زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے
”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“
یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود کو بتایا کہ میں انھیں فوراً پہچان گیا تھا تو بتانے لگے کہ وہ ان دنوں اپنی بیٹی سے ملنے کینیڈا آئے ہوئے ہیں اور میرا نمبر انھیں ہمارے مشترکہ لاہوری دوست طاہر اسلم گورا نے دیا تھا جو اس وقت بھی ان کے ساتھ تھے۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس وقت امریکہ کے سفر پر ہوں اور فیملی کے ساتھ کار دوڑاتا ہوا پینسلوینیا عبور کر رہا ہوں تاکہ جلد از جلد اپنی منزل یعنی ورجینیا پہنچ جاؤں مگر کیا کروں کہ راستے کے خوب صورت مناظر سفر کا دورانیہ طویل کیے دے رہے ہیں۔ گویا میں رُک رُک کر چل رہا ہوں۔
میری بات سُن کر انھوں نے وہی قہقہہ بلند کیا جو گویا ان کا ’ٹریڈ مارک‘ بن گیا تھا۔ ”تے واپس کدوں آئیں گا“ قہقہے کے دوران ہی انھوں نے پنجابی ہی میں استفسار کیا تھا۔ وہ لاہوری دوستوں کے ساتھ بالعموم پنجابی ہی میں بات کرتے تھے۔ ہاں، حلقۂ اربابِ ذوق اور دیگر ادبی تنظیموں کے اجلاسوں کی اور بات ہے کہ ان میں تو گفتگو اردو میں کی جاتی تھی۔ پنجابی ادبی سنگت اور ادبی پروار میں البتہ وہ دل کش پنجابی بولتے اور شاعری سناتے ہوئے بھی دیکھے جاتے تھے۔ چند روز میں لوٹ آؤں گا اور آتے ہی ملاقات کی صورت بناؤں گا۔ ”میں نے ان کے سوال کے جواب میں نے کہا تھا۔“ چل فیر ٹھیک اے۔ توں چلا گڈی۔ واپسی تے ملاقات ہوئے گی۔ ”انھوں نے کہا اور خدا حافظ اور رب راکھا کے ساتھ ہمارا مختصر مکالمہ مکمل ہو گیا۔ ہماری کار اب ریاست ورجینیا کے سرسبز درختوں سے اٹی ایک ڈھلوانی سڑک پر دوڑ رہی تھی اور ادھر میرا ذہن یادوں کی ست رنگی وادی میں اتر رہا تھا۔“
”اوئے، حامد یزدانی۔ کیہڑے ڈیپارٹمنٹ وچ داخلہ ہویا اے تیرا یونیورسٹی وچ؟“
پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوتے ہی زاہد مسعود نے سیدھا بائیں دیوار کے ساتھ صوفے والے آخری میز کا رُخ کیا تھا جہاں ہم نوجوان ایک دوسرے میں تقریباً ”دھنسے“ بیٹھے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی انھوں نے یہ سوال میری جانب اچھال دیا تھا۔ اور میرا دھیما سا جواب تھا سوشیالوجی میں۔ ”اوئے یار توں شرما کیوں ریہا ایں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ۔ نیو کیمپس۔ واہ۔ فیر تے موجاں ہو گئیاں۔ مطلب توں اوس پرستان دا باشندہ بن گیا ایں۔ لا ٔ کالج کیہڑا دُور اے۔ میں آواں گا تینوں ملن لئی۔“
انھوں نے مسکراتے ہوئے اتنا کہا اور ساتھ والے میز کی جانب مُڑے جہاں عباس نجمی کسی بات یا شعر پر اقبال ساجد کے ساتھ الجھ رہے تھے۔ زاہدنے جلدی سے عباس نجمی کا ہاتھ پکڑا اور ڈاکٹر سہیل احمد خان، انجم رومانی، انیس ناگی، جاوید شاہین اور انتظار حسین کے میزوں کے پاس سے گزرتے ہوئے انھیں ٹی ہاؤس سے باہر لے گئے اور میں اپنے دوستوں مختار حسین کھرل، علی اصغر عباس، عباس تابش، غضنفر علی ندیم، اظہر غوری، وسیم گوہر اور طارق کامران کے ساتھ وہیں بیٹھا رہا۔ ضیا الحسن، آفتاب حسین اور امجد طفیل درمیان والے میز پر سراج منیر، پروفیسر محمد خالد، ابرار احمد اور غلام حسین ساجد صاحبان کے ساتھ محوِ گفتگو تھے۔
