امام حسین ؓ کے ساتھ کون تھا؟

قاضی شریح ابن حارث مسلم تاریخ کی ایک عجیب و غریب شخصیت ہیں، انہوں نے رسول اللہﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کیا مگر ان کی آنحضرتﷺ سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکی، یہ ایک نہایت قابل شخص تھے، فقہ اور حدیث کے عالم تھے، شعر و شاعری سے بھی شغف تھا، حضرت عمرؓ نے انہیں قاضی مقرر کیا۔ بعد میں حضرت عثمانؓ نے بھی انہیں اسی عہدے پر برقرار رکھا، حضرت علیؓ (غالباً) انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے

Read more

وینس، ایک محبوبہ

وینس میں شدید گرمی تھی، یوں لگ رہا تھا کہ سورج سوا نیزے پر آ چکا ہے فقط قیامت کا اعلان ہونا باقی ہے، اس گرمی میں ہم واٹر بس کی ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں لگ گئے، جب باری آ نے لگی تو کاؤنٹر کلرک نے اچانک سرخ بتی روشن کر دی اور اشارہ کیا کہ کسی دوسرے کاؤنٹر پر جاؤ، ایک اطالوی عورت نے اس بیہودہ حرکت پر بہت احتجاج کیا مگر اُس مرد نا ہنجار پر کوئی اثر نہیں پڑا، وہ اطمینان سے کاؤنٹر چھوڑ کر باہر آیا اور سگریٹ پینے لگا۔

پاکستان یاد آ گیا، ایسی حرکتیں ہم لوگ کیا کرتے ہیں، مگر اٹلی پہنچ کر احساس ہوا کہ یہ لوگ ہمارے جیسے ہیں بلکہ ہم سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

Read more

سوئٹزر لینڈ: دنیا کا ڈرائنگ روم

موازنہ بنتا تو نہیں مگر کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔ پاکستا ن کے پاس سرسبز پہاڑ ہیں، سوئٹزر لینڈ کے پاس بھی دنیا کے بہترین پہاڑ ہیں، پاکستان میں دریا بہتے ہیں سوئٹزر لینڈ کے شہروں میں بھی دریا ٹھاٹھیں مارتے ہیں، پاکستان کے پاس برف پوش چوٹیاں ہیں سوئٹزر لینڈ میں بھی برفیلی وادیاں ہیں، پاکستان میں خوبصورت جھیلیں ہیں سوئٹزر لینڈ کی جھیلیں بھی سبز ہیں، دیکھا جائے تو دونوں ملکوں کی خوبصورتی میں زیادہ فرق نہیں

Read more

تحصیل حاصل پور، ضلع اوسلو

اوسلو میں جس پہلے پاکستانی سے ہمارا تعارف ہوا وہ تیس پینتیس سال کا ایک نوجوان تھا، ہنس مکھ اور خوش شکل، میرے پوچھنے سے پہلے ہی اُس نے بتادیا کہ اُس کا تعلق حاصل پور سے ہے، میں نے سوال کیا کہ ناروے میں کتنے سال ہو گئے، جواب دیاآتی سردیوں میں پندرہ سال ہو جائیں گے، میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ پھر حاصل پور تو پیچھے رہ گیا اب تو خود کو نارویجین کہو، اس کے چہرے سے اداسی کا ایک سایہ سا لہرا کر گزر گیا مگر اگلے ہی لمحے پھر و ہی دل موہ لینے والی مسکراہٹ واپس آگئی، بولا ”حاصل پور پیچھا نہیں چھوڑتا، اب بھی ہر سال پاکستان جاتا ہوں، دوستوں سے ملتا ہوں، میرا بس چلے تو حاصل پور اٹھا کر ناروے لے آؤں۔ “ اس ایک جملے میں پوری داستان پوشیدہ ہے، ہماری خواہشات کی، ہماری محبتوں کی، ہماری محرومیوں کی، ہماری خواہشوں کی اور ہماری بے بسی کی۔

