میرا ادبی نقطہ نظر
دو ادبی تکونیں
جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت کا حامل ہے کیونکہ ایک کتاب ایک قاری کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
بڑی تکون کے بھی تین کونے ہیں۔ زبان، سماج اور تاریخ۔ ادیب کسی مخصوص زبان میں لکھتا ہے اور وہ زبان کسی سماج کا اجتماعی ورثہ ہوتی ہے جسے سب نے مل کر تخلیق کیا ہوتا ہے۔ اور وہ سماج انسانی تاریخ کا حصہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ادب انسانی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ادب کی تعریف اور اقسام
میری نگاہ میں ادب کی تعریف روایتی ادیبوں سے قدرے مختلف ہے۔ روایتی ادیب صرف غزلوں، نظموں، افسانوں، ناولوں اور ڈراموں کو ہی ادب سمجھتے ہیں لیکن میری نگاہ میں فلسفہ، نفسیات اور سماجیات بھی ادب کا حصہ ہیں۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ماہر نفسیات اور بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائڈ کو اپنی زندگی میں نفسیات کا کوئی ایوارڈ تو نہ مل سکا لیکن ادب کا گوئٹے ایوارڈ ضرور مل گیا۔ اسی لیے میری نگاہ میں یونانی فلسفی افلاطون کے مکالمے
چینی دانشور کنفیوشس کے اقوال اور سرخ فام قبائل کے سردار چیف سئیٹل کی تقاریر بھی ادب عالیہ کا حصہ ہیں۔
میری نگاہ میں ادب کی دو اقسام ہیں۔ تفریحی ادب اور تخلیقی ادب جو ادب عالیہ بھی کہلاتا ہے۔ تفریحی ادب کا مقصد Entertainment جبکہ ادب عالیہ کا مقصد Enlightenment ہوتا ہے۔
میں تفریحی ادب کے خلاف نہیں ہوں کیونکہ ہر ادیب شاعر اور دانشور آزاد ہے کہ وہ کس قسم کا ادب تخلیق کرنا چاہتا ہے یا کر سکتا ہے۔ کیونکہ ہر ادیب شاعر اور دانشور اپنی سوچ، اپنی فکر اور اپنی استطاعت کے مطابق ہی تخلیق کرتا ہے۔
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
مغرب میں بھی Harlequin Romances نہ صرف لکھے جاتے ہیں بلکہ اسے ہزاروں لاکھوں لوگ اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح مشرق میں ‘حور’ اور ‘زیب النسا’ کے افسانے پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ‘حور’ اور ‘زیب النسا’ میں چھپنے والے افسانے، فنون، ، اوراق، اور، نقوش، میں چھپنے والے افسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
تفریحی ادب قاری کو ایک خیالی اور فینٹسی کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ وہ ادب اسے حقیقی زندگی سے دور کر دیتا ہے۔ وہ اسے زندگی سے کچھ عرصے کے لیے فرار کا راستہ دکھاتا ہے۔ قاری جب اس فینٹیسی سے واپس حقیقی زندگی میں لوٹتا ہے تو اس کی عملی زندگی کے نفسیاتی سماجی اور معاشی مسائل اسی طرح اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
تفریحی ادب کے مقابلے میں تخلیقی ادب اور ادب عالیہ قاری کو زندگی سے دور کرنے کی بجائے اس کے اور قریب لے آتا ہے۔ وہ اس پر زندگی کے کچھ راز منکشف کرتا ہے وہ اسے زندگی کی بصیرتوں کے ایسے تحفے پیش کرتا ہے جو اس کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادب عالیہ انسانوں کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں مدد کرتا ہے اور اسے ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب اور پرامن معاشرہ تخلیق کرنے کی تحریک دیتا ہے۔
میں گفتگو کے اس موڑ پر اس خیال کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ ادب عالیہ کا مقصد Enlightenment ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ قاری کو محظوظ نہیں کرتا۔ لیکن وہ ادب قاری سے اعلیٰ ادبی ذوق کا متقاضی ہوتا ہے۔ غالب کا ایک شعر ہے
شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
اس شعر سے محظوظ و مسحور ہونے کے لیے قاری کے ادبی روایت سے واقف ہونے اور اعلیٰ ذوق کی ضرورت ہے۔ غالب کے شعر کے مقابلے میں یہ اشعار دیکھیے
رہے ان کے بہانے ہی بہانے
بہانے ہی بہانے مار ڈالا
دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں
ایسے اشعار سے محظوظ ہونے کے لیے اعلیٰ ادبی ذوق کی کوئی زیادہ ضرورت نہیں۔
ادب عالیہ تخلیق کرنے کے لیے ادیب، شاعر اور دانشور کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندگی کا گہرا مشاہدہ، تجربہ، مطالعہ اور تجزیہ کرتا ہو۔ وہ الفاظ اور ردیف قافیہ کے صوقی اثرات سے کھیلنے کی بجائے الفاظ کی کوکھ میں چھپے معانی اور ان معانی کے زندگی سے گہرے رشتے سے بھی واقف ہو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ ترکیبیں تشبیہیں اور استعارے بن جاتے ہیں اور قاری کو زندگی کی گہری سچائیوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اردو ادب کی بدقسمتی یہ رہی کہ غزل کی روایت مشاعرے کی روایت سے بغل گیر ہو گئی جس کا محور دانائی سے جڑنے کی بجائے داد حاصل کرنا اور واہ واہ کرنا بن گیا۔ بقول مشتاق احمد یوسفی جو شعر مشاعرے میں بیک وقت پانچ ہزار لوگوں کو سمجھ آ جائے وہ شعر اور سب کچھ تو ہو سکتا ہے ادب عالیہ کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ ادب عالیہ قاری کو زندگی کے بارے میں کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کافکا کہتے ہیں کہ اچھا افسانہ وہ ہے جو قاری کو مجبور کرے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے۔ اوکٹاویو پاز کا کہنا ہے کہ ادبی ذوق رکھنے والا قاری کوئی ادبی تحریر پڑھنے میں جتنا وقت خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وقت اس پر غور کرنے میں صرف کرتا ہے۔ قاری وہ تحریر بار بار پڑھتا ہے تا کہ اس تحریر کے مختلف تخلیقی پہلوؤں کو چھو سکے۔ میں آپ کو اقبال کا ایک شعر اور ایک گمنام فلسفی کا ایک جملہ سناتا ہوں جن پر میں نے بہت غور کیا اقبال کا شعر ہے
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
ایک فلسفی کا جملہ ہے
There is more self love than love in jealousy
سقراط کا قول ہے
Unexamined life is not worth living
میری نگاہ میں ادب عالیہ کا تعلق زندگی اور دانائی سے ہے۔ میں اسے Wisdom Literature کا نام دیتا ہوں۔ دانائی کے بارے میں میرا ایک جملہ ہے
Wisdom is the inner light that helps us see in the dark
اصناف سخن کی تین اقسام
میں نے جب مغرب میں مشرقی مہاجر ادیبوں کے انٹرویو لیے تو مجھے احساس ہوا کہ شاعروں، افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں کا مختلف اصناف میں لکھنے کی وجہ سے ان کا تخلیقی تجربہ ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ ان ادیبوں کے تجربات کے بارے میں غور کرتے ہوئے مجھے اپنی نانی اماں یاد آ گئیں جو کہا کرتی تھیں کہ پانی حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں پہلا طریقہ بارش ہے جس کے لیے انسان کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب بادل برسنے لگتے ہیں تو انسان کو بغیر محنت کے پانی مل جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ دریا سے پانی ملنا ہے جس کے لیے دور تک پیدل جا کر پانی حاصل کرنا پڑتا ہے اور تیسرا طریقہ کنواں کھودنے کا ہے جس کے لیے کافی عرصے تک محنت اور ریاضت کرنی پڑتی ہے۔
ادب کی تخلیق میں یوں لگتا ہے جیسے بارش سے پانی حاصل کرنے والا شاعر ہے جس پر چلتے پھرتے سیر کرتے نہاتے گھر کا کام کرتے شعر نازل ہونے لگتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے تھوڑی ہی دیر میں غزل مکمل ہو جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے اس پر اشعار کی بارش ہو رہی ہو۔ دریا سے پانی لانے والا افسانہ نگار ہے جسے آرام سے کاغذ قلم لے کر چند گھنٹے بیٹھنا پڑتا ہے تا کہ افسانہ مکمل ہو سکے۔ کنواں کھودنے والا ناول نگار ہے جو کئی مہینے اور کئی سال اپنے کرداروں اور پلاٹ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے سرگوشیاں کرتا ہے اور پھر ناول مکمل کرتا ہے۔ اگر پہلے ڈرافٹ سے مطمئن نہ ہو تو دوسرا تیسرا چوتھا ڈرافٹ لکھتا ہے پھر ایک ڈرافٹ کو قبول کر کے باقی ڈرافٹ رد کر دیتا ہے۔ ناول لکھنے کے لیے بہت سی محنت مشقت اور ریاضت کی ضرورت ہے جو شاعر اور افسانہ نگار سے بہت مختلف ہے۔
