تنقیدی جائزہ: ”اپنا گریباں چاک“ از جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال
مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ آپ بیتی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے 2002 ء میں شائع ہوئی۔
آپ بیتی لفظ کے معانی ”سرگزشت“ یا ”جگ بیتی“ کے ہیں۔ آپ بیتی اصل میں کسی شخصیت کی زندگی کے گزرے لمحات کی داستان کا نام ہے۔ گویا اپنی ذات کے حوالے سے اظہار حقیقت کو ”آپ بیتی“ کہتے ہیں۔
”اپنا گریباں چاک“ محض ایک خودنوشت نہیں، بلکہ پاکستان کی فکری، سیاسی اور عدالتی تاریخ کا نیم ذاتی اور نیم اجتماعی تجزیہ بھی ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال محض علامہ اقبال کے صاحبزادے کے طور پر نہیں، بلکہ خود ایک فکری، قانونی اور فلسفیانہ شعور رکھنے والی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی خودنوشت کئی سطحوں پر قاری کو چونکاتی اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کا تنقیدی جائزہ مندرجہ ذیل ہے۔
1۔ اسلوبِ تحریر اور بیانیہ کی ساخت
جاوید اقبال کا اندازِ تحریر سادہ اور رواں ہے۔ وہ فلسفیانہ موضوعات کو بھی نہایت آسان انداز میں بیان کرنے پر قادر ہیں۔ ان کا بیانیہ اول شخص (first۔ person narrative) میں ہے، جو قاری کو ایک ذاتی اور قریب تر تجربہ عطا کرتا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کی خودنوشت ”اپنا گریباں چاک“ ایک ایسی تحریر ہے جو اپنی سادگی اور روانی کے باعث قاری کو ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف ادوار کو نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور ہر باب میں واقعات کا باہمی ربط اس انداز سے قائم رکھا گیا ہے کہ قاری کو نہ صرف تسلسل کا احساس ہوتا ہے بلکہ وہ اکتاہٹ کا شکار بھی نہیں ہوتا۔ یہ ربط دراصل ڈاکٹر جاوید اقبال کی منطقی اور مربوط سوچ کا آئینہ دار ہے، جس کے باعث بظاہر مختلف اوقات اور حالات سے جڑے ابواب ایک وحدت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ خودنوشت محض ایک فردِ واحد کی سوانح نہیں بلکہ بیسویں صدی کی قومی، سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ کا بھی ایک معتبر حوالہ ہے، جو اسے ایک موثر تاریخی دستاویز بنا دیتی ہے۔ سب سے قابلِ تحسین پہلو مصنف کا وہ اعتماد ہے جو انہیں اپنی ابتدائی زندگی کی غربت، خاندانی مشکلات اور تعلیمی ناکامیوں کا کھلے دل سے ذکر کرنے کی جرات عطا کرتا ہے بغیر کسی احساسِ کمتری کے۔ وہ ان ناکامیوں کی وجوہات کا ادراک رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہی ناکامیاں آگے چل کر ان کی کامیابیوں کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ مثال:
”جب میں نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا، تو وہاں کا ماحول میرے لیے اجنبی تھا، لیکن ایک نیا فکری در کھلتا چلا گیا۔“
یہ جملہ نہ صرف تجربے کا اظہار ہے بلکہ ایک فکری سفر کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
2۔ علامہ اقبال سے تعلق اور فکری وراثت
کتاب کی اہم ترین جہت ڈاکٹر جاوید اقبال کا اپنے والد سے تعلق ہے۔ ان کی تحریر میں ایک طرف احترام اور عقیدت جھلکتی ہے، تو دوسری طرف ایک فکری تسلسل کی جھلک بھی۔ مثال:
