کیا آپ ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے سات مشوروں سے واقف ہیں؟


جب میں نے نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایک پروفیسر نے ہماری کلاس کے تیرہ طلبا و طالبات سے پوچھا کہ

آپ اس کلاس میں کیسے آئے؟

تو میں یہ جان کر حیران و ششدر رہ گیا کہ میں واحد طالب علم تھا جو بڑے ذوق و شوق سے وہاں آیا تھا اور ایک ماہر نفسیات بننا چاہتا تھا۔ باقی طلبا و طالبات میں سے

کوئی انٹرنسٹ بننا چاہتا تھا اور کوئی سرجن
کوئی کارڈیوجولسٹ بننا چاہتا تھا اور کوئی نیورولوجسٹ
چونکہ انہیں اپنے پسندیدہ شعبے میں داخلہ نہیں ملا تو وہ نفسیات کے شعبے میں آ گئے۔

مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی شخص کسی دختر خوش گل سے محبت کرتا ہو اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہو لیکن اس عورت کی کہیں اور شادی ہو جائے تو وہ اپنی محبوبہ کی چھوٹی بہن سے شادی کر لے۔

پچھلے دنوں میری نوجوان دوست مقدس مجید جو پاکستان میں ”نئے خواب“ پروگرام چلا رہی ہیں اور اس ادارے کی وساطت سے نوجوان مردوں اور عورتوں کو عوام و خواص کے نفسیاتی اور سماجی مسائل سے متعارف بھی کروا رہی ہیں اور ان کے مستقبل کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ان کی مدد بھی کر رہی ہیں، انہوں نے مجھے دعوت دی کہ میں ایک اچھا تھراپسٹ بننے پر ان کے دوستوں سے مکالمہ کروں۔ چنانچہ میں نے نئے تھراپسٹوں کے لیے ایک لیکچر تیار کیا۔ میں اس کالم میں اس لیکچر کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

اپنے چالیس سالہ نفسیاتی، سماجی اور ذاتی تجربے، مشاہدے، مطالعے اور تجزیے کی بنیاد پر میں ان نوجوان مردوں اور عورتوں کو جو انسانی نفسیات کے رازوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں مندرجہ ذیل سات مشورے دے سکتا ہوں۔

پہلا مشورہ

ایک اچھا تھراپسٹ بننے کا پہلا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنا ہو گا کہ ہمارے معاشرے میں نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریاں آج بھی ایک سٹگما ایک ٹیبو اور ایک شجر ممنوعہ ہیں۔

کسی بھی محفل میں لوگ اپنے دوستوں رشتہ داروں اور اجنبیوں سے بڑے آرام سے کہہ سکتے ہیں کہ انہیں ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر یا کینسر کا مرض لاحق ہے لیکن یہ کہتے ہوئے ہچکچاتے اور شرماتے ہیں کہ انہیں اینزائٹی یا ڈپریشن یا سکزوفرینیا کی بیماری لاحق ہے۔ لوگ دوسرے لوگوں کے منفی ردعمل سے گھبراتے ہیں۔ وہ ڈرتے ہیں کہ انہیں کہیں پاگل نہ سمجھا جائے۔

میں اپنے سیمیناروں میں اپنے طلبا و طالبات کو یہ بتاتے نہیں ہچکچاتا کہ جب میری عمر دس برس تھی تو میرے والد کو ایک نفسیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ایک سال بیمار رہے۔ اس دوران انہیں ایک نفسیاتی ہسپتال بھی لے جایا گیا اور ان کا بجلی کے جھٹکوں سے علاج بھی کیا گیا۔ میرے والد جب بیماری سے صحتمند ہوئے تو بہت مذہبی ہو گئے۔ انہوں نے داڑھی رکھ لی۔ سادہ لباس سادہ خوراک اور سادہ طرز زندگی اپنا لیا۔ وہ مذہب اور روحانیت کے اتنے قریب ہوئے کہ لوگ انہیں صوفی صاحب کہنے لگے۔

اب ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میرے لیے یہ ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میرے والد کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے جبکہ ان کا ایمان تھا کہ ان کا
SPIRITUAL BREAKTHROUGH
ہوا ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ذہنی بیماری کی گہرائیوں میں اتر گئے جبکہ ان کا ایمان تھا کہ وہ روحانیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

میرے دوسرے رشتہ داروں کا تو پتہ نہیں لیکن میں یہ بخوبی جانتا ہوں کہ میری چھوٹی بہن عنبرین کوثر بھی والد صاحب کی ذہنی بیماری کا ذکر کرتے قدرے پریشان ہو جاتی ہیں۔ وہ یہ تو قبول کر سکتی ہیں کہ ان کے والد عبدالباسط ایک صوفی بن گئے تھے لیکن یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ وہ ایک زمانے میں کسی ذہنی بیماری کا بھی شکار تھے۔

میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہونا نہ تو کسی مذہب کی نگاہ میں گناہ ہے اور نہ کسی قانون کی نگاہ میں جرم اس لیے ہمیں کسی نفسیاتی مسئلے کی وجہ سے ندامت و خجالت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

ذہنی بیماری کے موروثی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ مجھ میں میرے والد کی جینز موجود ہیں۔ میں نے اسی لیے بچے پیدا نہیں کیے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر میرے چار بچے ہوتے تو ان میں سے ایک یا دو ذہنی بیماری کا شکار ہو جاتے۔

دوسرا مشورہ

ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں ایک اچھے استاد کی شاگردی کا موقع ملے جو ہمیں انسانی نفسیات کے خفیہ راز سکھائے اور پڑھائے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے پاکستان میں ڈاکٹر احمد علی اور کینیڈا میں ڈاکٹر ہونگ، ڈاکٹر کوٹسوپولس اور ڈاکٹر وولف کے آگے زانوئے ادب تہہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان سے انفرادی ازدواجی اور گروپ تھراپی کی سائنس اور آرٹ کے اسباق پڑھے اور انسان کے نفسیاتی مسائل کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھانا سیکھا۔ اب میں اپنے اساتذہ سے سیکھے ہوئے قیمتی اسباق اپنے شاگردوں کو سکھاتا ہوں

تیسرا مشورہ

ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ ہم اپنے مریضوں سے بھی سیکھیں۔ ہمارے مریض جو زندگی کے پیچیدہ مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں وہ ہمیں بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ میں اپنے مریضوں کو بھی اپنا استاد سمجھتا ہوں۔ میں ان سے بہت کچھ سیکھتا ہوں اور ان کا اظہار اپنے کالموں میں بھی کرتا ہوں تا کہ میرے قارئین بھی نفسیاتی مسائل کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کر سکیں۔

جب میرے مریض صحتمند ہو جاتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی بیماری سے شفایابی کے سفر کی کہانی تحریر کریں تا کہ میں انہیں اپنی کتابوں میں شائع کر سکوں۔ میرے مریض اپنی کہانیاں میری کتابوں میں پڑھ کر فخر محسوس کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کی کہانی سے آئندہ کے مریض استفادہ کریں گے۔

چوتھا مشورہ

ایک اچھا تھراپسٹ ہونے کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ ہم اپنے مریضوں کے بارے میں اپنے جذباتی ردعمل کا تجزیہ کریں اور اپنا خود محاسبہ کریں۔

کچھ مریض ہمیں افسردہ کر دیتے ہیں
کچھ مریض ہمیں غصہ دلاتے ہیں
کچھ مریض ہمیں خوش کر دیتے ہیں

ہمارے ردعمل ہمیں جہاں مریض کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں وہیں ہمیں اپنی شخصیت کے خفیہ پہلوؤں سے بھی متعارف کرتے ہیں۔

اپنے رد عمل سے ہم جانتے ہیں کہ اگر ہمارا رد عمل ایسا ہے تو مریض کی زندگی میں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کا رد عمل کیسا ہو گا۔

اچھے تھراپسٹ ساری عمر اچھے طالب علم رہتے ہیں اور عمر بھر کچھ نہ کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔

میں نے اپنی گرین زون کی کتاب میں لکھا ہے کہ میں جو درس اپنے مریضوں کو دیتا ہوں ان پر خود بھی عمل کرتا ہوں تا کہ ایک خوشحال صحتمند اور پر سکون گرین زون زندگی گزار سکوں۔ عارف عبدالمتین کا شعر

عمر گزری ہے تری اوروں کو دیتے ہوئے
کیا کبھی خود کو بھی سمجھایا ہے تو نے عارف

اگر کوئی تھراپسٹ اپنے مشوروں پر خود عمل نہیں کرتا تو وہ ایک اچھا تھراپسٹ نہیں بن سکتا

پانچواں مشورہ

ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی جذباتی اور سماجی حدود سے بخوبی واقف ہوں۔ ہم جانیں کہ ہم کسی کی کتنی مدد کر سکتے ہیں جو تھراپسٹ ان حدود سے واقف نہیں ہوتے وہ اس پیشے میں جلد تھک جاتے ہیں اور نڈھال ہو جاتے ہیں اور ایک دن برن آؤٹ ہو جاتے ہیں۔

مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ڈاکٹروں میں سے سب سے زیادہ خودکشی کرنے والے ڈاکٹر ماہر نفسیات ہوتے ہیں۔

یہ وہ تھراپسٹ ہیں جو اس قدر ہمدرد ہوتے ہیں اور اتنی قربانیاں دیتے ہیں کہ دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے اپنا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں۔ میں ایسے تھراپسٹوں سے کہتا ہوں کہ
خود خیالی خودغرضی نہیں ہے
SELF CARE IS NOT SELFISHNESS
جو ہمارے پاس نہ ہو وہ ہم دوسروں کو نہیں دے سکتے

چھٹا مشورہ

ایک اچھا تھراپسٹ اپنی جذباتی اور سماجی ضروریات سے باخبر ہوتا ہے اور پھر ان ضروریات کو پورا کرتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں میں اپنے شاگردوں سے کہتا ہوں کہ وہ فریڈا فرام رائخمین کی کتاب
PRINCIPLES OF INTENSIVE PSYCHOTHERAPY
کا ضرور مطالعہ کریں کیونکہ اس کتاب میں فریڈا فرام رئخمین نے تھراپسٹوں کی ضروریات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے لیے تھراپسٹ کو

اپنی نیند
اپنے آرام
اپنے رشتوں

کا خاص خیال رکھنا ہو گا تا کہ وہ اپنے مریضوں کی خدمت کرتے وقت کہیں اپنے مریضوں کو اپنی جذباتی ضروریات کی تکمیل کے لیے استعمال نہ کرے۔

فریڈا فرام رائخمیں نے جذباتی اور سماجی ضروریات کے ساتھ ساتھ تھراپسٹ کی رومانوی اور جنسی ضروریات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ تھراپسٹ کو ان ضروریات کو اپنی ذاتی زندگی میں پورا کرنا چاہیے ورنہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے مریضوں کے ساتھ رومانوی طور پر ملوث نہ ہو جائیں جس سے مریض کو بھی نقصان ہو گا اور تھراپسٹ کی زندگی میں بھی ایک سکنڈل بنے گا۔ ڈاکٹر مریض کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے اور ہر تھراپسٹ کو اس رشتے کے تقدس کا احترام کرنا چاہیے۔

ساتواں مشورہ

اچھے تھراپسٹ کا ایک ایسا دوست اور رفیق کار ہونا چاہیے وہ جو وقت پڑنے پر اس کی مدد کر سکے۔ میں نے اپنے کلینک میں ہمیشہ ایک نرس اپنی رفیق کار رکھی ہے۔ میرے ساتھ پہلے این ہینڈرسن کام کرتی تھیں اور اب بے ٹی ڈیوس کام کرتی ہیں۔ اگر مجھے کسی مشکل مریض کے مشکل مسئلے کا سامنا ہو تو میں ان سے مشورہ کرتا ہوں۔ ان کا مشورہ میرے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اس مشورے کی وجہ سے میں دانشمندانہ فیصلے کر پاتا ہوں۔

میری نانی اماں کہا کرتی تھیں
ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں

خواتین و حضرات!
مشوروں کی فہرست تو طویل ہے لیکن میں نے نئے تھراپسٹوں کے لیے یہ سات مشورے رقم کیے ہیں۔
بدھا فرماتے ہیں
انسان کا اپنا تجربہ اس کا سب سے بڑا استاد ہوتا ہے

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail