انسان کی سب کچھ جان لینے کی خواہش اور جستجو، روز اول سے شروع ہوئی، جو آج تک قائم ہے۔ اسی خواہش نے ہمیں ایک ایسے زمانے میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں معلومات کا خزانہ ہواؤں میں اڑتا اور سمندروں میں بہتا ہے۔ پرانے وقتوں میں کسی بھی خبر یا چیز کی معلومات نایاب ہوتی تھیں۔ جس کو حاصل کرنے کی جد و جہد، نا صرف انسان کو عمل سے جوڑتی بلکہ ذہنی سکون، قابلیت، کچھ کر دکھانے کی جستجو پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی تھی، لیکن آج ماحول میں رچی بسی ہر قسم کی معلومات آپ کے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی، کسی پسندیدہ یا نا پسندیدہ خوشبو کے مانند آپ تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ چاروں طرف سے حملہ آور معلومات کا یہ وافر اور بے ہنگم خزانہ، بیماری کی شکل اختیار کر تا جا رہا ہے۔ اس کو کئی نام دیے جا سکتے ہیں، جس طرح انسومینیا کا شکار انسان، اپنی صلاحیتوں کا صحیح سے استعمال نہیں کر پاتا، ویسے ہی انفومینیا کا شکار انسان بھی، معلومات کو صحیح طور سے استعمال میں نہیں لا سکتا، نہ آگے بڑھا سکتا ہے۔
Read more