دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ
3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم
کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر کے کچھ افکار کو اچھا اور کچھ کو برا قرار دے رہا ہے یا پھر ایسا کرنے اور لکھنے میں اس کا ذاتی مفاد پوشیدہ تھا؟
(کتاب پڑھنے والے کو علم ہونا چاہیے کہ کتاب میں برتی ہوئی سوچ در اصل آ کہاں سے رہی ہے، وہ کتنی ٹھیک اور کتنی غلط ہے، اس کا فیصلہ پڑھنے والا بعد میں کرے گا)
خالد حسینی کے ناول میں مغرب پرستی صاف چھلکتی ہے، جس سے یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کہانی کے کرداروں اور تھیمز کو مسخ کر کے وہ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اصل میں اخذ نہیں ہوتے۔
جب ہم کسی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ اس تہذیب، نظریے یا خیال کے حق میں ہے تو وہ دو وجوہات کی بنا پر کہتے ہیں۔ کوئی خود اعتراف و اقرار کرے، اس کی پذیرائی کر کے اس پر مہر ثبت کرے۔ یا پھر اس تہذیب، نظریے یا خیال کے مساوی، متوازی یا مخالف تہذیب پر سوال اٹھائے، تنقید کرے اور تنقید کرتے ہوئے کئی مواقع پر فکری جواز مہیا نہ کرے تو اسے اول الذکر کے حق میں سمجھا جائے گا۔ حسینی صاحب یہ دونوں عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں، مغرب خصوصاً امریکہ کی غیر مشروط اور مبالغہ آمیز ستائش اور مشرقی روایات پر تنقید۔ خالد حسینی کی تحریر پر مغربی سوچ، اقدار اور طرزِ زندگی کا کتنا اثر ہے، ذیل میں اسے مختلف جہات سے حوالوں اور اقتباسات کے ساتھ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے :
1۔ امریکہ بطور نجات دہندہ:
”For me, America was a place to bury my memories. For Baba, a place to mourn his.“
— Chapter 11
یہ اقتباس امریکہ کو ”نئے آغاز“ اور ”ذاتی نجات“ کی جگہ کے طور پر پیش کرتا ہے، جو ایک مغربی تصور ہے۔ عامر اپنے ماضی کے گناہوں کو بھولنے اور نئی شناخت بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے لیے اسے امریکی جغرافیہ ہی راس آتا ہے۔ اس کے خیال میں شاید کسی اور زمین کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ اسے محسوس کروائے کہ وہ ”نجات یافتہ“ ہے۔ مزید دیکھیے :
”America was a river, roaring along, unmindful of the past. I could wade into this river, let my sins drown to the bottom, let the waters carry me someplace far. Someplace with no ghosts, no memories, and no sins. If for nothing else, for that, I embraced America.“
— Chapter 11
یہاں بھی مصنف امریکہ کو ایک نئی زندگی، نئی رفتار، اور ماضی سے فرار کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو کہ مغرب میں ”reinvention of the self“ کا تصور ہے۔
”Baba loved the idea of America. It was living in America that gave him an ulcer.“
— Chapter 11
یہ جملہ دوہری حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ بابا جیسے روایت پسند شخص کو مغرب کی سہولتوں کی ضرورت ہے، مگر وہ تہذیبی طور پر غیر مطمئن ہے۔ اس کے برعکس، عامر مغربی زندگی کو قبول کرتا ہے۔
”We are in America now, and in America, you don ’t do that.“
— Chapter 11
یہاں عامر بابا کو امریکی انداز و اطوار اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ ماضی سے پیچھا چھڑا کر نئے ملک میں نئی پہچان بنائیں۔
”For me, America was a place to hide. I was running.“
— Chapter 11
یہ ایک اور اعتراف ہے کہ امریکا اسے فرار کا موقع دیتا ہے، مگر یہ کوئی معمولی نوعیت کا فرار نہیں ہے، اس میں ایک قسم کا تحفظ بھی شامل ہے۔
