خوشبو میں لپٹی یاد!
ہم کچھ دوست پرتگال سے واپسی پر سپین کے ایک دور افتادہ ساحلی شہر میں قیام پذیر تھے ہوٹل کا ریستوران تیسری منزل پر واقع تھا۔ جہاں سے سمندر کا انتہائی دلکش منظر دکھائی دے رہا تھا۔ تند خو لہریں پتھریلے ساحل سے سر ٹکرا ٹکرا کر دم توڑ رہی تھیں۔ لیکن ان کی سر فروشی میں کوئی کمی واقع نہیں ہور ہی تھی۔ ہر نئی لہر اپنی پیش رو سے زیادہ شدت کے ساتھ ساحل سے ٹکراتی اور بکھر جاتی۔ ہم ریستوران میں کھانے کے لیے جمع تھے گزشتہ کئی دن کی تکان لیے ہم اپنی اپنی کرسیوں پر نیم دراز کھانے کے منتظر تھے۔
میں اپنے موبائل میں مگن تھا اور میرے دوست گفتگو کا سرا ڈھونڈ رہے تھے۔ ویٹر سلاد، سوپ اور دیگر لوازمات ٹیبل پر سجا رہے تھے۔ کہ اچانک ایک بے حد دیرینہ خوشبو نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں بے قراری کے عالم میں اپنے ارد گرد اس خوشبو کا ماخذ ڈھونڈنے لگا۔ لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا، میں نے ویٹر سے اس خوشبو کی بابت دریافت کیا تو اس نے ہمارے ٹیبل پر رکھے گلدان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا خاسمین سینور۔
خاسمین! یعنی چنبیلی کی خوشبو، ”یاسمین کی خوشبو!“ اور خوشبو کا ہاتھ تھامے یادوں کا اژدھام، میری پلکیں یادوں کے بوجھ سے بوجھل ہو کر گرنے لگیں۔ اور میں خوشبو کی انگلی تھامے یادوں کے جزیروں میں اتر گیا۔ میرے دوست میری اس کھو جانے یا سو جانے کی کیفیت سے شناسا ہیں لہذا باآسانی مجھے میری یادوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔
خوشبو کے ساتھ لپٹی ہوئی ایک یاد۔ اس نے کھڑکی سے ہاتھ نکال میرا کالر کھینچا اور مجھے اندر بلایا۔ میری نگاہ اماں کی جانب اٹھی جو کڑھائی کر رہیں تھیں اور میں ان کے سامنے سپارہ لیے بیٹھا تھا۔ انہوں نے فریم سے نظر ہٹائے بنا کہا جاؤ تمہارے لیے لڈو رکھے ہیں۔ میں جب کچن میں داخل ہوا تو وہ چوکی پر پاؤں رکھے شیلف پر بیٹھی تھی آسمانی رنگ کے کپڑوں پر اس نے گہرے نیلے رنگ کی سویٹر پہن رکھی تھی جس کے بٹن کھلے تھے۔
ایک شرارت بھری مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے اپنی بانہیں پھیلا دیں مجھے چوکی پر کھڑی ہو کر کے گلے سے لگایا اس کے بدن کی نرمی سنسنی بن کر میرے وجود میں دوڑ گئی میرا چہرہ ہاتھوں میں لے کر چوما اور مجھے لڈو کھلانے لگی۔ اس نے پھر مجھے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا جبکہ میں لڈو کھا رہا تھا۔ تب پہلی بار یہ خوشبو میرے اندر اتری تھی۔ چنبیلی کی خوشبو، ”یاسمین کی خوشبو!“ ۔ میں نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں۔
لیکن میں تو سپین کے ایک دور افتادہ ساحلی شہر میں تھا۔ ایک مانوس خوشبو مجھے اپنی بانہوں میں لیے ہوئے تھی۔ چنبیلی کی خوشبو، یاسمین کی خوشبو۔ میں نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے چہرے سے لگاتی میری ہتھیلیاں چوم رہی تھی۔ کبھی وارفتگی میں میرا ماتھا چومتی اور مجھے گلے سے لگاتی۔ جب گلے سے لگاتی تو ایک خوشبو مجھ سے لپٹ لپٹ جاتی۔ چنبیلی کی خوشبو، یاسمین کی خوشبو۔
