یادگاری سکے : پاکستان کا نظر انداز شدہ ورثہ


Muhammad Salman Rao

”بھائی یہ تو نقلی سکہ ہے! مجھے اصلی چاہیے۔“ یہ جواب مجھے ملتان کے ایک حیران دکاندار سے ملا جب میں نے اسے پاکستان کے 75 ویں یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیا گیا 75 روپے کا یادگاری سکہ دیا۔ اس سکے پر ایک طرف پاکستان کا قومی نشان اور دوسری طرف امریکہ کی گریٹ مہر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آزادی اور پاک امریکہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے کلمات کندہ تھے۔ مگر اس دکاندار کے لیے یہ ”نقلی“ تھا، صرف اس لیے کہ یہ عام سکوں سے مختلف نظر آتا تھا۔

یہ لمحہ ایک بڑے المیے کی عکاسی کرتا ہے : پاکستان کے یادگاری سکے اور نوٹ، جو ہماری تاریخ کے اہم واقعات کی یاد دلاتے ہیں، یا تو نظرانداز کر دیے جاتے ہیں، پگھلا دیے جاتے ہیں، یا بیرونِ ملک فروخت ہو جاتے ہیں۔ صرف عوامی لاعلمی کی وجہ سے۔

یادگاری سکے اور نوٹ کیا ہیں؟

یہ خاص سکے اور نوٹ ہماری قومی تاریخ کے اہم سنگِ میل کی دستاویز ہیں، مثلاً
1977 کا 100 روپے کا چاندی کا سکہ، جس پر علامہ اقبال کی صد سالہ پیدائش کی مناسبت سے نقش نگاری کی گئی۔
2024 کا 55 روپے کا سکہ، جو بابا گرو نانک دیو جی کی 555 ویں سالگرہ پر جاری کیا گیا۔
2024 کا 50 روپے کا سکہ، جو ایس او ایس چلڈرنز ویلج پاکستان کے لیے بنایا گیا۔

دنیا بھر میں ایسے نوادرات کی بھاری قیمت وصول کی جاتی ہے۔ گزشتہ سال لندن کی ایک نیلامی میں 1946 کے برٹش انڈیا کے 100 روپے کے نوٹ (جس پر ”حکومتِ پاکستان“ کا اوور پرنٹ تھا) 20,000 پاؤنڈ میں فروخت ہوا۔ لیکن پاکستان میں ایک کراچی کے جیولر نے 1977 کے اقبال کے یادگاری سکے (جو اب کلکٹرز کے لیے 2 لاکھ روپے سے زیادہ کا ہو چکا ہے ) کو صرف چاندی کے لیے پگھلا دیا۔

یہ لاعلمی کیوں برقرار ہے؟

کیا ہو اگر آپ کے ہاتھ میں تاریخ کا ایک ٹکڑا ہو اور آپ کو اس کا علم ہی نہ ہو؟ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہی حقیقت ہے۔ بیشتر پاکستانیوں کو علم ہی نہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان منٹ نے خصوصی سکے اور نوٹ جاری کیے ہیں۔ نہ تو عوام میں ان کے بارے میں آگاہی پھیلائی جاتی ہے، نہ ہی ان کی اہمیت بتائی جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا اندازِ کار ایسا ہے جیسے یہ کوئی رازداری کا معاملہ ہو، نہ کہ قومی تاریخ کا جشن۔ مثال کے طور پر 2025 ء کا 25 روپے کا سکہ، جو نادرا کی 25 ویں سالگرہ پر جاری کیا گیا، بغیر کسی تشہیر کے چھپ کر بازار میں آیا۔ جب میں نے یہ سکہ یونیورسٹی کے طلباء کو دکھایا، تو ان کے ردِ عمل نے نظام کی ناکامی کو واضح کر دیا:

20 میں سے 12 طلباء نے پوچھا: ”یہ ٹوکن ہے کیا؟“
5 نے کہا: ”شاید کسی کمپنی کا سکہ ہے۔“
صرف 3 نے پہچانا کہ یہ سرکاری کرنسی ہے۔