”اقبال نے مجھے سچ بولنے کا سبق دیا، لیکن سچ بولنے کی قیمت میں نے خود ادا کی۔“
یہ فقرہ نہ صرف ان کے ذاتی تجربے کا نچوڑ ہے، بلکہ علامہ اقبال کی تعلیمات کا عملی اثر بھی ظاہر کرتا ہے۔
علامہ اقبال سادگی پسند تھے، وہ فضول خرچی اور ظاہر نمائی کے سخت ناقد تھے۔ ان کی رہنمائی میں، جب تک وہ حیات و جاوید رہے، مصنف کو ہر فیصلے میں ان کے اصولوں کو سامنے رکھنا پڑا۔ چاہے وہ طرزِ زندگی ہو، لباس کی سادگی ہو، یا اخراجات و معیارات میں ہر طرح کی فضول خرچی سے گریز۔ انہوں نے مصنف کو یہ سکھایا کہ زندگی کا حقیقی حسن مادی چیزوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے مقصد اور اسلوب میں پوشیدہ ہے، اور یہی فلسفہ مصنف کی زندگی کا وہ حقیقی راستہ بن گیا جس پر اسے چلنا تھا۔ لیکن والد کے انتقال کے بعد اپنے طریقے سے زندگی گزارنے لگے، تمام پابندیوں کو ایک طرف رکھ دیا۔ اس حوالے سے لکھتے ہیں :
”والد کی وفات کے بعد ان کے نافذ کردہ ڈسپلن سے آزاد ہو گیا۔ جن باتوں سے منع کر رکھا تھا، میں نے بڑی رغبت سے ان میں سے ہر ایک کو اپنایا۔“
3۔ عدالتی تجربات اور انصاف کے بارے میں اظہار خیال:
بطور جج اور بعد ازاں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جاوید اقبال نے عدلیہ کے نظام پر گہری نظر ڈالی ہے۔ ان کا تنقیدی زاویہ عدلیہ میں موجود سیاسی مداخلت، کرپشن اور انصاف کے بحران پر گہری چوٹ کرتا ہے۔ مثال:
”مجھے کئی فیصلے اس لیے تبدیل کرنے پڑے کیونکہ ان میں قانون کی بجائے دباؤ کا عنصر نمایاں تھا۔“
یہ تنقید محض ذاتی تجربے کا اظہار نہیں، بلکہ پاکستانی عدلیہ کے بنیادی مسائل کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح عدلیہ کی جانب سے دستور کے متعلق مقدمات میں مصلحت اور منافقت پر عمل پیرا ہونے کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ مصنف، جسٹس کرم الٰہٰی چوہان کے دیے ہوئے آموختے کا انکشاف کرتے ہیں۔ ”دستور سے متعلق فیصلے جج کے ضمیر کے مطابق نہیں ہوتے۔ ایسے کیسوں میں، مَیں تو ہمیشہ دو فیصلے تیار کر کے رکھتا ہوں۔ ایک حکومت کے حق میں اور دوسرا خلاف۔ جو وقتی مصلحت ہو اُسی کے مطابق مثبت یا منفی فیصلہ سنا دیتا ہوں“ ۔
4۔ سیاسی مشاہدات اور بے باکی
جاوید اقبال نے ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے حکمرانوں کے ادوار کا ذکر غیرجانبداری سے کیا ہے، لیکن وہ اپنی ذاتی رائے بھی چھپاتے نہیں۔ مثال:
”بھٹو ایک غیر معمولی ذہانت رکھنے والے انسان تھے، مگر انہیں اقتدار کی لت نے انجام تک پہنچایا۔“
”مجھے بھٹو کے رویہ پر سخت افسوس تھا مگر ساتھ ہی مجھے یقین ہو گیا کہ مشرقی پاکستان کبھی نہ کبھی مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا“ ۔
انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو کے متعلق لکھتے ہیں : ”میں انہیں بڑے تپاک سے ملا لیکن وضع قطع سے وہ دانش ور نہیں لگے اِس لیے میں ان سے متاثر نہ ہوا۔“
یہ جملہ نہ صرف مشاہدہ ہے، بلکہ ایک تاریخی تنقید بھی ہے۔
5۔ فلسفیانہ اور فکری انداز