یاد کا اگلا پڑاؤ۔ گرمیوں کی ایک دوپہر جب وہ مجھے سکول کا کام کرا چکی تو کھانا کھلا کے مجھے اپنے ساتھ لٹا لیا اس کا ایک بازو میرے سر کے نیچے تھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے میرے بال سنوار رہی تھی اس کے بدن کی نرماہٹ، کمرے کا نیم تاریک ٹھنڈا ماحول میرے بالوں میں حرکت کرتی اس کی انگلیاں کا جادو نیند بن کر میری آنکھوں میں اتر گیا۔ اور میں سو گیا۔ جب میرے آنکھ کھلی تو اماں انتہائی غصے کے عالم میں اسے ڈانٹ رہی تھیں اور اپنے دوپٹے سے میرے چہرے سے پسینہ پونچھ رہی تھیں۔
ارے مار دے اسے کم بخت کچھ ہوش بھی ہے تجھے۔ اس معصوم کا چہرہ پسینہ پسینہ ہو رہا ہے تو دھت سو رہی ہے۔ میں نے ادھ کھلی آنکھ سے دیکھا اماں کا ہاتھ میری جانب بڑھ رہا تھا اور وہ اسے روک رہی تھی۔ اور دوسرے ہاتھ سے میرے چہرے اور گردن سے پسینہ پونچھ رہی تھی۔ اس نے میرا منہ اپنی طرف موڑ لیا مجھے تھپکانے لگی۔ اماں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ اسے مت ہلا اپنے ساتھ اتنا کہ کل تو بھی پریشان ہو یہ معصوم بھی۔ اماں شاید وضو کر کے آئیں تھیں وہ اپنے آستین درست کر رہیں تھیں اور مصلیٰ تلاش کر رہی تھیں۔
میری نیند کھل چکی تھی لیکن ابھی آنکھیں کھولنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا میں نے کروٹ بدلی اور پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اماں نے نماز کی نیت باندھی تو اس نے پھر سے مجھے سینے سے لگا لیا۔ سلام پھیر کر اماں پھر سے اس پر برس پڑیں چھوڑ دے بچے کو سونے دے۔ کمبخت۔ نہیں اماں، یہ میرے سامنے ہو تو میں اسے خود سے دور نہیں دیکھ سکتی۔ اس نے میرے گرد اپنے بازو کس لیے۔ جہیز میں ساتھ لے کر جائے گی اسے۔ کچھ تو عقل کر کیوں تیری مت ماری گئی ہے۔
اماں نے پھر نماز کی نیت باندھ لی۔ اور وہ میرا سر اپنے بازو پہ رکھے چھت کی کڑیوں سے کسی افسانے کی کڑیاں ملانے لگی۔ اماں نماز پڑھ چکیں تو وہ کہنے لگی اماں آپ میری شادی شاہ جہاں کے ساتھ ہی کیوں نہیں کرا دیتے۔ اماں نے کوئی جواب نہی دیا شاید وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد وہ گرجیں۔ تیری اپنی بھی مت ماری گئی ہے اور تو ہمیں بھی پاگل کرے گی اپنی عمر دیکھ اور اس معصوم کی عمر دیکھ۔ تیرے ساتھ والیوں کے اپنے بچے ہو چکے۔
توبہ ہے اماں آپ کو ، وہ اماں کو چڑانے کے موڈ میں تھی۔ میں تو شاہ جہاں کے ساتھ ہی شادی کروں گی ورنہ کنواری بیٹھی رہوں گی۔ بکواس مت کر ۔ اماں اب شدید غصے میں لگ رہی تھیں۔ تیرے ابا نے سن لیا تو کل ہی نکاح پڑھا دیں گے تیرا۔ اماں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو وہ پھر مجھے چومنے لگی۔ اور ایک خوشبو کا سحر میری نیند میں گھلنے لگا۔ چنبیلی کو خوشبو، یاسمین کی خوشبو۔
میں جب پیدا ہوا تو اس کی عمر کوئی بارہ سال رہی ہوگی۔ وہ ہر وقت میرے پاس بیٹھی رہتی تھی اور موقع ملتے ہی مجھے اپنی گود میں اٹھا لیتی۔ اور جب میں چھ ماہ کا ہو گیا تو وہ مجھے اپنے گھر اٹھا لاتی ہمارے گھر جدا ہی کب تھے بس بیچ میں ایک دیوار تھی نچلی سی جسے وہ بہ آسانی پھاند جاتی۔ میری امی دن میں کئی بار مجھے دیکھنے آتیں اور دودھ پلا کے وہیں چھوڑ جاتیں۔ شام کو اماں بڑی مشکل سے مجھے گھر چھوڑ کے جاتی تھیں۔
