دروازوں کے باہر چاندنی: مختصر تعارف

وبا کے دنوں میں جب ڈر، خوف اور مایوسی کی فضا نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے استاد محترم ڈاکٹر احتشام علی کی کتاب ”دروازوں کے باہر چاندنی“ نے احمد مشتاق کی شعری دنیا کو منور کر کے تازگی کا ایک خوبصورت جھونکا ادبی دنیا پر ڈالا۔ احمد مشتاق کی شاعری ماضی اور ہجرت کا نوحہ ہے۔ وہ ان چیزوں پر دکھ کا اظہار کرتا ہے جو ماضی کا حصہ بن گئی ہیں مگر کھو دینے کا دکھ

Read more

وہ لڑکی تو زندہ ہی مر گئی ہو گی

خواب اور محبت دو ایسے فلسفے ہیں جن پر لکھی جانے والی ہزاروں داستانیں، لاکھوں کتابیں صرف ایک تصویر سے دھندلی پڑنے لگی ہیں۔ سچ کہتے ہیں جس چیز سے جتنا بھاگا جائے وہ اتنی رفتار سے آپ کا پیچھا کرتی ہے۔ پچھلے کچھ دن سے سوشل میڈیا پر ایک ہی تصویر گردش کر رہی ہے۔ لاکھ کوشش کی کہ ایسے پیجز اور گروپس لیفٹ کر دیے جائیں لیکن۔

پتھر کے جگر والوں غم میں وہ روانی ہے
خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے

تصویر کیا ہے، غم ہی تو ہے! اسپتال کے سامنے، گاڑی کے باہر، نام نہاد عاشق، بوجھل بانہیں، ایک جنم جلی کی لاش اور لاش کے خالی ہاتھ۔

Read more

ننگی عورتیں، فحش بچے، آوارہ کتے اور بے شرم بلیاں

سوشل میڈیا بھی گویا عذاب بن گیا ہے شعور والوں کا وتیرہ ہے کسی حساس موضوع پر رونے رو کر لائکس اور کمنٹس کی بھیک مانگنا۔ بلی کا بچہ ہی تو تھا، گینگ ریپ ہی تو ہوا ہے، ایک ہفتے کی تو بات ہے، سوراخوں سے خون ہی تو رستا تھا، چل پھر اور سو ہی تو نہیں پایا ایسی بھی کیا قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس بلونگڑے سے دلیر تو ہمارے بچے ہیں جو بنا چوں چرا کیے موت کو

Read more