جاوید اقبال نے اپنی خودنوشت میں مغربی فلسفہ، اسلام اور تصوف جیسے اہم موضوعات پر نہایت سنجیدہ اور مدلل رائے دی ہے۔ وہ محض واقعات کے بیان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ کئی مقامات پر قاری کو گہرے فکری مباحث میں لے جاتے ہیں، جہاں علم و دانش کے نئے زاویے کھلتے ہیں۔ ان کی فلسفیانہ فکر محض تجریدی قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں، بلکہ وہ ذاتی تجربات، مشاہدات اور علمی مطالعے کی روشنی میں استدلال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خیالات میں ایک فکری گہرائی کے ساتھ ساتھ عملی بصیرت بھی جھلکتی ہے، جو قاری کو محض متاثر نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مثال:
”اسلامی فکر میں اگر اجتہاد کی راہیں بند ہو جائیں تو زوال یقینی ہے۔“
”ذوق طلب کے پیچھے جب تک بے تابی نہ ہو دعا پوری نہیں ہو سکتی اور انسان جس بھی شے کی خواہش بے چینی سے کرتا ہے وہ شے اُسے مل جاتی ہے۔ “
مزید تحریر کرتے ہیں ”بدی، شر یا گناہ کی ایک تعلیمی حیثیت ہے اور اپنی“ انا ”پر اعتماد کرنے والا انسان بدی کا راستہ اختیار کر کے اُس سے چاہے تو سبق حاصل کر سکتا ہے۔“
یہاں وہ علامہ اقبال کی فکر کو آگے بڑھاتے ہیں اور اسلامی تہذیب کے زوال کی فکری تشریح کرتے ہیں۔
6۔ مصنف کی خود احتسابی اور ندامت
کتاب میں متعدد مقامات پر ڈاکٹر جاوید اقبال نے نہایت دیانت داری سے اپنی شخصیت، فیصلوں اور رویوں پر تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ وہ نہ صرف اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہیں بلکہ بعض مواقع پر اپنے رویوں پر خود احتسابی کے انداز میں سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ یہی خود تنقیدی عنصر اس خودنوشت کو محض ذاتی داستان یا تاریخی بیان تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ”اعترافی ادب“ کا رنگ عطا کرتا ہے۔ یہ اسلوب قاری کو مصنف کے قریب لا کر ایک ایسا تعلق قائم کرتا ہے جس میں سچائی، خود شناسی اور فکری خلوص جھلکتا ہے۔ جاوید اقبال کا یہ طرزِ اظہار اُن کی فکری بلوغت اور اخلاقی جرات کا مظہر ہے، جو اردو خودنوشت نگاری میں نسبتاً کم نظر آتی ہے۔ مثال:
”کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر میں جج نہ بنتا تو شاید ایک آزاد مفکر بن کر زیادہ فائدہ دیتا۔“
یہ اعترافی انداز کتاب کو جذباتی صداقت عطا کرتا ہے۔
7۔ تخلیقی شعور
ڈاکٹر جاوید اقبال کی علمی خدمات کا دائرہ محض ذاتی تجربات یا سوانحی بیانات تک محدود نہیں بلکہ اُنہوں نے کئی اہم فکری اور تحقیقی کام بھی انجام دیے ہیں۔ ان میں علامہ اقبال کی سوانح ”زندہ رود“ اور ”تسہیل خطباتِ اقبال“ جیسی گراں قدر کتب شامل ہیں، جو نہ صرف ان کی علمی گہرائی بلکہ علامہ اقبال کے فکری نظام پر ان کی عمیق نظر کی بھی غماز ہیں۔ یہی گہرائی ”اپنا گریباں چاک“ میں بھی جھلکتی ہے، جو محض واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ان کی فکری تحلیل اور تخلیقی تشریح پر مبنی ایک عمیق مطالعہ ہے۔
مصنف کی ذات میں موجود تخلیقی شعور اُن کی تحریر کو روایتی خودنوشت سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ زندگی کے عام تجربات کو بھی محض بیان کرنے کے بجائے اُن میں معنویت تلاش کرتے ہیں۔ یہ معنویت صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ اپنے مشاہدات کو فکری تناظر میں پرکھتے ہیں، اور قاری کو محض واقفیت نہیں بلکہ فہم و آگہی سے بھی روشناس کرواتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس خودنوشت کو محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز میں ڈھال دیتا ہے۔ مثال:
”ہجرت کا دکھ میری ماں کی آنکھوں میں بسا تھا، اور میں نے اسی دکھ سے اپنی دنیا کی عمارت بنائی۔“
یہاں ذاتی تجربہ، قومی تاریخ سے جڑتا ہے، اور ایک فکری علامت میں ڈھل جاتا ہے۔
8۔ تنقیدی نظریات پر کتاب کی حیثیت
نقادوں کے نزدیک یہ خودنوشت اردو ادب میں انفرادیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ:
سیاسی و عدالتی تاریخ کی دستاویز بھی ہے، فکری مکالمے کا آغاز بھی ہے، اور ادبی حسن سے بھی لبریز ہے۔ ڈاکٹر ارشاد احمد لکھتے ہیں :
”جاوید اقبال کی خودنوشت ہمیں پاکستان کی فکری تاریخ کے کئی ابواب دکھاتی ہے، جو عام مورخ نہیں دکھا سکتا۔“
9۔ خامیاں
اگرچہ ”اپنا گریباں چاک“ مجموعی طور پر ایک مربوط، فکری اور پراثر خودنوشت ہے، تاہم کچھ پہلو ایسے ہیں جہاں قاری کو اسلوب یا مواد کے اعتبار سے جزوی تحفظات محسوس ہو سکتے ہیں۔ بعض مقامات پر موضوعات کی تکرار سے ایک قسم کی غیر ضروری طوالت کا احساس ہوتا ہے، جس سے تحریر کی روانی عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح چند ابواب، خصوصاً کیمبرج میں تعلیم کے تجربات کا بیان، ضرورت سے زیادہ مختصر رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ مرحلہ مصنف کی فکری اور علمی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اس کی مزید وضاحت قاری کی تشنگی کو کم کر سکتی تھی۔
اس کے علاوہ بعض معروف شخصیات پر کی گئی تنقید میں غیر متوازن یا ذاتی نوعیت کا تاثر بھی ابھرتا ہے۔ خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے حوالے سے مصنف کا بیانیہ شدید جذباتی اور شخصی ردعمل پر مبنی محسوس ہوتا ہے، جو ان کی عمومی فکری شفافیت سے ذرا ہٹ کر ہے۔ اس طرزِ تنقید سے بعض قارئین کو مصنف کی معروضیت اور علمی غیر جانب داری پر سوال اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔
تاہم یہ جزوی خامیاں خودنوشت کی مجموعی فکری و ادبی اہمیت کو کم نہیں کرتیں، بلکہ یہ اس امر کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ مصنف نے جہاں دیانت داری سے اپنی زندگی کو بیان کیا ہے، وہیں وہ مکمل بے نیازی کے ساتھ اپنی آراء کے اظہار میں بھی آزاد دکھائی دیتے ہیں۔
10۔ ادبی مقام
ڈاکٹر جاوید اقبال کی ”اپنا گریباں چاک“ ایسی کتاب ہے جو کئی انداز میں پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک سوانح نہیں بلکہ ایک فکری تحریر بھی ہے جس میں مصنف نے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ، سیاست اور عدالتی نظام پر بھی بات کی ہے۔ کہیں یہ کتاب سیاسی یادداشت لگتی ہے، کہیں عدالتی فیصلوں پر تبصرہ کرتی ہے، اور کہیں مصنف کی ذاتی سوچ اور فکری سفر کو بیان کرتی ہے۔ ان سب پہلوؤں کی وجہ سے یہ کتاب صرف یادوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ سوچنے اور سمجھنے والی ایک گہری تحریر بن جاتی ہے۔
اس کتاب کو پڑھنے سے قاری نہ صرف ایک بڑے آدمی کی زندگی کو سمجھتا ہے، بلکہ خود اپنے گریباں میں جھانکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔


