پہاڑن

میں اگرچہ سطح مرتفع پوٹھوہار کا باسی ہوں او ر ہمارے خطے میں بھی پہاڑ پائے جاتے ہیں لیکن میری جائے پیدائش کچھ میدانی سی ہے اور کچھ کٹاؤ زدہ زمین ہے۔ لیکن پہاڑ کچھ ایسی دوری پر بھی واقع نہیں ہیں۔ ہماری چھت سے شمال کے سارے سلسلہ ہائے کوہ نظر آتے ہیں۔ مجھے بچپن سے پہاڑوں کے ساتھ عشق ہے۔ کیوں ہے؟ اس کی وجہ مجھے خود نہیں معلوم لیکن مجھے پہاڑ اچھے لگتے ہیں اور اسی لیے

Read more

چندرا

پرانے کنویں کی منڈھیر پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو ایک ٹھنڈا ٹھار اندھیرا اس کی تہہ میں ٹھہرا ہوا ہے جس نے اس کے ظاہر پر باطن کا پردہ ڈال رکھا ہے اس گھپ اندھیرے میں نظریں گم سی ہو جاتی ہیں تو انسان کو اپنی بینائی کے کھو جانے کا اندیشہ ہونے لگتا ہے اور نظریں کنویں کے سیلن زدہ دیواروں پہ رینگتی ہوئی باہر آجاتی ہیں۔ بی اے کے امتحانات ختم ہو چکے تھے اور ابا کی

Read more

راجہ انور، اٹھارہ سالہ جلاوطنی اور آبائی گاوں کی گلیاں

یہ 19 دسمبر 1997 کی خوشگوار صبح ہے ہلکے ہلکے بادل،تیز ہوا اور کبھی کبھی آسمان کی کوکھ سے ٹپکتی بوندیں۔ جہاز کے پہیوں نے زمین کو چھوا تو چشم تخیل میں یادوں کے پے در پے دریچے کھلتے چلے گئے۔فروری 1979 کو جب گھر سے چلا تھا تو یہ سوچا بھی نہ تھا کہ اب کی بار گھر واپسی کو 18 برس بیت جائیں گے۔ 11 فروری 1979،کی ایک ٹھٹھری ہوئی کہر آلود صبح تھی جب میں نے دو

Read more

نمکین چائے

آج اتوار ہے اور میں گھر کی دوسری منزل پر ٹیرس پہ بیٹھا سامنے وادی میں بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھ رہا ہوں۔ بارش ابھی ابھی رکی ہے چھت کے کھپریلوں سے بارش کا پانی بوند بوند ٹپک رہا ہے فضا میں ایک رومانوی غنائیت رچی ہوئی ہے میں چائے پی رہا ہوں اور ماحول سے رستے کیف میں بھیگ رہا ہوں۔ سامنے وادی کے اس پار سر بفلک پہاڑوں کا سلسلہ ہے جن کی ترتیب کچھ اس طرح ہے

Read more

خوشبو میں لپٹی یاد!

ہم کچھ دوست پرتگال سے واپسی پر سپین کے ایک دور افتادہ ساحلی شہر میں قیام پذیر تھے ہوٹل کا ریستوران تیسری منزل پر واقع تھا۔ جہاں سے سمندر کا انتہائی دلکش منظر دکھائی دے رہا تھا۔ تند خو لہریں پتھریلے ساحل سے سر ٹکرا ٹکرا کر دم توڑ رہی تھیں۔ لیکن ان کی سر فروشی میں کوئی کمی واقع نہیں ہور ہی تھی۔ ہر نئی لہر اپنی پیش رو سے زیادہ شدت کے ساتھ ساحل سے ٹکراتی اور بکھر

Read more

شیشے کے اس پار

ہمارا اور ان کا گھر ساتھ ملے ہوئے تھے پتھر کی ایک دیوار دونوں گھروں کے صحن کو تقسیم کرتی تھی اتنی بلند کہ دونوں اطراف کے بچے اور اکثر بستی کے سب بچے اس پر سے کودتے پھلانگتے رہتے تھے۔ برآمدے میں بچھے تخت پر بیٹھی دادی کی تنبیہ کے باوجود بھی باز نہیں آتے تھے۔ حالانکہ ہر چھلانگ کے ساتھ دادی کی دھمکی سنائی دے جاتی تھی کہ آ لینے دو تمہارے باپ کو میں آج تو ضرور

Read more