ان انٹرویوز سے مجھ پر منکشف ہوا کہ مختلف اصناف سخن میں تخلیقی اظہار کرنے والوں کا تخلیقی تجربہ ایک دوسرے سے کتنا مختلف ہوتا ہے۔
ادیب کی زندگی کے تین ادوار : روایت، بغاوت اور دانائی
جب میں نے ان ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کیا جنہوں نے ادب میں گرانقدر اضافے کیے تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں مختلف ادوار سے گزرے۔ پہلا دور روایت کا تھا۔ اس دور میں ادیبوں نے اپنے عہد کی ادبی سماجی اور سیاسی روایتوں سے آگاہی حاصل کی۔ دوسرا دور بغاوت کا تھا۔ اس دور میں ادیبوں نے ادب کی پابندیوں اور سماج کی نا انصافیوں کے خلف احتجاج کیا۔ اس کی اردو شاعری میں مثال ن م راشد اور میرا جی کا غزل کی پابندیوں کے خلاف بغاوت کر کے آزاد نظمیں لکھنے کا تجربہ ہے اور اردو افسانے میں مثال سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کے افسانے ہیں جنہوں نے سماج کی منافق زندگی کے خلاف احتجاج کیا۔ مغرب میں اس کی مثال ورجینیا وولف اور جیمز جوئیس کی شعور کی رو میں لکھی ہوئی تخلیقات ہیں۔ تیسرا دور دانائی کا دور تھا۔ اس دور میں بغاوت کے جذبات کی شدت کم ہوتی ہے اور دانائی کے جذبات فراواں ہوتے ہیں۔ جیسے دریا پہاڑوں سے اتر کر وادی میں بہنا شروع ہو گیا ہو۔ دانائی کی تخلیقات بصیرت افروز ہوتی ہیں جیسے دیومالائی اور اساطیری کہانیاں۔ اس دور میں ادیب اپنے آدرش بڑے تحمل، بردباری اور پرسکون انداز میں پیش کرتا ہے۔
جدلیاتی حوالے سے دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے روایت کا دور تھیسس thesis کا دور تھا بغاوت کا دور اینٹی تھیسس antithesis کا دور تھا اور دانائی کا دور سنتھسز synthesis کا دور تھا۔ ادب اور سماج کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے اور ادب انسانی شعور کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت
میں نے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے انٹرویوز اور سوانح عمریوں کے مطالعے اور تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہر دور اور ہر صدی میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں۔ ایک گروہ اس اکثریت کا ہے جو روایت کی شاہراہ پر چلتا ہے میں اسے روایتی اکثریت کہتا ہوں۔ دوسرا گروہ اس اقلیت کا ہے جو من کی پگڈنڈی پر چلتا ہے میں اسے تخلیقی اقلیت کہتا ہوں۔ تخلیقی اقلیت اپنے آدرشوں کے لیے قربانیاں دیتی ہے۔
جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیقی اقلیت کے جینون غیر روایتی ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کی من کی پگڈنڈیاں اگلی نسل کی شاہراہیں بن جاتی ہیں۔ ایک صدی کے ولن اگلی صدی کے ہیرو بن جاتے ہیں۔
قاری کی اقسام
میری نگاہ میں قاری تین گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا گروہ عام قارئین کا ہے جو دن بھر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے غم دوراں غم جاناں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے بیوی بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔ انہیں دن رات گھر کے کرائے بچوں کی تعلیم اور بیوی کے علاج کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ گھریلو ذمہ داریوں سے جب فراغت ملتی ہے تو وہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ایسے قاری ادب اور فلسفے کی مباحث سے دور رہتے ہیں۔ وہ تفریحی ادب کو زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ ادب اور فن کی پیچیدگیوں اور رموز پر زیادہ وقت نہیں گنوانا چاہتے۔ دوسرا گروہ ادیبوں اور شاعروں کا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی شعر کہتے ہیں افسانے اور کالم لکھتے ہیں اور ان کے دوست بھی افسانے، ناول اور کالم تخلیق کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ دوسروں کی تخلیقات بڑے غور و خوض سے پڑھتے ہیں اور ان تخلیقات سے محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہم عصروں سے رشک و حسد کا رشتہ بھی قائم کر لیتے ہیں اور عمر بھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں۔ تیسرا گروہ نقادوں کا ہے جو ہر تخلیق کو تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اگر انہیں کسی تخلیق میں کوئی سقم نظر آئے تو اسے چھپانے کی بجائے اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ وہ مختلف مکاتب فکر سے واقف ہوتے ہیں اسی لیے وہ ہر تخلیق کو دوسرے ادیبوں کی تخلیقات سے موازنہ بھی کرتے ہیں۔
HERMANEUTICS
ادب کی مختلف تحریکوں میں سے ایک تحریک ہرمانیوٹکس کہلاتی ہے اس مکتب فکر کے ماننے والوں کا موقف ہے کہ کسی بھی تخلیق یا تحریر کے معنی سیال ہوتے ہیں منجمد نہیں ہوتے۔ ہر ادیب کی ہر تحریر نامکمل ہے جو قاری کے ذہن میں معنی ملنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اور ہر قاری اپنی سمجھ بوجھ اپنے تجربے اور اپنے ذوق سے اسے مختلف معانی دیتا ہے اس لیے ہر تحریر اور تخلیق کے اتنے ہی معانی ہیں جتنے قاری اگر غالب کا ایک شعر بیس لوگ پڑھتے ہیں تو اسے اپنے ذوق اور اپنی بصیرت کے مطابق بیس معانی دیتے ہیں اور اس سے مختلف انداز سے مسحور و محظوظ ہوتے ہیں۔
ہرمانیوٹکس کا معاملہ اس وقت اور بھی گنجلک ہو جاتا ہے جب ہم تراجم کا ذکر کرتے ہیں۔ ہم سب نے فرائڈ اور ینگ اور مارکس اور سارتر کو ان کی مادری زبانوں میں نہیں پڑھا بلکہ ان کی تخلیقات کے تراجم پڑھے۔ یہ تراجم اصل کے کتنے قریب تھے ہم نہیں جانتے۔ کسی ادیب نے مزاح کے انداز میں کہا تھا کہ ترجمہ: خوبصورت ہو تو وفادار نہیں ہوتا اور وفادار ہو تو خوبصورت نہیں ہوتا اس کی ایک مثال سیمن دی بوژوا کی کتاب دی سیکنڈ سیکس ہے۔ مترجم نے فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمہ تو کر دیا لیکن چونکہ وہ سیمون کے خیالات و نظریات کی پوری طرح تفہیم نہ کر پایا تھا اس لیے اس تصنیف سے انصاف نہ کر سکا۔ سیمون کو اپنی کتاب کو ایک ایسے مترجم سے دوبارہ ترجمہ کروانا پڑا جو زبان سے بھی واقف تھا اور ان کے نظریات کو بھی اچھی طرح سمجھتا تھا۔ ایک دفعہ ایک مترجم نے فیض صاحب کو ان کی نظم کا انگریزی ترجمہ سنایا تو فیض صاحب نے مسکرا کر کہا۔ مترجم کو کم از کم ایک زبان پر تو عبور حاصل ہونا چاہیے۔ فیض کی نظم کے مصرعے ”کچھ عشق کیا کچھ کام کیا“ کا ترجمہ ایک مترجم نے کیا ہے worked a little۔ made love a little
قاری اور لکھاری کا رشتہ
بعض لکھاری ساری عمر اپنے قاری سے نہیں ملتے اور نہ ہی ان سے خط کتابت یا بات چیت کرتے ہیں۔ ان کا رشتہ غائبانہ ہوتا ہے جو صرف کتاب پڑھنے تک محدود ہوتا ہے لیکن بعض لکھاری اور قاری آپس میں تبادلہ خیال کر کے ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔
جب سے میں نے، ہم سب، پر لکھنا شروع کیا ہے مجھے قارئین کے خطوط موصول ہوتے ہیں۔ ان خطوط سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ میری تخلیقات کو کس نگاہ سے پڑھ رہے ہیں۔ چونکہ میں اپنی تخلیقات میں اپنے خیالات اور نظریات کا برملا اظہار کرتا ہوں اسی لیے شروع میں میرے غیر روایتی اور غیر مذہبی بلکہ لامذہبی خیالات کے خلاف شدید رد عمل آیا لیکن میں خاموش رہا۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے غصیلے قارئین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میرے کالم کو سنجیدگی سے پڑھا اور پھر اپنے جذبات کا برملا اظہار کیا پھر میں نے ان قارئین کو دعوت دی کہ ہم ان موضوعات پر سنجیدگی سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ دھیرے دھیرے کچھ قاری مجھ سے دور ہوتے گئے لیکن زیادہ قاری میری قریب آتے گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ اختلاف الرائے اور دشمنی میں بہت فرق ہے۔ ایک قاری نے لکھا کہ میں نہ صرف آپ کے کالم پڑھتا ہوں بلکہ کمنٹ بھی پڑھتا ہوں تا کہ آپ سے سیکھوں کہ شدت پسند لوگوں سے کیسے مکالمہ کیا جاتا ہے۔ سات سال اور سات سو کالموں کے دوران میں نے اپنے قارئین سے بہت کچھ سیکھا ہے اور مجھے یہ پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ میری تخلیقات کی وجہ سے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ یہ خیال مسرت افزا ہے کہ
MY CREATONS ARE MAKING A POSITIVE DFFERENCE IN THE WORLD
زبان
ہر لکھاری کسی نہ کسی زبان میں لکھتا ہے اور وہ زبان لکھاری کے پیدا ہونے سے بہت پہلے پیدا ہوئی ہوتی ہے۔ لکھاری اس زبان کو تخلیق نہیں کرتا بلکہ وہ زبان اس لکھاری کو اپنے خیالات، جذبات، احساسات اور نظریات کے تخلیقی اظہار میں مدد کرتی ہے۔ زبان ایک زندہ چیز ہے جو پیدا ہوتی ہے پھولتی پھلتی اور پھیلتی ہے اور بعض دفعہ مر بھی جاتی ہے۔ جہاں ہر زبان کی اپنی روایات ہوتی ہیں وہیں اس کے تعصبات بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی زبان کالوں کے بارے میں متعصب ہے اسی لیے منفی چیزوں کو کالا کہتی ہے Black Sheep and Black Market اس کی دو مثالیں ہیں۔ اسی طرح اردو زبان عورتوں کے بارے میں متعصب ہے وہ مردوں کو توانا اور عورتوں کو کمزور سمجھتی ہے اسی لیے اردو زبان میں مردانہ وار مقابلہ کیا کہا جاتا ہے۔
ہر زبان اپنے عہد کی نفسیات اور سماجیات کی عکاسی کرتی ہے۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ زبانیں آسمانی کتابوں سے پہلے موجود تھیں اور کلچر مذاہب سے پہلے موجود تھے۔ ہمیں مذاہب اور مذہبی کتابوں میں اس دور کے مخصوص رجحانات دکھائی دیتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں آسمانی کتابوں کو اس پس منظر میں پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔
سماج
لکھاری اور قاری ایک مخصوص سماج کا حصہ ہوتے ہیں جس کی اپنی روایات اور اپنے قوانین ہوتے ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب لکھاریوں کو سوچنے اور لکھنے کی پوری آزادی تھی۔ دھیرے دھیرے مختلف ممالک میں زبان بندی ہونے لگی اور کتابوں کے چھپنے پر پابندیاں لگنے لگیں۔ اب ایک ایسا دور آ گیا ہے کہ دانشور اپنا سچ کھل کر نہیں لکھ سکتے۔ انہیں خطرہ ہے کہ وہ کہیں زیر عتاب نہ آ جائیں انہیں ڈر ہے کہ انہیں جیل نہ بھیج دیا جائے، ان کا سوشل بائیکاٹ نہ کر دیا جائے، انہیں ملک بدر نہ کر دیا جائے یا انہیں سولی پر نہ لٹکا دیا جائے۔ بعض معاشروں میں آپ جنس پر بات نہیں کر سکتے، بعض ممالک میں آپ مذہب پر تنقید نہیں کر سکتے اور بعض معاشروں میں آپ ریاست کو آئینہ نہیں دکھا سکتے۔ اسی لیے ہر سنجیدہ لکھاری کو اپنے عہد کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاریخ
چاہے وہ لکھاری ہوں یا قاری وہ سب انسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دور کے ادیب، شاعر اور دانشور اس دور کی ادبی روایت اور سماجی ثقافت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ میں نے تاریخ کے مختلف ادوار اور ان ادوار کے ادب کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے مختلف ثقافتوں کے ادبی ورثے کو بھی پڑھا ہے اور چیدہ چیدہ تخلیقات کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے تا کہ اردو کے قارئین عالمی ادب سے متعارف ہو سکیں اور جانیں کہ مخلتف ممالک اور ادوار میں کون سی ادبی و سماجی و ثقافتی تحریکیں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں اور انہوں نے عالمی ادب کو کیسے متاثر کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عالمی ادب نے انسانی ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
(اگلی قسط ادب کے مختلف مکاتب فکر کے بارے میں ہوگی)