اس دوران وہ دیوار منہ پہ بسورے کھڑی رہتی اور اماں کے ساتھ باقاعدہ جھگڑتی رہتی، کیا تھا اگر وہ رات کو بھی ہمارے پاس رہ جاتا وہ روہانسی سی ہو کر کہتی اور اماں اسے پچکارتے ہوئے ساتھ لے جاتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی لگاوٹ میرے ساتھ بڑھتی گئی۔ گو ہمارے گھروں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی نام کی دیوار تھی لیکن ہمارے گھروں کے صحن وسیع اور کشادہ تھے۔ میں نے پہلا قدم اسی کی آغوش سے زمین پر رکھا تھا۔ اور اسی کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا تھا۔
میں نے اپنی ماں کا نام لینے سے پہلے اس کا نام پکارا تھا۔ میں نے جو رشتہ سب سے پہلے جانا وہ میرا اور اس کا تھا جس کا کوئی نام تو نہیں لیکن بے حد اٹوٹ ہے۔ وہ سردی میں میرے لیے نرم دھوب تھی اور گرمی مٰیں ٹھنڈی پھوار جیسی! میں نے اس کے چہرے میں صبح کا روپ دیکھا اور شام کے سائے اس کے آنچل میں اترتے دیکھے۔ اس کی مسکراہٹ مجھے ایسے شاد کرتی تھی جیسے ساون کی بارش میں بھاگنا اور بھیگنا۔ اسی نے مجھے کاغذ کی کشتی بنانی سکھائی۔
اسی نے مجھے گیلی مٹی سے بت تراشنے سکھلائے۔ رات کو تاروں بھرے آسمان میں بہتے ہاتھی گھوڑے اسی نے دکھائے۔ اسی نے مجھے بتایا کہ یہ بھول کون سا ہے اور اس کی خوشبو کیسی ہے۔ اسی کی قربت میں میں نے جانا کہ اس کے بدن سے ایک ایسی خوشبو پھوٹتی ہے جو مجھے نشے کی تیز پھوار مین بھگو دیتی ہے جو اس کی یاد کے ساتھ میری ہر رگ جان سے بہتی ہے، چنبیلی کو خوشبو ”یاسمین کی خوشبو“ !
میں نے بعجلت کھانا کھایا اور دوستوں سے طبیعیت کی خرابی کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں آ گیا کمرے میں آ کر بھی میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے خود کو دو ایک غیر ضروری کاموں میں مصروف کرنے کی کوشش کی لیکن میرا ذہن ابھی تک ماضی کے جھروکوں سے جھانک رہا تھا۔ سو میں نے بھی بستر پر دراز ہو کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور یادوں کا ہاتھ تھام کر گزرے دنوں کی جستجو میں کھو گیا۔ ایسی ہی بے چینی ان دنوں میرے اندر بھر گئی تھی جن دنوں اس کی شادی تھی میرا آٹھویں جماعت کا امتحان تھا جب اس دن طے ہوئے تھے۔
بارہ تیرہ سال کی عمر میں اپنے جذبات کی تفہیم کیا کر تا مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میں رقابت، حسد اور جلن کی آگ میں جل رہا تھا۔ وہ کیا تھا تب میں اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ پڑھائی کے بہانے مجھے اس کی شادی کی تقریبات سے فرار کا بہانہ ضرور مل گیا تھا۔ وہ مجھے بلاتی تو میں کچھ دیر کے لیے جاتا اور پھر پرچے کی تیاری کا بہانہ تراش کے واپس آ جاتا۔ جس روز اس کی رخصتی تھی اسی دن میرا آخری پرچہ تھا۔
میں جان بوجھ کر دیر سے گھر آیا تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو لوگ کھانا کھا چکے تھے اور بارات کی واپسی کی تیاری تھی۔ میں گھر آ کر چھپ کر سو گیا جب میری آنکھ کھلی تو ہر شے اندھیرے کے قبضے میں تھی۔ ایک عجیب سا سکوت ہر شے پر محیط تھا۔ میں کتنی ہی دیر تک رضائی میں چپکا لیٹا رہا۔ کمرے کی طرح میرے ذہن میں بھی اندھیر ا تھا میرا جی چیخ چیخ کر رونے کو چاہ رہا تھال لیکن میرا بس نہیں چل رہا تھا۔ امی نے بتا یا کہ وہ مسلسل میرا پوچھتی رہی تھی رخصتی تک اس کی نگاہیں مجھے تلاش کرتی رہی تھیں اور اس کی زبان پر میرا ہی نام تھا۔
