احمد کریم خان اور بین الاقومی فوجداری عدالت


اپنے مفادات کی بات ہو تو مغرب اپنے کپتان امریکہ کی سربراہی میں ملکوں اور حکومتوں کو برباد کے لئے کسی قسم کے ٹھوس شواہد کا محتاج نہیں۔ چند باتوں اور مفروضوں پرہی یو این سیکورٹی کونسل راتوں رات قراردادیں  منظور کر کے کسی بھی ملک پر چڑھائی کی اجازت دے دیتی ہے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ملکوں اور شخصیتوں پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ امریکہ یوکرین کی مدد کے لئے اربوں ڈالر اور اسلحے کے انبار لیے دوڑا چلا آتا ہے۔ عراق کو بغیر کسی ثبوت کے تہہ و بالا کر دیا جاتا ہے۔ ان کی پٹاری میں بیسیوں قسم کے الزامات، جیسے دنیا کے امن کو خطرہ، نسل کشی، انسانی حقوق، جنگی جرائم، دوسرے ملک پر جارحیت، مہلک ہتھیار، جمہوریت دشمنی وغیرہ اور سینکڑوں قسم کے ”ثبوت“ جیسے تصاویر، ویڈیوز، ریکارڈنگ، سیٹلائٹ امیج وغیرہ موجود رہتے ہیں۔

دوسری طرف بدقسمتی کہ اسرائیل کی فلسطینیوں پر واضح جنگی اور ننگی جارحیت، نسل کشی، معصوم بچوں کا قتل، ہسپتالوں پر بمباری، امداد کی روک تھام جیسے جرائم مغربی حکومتوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان ممالک کے عوام مقدور بھر کوشش اور احتجاج کر رہے ہیں لیکن اپنی حکومتوں کو جگانے میں تادم تحریر ناکام رہے ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون بیرسٹر احمد کریم خان (ان کے والد کا تعلق مردان، پاکستان سے تھا) بین الاقومی فوجداری عدالت (International Criminal Court) کے چیف پراسیکیوٹر ہیں۔ یہ عدالت بھی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی طرح ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم ہے اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

2024 میں ICC نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر جنگی جرائم کی تفتیش کا آغاز کیا، جس کے تحت حماس کمانڈر محمد ضعیف (Mohammed Deif) ، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یوآؤ گالانٹ (Yoav Gallant) کے خلاف ممکنہ وارنٹ گرفتاری کی درخواست دی گئی۔ احمد کریم خان کی سربراہی میں اس پر کارروائی ہوئی اور آئی سی سی نے ان افراد کو مجرم گردانتے ہوئے ان کے خلاف وارنٹ جاری کر دیے۔ بعض ممالک جیسے ناروے اور ساؤتھ افریقہ نے بھی اعلان کیا کہ وہ نیتن یاہو سمیت ان جنگی مجرموں کو گرفتار کریں گے۔ یہ اقدام بین الاقوامی انصاف کی تاریخ میں ایک جرات مندانہ موڑ تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ عالمی طاقتوں کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

اس تفتیش کے بعد مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل نے ICC اور ذاتی طور پر احمد کریم خان کے خلاف مہم چھیڑ دی۔ جہاں صدر ٹرمپ نے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کیں، ججز پر دباؤ بڑھایا وہاں احمد کریم بھی محفوظ نہیں رہے۔ پہلے ان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا گیا۔ احمد کریم ڈٹا رہا اور اس نے تمام الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ادارے اور دوستوں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ اب حال ہی میں امریکی حکومت نے انہیں مخصوص افراد کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، ان پر 900 دیگر آئی سی سی سٹاف کی طرح امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کے مالی اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، مائیکروسافٹ نے ان کا ای میل اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔ بینکوں نے ان کے ذاتی اور پیشہ ورانہ اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں گویا وہ کوئی دہشت گرد ہوں۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ دنیا کا دجالی اور منافقانہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔ یہ اُس عالمی نظام کا چہرہ ہے جو انصاف کے پردے میں استبداد کا کھیل کھیلتا ہے۔

یہ سب کچھ اُس دنیا میں ہو رہا ہے جو خود کو ”جمہوریت کا گہوارا“ اور ”انصاف کا علمبردار“ کہتی ہے۔ جو روس کی جارحیت پر تو دن رات نوحہ کناں ہے، مگر اسرائیل کے ہاتھوں معصوموں کے قتلِ عام پر خاموش رہتی ہے۔ جس نے کویت پر حملے کو عالمی جرم قرار دیا، وہی غزہ کے بچوں کی لاشوں پر چپ سادھ لیتی ہے۔

مغرب کے ادارے، میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں الا ماشا اللہ اس ظلم پر یا تو خاموش ہیں یا لفظوں کی زیبائش سے حقیقت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔

سوال باقی ہے کہ اگر آج ایک عالمی عدالت، اس کے ججز اور اس کا چیف پراسیکیوٹر جو قانون کی روشنی میں تفتیش کر رہا ہے، اس قدر ذلت اور جبر کا نشانہ بن سکتے ہیں، تو کل کو کسی بھی سچ کی زبان کاٹ دی جائے گی۔ اگر انصاف کا معیار طاقت (یا امریکہ کی خواہشات) کے تابع ہو، تو پھر یہ عالمی عدالت اور قانون محض کمزوروں کو سزا دینے اور امریکہ بہادر کی مرضی کے تابع رہ جائے گا۔

یہ لمحہ صرف احمد کریم خان اور آئی سی سی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے جاگنے کا ہے۔ یہ وقت ہے کہ دنیا کے سنجیدہ اور باشعور طبقات، اہلِ دانش، صحافی، اور انسانی حقوق کے علمبردار کھل کر ICC کی خودمختاری، اور عالمی انصاف کے ان اصولوں کی حمایت کریں جن پر مہذب معاشروں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ورنہ تاریخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگی کہ جب عدل اور قانون پر ذاتی وابستگی غالب آ جائے، تو دنیا مہذب نہیں، محض خوش لباس وحشیوں کی بستی بن جاتی ہے۔

Facebook Comments HS