موجودہ تعلیمی نصاب اور ہمارے نوجوانوں کے فکری مغالطے و مطالبات

کیا آپ سٹیفن پی کوہن کے بارے میں جانتے ہیں؟ انٹرویو نگار نے احمد سے سوال کیا۔ جی نہیں، میں نے ان کا نام آج پہلی بار سنا ہے، احمد کے چہرے پر پھیلے حیرانی کے سایوں نے انٹرویو نگار کو اکسایا کہ وہ مزید اس قسم کے سوال پوچھے، لہذا اس نے اگلا سوال کچھ اس طرح داغا کیا آپ جانتے ہیں پاکستان میں پہلا مارشل لاء کب لگا تھا؟ جی وہ میں، جی۔ مجھے یاد نہیں۔ ٹھیک ہے،

Read more

ڈھاکا ابھی نہیں ڈوبا

آزادی ہند کی بنیاد پر دو ممالک کا وجود میں آنا اس بات کا ثبوت تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کو بالآخر فروغ ملے گا اور نو آبادیات کا سورج بس اب غروب ہوا ہی چاہتا ہے جس کی وجہ سے فرد کی فرد پر حکمرانی کو جائز تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن لیاقت نہرو پیکٹ اور آزاد ریاستوں کو بزور شمشیر اپنے ساتھ شامل کر کے دونوں ریاستوں نے اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ

Read more

شعر، بڑا شعر، شاعر اور نقاد

عرصہ دراز سے سنتے آئے تھے کہ نقد اگر کھرے کھوٹے کی پہچان کا نام ہے تو تنقید کو ہی مکھی کے کام سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ جسم پر بیٹھنے کے لئے ہمیشہ گندی جگہ کا انتخاب کرتی ہے مگر حالی، شبلی اور حسن عسکری جیسے ناقدین نے نہ صرف تنقیدی روایت کو بدلا بلکہ سلیم احمد جیسے نابغے نے اس میں تصوف کی آمیزش سے ایک لطیف جذبہ پیدا کیا لیکن عصر حاضر کے جدید

Read more

مجبور و محکوم کی سرگزشت

دنیائے فانی میں انسان کے مظالم کی داستان اتنی طویل ہے کہ اگر ان کا احاطہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں جبر کا ہتھیار ریاستوں کا نمائندہ رہا ہے۔ اگر ریاستی جبر کو قوم پرستی کی عینک سے دیکھا جائے تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ریاستوں نے بڑبے پیمانے پر انسانوں کی نسل کشی کے اقدامات کے ذریعے تاریخ کے الٹ پھیر میں اپنی جگہ بنائی اور آج قوم پرستی سمیت

Read more

اردو زبان و ادب کا مقامی بیانیہ

پروفیسر حسن عسکری مرحوم نے اردو ادب کی موت کا جو نعرہ مستانہ بلند کیا تھا، اس کی وجہ تسمیہ یہی تھی کہ اردو میں مقامی عناصر کی عدم موجودی نے کئی لوگوں کو اردو کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کردیا تھا اور آج انگریزی کے زیر اثر پروان چڑھتا ہمارا معاشرہ اردو کی عدم مرکزیت سمیت ادب و شعر کی ابتر حالت کا بھی ذمہ دار ہے۔ اردو کی ابتدا کے حوالے سے بات کی جائے

Read more

بھٹو کی ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ سے نواز شریف کی ”اگر مجھے بدل دیا گیا“ تک

جمہوریت کی خاطر اپنی جان قربان کر دینے والے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب اگر مجھے قتل کیا گیا زنداں نامہ سے زیادہ جمہوریت پرستوں کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے جس میں جیل حکام کے رویے سے لے کر اپنی سیاسی میراث کی تقسیم کا ذکر ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں سیاسی و سماجی رہنماؤں کا قید و بند کی صعوبتیں بردداشت کوئی آج کا قصہ نہیں، سیف الدین کچلو سے لے کر علی

Read more

ہم کہاں جانا چاہتے ہیں؟

ایک زمانہ تھا کہ تجاوز کا لفظ ہی معاشرے میں ایک برائی سمجھا جاتا تھا، اگر کسی کے گھر کی منڈیر یا چار دیواری نقشے کے مطابق نہ ہوتی تو اسے محلے میں ناپسندیدہ نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ کھیلتے ہو ئے بچے بھی اپنی حدود کا خیال رکھتے تھے اور اب حال یہ آن پہنچا ہے کہ کسی کو اپنی حدود کا خیال ہی نہیں، ہر کو ئی شتربےمہار بنا پھرتا ہے۔ آ یئے اس بحران کی وجہ جاننے

Read more

واپسی کا راستہ کھلا رکھیں

  وطن عزیز میں سیا ست ،معا شیا ت اور سما جیا ت سمیت ہر اہم شعبہ اس وقت بحران کی کیفیت کا شکا ر ہے ۔انتخا بات کا جا دو ہے کہ سر چڑ ھ کر بو ل رہا ہے ۔خیبر تا کشمور ،انتخا بات اور متوقع وزیر اعظم کا چر چہ شرو ع ہو چکا ہے ۔اتحا دی فو جیں بھی جر منی میں دا خل ہو نے سے پہلے اتنے دعوے نہیں کر رہی تھیں جتنے ہماری

Read more