امی نے زبردستی اس کی شادی کا کھانا مجھے کھلایا جو بمشکل میری حلق سے اتر رہا تھا ہر نوالے کے ساتھ کتنے ہی آنسو تھے جو میں پی رہا تھا۔ پھر امی نے ایک پونے (رومال ) میں بندھی کچھ چیزیں مجھے دیں جو اس نے میرے لیے بجھوائیں تھیں۔ رومال سے اٹھتی اس کی خوشبو میں پہچان سکتا تھا۔ یہ اسی کی خوشبو تھی۔ چنبیلی کو خوشبو، ”یاسمین کی خوشبو“
جس دن وہ مکلاوے کے لیے آئی تو سیدھا ہمارے ہی گھر آئی مجھے ڈھونڈ کر گلے سے لگایا منہ ماتھا چوما اور پنے ساتھ لے گئی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لپٹاتی یا پیار کرتی تو مجھے لگتا جیسے اس کے پیار میں کوئی بناوٹ ہے یہ اصل نہیں ساختہ ہے۔ تکلف میں لپٹا ہے۔ حالانکہ یہ محض میرے ذہن کا انتشار و خلفشار تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے محبت مین وہ کسی کو شریک کرے۔ لیکن اس کی میرے ساتھ محبت تو ایسی ہی تھی جیسے مجھے میرے کھلونوں کے ساتھ محبت تھی۔
یا کسی خوش نما منظر کی چاہت جیسی۔ جیسے اسے پنے بستر سے محبت تھی اپنے کمرے سے تھی اپنی ان تمام چیزوں سے تھی جنہیں وہ میرے علاوہ کسی کو ہاتھ بھی نہ لگانے دیتی تھی۔ اور جنہیں وہ مجھ سمیت چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ لیکن میں اسے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ بارہ تیرہ سال کا بچہ ان جذبات کو کیا نام دے سکتا تھا کیسے سمجھ سکتا تھا۔ میں اپنے علاوہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ ایک عجیب سا طوفان تھا جو صبح شام میرے ذہن میں یلغار کیے رکھتا تھا۔
مجھے اس کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت تھی لیکن اب وہ نہیں تھی اس کے علاوہ میرا کوئی دوست ہی نہیں تھا سو میرے اندر ایک خالی پن تھا جو شور کرتا تھا۔ میں نے اپنے اس خالی پن کو اس کی نفرت سے بھرنا شروع کر دیا۔ ایک دن وہ مجھے اپنے ساتھ کنویں پر لے گئی۔ پانی بھرنے کے بعد وہ اپنے پاؤں دھونے لگی جیسے وہ ہمیشہ دھویا کرتی تھی۔ اس نے نارنجی رنگے کپڑے پہن رکھے تھے۔ وہ کنویں کی منڈیڑ پر بیٹھی تھی اور میں نیچے بیٹھا زمین پر تنکے سے اپنے خیال کے حاشیے بنا رہا تھا۔
اس کی چوڑیوں کی چھنکار مجھ تک پہنچ رہی تھی۔ سورج اس کی پشت پر افق کنارے غروب ہو رہا تھا لیکن لگ رہا تھا جیسے اسے دیکھنے کچھ لمحوں کو رک گیا ہو۔ جو عین اس کے چہرے کے سامنے تھا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ سورج کے عکس میں نہا کر اسی کے رنگ میں ڈھل گئی ہو۔ میں اسے ٹک دیکھ رہا تھا اور میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی جو مجھ تک نہیں پہنچ رہی تھیں۔ سورج جو ابھی اس کے چہرے کے مقابل تھا اب اس کے قدموں میں تھا جسے وہ اپنے پیروں سے پرے دھکیل رہی تھی۔ واپسی اس نے مجھے اپنے ساتھ لپٹا رکھا تھا لیکن میں اس سے بہت دور تھا کیونکہ اس بار اس کی وہ خاص خوشبو مجھ تک نہیں پہنچ رہی تھی اس کے وجود سے اٹھتی مہک میرے لیے اجنبی تھی۔ یہ وہ خوشبو نہیں تھی جسے میں جانتا تھا۔ چنبیلی کی خوشبو۔ ”یاسمین کی خوشبو“ ۔
میں اب شعوری طور پر اس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کے آنے پر میں چھپ جاتا یا اپنی پھوپھی کے گھر چلا جاتا۔ وہ مجھے ڈھونڈتی میرا پوچھتی لیکن میں اس کے سامنے نہ آتا تھا۔ اور اگر کبھی ہمارا آمنا سامنا ہو جاتا تو میں بے پناہ سرد مہری کا مظاہرہ کرتا تھا لیکن اس کا التفات ویسا ہی ہوتا تھا وہ میرا ہاتھ پکڑ کر چومتی بس چل جائے تو مجھے گلے سے لگا لیتی لیکن میں اس دور ہی بھاگتا تھا۔ جس دن میرا میٹرک کا رزلٹ آیا تھا اسی روز اس کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی اس نے اس نام شاہ جہاں یہ کہہ کر رکھوایا تھا کہ وہ بھی میرے جیسا ذہین اور قابل ہو گا اور میں سوچ رہا تھا کہ وہ بھی کہیں میری طرح محروم تمنا ہی نہ رہے۔
میٹرک کے بعد میں شہر چلا گیا اور ہمارے درمیان میری پیدا کردہ خلیج بڑھتی چلی گئی۔ آئندہ سالوں کے دوران میں جب بھی گھر آتا تو کوشش کرتا کہ رات کو پہنچوں اور جب جانا ہوتا تو صبح گجر دم نکلتا تھا۔ اپنے گاؤں میں قیام کے دوران میں دن کے اوقات میں زیادہ گھر سے باہر ہی رہتا تھا اور اگر گلی دروازے یا صحن میں اس مڈبھیڑ ہو جاتی تو میں جلدی کا بہانا بنا کر نکل جاتا وہ ہر بار مسکرا کر میرا راستہ چھوڑ دیتی تھی۔
میری سردمہری پر کٹ کٹ جاتی لیکن کبھی اس کی زبان پر کوئی شکوہ نہیں آیا۔ میرا برطانیہ کا ویزہ لگا تو خوش بھی تھی اور اداس بھی تھی جب سے اس کی شادی ہوئی تھی میں نے کبھی اسے بغور نہیں دیکھا تھا وہ اب شاید پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی یا مجھے لگ رہی تھی۔ میں نے کبھی اس کی طرف جنسی التفات محسوس نہ کیا تھا۔ میرے اور اس کے تعلق میں ایسی کوئی کشش تھی ہی نہیں۔ مجھے اس کے ساتھ ایسی محبت تھی جیسے وہ میرے وجود کو کوئی حصہ ہو۔
جس کے کٹ جانے کا تاسف عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔ آخری جب وہ مجھے ملنے آئی تو میں کچن میں تھا میرا قد اب اس سے لمبا ہو چکا تھا۔ جب بھی مجھے دیکھتی تو کہا کرتی تھی کہ جب بھی تمھیں دیکھتی ہوں تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ میرے گلے لگ کر وہ خوب روئی تھی اتنا روئی تھی کہ اس کی آنکھیں سوجھ گئی تھیں۔ وہ اور اس کی سوجھی ہوئی آنکھیں میں نے آخری بار دیکھی تھی۔ ادھر ہوائی جہاز نے پاکستان کی زمین چھوڑی ادھر میرے ذہن سے اس کی یاد محو ہو گئی۔
اور آج کتنے ہی برسوں کے بعد اس کی یاد نے میرے وجود کو اپنی گرفت میں لیے لیا تھا۔ یادوں اور خیالوں کا یہی تانا بانا بنتے میری آنکھ لگ گئی اور میں پاکستان میں اپنے گھر کے کچن میں کھڑا تھا اور وہ میرے گلے سے لگ کے رو رہی تھی۔ اس کی آنکھ سے گرتا ہر آنسو میرے اندر کے زنگار کو دھو رہا تھا۔ جب میری نیند ٹوٹی تو میں اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہا تھا۔ میاں محمد صاحب کا یہ شعر میرے ذہن میں گونج رہا تھا۔
سفنے دے وچ ماہی ملیا تے میں گل وچ پالیاں بانہواں
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں کتھے فیر وچھڑ نہ جاواں
میں ڈر کے مارے آنکھیں نہیں کھول تھا رہا کہ پھر سے اسے کھو نہ دوں اس کی خوشبو جو مدتوں بعد مجھ تک پہنچ رہی تھی۔ وہ پھر سے مجھ سے جدا نہ ہو جائے۔ بہت دیرینہ اور مانوس خوشبو، چنبیلی کی خوشبو، ”یاسمین کی خوشبو“ ۔