Read more

پی آئی اے کا نوحہ، قطر کا دوحہ

لاہور کے ہوائی اڈے پر ایسے رش تھا جیسے یہاں سے پوری دنیا کے لیے پروازیں جا رہی ہوں، سامنے بورڈ پر نظر پڑی تو معلوم ہوا دو گھنٹے کے وقفے سے بمشکل چھ پروازیں جائیں گے، یہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ رش نہیں ہڑبونگ مچی ہے، جانے والے کم تھے اور انہیں با ر بار جپھیاں ڈال کر الوداع کرنے والے زیادہ، ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جہاز کی دُم سے لٹک کر ساتھ چلے جائیں۔ سیکورٹی والے لوگوں کو قطار میں لگنے کا مطلب سمجھا رہے تھے اور لوگ انہیں سمجھا رہے تھے کہ قطار وہ پاکستان سے باہر جا کر بنائیں گے۔

Read more

سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگا دیں

جس طرح ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کرنے کے بعد شہر کے تمام کتب خانے نذر آتش کر دیے تھے اور خلیفہ ہارون الرشید کے قائم کردہ عظیم الشان دارالحکمہ کو بھی آگ لگا دی تھی اسی طرح کچھ عرصے سے میرا دل بھی چاہ رہا ہے کہ میں اپنی چھوٹی سی لائبریری میں موجود سیلف ہیلپ کی کتابوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دوں اور اس کی راکھ راوی میں بہا کر باقی ماندہ زندگی کسی مطمئن سادھو کی طرح انگریزی میں خطبے دیتے ہوئے گزار دوں۔ یہ انقلابی سوچ کافی عرصے سے میرے دماغ میں پرورش پا رہی تھی مگر آج میں نے سوچا کہ آپ کو بھی اس ذہنی انقلاب سے آگاہ کر دوں۔

Read more

چار عقل مند افراد (آخری حصہ)۔

(گذشتہ سے پیوستہ ) ۔ الف نے اِس دوران سگریٹ سلگا لیا اور سامنے رکھی ہوئی فائل کو یوں دیکھنے لگا جیسے اس کے علاوہ کوئی اور وہاں موجود نہ ہو۔ ب، جیم اور د بے چینی سے پہلو بدلنے لگے مگر الف کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا، شاید وہ اپنی بڑ ی عمر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وقت لے رہا تھا۔ چند منٹ اسی طرح گزر گئے، بالآخر د نے خاموشی توڑی : ”مسٹر الف، آپ کسی غلط فہمی کا ذکر کر رہے تھے۔ کہ ہم لوگ قانون بناتے وقت غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آخر کون سی غلط فہمی؟“

Read more

چار عقل مند افراد

وین بل کھاتے ہوئے پہاڑی راستوں پر چکراتی ہوئی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، وین میں چار افراد سوار تھے، ڈرائیور نے انہیں وادی کے صدر دفتر سے وصول کیا تھا اور اُسے ہدایت کی گئی تھی کہ انہیں پہاڑ کے دامن میں واقع عمارت میں پہنچا دے، بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ عمارت محکمہ انصاف و قانون کے دفتر کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ڈرائیور کو کہا گیا تھا کہ اس مرتبہ اُس کے ساتھ چار افراد بھی جائیں گے، اس سے پہلے وہ ہمیشہ اکیلا ہی عمارت تک ضرورت کا سامان پہنچا کر واپس آ جایا کرتا تھا۔

Read more

وجاہت مسعود کا ”محاصرہ“

آج سے تیرہ برس قبل جب میں نے جنگ میں کالم لکھنے شروع کیے تو میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت آسان ہے، کہیں بھی بیٹھ کر کچھ بھی گھسیٹ دو چھپ جائے گا، اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھی، بے شمار کالم نگار آ ج بھی اپنے پیر کے انگوٹھے سے قلم پکڑ کرکالم گھسیٹتے ہیں اور ان کے مضامین پورے کروفر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتے ہیں، میں ایسے کالم نگاروں کا بے

Read more