”رف رف رفتن“ کا راشد جاوید

فنکار غبارے میں ہوا کی طرح آسمان پر سفر کرتا ہے۔ تحریر کا وزن اس کے تخلیقی سفر کا اعادہ کرتا ہے۔ راشد جاوید بھی جس غبارے میں سوار ہیں اس کی ہوا خاصی مضبوط اور گرہ سخت ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ”رف رف رفتن“ پڑھ کر ہوا۔ اس سے قبل ان کے پنجابی کے دو افسانوی مجموعے ”مٹی اتے لیک“ اور ”جنگل اگی چپ“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی کہانیوں کا مجموعہ ”Fructured

Read more