے موزوں نہیں۔ بہتر ہو گا کہ ہم فائنل میں دونوں بھارتی امیدواروں کو نمبر ون اور ٹو پوزیشن کے لیے چن لیں۔ پاکستانی کو بھارت، بھوٹان کا ویزہ ملنا آسان نہ ہو گا۔ یوں ایک کی بجائے دو بھارتی وہ بھی دوبئی میں بھرتی کیے گئے۔
آئیں صدر ٹرمپ کی آمد کا دوبارہ ذکر چھیڑیں۔ ٹرمپ کو ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ ان کی پرانی ٹیم نے ان کی سادگی کی وجہ سے دھوکا دیا عمران کے ساتھیوں کی طر ح اکثریت بزدار عون چوھدری، عمران اسماعیل، علی زیدی اور اسد عمر نکلی۔ ان میں اکثر تو ایسے تھے کہ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے خاتمے کے بعد اسے نابالغ رویوں کا مالک۔ صلاح و مشورے سے استفادے کی صلاحیت سے عاری اور متلون مزاج لا ابالی مرد کہنے سے بھی باز نہ آئے۔
انہیں سب سے پہلے برا بھلا کہنے والے ان کے فوجی ساتھی تھے۔ اسی لیے ٹرمپ کو پینٹاگون اور واشنگٹن کی بیورو کریسی پر بہت غصہ ہے۔ اسے معتوب و مجہول ٹھہرانے میں سر فہرست ڈیفنس سیکرٹری جیمز میٹس تھے۔ ٹرمپ جو نواز شریف کی طرح وفاداری کو قابلیت پر ترجیح دیتے ہیں ان پر ان فوجی ساتھیوں نے یہ تیر دشنام ملکی پالیسیوں پر چلائے جن سے ان کا اپنا کوئی واسطہ نہ تھا۔ نیوی کے سیکرٹری اسپنسر، وزارت خارجہ کے مشیر جیمز بولٹن، ان کے پرنسپل سیکرٹری ان کے اعظم خان جان کیلی اور سب سے بڑھ کر نکی ہیلی اور سابق سابق اٹارنی جنرل۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو سیدنا ذہین تاجی کے بقول
تو نے کیا کیا نہ بنایا کوئی کیا کیا نہ بنا
اب کی دفعہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جو ٹیم آ رہی ہے ان میں چار باتیں بہت مشترک ہیں۔ باقی تین کا ذکر ہم اپنے مضمون بھارت ماتا کی جے میں کریں گے۔
پہلی۔ اکثریت ڈالروں میں کروڑ پتی افراد کی ہے۔ ایلن مسک، وویوک رامسوامی، ٹل میں فرٹیٹا، فن برگ، وارن اسٹیفن، تعلیم کی وزیر لنڈا میک موہن، ناسا کے نئے چیف آئیزک مین جارڈ، وزیر تجارت لوٹ نک، کیلی لو ایف لر،
صدر ٹرمپ جو خود بھی ارب پتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس وقت امریکی تاریخ کی مالدار ترین افراد پر مشتمل ہوگی۔ دعوت میں موجود گروہ کا خیال تھا کہ مالدار لوگ رجے ہوئے ہوتے ہیں، اور لوٹ مار سے پرے رہتے ہیں۔ ان میں کامیاب ہونے کا زیادہ رجحان ہوتا ہے، وہ بہتری کے آرزو مند ہوتے ہیں۔
اے کاش وہ پاکستان کے مالدار وزرا اور سابق جرنیلوں اور افسروں کا پیٹ ٹٹول کر دیکھ لیں کہ بھرگیا یا مزید لوٹ مار کی گنجائش باقی ہے۔













