سدھو موسے والا اور آرٹیکل 295

سدھو موسے والے کا ذکر میں نے پہلی بار اپنی ایک کولیگ کے منہ سے سنا تھا وہ بتا رہی تھی کہ آج کل نوجوان بچے کس کو سننا پسند کرتے ہیں اس فہرست میں اس نے سدھو موسے والے کا نام لیا۔ نام شروع میں تو بہت عجیب لگا کہ یہ کیا نام ہوا۔ اسی نرالے نام نے دماغ میں اپنا اثر چھوڑا اور وہ نام مجھے یاد رہ گیا۔ ابھی یہ بات ہی نہیں ہوئی تھی کہ ایک

Read more

مسلمان اور نظریہ ارتقا!

جب بھی نظریہ ارتقاء کی بات آتی ہے تو ہمارے موجودہ زمانے کے اچھے خاصے عالم فاضل لوگ اس کو اسلام کے خلاف بتانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس طبقۂ فکر کے لوگ صرف مولوی حضرات ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بائیولوجی یعنی حیاتیات پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ اس طبقے کے نزدیک ارتقاء ایک غیر اسلامی اور ملحدانہ نظریہ ہے۔ ترکی کے مصنف ہارون یحیی زمانہ موجود کے نظریہ ارتقاء کے سب سے بڑے مخالف

Read more

پاکستان میں سائنس کیوں نہیں پنپ رہی؟

ڈاکٹر عبدالسلام نے ذراتی فزکس (particle physics) کے میدان میں نوبل انعام 1979 ء میں حاصل کیا۔ انہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی سرشت کے بتیس ( 32 ) سال بعد جس کے حصے میں یہ امتیاز آیا وہ عبدالسلام ہیں۔ آپ کی وفات کے دو دہائیوں سے زائد عرصے میں بھی کسی پاکستانی کو یہ مقام و منزلت نہ ہوا۔ گو کہ 2014 میں ملالہ یوسفزئی نے بھی نوبل انعام حاصل کیا ہے البتہ یہ انعام

Read more

مولوی کی پانچ اقسام

لبرل حضرات ہر اس شخص کو مولوی کہہ گزرتے ہیں جو روایت پسندی کا شکار ہو جبکہ دوسری طرف سائنس کو مذہب ماننے والے کچھ حضرات بھی بعد مقامات پر اسی تعریف پر پورے اترتے نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی شخص سائنس کے کسی نظریے یا تھیوری پر سوال کر دے یا سمجھنے کی غرض سے تنقید کرے تو صبر و برداشت سے عاری یہی چند لوگ ”سائنسی مولوی“ سائل کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں گویا یوں گمان کرنے لگتے ہیں کہ سائل سائنس کا دشمن ہے۔

Read more

نظریات جنھوں نے دنیا بدل دی

کوپرنیکس جس زمانے میں پیدا ہوا اس زمانے میں پولینڈ میں علمِ نجوم کو ایک مؤثر علم سمجھا جاتا تھا۔ طبیب اور ڈاکٹر بھی نجوم کا مطالعہ اس غرض کرتے تھے کہ ستارے مرض کی تشخیص میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ہر شخص نجومیوں سے مشورے لیتا جو علمِ نجوم کی مدد سے مستقبل کی پیش گوئیاں اور اچھے برے شگون بتاتے۔ 1492 ء میں جب کوپرنیکس کی عمر 19 سال ہوئی تو یونیورسٹی میں داخلے کے حصول کے لیے

Read more