اور پھر اگلے روز زاہد واقعی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ آ گئے۔ بظاہر مجھ سے ملنے مگر دراصل ”پرستان ’کی سیر کرنے۔ پھر گویا یہ ان کا معمول بن گیا۔ وہ ہر دوسرے تیسرے روز آ جاتے۔ ہم کیفے ٹیریا میں چائے پیتے، گپ شپ کرتے اور مل کر ہنستے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہنستے تو زاہد مسعود ہی تھے میں تو اُن دنوں اتنا شرمیلا تھا کہ ہنسنے کی بات پر بھی جھینپ جھینپ جاتا تھا اور وہ اس صورتِ حال سے بہت لطف اٹھاتے۔ ایک خاص بات یہ کہ ان ملاقاتوں میں نہ وہ کبھی اپنی شاعری مجھے سناتے تھے اور نہ کبھی مجھے‘ دعوتِ سخن سرائی ’دیتے تھے۔ میں ان کی شاعری‘ ماہِ نو ’، ‘ فنون ’اور ایسے ہی دوسرے معیاری ادبی جرائد میں پڑھا کرتا تھا یا پھر حلقہ کے اجلاس میں سنا کرتا تھا جب وہ تنقید کے لیے اپنی کوئی تخلیق پیش کرتے۔
زاہد مسعود اپنے ابدی قد کاٹھ کی طرح عمر میں بھی مجھ سے بڑے تھے۔ سو، ہماری دوستی میں میری جانب سے احترام کا عنصر ہمیشہ شامل رہا۔ لیکن وہ بالکل بے تکلف تھے۔ کچھ بھی پوچھ لیتے تھے۔ کچھ بھی کہہ دیتے تھے، کسی بھی جھجک کے بغیر۔ ٹی ہاؤس میں اگرچہ وہ ہر کسی سے نہ ملتے تھے مگر ان کی میل ملاقات بہت تھی۔ ان کا حلقۂ احباب کشور ناہید صاحبہ اور جناب عطا الحق قاسمی سے لے کر زاہد حسن اور مجھ سے کم گو اور کم دیدہ لکھاری تک پھیلا ہوا تھا۔
میں ابھی پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ ہی رہا تھا کہ یاروں نے حلقہ ارباب ذوق کے انتخابات میں کھڑا کر دیا۔ میں سخت گھبرایا ہوا تھا کیوں کہ مجھے رُکن بنے ابھی ایک ہی سال تو ہوا تھا۔ اور پھر میری طبعی کم آمیزی اور کم گوئی بھی ’تعلقات عامہ‘ کی راہ میں بڑی رکاوٹیں تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ علی اصغر عباس اور عباس تابش ہی کی ہمت تھی کہ انھوں نے ناہید شاہد کے ساتھ مل کر نہ صرف زاہد مسعود، ڈاکٹر سعادت سعید، پروفیسر محمد خالد، خالد احمد، سراج منیر، عالم خان، ارشاد حسین اور مبارک احمد کی حمایت میرے لیے حاصل کی بلکہ بھرپور انتخابی مہم بھی چلائی۔ اعجاز رضوی، طارق کامران، مختار حسین کھرل، اصغر عابد، ضیا الحسن، امجد طفیل، اقبال نواز، ناصر رانا اور عمران نقوی سمیت سبھی دوستوں نے میرا ساتھ دیا۔ مجھے ہر شام زاہد مسعود سمیت ان دوستوں اور بزرگوں کو اپنے دن بھر کی انتخابی کارروائیوں کی رپورٹ دینا پڑتی تھی اور اپنی ’نالائقی‘ پر محبت اور نصیحت بھری ڈانٹ بھی کھانا پڑتی تھی۔ کیسے پُرخلوص لوگ تھے! اب بھی ان سب کی محبتوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو قلب و روح سرشار ہو جاتے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک روز انتخابی مہم کے دوران میں جب میں رسالہ ’ماہِ نو‘ کے دفتر قائم نقوی صاحب سے مل چکا تو اپنے دوست ڈاکٹر جاوید انور کے ساتھ رسالہ کی ایڈیٹر کشور ناہید صاحبہ کے کمرے میں بھی جا پہنچا۔ وہ سامنے ایک بڑے میز کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ ان کے بائیں جانب زاہد مسعود بیٹھے تھے۔ ہم نے سلام کیا۔ زاہد مسکرائے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ میں ووٹ مانگنے آیا ہوں۔ کشور صاحبہ نے کٹے ہوئے امرود کی ایک طشتری ہمارے سامنے کردی۔ کھاؤ، ہم بھی یہی کھا رہے ہیں۔ امرود صحت کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ کیوں ڈاکٹر ”۔ کشور صاحبہ نے ڈاکٹر انور جاوید کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔“ جاوید نے فوراً کہا ”جی، طبی طور پر اس کے کئی فائدے بتائے جاتے ہیں اور آج ہمیں زاہد مسعود کی صحت کا راز بھی پتہ چل ہی گیا۔“ اس پر کمرے میں ملا جلا قہقہہ گونج اٹھا۔ ظاہر ہے اس میں زاہد مسعود کا قہقہہ سب سے جان دار اور ’دیرپا‘ تھا۔
اگلے روز طے شدہ پروگرام کے مطابق میں انتخابی مہم پر ریڈیو پاکستان پہنچا تو زاہد مسعود سے پھر ملاقات ہو گئی۔ وہ ارشاد بھائی کے کمرے میں ناہید شاہد کے ساتھ بیٹھے تھے۔ خوش گپیاں ہوئیں۔ حلقہ کی باتیں چلیں۔ ٹی ہاؤس کی گرما گرم ادبی چپقلشوں پر تبصرے ہوئے، اسرار زیدی صاحب کے بدلتے سیاسی پینتروں کا تجزیہ کیا گیا اور ریڈیو کینٹین کی چائے کے ساتھ ایک دوسرے کی خوب چُغلیاں کھائی گئیں۔ ”زاہد صاحب، کل آپ سے کہاں ملاقات ہو رہی ہے؟ آپ خود ہی بتا دیں۔ کیوں کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی آپ میری منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔“
اس پر سب کھلکھلا دیے۔ گورا دے دفتر۔ کل اوتھے ای ملاں گے۔ ”زاہد نے کہا۔“
جب سے طاہر اسلم گورا نے پاکستان بکس اینڈ لٹریری ساؤنڈز کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا تھا۔ اکثر دوست لکھاری دن میں ایک چکر ادھر کا ضرور لگاتے تھے۔ زاہد بھی باقاعدگی سے وہاں جاتے تھے۔
جرمنی سے لاہور واپسی پر اسی دفتر میں جب میرے پہلے شعری مجموعہ ”ابھی اک خواب رہتا ہے“ کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت جناب شہزاد احمد نے کی تھی اس میں بھی زاہد مسعود نے میری شاعری اور شخصیت پر ایک ہلکی پھلکی تحریر پڑھی تھی جس کے بعض جملوں نے محفل کو واقعتاً زعفران زار بنا دیا تھا۔ ظاہر ہے ہم عصری کا حق ادا کرتے ہوئے اس میں انھوں نے مزاح کی آڑ میں مجھ پر طنز کے بھی کچھ ”دوستانہ“ تیر برسائے تھے۔ سب بہت محظوظ ہوئے۔ تقریب کے بعد مجھے ایک طرف لے جا کر پوچھنے لگے ”کیوں بھئی، حامد یزدانی، کیسا لگیا میرا مضمون؟“ میں نے کہا کہ اچھا تھا۔ سبھی داد دے رہے تھے۔ لیکن ان کا اصرار تھا کہ میں اپنی رائے دوں۔ جس پر میں نے مودٔب انداز میں اپنے احساسات بیان کر دیے۔ وہ تو مسکراتے رہے مگر مجھے بعد ازاں محسوس ہوا کہ مجھے وضاحت کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ کیوں کہ جب انھیں لگا کہ مضمون کا کچھ حصہ مجھے پسند نہیں آیا تو انھوں نے وہ مضمون غالباً ضائع کر دیا جس کا مجھے افسوس رہا۔