یہ لاعلمی درجِ ذیل وجوہات کی بنا پر ہے :

1۔ محدود تقسیم

یادگاری سکے اور نوٹ عموماً محدود تعداد میں جاری کیے جاتے ہیں اور عام مارکیٹ میں نہیں پھیلائے جاتے۔ زیادہ تر سرکاری اہلکاروں کو تحفے میں ملتے ہیں (جیسے 2021 کا 50 روپے کا سکہ یومِ ہنگور کی گولڈن جوبلی پر) یا پھر کلکٹرز اور غیر ملکی خریداروں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1976 کا جناح کا گولڈ سکہ دبئی میں 12,000 ڈالر میں بکا۔

2۔ ثقافتی لاپروائی

امریکہ، برطانیہ یا بھارت کے برعکس، پاکستان میں سکے جمع کرنے کا کوئی مضبوط کلچر نہیں۔ نہ نمسمیٹکس (سکے جمع کرنے کا علم) کی تعلیم دی جاتی ہے، نہ ہی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔

3۔ تباہ کن روایات

چاندی یا سونے کے سکوں کو ان کی دھات کی قیمت کے لیے پگھلا دیا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اندازوں کے مطابق، 2000 سے پہلے کے 60 % چاندی کے یادگاری سکے اس طرح ضائع ہو چکے ہیں۔

لاپروائی کی قیمت

ہر کھویا ہوا سکہ صرف دھات نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک ٹکڑا ہے جو ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا ہے۔ مثلاً 1948 کا نایاب ”پہلا سکہِ پاکستان“ اب جاپان کے ایک نجی کلیکشن میں قید ہے، جبکہ ہمارے تعلیمی نظام میں نمسمیٹکس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

معاشی طور پر یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ بے خبر عوام ان سکوں کو ان کی اصلی قیمت سے کہیں کم میں بیچ دیتے ہیں، جبکہ غیر ملکی کلکٹر اور نیلام گھر ان سے کروڑوں کما لیتے ہیں۔ ثقافتی طور پر یہ اور بھی سنگین ہے۔ ہم صرف سکے نہیں کھو رہے، بلکہ اپنی قومی شناخت کے ٹکڑے ضائع کر رہے ہیں۔

ایک راستہ آگے

اس ورثے کو بچانے کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے۔

عوامی رسائی: اسٹیٹ بینک کو یادگاری سکے بینکوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر عام لوگوں کے لیے فروخت کرنے چاہئیں (جیسا کہ ترکی کا مرکزی بینک کرتا ہے ) ۔

تعلیمی اقدامات: اسکولوں کے نصاب میں کرنسی کی تاریخ شامل کی جائے اور بینک ملازمین کو تربیت دی جائے۔ تعلیمی اداروں میں نمسمیٹکس کلب بنائے جائیں۔

میڈیا کا استعمال: سوشل میڈیا پر ”پہچانو اپنا سکہ“ جیسی مہم چلائی جائے، جس میں عجائب گھروں کی نمائشیں بھی شامل ہوں۔

برآمدات پر پابندی: بنگلہ دیش کی طرح نایاب سکوں کی غیر ملکی فروخت پر پابندی لگائی جائے۔

ملتان کے اس دکاندار کا جواب ”نقلی سکہ“ دراصل ہمارے اپنے ماضی سے کٹ جانے کی علامت ہے۔ یہ سکے اصلی ہیں، ہماری یادداشت ”نقلی“ ہو چکی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اقدامات نہ کیے تو پاکستان کا یہ قیمتی ورثہ غیر ملکی نیلام گھروں اور مقلی خانوں کی نذر ہوتا رہے گا، اور آنے والی نسلیں اپنی دولت اور شناخت دونوں سے محروم ہو جائیں گی۔

Facebook Comments HS

محمد سلمان راؤ

محمد سلمان راؤ شعبہ انٹرپولوجی (انسانیات) میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں لیکچرر ہیں۔ ان کے پاس ہیومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ موجود ہے، نیز وہ ایک ماہرِ سکّہ شناسی (نمیزمیٹسٹ) بھی ہیں۔

muhammad-salman-rao has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-salman-rao