”In the end, the world always wins. That ’s just the way of things.“
— Chapter 25
یہاں ”ورلڈ“ سے مراد وہ طاقتیں ہیں جو جدید، مغرب زدہ دنیا کی نمائندگی کرتی ہیں (ایک لفظ میں سمجھاؤں تو نیٹو اتحاد کہہ لیں ) جبکہ طالبان اور ان کا نظام ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔ مصنف صاف واضح طور پر اس سیاسی و نظریاتی مسئلہ (جمہوریت بمقابلہ طالبان حکومت) میں مغرب کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔
(میں ذاتی طور پر طالبانیت کے نظریات سے متفق نہیں ہوں، بس حوالہ کے طور پر ذکر کیا ہے )
2۔ نجات کا تصور آسمانی نہیں، ذاتی:
”There is a way to be good again.“
— Rahim Khan to Amir, Chapter 14
یہ ناول کی سب سے معروف سطر ہے۔ یہ ”redemption arc“ مغربی ادب کا معروف موضوع ہے، جہاں فرد اپنے ماضی کی غلطیوں کو خود سدھارنے کی کوشش کرتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ کسی خارجی، آفاقی اور روحانی طاقت پر انحصار کرے۔ دعا، معافی، استغفار، Confession اور کفارہ جیسی کوئی چیز درمیان میں نہیں لائی جاتی۔ ایک عمل کو غلط جان کر اسے خود ”ذاتی طریقہ کار اور ذاتی فہم“ سے سدھارنے کو بہتر اور آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جو کہ ظاہر ہے کہ مغربی فکر ہے۔
3۔ آزادیٔ اظہار پر مغربی موقف کے لیے پسندیدگی:
”That was the thing about people who mean everything they say. They think everyone else does too.“
— Chapter 12
یہاں مصنف مغربی معاشروں میں موجود صاف گوئی، سچ بولنے اور بات کرنے کی آزادی کے اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو افغان معاشرتی منافقت سے متصادم و مخالف ہے۔
4۔ افغان روایات پر تنقید:
”In Afghanistan, you were someone ’s son or brother or husband. You weren‘ t just you.“
— Chapter 11
یہ اقتباس افغان معاشرے کی اجتماعی شناخت کے خلاف عامر کے مغربی انفرادی اور ذاتی شناخت کے نظریے کو واضح کرتا ہے۔ اس کی شناخت اور پہچان اس کا اپنا آپ ہے۔
You will never again refer to him as ’Hazara boy‘ in my presence. He has a name and it ’s Sohrab. ”
— Chapter 23
انسانی مساوات کا پرزور بیان نسل اور طبقاتی اور مذہبی تعصب کے خلاف مغربی سوچ کا پرچار۔
”In the end, I was a Pashtun and he was a Hazara, I was Sunni and he was Shi ’a, and nothing was ever going to change that.“
— Chapter 4
یہ اقتباس افغان معاشرے میں موجود نسلی اور مذہبی تعصبات کی تلخ سچائی بیان کرتا ہے، جس پر ناول تنقیدی نظر رکھتا ہے۔ مغرب میں مساوات اور تنوع کو اہم تصور کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ تضاد نمایاں ہو جاتا ہے۔ مگر مصنف یہ سچ بیان کرتے وقت اس کے مساوی سچ کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ امتیازات اور تعصب دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ مشرق میں مذہبی، نسلی، ذات پات کا تعصب نظر آ رہا ہے اور امریکا و یورپ میں سفید فام اور سیاہ فام کے مابین فرق، مغرب کا تارکینِ وطن، مہاجرین اور غیر قوموں کے خلاف تعصب اسے بالکل دکھائی نہیں دیتا۔
5۔ شادی اور خواتین کے متعلق مغربی نکتہ نظر:
”Maybe that ’s why people enter into marriage – to make themselves feel younger, to avoid the inevitability of death.“
— Chapter 13
مغربی معاشرتی اداروں کو فلسفیانہ تناظر میں دیکھنا، شادی کو رومانی نہیں، نفسیاتی سہارا سمجھنا۔
”I ’m so lucky to have her. She‘ s brave and strong and smart. She ’s not afraid to speak her mind.“
Amīr about Soraya، Chapter 12
یہ بیان ایک آزاد خیال، خود مختار عورت کی تعریف ہے، جو کہ ایک مغربی فیمنسٹ آئیڈیل کے قریب ہے۔ افغان ثقافت میں بالخصوص ایسی صفات اکثر ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہیں، لیکن امیر ان کی قدر کرتا ہے۔
”She would speak. And I would listen. Then she would tell me what she thought. And I would listen.“
— Amir about Soraya, Chapter 12
عورت کے اظہار کے حق کو تسلیم کرنا، اس کی رائے سننا، مغربی نظریہ ہے۔ مشرق میں شادی مساوات پر قائم نہیں ہوتی۔ مگر عامر مشرقی روایت ترک کر کے مغربی افکار کو چنتا ہے۔
6۔ مذہب اور خدا پر سوالات:
”God never answers me. I ask for help and He doesn ’t listen.“
— Chapter 7
عامر کا یہ جملہ مغربی انداز کے questioning of faith یا ”spiritual skepticism“ کو ظاہر کرتا ہے۔ مذہب کی حیثیت اور خدا کے وجود پر سوال۔ اس پر یقین نہ ہونے کو دکھاتا ہے جو کہ مغربی رویہ ہے۔
”There is only one sin, only one. And that is theft.“
یہاں بابا اخلاقیات کو مذہب سے الگ کر کے پیش کرتا ہے، اس میں مغربی نظریہ ”سیکولر ہیومن ازم“ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ”اخلاقیات“ کا منبع مذہب نہیں بلکہ انسان کا ذاتی شعور اور سماجی کردار ہوتا ہے۔
7۔ طالبان کی مذمت:
”Afghanistan is the land of the Taliban now. We ’re just playing a role, playing along.“
— Chapter 21
یہ مصنف کا افغانستان کے ریاستی نظام پر طنز اور مغربی جمہوریت کے مقابلے میں مذہبی شدت پسندی پر اس کی تنقید ہے۔
”There are bad people in this world, and sometimes bad people stay bad.“
— Chapter 21
یہ اقتباس طالبان اور ان جیسے سخت گیر عناصر کے لیے ہے، جو مذہب کے نام پر ظلم کرتے ہیں۔ مصنف یہاں کسی قسم کی ”مقدس دلیل“ دینے کے بجائے، سادہ اخلاقی بنیادوں پر ان کی مخالفت کرتا ہے۔ مصنف کہیں بھی طالبان کا موقف پیش نہیں کرتا صرف اور صرف ایک رخ کی تصویر دکھاتا ہے جو کہ نا مکمل کہانی ہے۔ طالبان کو یک طرفہ ولن دکھایا گیا ہے مگر ان کے اقتدار پر قابض ہونے، ان کے وجود کے اسباب یا نظریات کا تجزیہ نہیں کیا گیا۔ مصنف ان کو انسانی بنیادوں پر برا کہتا ہے مگر سیاسی، سماجی، مذہبی سیاق و سباق سے کاٹ کر اس سے جذباتی طور قاری میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے تاہم عقلی، منطقی فہم اور شعور نہیں ابھرتا۔
یہ تجزیہ قاری کو اس لسانی و تہذیبی پس منظر میں سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ وہ ادب کو محض جذباتی رنگ میں نہ دیکھے بلکہ فکری شعور کے ساتھ پرکھے کہ ”سچائی“ کس زبان، کس تہذیب اور کس نظر سے بیان کی جا رہی ہے۔
4۔ دا کائٹ رنر: بابا۔ بہادر اور مثالی باپ یا شیڈو ولن؟ (حصہ سوم)
کائٹ رنر میں مصنف نے کہانی کے بیانیے کے ہیر پھیر کے ساتھ ساتھ بابا کے کردار کی تعمیر اور عکاسی میں بھی دیانت داری کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ وہ اسے صرف اور صرف عامر جیسے بن ماں کے بچے کی نظر سے ہی دکھاتا جاتا ہے۔ وہ معاشرے میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اس کے افعال کا کئی دیگر انسانوں کی زندگیوں جیسا کہ علی، صنوبر، حسن اور عامر پر کیا اثر ہوا، مصنف اس متعلق موزوں الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے۔
بابا کے اندر کچھ شخصی اوصاف ضرور ہیں لیکن وہ ایک اوسط روایتی مشرقی کی طرح روایت پرست ہیں اور نظریہ، قول اور عمل کے تضاد کا شکار ہیں۔
اس سے قبل ایک اور ناول کے ایک کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم اس نتیجے پر آئے تھے کہ کرداروں کا سیاہ، سفید یا سرمئی ہونا برا نہیں ہوتا منافق ہونا برا ہوتا ہے۔ عامر کے لیے وہ ایک ہیرو تھا لیکن اصل میں وہ کون تھا؟ ایک چیٹر۔ ایک منافق۔ جن برائیوں کے خلاف وہ تبلیغ جھاڑتا تھا وہ سب ذاتی زندگی میں انجام دے چکا تھا۔ عامر کی نظر میں بابا بہادر، اصول پسند، روایات کی پاس داری کرنے والا شخص ہے۔ وہ ایک مثالی آئیڈیل قسم کا باپ ہے لیکن اصلیت اس کے برعکس ہے۔
یہاں کچھ اقتباس درج ہیں جن میں عامر کے بابا کے لیے جذبات اور خیالات کا اظہار ہے، بعد ازاں ہم دیکھیں گے کہ بابا حقیقت میں کیسے تھے :
”“ My father was a force of nature, a towering Pashtun specimen with a thick beard, a wayward crop of hair, and hands that looked capable of uprooting a tree. ”
”Baba did things his own way. His own rules, his own beliefs. People had to respect him for that.“
”Baba couldn ’t show weakness and fear. He was Baba, after all.“
بابا کی شخصیت قد آور، پُر اثر، خودمختار اور معاشرتی سطح پر معروف ہے۔ ان کے گھرانے کا دبدبہ ہے، ان کا انداز روایتی مردانگی کی علامت ہے، اور ان کا کردار لوگوں میں عزت و وقار (افغان کلچر کی اصطلاح میں ننگ و ناموس) کا نشان ہے۔
”I always felt like Baba hated me a little. And why not? After all, I had killed his beloved wife, his beautiful princess, hadn ’t I?“
”I wanted Baba all to myself. Besides, he hated me.“
(یہاں عامر بابا کی محبت کی کمی کو محسوس کر رہا ہے، مگر ان سے محبت بھی کرتا ہے ) عامر کی بابا سے محبت اور ان کی شخصیت پر فخر اس قدر گہرا تھا کہ وہ کہتا ہے :
”I worshipped Baba with an intensity approaching the religious.“
”With me as the glaring exception, my father molded the world around him to his liking. The problem, of course, was that Baba saw the world in black and white. And he got to decide what was black and what was white.“
یہاں عامر بابا کے اثر و رسوخ کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے گئے فیصلوں کو جج نہیں کرتا، انہیں عقلی، اخلاقی اور مذہبی کسی بھی دوسرے چشمے سے دیکھنے کا منکر ہے۔ عامر کی نظر میں بابا: بہادر تھے،
انصاف پسند تھے (چوری کو سب سے بڑا گناہ کہنا) خوددار تھے (امریکہ میں عزت کے ساتھ محنت مزدوری کرنا)
عامر کو اپنے باپ کی کامیابی پر فخر ہے۔ جیسا کہ وہ کہتا ہے :
”Everyone agreed that my father, my Baba, had built the most beautiful house in the Wazir Akbar Khan district.“
مگر جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے، قاری پر بابا کے اخلاقی دوغلے پن کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں۔ قاری دیکھتا ہے کہ بابا کی اخلاقی عظمت صرف ایک ماسک ہے، جسے ہٹانے پر ایک مجرم چہرہ سامنے آتا ہے۔
بابا نے ہمیشہ عامر کو یہ سکھایا کہ:
”There is only one sin, only one. And that is theft. Every other sin is a variation of theft.“
لیکن خود علی کا بیٹا حسن اس کا ناجائز بیٹا نکلتا ہے یعنی بابا نے : علی سے بے وفائی کی، دوسرے انسان کی عزت اور حق چھینا اور پھر زندگی بھر یہ سچ چھپائے رکھا (یہ حقیقت تسلیم کی، نہ حسن کو اولاد ہونے کا حق دیا، نتیجے میں وہ ساری زندگی ”ہزارہ بوائے“ ہونے کی قیمت چکاتا رہا)
یہ عمل نہ صرف چوری بلکہ دھوکہ، منافقت اور ریاکاری کا مظہر ہے۔
بابا نے کبھی عامر کو وہ خالص محبت نہیں دی جس کا وہ مستحق تھا۔ عامر، بچپن سے ہی اپنے والد کی توجہ، محبت اور منظوری کا پیاسا رہا، یہ پیاس اور طلب اتنی شدید تھی کہ اس نے حسن سے غداری کر لی، یہ ایک غلط عمل اس کے لیے عمر کے بڑے حصے کے لیے گردن کا پھندا بن گیا۔ وہ جذباتی طور پر دور، سخت مزاج اور غیر مرئی باپ رہا، جو اپنی اخلاقی کمزوریوں کا بوجھ عامر پر ڈال رہا تھا۔
بابا کے اندر طبقاتی فرق کے خلاف جذبات بھلے ہوں مگر خود اس نے علی کو کبھی بھی برابر کا سماجی رتبہ نہیں دیا۔ وہ اس کے لیے ساری وفاداری کے باوجود ایک ملازم ہی رہا۔
اس کے علاوہ بابا افغان ”ننگ و ناموس“ کی قدر و روایت کی بات کرتا ہے مگر وہ علی کو ”ننگ و ناموس“ سے عاری سمجھتا ہے اور اس کی بیوی سے تعلق قائم کرتا ہے۔ (اس کے متعلق تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ دو انسانوں کا ذاتی فیصلہ تھا۔ ذاتی فیصلے شادی اور کمٹمنٹ کے باہر ہوتے ہیں، ان میں رہتے ہوئے ذاتی فیصلے نہیں ہوتے، دھوکہ ہوتا ہے۔ مالک اور ملازم کے درمیان ضرورت اور سمجھوتے سمیت کوئی بھی رشتہ ہو سکتا ہے سوائے انصاف اور مساوات کے۔ پھر روایتی افغان معاشرے میں ایک ہزارہ عورت ”نو“ کہہ بھی دے تو اس کی کیا حیثیت؟ )
افغان معاشرے میں عزت و غیرت کا فیس پاؤڈر بہت زیادہ ہے جسے بابا معاشرے کی توقعات کو توڑتے ہوئے روند دیتے ہیں۔ وہ جس کلچر اور روایت پر فاخر تھے عملی طور پر اس کے مخالف تھے۔
بابا دوسروں کو سچائی، نیک نیتی اور ایمان داری کا بھاشن دیتا ہے لیکن اپنی زندگی پر یہ اصول لاگو نہیں کرتا۔ اپنا سیاہ راز، ڈرٹی سیکریٹ چھپائے پھرتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو قبول کرتا ہے نہ ہی کسی جرّی مرد کی طرح اس کے نتائج اور اثرات سمیٹنے کی ہمت کرتا ہے۔ بلکہ راہ فرار اختیار کرتے ہوئے سچائی سے منہ موڑتا ہے۔
جس لمحے عامر کو بابا کی سچائی معلوم ہوتی ہے، تو وہ خود کو دھوکے میں مبتلا، شرمندہ اور زخمی محسوس کرتا ہے :
”All my life, I had been lied to. The truth was, Baba had been a thief too. And now I was learning that he had stolen the truth from me.“
یہ لمحہ عامر کے لیے بابا کی مثالی تصویر کے ٹوٹنے کا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر، وہ پھر بھی بابا سے نفرت نہیں کرتا۔ عامر کا دل سچائیوں کو ساتھ لے کر جیتا ہے اور یہیں آ کر حسینی صاحب نے پڑھنے والوں کی عقل کو چیلنج کیا ہے۔ سمجھ سکتے ہو تو سمجھو۔
بچے اکثر اپنے والد کو ہر قسم کی غلطیوں کے باوجود عظیم سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ اس نظر سے نہیں دیکھتے، جس نظر سے سماج یا تاریخ دیکھتی ہے۔ بابا ایک غیر معمولی شخص ضرور ہے، اس کی مردانگی، دلیری اور خودداری ایک پہلو ہے، امریکہ جیسے ملک میں بے سروسامانی میں جانا، محنت کر کے ایک زندگی بنانا بلاشبہ قابل توجہ ہے تاہم اس کی منافقت، جذباتی سرد مہری اور اخلاقی لغزشوں کا پہلو بھی موجود ہے۔ بابا کے متعلق بات کرتے ہوئے مصنف کا لہجہ، لہجے کا سکون اور نرمی بابا کے اعمال کے لیے جواز فراہم کرنے جیسا ہے۔ جو کم سے کم میرے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ میرے لیے بابا کا کردار ایک شیڈو ولن کا کردار ہے۔ (شیڈو ولن ایک ایسے کردار کو کہتے ہیں جو بطور ہیرو یا ہیرو نما بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور نیکی و اچھائی کا علم بردار ہوتا ہے لیکن اس میں اخلاقی سیاہی ہوتی ہے ) جس میں منافقت اور برائی اس کی شخصی خوبیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔
اگر آپ دھیان دیں تو مرکزی کردار کی زندگی میں پیدا ہونے والے تنازعات بابا کے ماضی کے افعال، اس کی سرد مہری اور سچائی کو بروقت سامنے نہ لانے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئے۔ لہذا قاری کو ضرورت ہے کہ وہ بابا کے کردار کی یہ جہت نگاہ میں رکھے۔