حکومت ِ پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ حیرت ہے کہ یہ سرکاری اعزاز بھی ان کے مزاج کو نہ بدل سکا اور وہ پہلے ہی طرح ایک ہنس مُکھ انسان اور ایک کھرے دوست رہے۔ ان کی کتابوں میں ’شہر آئینہ‘ ، ’آدھے راستے میں‘ ، شہر آشوب اور ’کنی کنی دریا‘ کو ادبی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔
یہی باتیں اور یادیں امریکہ کے سفر میں میرے ساتھ رہیں اور واپسی پر زاہد سے ملاقات کا اشتیاق اور بھی بڑھ گیا۔ مگر افسوس، جس روز میں واپس کینیڈا پہنچا وہ لاہور کے لیے پرواز کرنے والے تھے اور ائر پورٹ جا رہے تھے۔ فون پر بات ہوئی۔ وعدہ کیا کہ اگلی ملاقات میں اس بار کی تشنگی مٹائیں گے اور دیر تک ساتھ رہیں گے۔ میں نے تاسف بھرے لہجے میں کہا ’ٹھیک ہے، ان شا اللہ‘ ۔ مگر پھر بس سوشل میڈیا پر ہی ایک دوسرے کی تصاویر اور پوسٹس دیکھتے رہے۔ میں یہاں برسوں اور میلوں کے فاصلے پر واقع کرہ ارض کے شمالی کونے کے برف زار میں آتے جاتے نت نئے موسموں کے جِلو میں اپنے پرانے دوستوں کی یادوں بھری دھوپ میں بھیگا کرتا ہوں۔ چشمِ تصور وا کر کے زاہد مسعود سے پوچھتا ہوں تو وہ مجھے اپنی یہ نظم سنانے لگتے ہیں
پُرانے دوستوں کے لیے
تم ایسا کرنا
ایش ٹرے میں جمی راکھ کھرچ کر
اس میں آنسو ملانا
اس طرح
جو دھواں پیدا ہو گا
اسے ڈاکیے کے تھیلے میں بھر دینا
میں تمہارے خط کے بھیگے ہوئے حروف خشک پتوں سے سکھا لوں گا
تمہیں یاد ہے
ایک بار ہم نے خودرو پھولوں کو مسل کر
آگ، پانی، ہوا اور مٹی کے رنگ بنائے تھے
مگر وہ کاغذ سے پھسل کر
دیواروں سے چپک گئے
تم ایسا کرنا
وہ رنگ اتار کر اس غبارے والے کو دے دینا
جو چھوٹی چھوٹی نظموں کے عوض غبارے دینے کی صدا لگاتا ہے
تمہیں یاد ہے
ہم نے کئی بار ایسے نغمے لکھے
جن کی دھنیں سازوں میں حنوط کر لی گئیں
گویئے اور سازندے راگوں کی مرکیاں اپنی سسکیوں کے ہمراہ
نگلتے ہوئے گلی کا آخری موڑ مڑ گئے
خدا کے لئے تم ان کا تعاقب نہ کرنا
ہم آنسوؤں، خود رو پھولوں، دیواروں سے اترے رنگوں اور گیتوں کو ملا کر
ایک اچھی سی مسکراہٹ بنائیں گے
اور اسے ہونٹوں پر سجائیں گے
ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے
ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے ’۔‘ میں یہ مصرع دہراتا ہوں اور دل کی گہرائی میں چُھپا کوئی محبت سے سرگوشی کرتا ہے کہ حرف و احساس کو زندگی دینے والا یہ مخلص دوست اور تازہ کار لکھاری کچھ دیر نہیں بہت دیر زندہ رہے گا۔ قلب و ذہن تک پھیلی ہماری یادوں میں اور زمانہ زمانہ بکھرے اوراقِ ادب میں۔ بہت دیر زندہ رہے گا۔
(زاہد مسعود کے لیے منعقدہ اس تعزیتی ریفرنس کے لیے لکھا گیا جس کا اہتمام حلقہ ٔ اربابِ ذوق لاہور نے پاک ٹی ہاؤس لاہور میں کیا تھا)



