تم آزاد نہیں ہو! – مکمل کالم

’’کابوس‘‘۔ الف نے یہ لفظ پہلے کئی مرتبہ پڑھا اور سنا تھا مگرآج اسے اِس لفظ کا صحیح مطلب سمجھ میں آیا۔ صبح جب وہ بیدار ہواتو اُس سے اٹھا نہیں گیا، اسے لگا جیسے اُس کے پیروں کو کسی نے جکڑ رکھا ہے۔ اُس نے زور سے سر کوجھٹکا دیا جیسے یقین کرناچاہ رہا ہو کہ وہ مکمل بیداری کی حالت میں ہے یا کوئی خواب کی کیفیت ہے۔ سامنے دیوار پر ٹنگی ہوئی گھڑی سات بجا رہی تھی،

Read more

بابائے قنوطیت – مکمل کالم

ہمارے ایک دوست ہیں جن کا اصل نام تو ہم آپ کو نہیں بتا سکتے تاہم آپ انہیں بابائے قنوطیت کہہ سکتے ہیں۔ آنجناب کا تعلق مشہور جرمن فلسفی شوپنہار کے قبیلے سے ہے۔ آپ کا پسندیدہ اور محبوب مشغلہ اس دنیا میں مایوسی اور نا امیدی پھیلانا ہے۔ اگر یہ شوپنہار کے زمانے میں زندہ ہوتے تو وہ مرد عاقل انہیں اپنا جانشین نامزد کر کے فوت ہوتا۔ کبھی کبھی تو ہمیں یوں لگتا ہے جیسے حضرت عزرائیل نے موصوف کو دنیا میں اپنا ڈائریکٹر مقرر کیا ہوا ہے، اس مسرت کے ساتھ کسی کی فوتیدگی کی اطلاع دیتے ہیں جیسے مرنے والے نے انہیں وصیت کی ہو کہ اس کی وفات پر بھنگڑا ڈالا جائے۔

Read more

باعزت زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ

دروازے کی گھنٹی بجی، صاحب خانہ نے گھڑی دیکھی، رات کا پہر تھا، اُن کے سونے کا وقت ہو چلا تھا۔ شب خوابی کا لباس پہنے انہوں نے دروازہ کھولا تو بھونچکے رہ گئے۔ دروازے پر ڈیڑھ درجن پولیس کی گاڑیاں اور باوردی اہلکار بندوقیں سنبھالے یوں چوکس کھڑے تھے جیسے انہوں نے گھر سے کسی دہشت گرد کو برآمد کرنا ہو۔ یہ سفید پوش لوگوں کا محلہ تھا اور جس گھر پر یہ دھاوا بولا گیا تھا وہ بھی

Read more

دو سوال – مکمل کالم

پہلا سوال، سائنس سے: تم تو جانتی ہو میں تمہارا بڑا مداح ہوں، ہمہ وقت تمہارے گُن گاتا ہوں، ہر محفل میں تمہارے حسن کی تعریف کرتا ہوں، آخر یہ تم ہی تو ہو جس نے ہم انسانوں کی زندگیاں آسان بنائی ہیں، تمہارے ہی دم سے اِس جہان میں رونق ہے، تمہاری بدولت ہی ہم انسان ’تو شب آفریدی چراغ آفریدم‘ گنگناتے پھرتے ہیں۔ دس ہزار سال پہلے کی زندگی کے مقابلے میں آج جو آسایشیں انسان کو میسر

Read more

ہم خوش قسمت ہیں یا بد قسمت؟ – مکمل کالم

ہمارے ایک بزرگ دوست تھے، اب بھی حیات ہیں، خدا انہیں دنیا میں ہی جنت نصیب کرے، بڑی مزے مزے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے کہ خوش قسمتی یا بد قسمتی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ آپ کے اچھے برے فیصلے ہوتے ہیں جن کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ اگر فیصلے دانشمندی کی بنیاد پر کرو گے تو نتائج خوشگوار نکلیں گے اور اگر فیصلے حماقت پر مبنی ہوں گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔ کوئی بھی شخص زندگی میں کسی ایک فیصلے کی وجہ سے کامیاب یا نامراد نہیں ہوتا، یہ فیصلوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جو کسی کو ظفر مند اور کسی کو ناکامران بناتا ہے۔

کامیاب لوگ بھی زندگی میں غلط فیصلے کرتے ہیں اور ناکام لوگ بھی کوئی نہ کوئی درست فیصلہ کرتے ہیں، مگر کسی بھی شخص کی ناکامی یا کامیابی ایک فیصلے پر نہیں ٹکی ہوتی۔ زندگی کے ہر مرحلے پر کوئی نہ کوئی موڑ ایسا ضرور آتا ہے جب آپ کو اپنا اختیار استعمال کر کے راہ منتخب کرنی پڑتی ہے، ہو سکتا ہے نادانستہ طور پر آپ غلط راہ کا انتخاب کر لیں مگر کوئی بات نہیں ایسی ایک آدھ غلطی کی گنجایش ہوتی ہے بشرطیکہ آدمی اس غلطی کا ادراک کرے اور اگلی مرتبہ درست فیصلہ کرے۔ لیکن اگر آپ کسی شاہراہ پر گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل غلط راستوں کا انتخاب کرتے رہیں گے تو منزل پر پہنچنا تو دور کی بات، ہو سکتا ہے کہ راستے میں حادثہ کروا کے ٹانگ تڑوا بیٹھیں اور پھر بد قسمتی کا رونا روئیں!

Read more

سب رنگ سے آگے جہاں اور بھی ہیں

"Render unto Caesar the things that are Caesar’s, and unto God the things that are God’s.”

’سب رنگ کہانیاں‘ میرے سامنے ہیں۔ یہ سمندر پار سے شاہ کار افسانوں کے تراجم ہیں جو سب رنگ میں شائع ہوئے۔ اس کتاب میں مختلف ادیبوں نے شکیل عادل زادہ صاحب اور سب رنگ کے بارے میں جو تعریفی و توصیفی کلمات لکھے ہیں، ان کے بعد مجھ پر فرض تھا کہ میں یہ کتاب با وضو ہو کر پڑھوں اور ہر کہانی کے بعد کتاب کو چوم کر آنکھوں سے لگاؤں۔ میری عادت ہے کہ کتاب پڑھتے وقت اپنے پسندیدہ جملوں پر نشان لگا دیتا ہوں، جہاں پوری عبارت پسند آ جائے وہاں بڑا سا ستارہ بنا دیتا ہوں اور جو حصے پسند نہ آئیں ان پر حسب توفیق حاشیے میں کوئی جملہ لکھ دیتا ہوں۔

لیکن اس کتاب کے ساتھ میں ایسی گستاخی کر کے گناہ کا مرتکب نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھپی ہے اور اس قدر مجلا، مصفا اور دیدہ زیب ہے کہ کہیں کوئی نشان لگانے، سرورق پر کافی کا مگ رکھنے یا کاغذ کا کان مروڑنے کو دل نہیں کرتا۔ میری ان باتوں سے خدا نخواستہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں شکیل عادل زادہ یا سب رنگ کی عظمت کا قائل نہیں۔ اپنے تمام کالم نگار دوستوں کی طرح میرا لڑکپن بھی سب رنگ اور ہم عصر ڈائجسٹوں کی کہانیاں پڑھتے ہوئے گزرا۔

Read more

ہماری ناکامی کی پانچ وجوہات

اول تو اس کالم کا عنوان ہی غلط ہے۔ ہم ناکام نہیں ہوئے، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کامیابی ابھی ہم سے کچھ دور ہے۔ کتنی دور ہے، اس بات کا تعین کرنا باقی ہے۔ دوسرے، خود ملامتی کوئی اچھی بات نہیں، ہزار خرابیاں ہماری ذات میں ہوتی ہیں مگر ہم مان کر نہیں دیتے، یہی رعایت اپنے ملک کو بھی دینی چاہیے۔ لیجیے ہو گئی تمہید، اب ناکامی کی وجوہات دیکھتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ وہم ہے کہ ہم کوئی چنندہ قوم ہیں، اس کرہ ارض پر ہماری ٹکر کی کوئی دوسری مخلوق نہیں پائی جاتی اور اقوام عالم میں ہمارا ایک اچھوتا مقام ہے۔ ہمارے ملک کے جغرافیے کا تعین چونکہ آسمانوں پر ہوا تھا اور یہ خاص با برکت لمحات میں وجود میں آیا تھا اسی لیے زمین کا یہ ٹکڑا سب سے انوکھا اور منفرد ہے۔ اس ملک کے پاس کچھ ایسے پوشیدہ خزانے ہیں جو دنیا میں کسی اور ملک میں نہیں پائے جاتے، ان خزانوں کی کنجیاں البتہ ہم کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں، جونہی یہ کنجیاں ملیں گی ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔

Read more

گوریلے کو تلاش کریں۔ مکمل کالم

یہ مثال میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی، ذہن میں چپک کر رہ گئی، میری پسندیدہ ہے، شاید اسے مثال کہنا ٹھیک نہیں ہوگا، دراصل یہ ایک تجربہ تھا۔ دو ٹیمو ں کے درمیان باسکٹ بال میچ کروایا گیا، ایک ٹیم نے سیاہ رنگ کی قمیضیں پہنیں اور دوسری نے سفید رنگ کی۔ میچ شروع ہوا تو درمیان میں ایک شخص گوریلے کی کھال پہن کر 9سیکنڈ کے لیے نمودار ہوا اور سکرین کے سامنے اپنی چھاتی پیٹ کر

Read more

یہ جہاز کون لوگ اڑاتے رہے ہیں؟ مکمل کالم

ہوائی جہاز کے حادثات پر ہالی وڈ میں بے شمار فلمیں بنی ہیں، ان میں سے دو فلمیں البتہ ایسی ہیں جو اگر آپ نے نہیں دیکھیں تو اپنے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ ایک فلم کا نام Sully ہے اور دوسری کا ”دی فلائٹ“۔ Sully میرے پسندیدہ اداکار ٹام ہینکس کی فلم ہے جو کلنٹ ایسٹ وڈ کی ہدایتکاری میں بنی۔ یہ فلم اس پائلٹ کی سچی کہانی ہے جس کا جہاز جنوری 2009 میں نیویارک کے لاگارڈیا ائر پورٹ سے پرواز بھرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد پرندوں کے غول سے ٹکرا گیا، نتیجتاً جہاز کے دونوں انجن فیل ہو گئے اور پھر جہاز کو دریائے ہڈسن میں ہنگامی انداز میں اتارنا پڑا مگر پائلٹ کی مہارت سے تمام 155 مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔

پوری فلم نہایت صاف ستھری ہے، صرف ایک جپھی ہے مگر ایسی پدرانہ شفقت کے ساتھ کہ اپنے انصار عباسی صاحب اگر سینسر بورڈ کے رکن ہوں تو وہ بھی اسے بخوشی پاس کر دیں۔ دوسری فلم ”دی فلائٹ“ میں البتہ کچھ مناظر ایسے ہیں جنہیں منظور کروانے کے لیے ہمیں سینسر بورڈ میں ان کالم نگار کو بٹھانا پڑے گا جن کے بادہ و ساغر کا تسلی بخش انتظام آج تک نہیں ہو سکا اور وہ ہر دوسرے کالم میں اپنی اس محرومی کا رونا روتے ہیں۔ اس فلم میں پائلٹ کا مرکزی کردار ڈینزل واشنگٹن نے ادا کیا ہے جو شراب اور مختلف نشہ آور ادویات کا عادی ہے۔

Read more

ہمارے خوابوں کی تعبیر کون بتائے گا – مکمل کالم

سنجیدہ اور خشک مضامین میں اکثر ہمیں اس قسم کے جملے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ بیسویں صدی کا جدید ذہن بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے، مادیت نے ماڈرن آدمی کی مت مار دی ہے، انسان کا سکون چھن چکا ہے، راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے اور جدید آدمی اب فقط مصنوعی خوشی کے سہارے جی رہا ہے۔ ایسے مضامین چونکہ بھاری بھرکم دانشوروں کے قلم سے پھوٹتے ہیں سو خاصے بارعب لگتے ہیں، بندہ ان ثقیل باتوں کے بوجھ تلے ہی دب جاتا ہے۔ اگلے روز ایسے ہی ایک ہمدم دیرینہ سے گفتگو ہو رہی تھی جو جدیدیت کے سخت ناقد ہیں اور نہ جانے کیوں مجھے جدید انسان سمجھتے ہیں۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ مضطرب نہیں رہتے، کیا آپ سچی خوشی کے متلاشی نہیں، کیا آپ کو رات کو سکون کی نیند آتی ہے؟

میں نے کہا الحمدللہ ایسی کوئی بات نہیں، نہ ہی میں مضطرب ہوں اور نہ بے چین، زندگی سے خاصا مطمئن اور شاد ہوں، اور رہی بات نیند کی تو ہمیشہ سے ہی مجھے ایسی گہری نیند آتی ہے کہ بیدار ہونا عذاب لگتا ہے۔ میری بات سن کر وہ مضطرب ہو گئے، پھر کہنے لگے اچھا چھوڑیں یہ بتائیں کہ آج کل موبائل فون کون سا اچھا آ رہا ہے، آپ کو تو پتا ہے میں ہمیشہ جدید ماڈل استعمال کرتا ہوں۔ میں نے جواب دیا حضرت آپ ان ماڈلز کے چکر میں نہ پڑیں ویسے بھی بندہ عشق شدی ترک ’ماڈل‘ کن جامی۔ مصرع کی داد دیے بغیر انہوں نے فون بند کر دیا۔

Read more

چند سنجیدہ لطیفے – مکمل کالم

انٹر نیٹ پر جہاں ہر قسم کی ویب سائٹس دستیاب ہیں وہاں لطیفوں کی بھی بے شمار سائٹس ہیں جن میں موضوع کے اعتبار سے لطیفے مل جاتے ہیں۔ ناخلف شوہروں، بلانڈ عورتوں،سیاست دانوں، طوائفوں،تاجروں، وکیلوں، ڈاکٹروں،پادریوںکے لطیفے،سیاسی لطائف، جمہوریت، آمریت، کیپیٹل ازم، آزادی نسواں، نسل پرستی،ہم جنس پرستی اور سوشلازم پر جملے بازیاں، غرض ہر قسم کا مزاحیہ مواد اِن ویب سائٹس سے مل جاتا ہے۔ لیکن ایک مخولیہ بات ایسی ہے جو اِن ویب سائٹس پر بھی نہیں

Read more

منٹو، غالب اور فدوی – مکمل کالم

آپ کا پسندیدہ افسانہ نگار کون ہے؟ منٹو۔ ان کا پورا کیا نام کیا تھا؟ پورا نام تو یاد نہیں بس منٹو منٹو کہتے ہیں۔ اچھا کوئی بات نہیں، ان کے کچھ افسانوں کے نام بتائیے جو آپ نے پڑھے ہوں۔ افسانے تو بہت پڑھے ہیں، مگر اس وقت بس ایک آدھ نام ہی یاد ہے، ایک تو سفید شلوار تھا۔ بیٹا، سفید نہیں کالی شلوار تھا۔ اوہ سوری مجھے بس شلوار یاد رہی، رنگ بھول گیا، ویسے بھی منٹو صاحب کہہ گئے ہیں کہ رنگوں میں کیا رکھا ہے۔

برخوردار، یہ بات منٹو نے کبھی نہیں کہی۔ ارے! نہیں کہی تو انہیں کہنی چاہیے تھی نا، اتنی اچھی لائن ہے، کسی بھی افسانے میں فٹ کر دیتے۔ اور کوئی افسانہ یاد ہے منٹو کا؟ جی ہاں، رضائی، بہت دلچسپ افسانہ تھا۔ نوجوان، اس کا نام رضائی نہیں، لحاف تھا، اور وہ منٹو کا نہیں عصمت چغتائی کا افسانہ تھا۔ وہی وہی، جس کا بھی تھا بہت مزے کا تھا۔

یہ اس گفتگو کا مغز ہے جو ایک نوجوان سے کسی یونیورسٹی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ نوجوان پر کیا بگڑتا، میں خود لڑکپن میں منٹو کو ایسے ہی چسکے لے لے کر پڑھتا تھا۔ کچھ روز پہلے کتابوں کے طاقچے میں ”پورا منٹو“ کی تین جلدوں پر نظر پڑی تو ایک مرتبہ پھر ان میں سے ایک جلد ورق گردانی کی نیت سے اٹھا لی۔ منٹو کے افسانے تو اپنی جگہ شمس الحق عثمانی کا ”مقدمہ“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس عرق ریزی سے انہوں نے منٹو کے تمام افسانوں کو اکٹھا کیا۔

Read more

مجسمے گرانے والے انقلابی – مکمل کالم

تین سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں۔ پہلا۔ کیا اخلاقی اقدار کا کوئی ایسا پیمانہ بنایا جا سکتا ہے جو آفاقی ہو اور جس پر کُل عالم کا اتفاق ہو جائے؟ دوسرا۔ کیا آج کے دور میں ایسی شخصیات کے مجسمے گرانا درست اقدام ہے جنہوں نے اپنے وقت میں غلامی اور نسل پرستی کو غلط سمجھنے کی بجائے الٹا اس کی ترویج کی ہو؟ اور تیسرا۔ کیا گوشت کے بغیر کریلے، شلجم اور بھنڈی کو اتنا خوش ذائقہ بنایا

Read more

مستقبل طے شدہ ہے، مگر ہمیں معلوم نہیں: مکمل کالم

ہماری کہکشاں کے پہلو میں جو قریب ترین کہکشاں ہے اس کا نام ہم نے اینڈرومیڈا گلیکسی رکھا ہوا ہے، ستاروں کا یہ جھرمٹ زیادہ نہیں فقط پچیس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ میں نے خود تو کوئی تجربہ نہیں کیا البتہ سنا ہے کہ جس دن فضا صاف ہو، آسمان پر نگاہ پھسلتی جاتی ہو، آلودگی کم ہو تو اس کہکشاں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کہکشاں کو ’دیکھنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو روشنی وہاں سے پھوٹ رہی ہے وہ پچیس لاکھ سال بعد ہم تک پہنچی ہے۔

عین ممکن ہے کہ جب ہم اس کہکشاں کا نظارہ کر رہے ہوں تو اس کا وجود ختم ہو چکا ہو کیونکہ لمحہ موجود میں ہونے کے باوجود ہم اس کہکشاں کو پچیس لاکھ سال ماضی میں دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ہمارے ’وقت‘ کے حساب سے اینڈرومیڈا گلیکسی ابھی ’موجود‘ ہے مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ ’حقیقت‘ میں فنا وہ ہو چکی ہو۔ اینڈرومیڈا گلیکسی کے حوالے سے ایک بہت دلچسپ ’پیراڈوکس‘ بھی سائنس دانوں نے تخلیق کیا ہے۔ پیراڈوکس کا سیدھا سا ترجمہ فدوی کے نزدیک تو معمہ ہے مگر کچھ بزرگ باراں دیدہ اسے ’تضاد امری‘ بھی کہتے ہیں۔

Read more

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے پانچ کام – مکمل کالم

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے پانچ کام کیے جس سے اس کے ملک میں کورونا وائرس کی وبا ختم ہو گئی۔ پہلا کام یہ کیا کہ پورے ملک کے قحبہ خانوں پر پابندی لگا دی۔ اس سے پہلے نیوزی لینڈ میں جسم فروشی کی قانونی اجازت تھی مگر وبا کے بعد پارلیمان نے قانون منظور کر کے جسم فروشی کو غیر قانونی قرار دے دیا اور فحاشی کے تمام اڈے بند کر دیے، طوائفوں کا وظیفہ لگا دیا اور قحبہ خانوں کو چائے خانوں کا اجازت نامہ جاری کر کے ان کا کاروبار تبدیل کر دیا۔ اس سے فوری طور پر ملک میں فحاشی ختم ہو گئی، لوگ ساحل سمندر پر بھی مکمل لباس پہن کر جانا شروع ہو گئے، سکرٹ کی فروخت بند ہو گئی، عورتوں نے ٹخنوں تک لمبے چوغے پہننے شروع کر دیے، ٹی وی پر چلنے والے تمام فحش اشتہارات بھی بند کر دیے گئے۔

دوسرا کام جسینڈا آرڈرن نے یہ کیا کہ ملک کے تمام پادریوں کو اکٹھا کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ملک و قوم کے لیے اجتماعی استغفار اور دعا کروائیں، پادری قحبہ خانوں اور جسم فروشی پر لگی پابندی سے پہلے ہی بہت خوش تھے چنانچہ انہوں نے گرجا گھروں میں خصوصی دعائیں کروائیں جہاں وزیر اعظم سمیت نیوزی لینڈ کے شہریوں نے گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور پھر دعا کی ان کے ملک سے وبا کا خاتمہ ہو جاوے۔

Read more

ہر بات پر شک کرنے والے فلسفی – مکمل کالم

فراغت کے دن ہوں، ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو دوسرے ہاتھ میں کتاب ہو، راو ی چین ہی چین لکھتا ہو، اور زندگی میں کیا چاہیے۔ فلسفی لوگ مگر ایسی زندگی کے خلاف ہیں، سچ پوچھیں تو وہ ہر قسم کی زندگی کے خلاف ہیں۔ فلسفیوں کے خیال میں اس دنیا میں کوئی سچائی ایسی نہیں جس کے بارے میں ہمیں کامل اطمینان ہو سکے کہ یہ ہر قسم کے شک شبے سے پاک ہے، حتی کہ ریاضی کے متعلق بھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔

ڈیوڈ ہیوم نامی ایک مرد عاقل نے کہا تھا کہ ہم یہ مفروضہ قائم نہیں کر سکتے کہ کل سورج طلوع ہوگا چاہے ہزاروں لاکھوں برس سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہو۔ ہیوم صاحب منطق کے اعتبار سے شاید درست فرما رہے ہیں تاہم اگر انہیں سو ڈالر کی شرط لگانی پڑے تو وہ یقیناً سورج کے طلوع ہونے پر رقم لگائیں گے کہ منطق اور موصوف کی زوجہ دونوں کا یہی تقاضا ہوگا۔ اب تک آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ بندہ آج کل تشکیک پسند فلسفیوں کی کتابیں پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Read more

میں خود بہت بڑا وائرس ہوں

پہلے ہم نے کہا کہ یہ وبا صرف چین تک محدود ہے، پھر فرمایا کہ یہ حرام جانوروں کے کھانے سے ہوتی ہے، پھر دل کو تسلی دی کہ اس سے بوڑھے اور بیمار ہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بیماری یورپ پہنچی تو ہم نے طعنے دیے کہ بڑے ترقی یافتہ بنتے تھے اب بولو کیسی رہی! اس کے بعد امریکہ کی باری آئی تو ہم نے پینترا بدلا کہ یہ ہم جنس پرستی کی سزا ہے۔ جب وبا ہمارے ملک میں پہنچی تو پہلا مریض دیکھنے کے لیے لوگ اسپتال کے باہر اکٹھے ہو گئے، جب پچاس مریض ہو گئے تو کہا کہ ہماری قوت مدافعت بہت بہتر ہے، ہزار مریض ہوئے تو ہم نے اذانیں دینی شروع کر دیں، دس ہزار ہوئے تو ہم نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ڈھنڈورا پیٹا۔

پھر کسی نے کہا کہ یہ وائرس تو دراصل امریکہ اور یورپ کی شیطانی ہے، کوئی بل گیٹس کے لتے لینے لگا تو کسی نے فائیو جی کے کھمبوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ پھر ہم نے کہا کہ یہ خدا کا عذاب ہے، کوئی بولا کہ یہ سب ڈرامہ بازی اور میڈیا کی سنسنی خیزی ہے، کچھ خرد مندوں نے یہ لطیف نکتہ بھی سمجھایا کہ ملیریا سے ہر سال اس سے زیادہ بندے مرتے ہیں کوئی نہیں پوچھتا سو گھبرانے کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی یہ غلغلہ بھی اٹھا کہ وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا۔ ایک موقع پر ہمارے بابے میدان میں آئے اور تتو تھمبو کرتے ہوئے پیشن گوئیاں کیں کہ پندرہ سے بیس دن میں یہ وائرس ختم ہو جائے گا، کسی فلسفی نے اس میں انسانیت کی بھلائی تلاش کی اور کسی نے سائنس کا تمسخر اڑایا۔

Read more

کرونا وائرس کی مادہ کہاں ہے؟

مبلغ اڑھائی مہینے گھر میں مقید رہنے کے بعد یکایک آج مجھ پر القا ہوا ہے کہ میں نے اب تک کووڈ 19 کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہوں، یہ واضح رہے کہ اشرافیہ میں اس بیماری کا نام کووڈ 19 جبکہ عوام میں کرونا ہے، سو دھوتی سے جینز میں آنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کووڈ 19 کہنا سیکھ لیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر آپ وائرس کا نام بدل کر امراؤ جان ادا بھی رکھ دیں گے تو وہ بیماری ہی دے کر جائے گا مجرا نہیں کرے گا۔ یہ خیال بھی ابھی میرے ذہن میں آیا ہے کہ یہ مردود وائرس مذکر ہے، کوئی مادہ وائرس ہوتی تو بیویوں نے اپنے شوہروں کو بغیر کسی ویکسین کے خود ہی اس سے بچا لینا تھا۔

Read more

میں اہم تھا، یہی وہم تھا

میں روزانہ صبح سویرے اس سڑک کے کنارے ٹہلتا ہوں، یہ سڑک میرے گھر سے زیادہ دور نہیں، چند قدم کا فاصلہ ہوگا۔ عموماً لوگ چہل قدمی کے لیے کسی باغ کا رخ کرتے ہیں مگر مجھے یہ سڑک پسند ہے۔ علی الصبح یہاں ٹریفک کا رش ذرا کم ہوتا ہے، گاڑیوں کی چیخ پکار اور لوگوں کی دھکم پیل بھی نہیں ہوتی مگر پھر ذرا سی دیر میں ہی یہاں ایک ہنگامہ سا برپا ہو جاتا ہے۔ کوئی دفتر کو دوڑ رہا ہوتا ہے، کسی کو اسکول پہنچنے کی جلدی ہو تی ہے، کسی نے اپنی دکان کھولنی ہوتی ہے، یکایک ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔

Read more

مانوس اجنبی – مکمل کالم

میں روزانہ صبح سویرے اِس سڑک کے کنارے ٹہلتا ہوں، یہ سڑک میرے گھر سے زیادہ دور نہیں، چند قدم کا فاصلہ ہو گا۔ عموماً لوگ چہل قدمی کے لیے کسی باغ کا رُخ کرتے ہیں مگر مجھے یہ سڑک پسند ہے۔ علی الصبح یہاں ٹریفک کا رش ذرا کم ہوتا ہے، گاڑیوں کی چیخ پکار اور لوگوں کی دھکم پیل بھی نہیں ہوتی مگر پھر ذرا سی دیر میں ہی یہاں ایک ہنگامہ سا برپا ہو جاتا ہے۔ کوئی

Read more

سول سروس کا شیر دل – جہاز حادثے نہیں نااہلی کا شکار ہوا

میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کہ اچانک سکرین پر ایک خبر نمودار ہوئی، پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں اترتے ہوئے حادثے کا شکار، بے ساختہ منہ سے نکلا یا اللہ خیر۔ فوراً ٹی وی لگایا، ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا اور طیارے کے حادثے کی تفصیلات بتائی جا رہی تھیں۔ چند منٹ بعد ایک ٹی وی چینل نے اس طیارے میں سوار مسافروں کے ناموں کی فہرست بھی سکرین پر دینی شروع کر دی، ایک نام نظر سے گزرا، خالد شیر دل، میں دھک سے رہ گیا، یک دم دل سے دعا نکلی کہ خدا کرے یہ جھوٹ ہو، مگر یہ بات مجھے اچھی طرح معلوم تھی کہ دنیا میں اس نام کا ایک ہی آدمی ہے اور وہ ہے میرا بیچ میٹ، خالد دی شیر دل۔

Read more

نومولود کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے – مکمل کالم

اس واقعے کو سات دن گزر چکے ہیں، جنگ میں اس واقعے کی خبر صفحہ اول پر سنگل کالمی شائع ہوئی، ایک دوسرے اخبار میں تین کالمی جبکہ ایک انگریزی اخبار میں اس سے متعلق تصویر اور سنگل کالمی خبر صفحہ اول پر شائع ہوئی۔ اب تک میں نے اس واقعے پر صرف تین کالم دیکھے ہیں، دو اردو میں اور ایک انگریزی میں، شاید اکا دکا کہیں اور بھی شائع ہوئے ہوں مگر میری نظر سے نہیں گزرے، کسی بڑے اردو اخبار نے اس خبر پر اداریہ لکھنے کا تکلف نہیں کیا اور کسی قابل ذکر لیڈر نے زبانی کلامی مذمت کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی، کچھ صحافیوں نے البتہ ٹویٹر پر اس خبر پر افسوس کا اظہار ضرور کیا۔ اب ’رائٹرز‘ کی زبانی خبر بھی سن لیں۔

Read more

ہیرو ایسے نہیں بنائے جاتے – مکمل کالم

ہیرو کا تو پتا نہیں البتہ ہیروئن کے بارے میں میرا تصور بالکل واضح ہے۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ یہ بحث ہوئی کہ کون سی فلمی ہیروئن زیادہ خوبصورت ہے، وہ کالج کے دن تھے، مادھوری اپنے عروج پر تھی، میں نے مادھوری کا نام لیا مگر پھر خیال آیا کہ تبو بھی کم نہیں سو ساتھ ہی اس کا نام بھی جوڑ دیا، پھر یکایک میری پاکستانیت جاگی اور میں نے کہا کہ نیلی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اگلے پانچ منٹ میں میرا بیان تبدیل ہو کر کچھ یوں ہو چکا تھا کہ پاک و ہند کی کوئی ایسی ہیروئن نہیں جس کے حسن پر تنقید کی جا سکے، ایک باریش اور متقی دوست نے اس بیان میں ہالی وڈ کا اضافہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد یہ میٹنگ ان بیبیوں کے حق میں دعائے خیر و جملہ پوشیدہ و پیچیدہ خواہشات کے ساتھ برخاست ہو گئی۔

Read more

لوگوں کو کیسے جانچا جائے؟

”سوچنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے لوگ بنا سوچے ہی دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔“ کارل یونگ۔

کچھ سال پہلے تک میں بھی یہی کرتا تھا، کسی کا لباس دیکھ کر رائے بنا لیتا تھا، کسی کا حلیہ دیکھ کر ذہن میں مفروضہ قائم کر لیتا تھا، کسی کی شکل پسند نہیں آتی تھی تو اس سے خدا واسطے کا بیر پال لیتا تھا، کسی کے بارے میں اڑتی ہوئی کوئی خبر سن لیتا تو اس کے پورے خاندان کی ریپوٹیشن کو اس سے جوڑ دیتا تھا، کسی کی کوئی بات میرے نظریات سے ٹکرا جاتی تھی تو اسے غیر محبت وطن سمجھ بیٹھتا تھا اور اگر کوئی بندہ میری ذات کو میرٹ پر بھی ہدف تنقید بناتا تھا تو میں اسے اپنا دشمن سمجھ لیتا تھا۔

Read more

کامیاب لوگوں کی مضحکہ خیز عادات – مکمل کالم

مجھے دو قسم کی کتابیں بہت پسند ہیں، ایک مزاحیہ کتب اور دوسری سیلف ہیلپ (خود اعانتی)۔ سچ پوچھیں تو بعض اوقات سیلف ہیلپ کی کتابیں مجھے مزاحیہ لگتی ہیں جبکہ طنز و مزاح کی کچھ کتابیں مجھے سیلف ہیلپ جیسا لطف دیتی ہیں۔ سیلف ہیلپ کی کتابوں میں ذہین فطین اور کامیاب لوگوں کے حالات زندگی سے متعلق قصے سنا کر یہ سمجھایا جاتا ہے کہ اگر فلاں نالائق بچہ یونیورسٹی سے بھاگ کر اربوں ڈالر کی کمپنی کی

Read more

معجزوں کا انتظار کرنے والی قوم

ہو سکتا ہے معجزہ ہو جائے اور کرونا وائرس کی ویکسین جامعہ بنوریہ کراچی کا کوئی طالب علم دریافت کر لے اور مدرسوں کے خلاف ہونے والی تنقیدکا منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ اِس بات کا امکان بھی ہے کہ ریاض میں قائم کالج برائے دوا سازی کا کوئی ڈاکٹر یہ ویکسین ایجاد کرکے دنیا میں تہلکہ مچا دے اوریہ بھی ممکن ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں طب کے شعبے کا کوئی محقق اِس وبا کا علاج ڈھونڈ

Read more

نو برس کا ”ہٹا کٹا مزدور“

اس بچے کی عمر یہی کوئی نو دس سال ہو گی، یا شاید آٹھ سال، سات سال بھی ہو سکتی ہے، یقین سے نہیں کہہ سکتا، ہاں اتنا یقین ضرور ہے کہ میرے چھوٹے بیٹے سے بھی کم عمر کا تھا۔ ننھے منے ہاتھوں میں وائپر پکڑ کر کسی ریستوران کے باہر صفائی کر رہا تھا۔ قفل بندی (لاک ڈاؤن) کے باعث آج کل ریستوران تو بند ہیں مگر کھانے پینے کی اکا دکا دکانیں ”ٹیک اوئے“ کے نام پر

Read more

بے حیائی، وبائیں اور ہماری سزا (مکمل کالم)۔

ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ نے 2016 ء میں اپنا جہاز 737 میکس متعارف کروایا، بوئنگ کی یہ فخریہ پیشکش تھی مگر بد قسمتی سے 2018 اور 2019 میں یکے بعد دیگرے اس جہاز کو دو حادثات پیش آئے جس کے بعد پوری دنیا میں اس کی پروازیں بند کر دی گئیں۔ وجہ یہ تھی کہ بوئنگ کی شرح حادثات دس لاکھ میں سے صفر اعشاریہ دو پروازیں تھی جبکہ 737 میکس کے ان دو حادثات کے بعد اس

Read more

مذہب کے بارے میں پانچ غلط فہمیاں

باقی دنیا کا تو پتا نہیں، ہمیں البتہ مذہب کے بارے میں پانچ غلط فہمیاں ہیں۔ پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم چاہے جتنے بھی گناہ کر لیں ، لوگو ں کے گردے نکال کر بیچ دیں ، بچوں کے ساتھ مدرسوں میں زیادتی کریں ، غیر مسلموں کی بستیوں کو آگ لگا دیں ، ملاوٹ کریں ، دھوکہ دیں ، امانت میں خیانت کریں ، بالآخر سزا پانے کے بعد ہم نے جنت میں ہی جانا ہے ۔دوسری

Read more

مسلم دنیا کا خبرنامہ ۔۔۔اقبال کی نظر سے (مکمل کالم)

اسلام آباد : سعودی عرب ا ور ایران نے آج ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی ختم ہونے کے روشن امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ایرانی اور سعودی وزرا ئے خارجہ کا یہ معاہدہ آج اسلام آباد میں طے پایا، یہ معاہدہ اُن طویل مذاکرات کی کڑی کے نتیجے میں عمل میں لایا گیا ہے جو پاکستان کی خواہش پر شروع کیے گئے ۔معاہدے کی رُو سے دونوں ممالک خطے

Read more

الف کو گناہ سے بچا لیں!

الف ایک صالح انسان ہے، بے حد شریفانہ زندگی گزارتا ہے، پنج وقتہ نمازی ہے، پرہیزگار ہے، کوئی شرعی عیب اس میں نہیں، شراب کے اسے ہجے نہیں آتے اور سگریٹ وہ مدت ہوئے چھوڑ چکا ہے۔ صبح وقت پر دفتر جاتا ہے، وقت پر واپس آتا ہے، اپنا کام پوری دیانتداری سے کرتا ہے، نماز کے بہانے دفتر سے غائب نہیں ہوتا، رمضان میں کوئی اضافی چھٹی نہیں لیتا، زندگی میں کبھی ایک روپیہ رشوت نہیں لی، حق حلال

Read more

سائیں بابا ’لیبارٹری والے‘

کالم کی سری: اللہ کے کچھ نیک بندے ایسے بھی ہیں جو بونگ پائے بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، ایسے ہی ایک اللہ لوک سے آج صبح میرا ڈرائیور لاہور کے علاقے سنت نگر سے بونگ پائے لایا، یہ دکان صبح چار سے پانچ بجے تک محض گھنٹے کے لیے ہی کھلتی ہے، میں نے اِس کی دو پلیٹیں کُلچوں کے ساتھ ’چڑھائیں‘ اور اب اِس قدر خمار میں ہوں کہ کالم کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ

Read more

ایک استاد کی کہانی جو منشیات فروش بن گیا

کالم کی سری :اِس کالم میں امریکی ٹی وی سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ کی کہانی بیان کی گئی ہے، آپ میں سے خدا کے جو نیک بندے یہ فلم دیکھنا چاہتے ہیں اُن کے لیے یہ ایک قسم کا سپائلر الرٹ ہے۔ آج کالم لکھنے سے پہلے جب میں موضوع کے بارے میں سوچ رہا تھا تو دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں بھی کسی یو ٹیوب فلاسفرکی طرح وبا کے دنوں میں کوئی فلسفہ بگھاروں اور بقراط بن

Read more

مبارک ہو، اصل غریب اور مسکین مل گئے (مکمل کالم)

میں کچھ دنوں سے غریبوں کوتلاش کر رہا تھا، یعنی ایسے مفلسوں کو ڈھونڈ رہا تھا جو صحیح معنوں میں صدقات یا عطیات کے مستحق ہوں۔ آپ بھی کہیں گے کہ اِس ملک میں غریبوں کو تلاش کرنا بھلا کون سا مشکل کام ہے، چپے چپے پر غربت پھیلی ہے، آپ کسی بھی سڑک پر کھڑے ہو جائیں غریب آپ کے گرد جمگھٹا لگا لیں گے، جان چھڑانی مشکل ہو جائے گی۔ لیکن آپ کو بھی پتا ہے کہ یہ

Read more

وبا کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی؟ (مکمل کالم)

آج سے ایک ماہ، تین ماہ، چھ ماہ یا ایک سال بعد جب یہ وبا ختم ہو گی تو اِس زمین پر بسنے والے انسان اپنی نئی زندگی کیسے شروع کریں گے؟ یہ وہ ملین ڈالر سوال ہے جو ہمارے مستقل کا تعین کرے گا۔ اب سے تقریباً تین ارب نوّے کروڑ سال پہلے ایک چھوٹے سے خلیے سے شروع ہونے والی زندگی مسلسل ارتقا ئی عمل میں ہے اور یہ عمل تا قیامت جاری رہے گا۔ کب، کیسے، کہاں،

Read more

خاطر جمع رکھیں، دنیا ختم نہیں ہورہی

زمین سے زندگی پانچ طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ ہے کہ کوئی آوارہ گرد سیارہ زمین سے ٹکرا جائے اور سب کچھ فناہ کر دے، ایسا آج سے 66 ملین سال پہلے ہو چکا ہے جب خلا سے ایک شہاب ثاقب گھومتا گھامتا آیا تھا اور زمین سے ٹکرا گیا تھا، اِس کے نتیجے میں زمین پر موجود تین چوتھائی مخلوق ختم ہو گئی تھی جن میں ڈائنو سار بھی شامل تھے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ زمین اِس قابل ہی نہ رہے کہ یہاں زندگی پنپ سکے، ماحولیاتی آلودگی اِس سطح پر پہنچ جائے کہ ہمارے شہر سمندر میں ڈوب جائیں، تین کروڑ آبادی کا شہر جکارتہ ڈوبنا شروع ہو چکا ہے، گلیشئر پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اگر یہ سب کچھ بغیر روک ٹوک جاری رہا تو زندگی اِس کرہ ارض سے ناپید ہو سکتی ہے۔

Read more

خبردار، کوئی ویکسین استعمال نہ کرے (مکمل کالم)

کسی کا خیال ہے کہ یہ قدرت کا انتقام ہے، انسان نے زمین کا ستیاناس کر دیا تھا، ماحول برباد ہو رہا تھا، جنگلی حیاتیات کو نقصا ن پہنچ رہا تھا، نیچر کا توازن بگڑ رہا تھا سو اسے درست کرنے کے لیے قدرت کا اپنا نظام حرکت میں آیا، ایک وائرس نے جُون بدلی اور انسان کو پیچھے دھکیل دیا، اب ہمیں خود میں جھانکنے کی ضرورت ہے، مسئلہ وائرس کا نہیں ہماری خود غرضی اور مردہ ضمیر کا

Read more

مذہب اور سائنس کی بحث

یہ بحث جتنی پرانی ہے اتنی ہی دلچسپ ہے، دنیا میں جب بھی کوئی بڑی ایجاد ہوتی ہے، خوفناک جنگ چھڑتی ہے، وبا پھوٹتی ہے، انوکھی تحریک چلتی ہے، نا گہانی آفت آتی ہے یازمانہ کروٹ بدلتا ہے تو اِس بحث کو گویانیا ایندھن مل جاتا ہے۔ صدیاں گزر گئیں مگر یہ بحث آج بھی اسی زور شور سے جاری ہے، اہل مذہب کا ایمان ڈگمگایا ہے اور نہ سائنس نے ہار مانی ہے۔ سائنس کی تمام جادوئی ایجادات کے باوجود آج بھی دنیا کی سوا سات ارب آبادی میں سے چھ ارب مذہب کو مانتی ہے، آج بھی امریکی صدر بائبل پر حلف اٹھاتا ہے اورآج بھی ڈالر پرلکھا ہے ’ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں‘ ۔

Read more

کرونا نے انسان کو کیا سبق سکھایا – مکمل کالم

پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے جس کے بغیر آج کی دنیا میں سفر کرنا ممکن نہیں، ہینلے اینڈ پارٹنرز نامی ایک فرم دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس ملک کا پاسپورٹ زیادہ طاقتور ہے۔ اِس درجہ بندی کے مطابق جاپان، سنگا پور، جنوبی کوریا، جرمنی، اٹلی، سپین، برطانیہ، کنیڈا آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، سویٹزرلینڈ، ناروے، فرانس اور امریکہ وغیرہ میں سے کسی بھی ملک کا پاسپورٹ اگر آپ کے پاس

Read more

کرونا کو چاہیے امیروں کا لحاظ کرے

گزشتہ گرمیوں کی بات ہے، ایک تنظیم نے مجھے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا، لیکچر کا موضوع تھا ’’جدید دور کے چیلنجز اور آج کا انسان ‘‘۔ منتظمین کا خیال تھا کہ میں شاید انہیں بتاؤں گا کہ اکیسویں صدی کے انسان کا المیہ اداسی اور ڈپریشن ہے اور اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود جدید دور کا انسان خوش اور مطمئن نہیں سو ایسے میں انسان کو چاہیے کہ صوفی ازم میں پناہ لے کیونکہ سچی خوشی

Read more

کیا ہم منحوس دور میں جی رہے ہیں؟

ہمارا سول سروس کا ایک دوست بڑی دلچسپ بات کیا کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ جب میں نیا نیا نوکری میں آیا تھا تو بڑاخوش تھا کہ افسر بن گیا ہوں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر انکشاف ہوا کہ سرکاری نوکری میں اب وہ کرو فر نہیں رہا، میری جب بھی کہیں نئی تعیناتی ہوتی اور میں چارج لینے کے بعد پی اے سے پوچھتا کہ ہاں بھئی اِس عہدے کی کیا مراعات ہیں، دفتر میں

Read more

کرونا وائرس کا کوئی دین ایمان نہیں

اب تک دنیا میں صرف ایک ملک ایسا ہے جس نے کرونا وائرس کا دانشمندی سے مقابلہ کیا ہے، یہ وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے اِس خطرے کا ادراک کیا اوراپنے مرکزی کمانڈ سینٹر برائے وبائی امراض کو اُس وقت متحرک کیا جب ڈبلیو ایچ او نے اپنی ہنگامی کمیٹی کی پہلی میٹنگ بھی نہیں بلائی تھی اور چین نے وہان شہر کو بند نہیں کیا تھا حالانکہ اُس وقت اِس ملک میں کرونا وائرس کا ایک

Read more

تم سارا دن آخر کرتی ہی کیا ہو؟

Nobody in history has gotten their freedom by appealing to the moral sense of the people oppressing them۔ Assata Shakur یہ عورتیں بے حیائی پھیلا رہی ہیں، ہم جنس پرستی کا پرچار کر رہی ہیں، جسم فروشی کو قانونی حیثیت دینا چاہتی ہیں، این جی او چلاتی ہیں جس میں بیرونی فنڈنگ آتی ہے، مغرب کا ایجنڈا ہے کہ ہمارا عائلی خاندانی نظام تباہ کیا جاوے اور عورتوں کو مادر پدر آزادی دے کر ہماری اقدار اور تہذیب کو پامال

Read more

میرے پاس تیزاب ہے

میرا نام جانو قتال پوری ہے، میں عورتوں کا بہت بڑافین ہوں، یعنی اُن کے حقوق کا۔ لیکن جب سے کچھ عورتوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسا لغو اور بیہودہ نعرہ ایجاد کیا ہے میں سخت غصے میں ہوں۔ نہ جانے وہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ فحش نعرہ پسند ہے، مجھے تو اِس نعرے کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ میرے جسم پر میر ی مرضی چلے گی، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میری گاڑ ی، میری مرضی، جیسے چاہوں چلاؤں، جہاں چاہوں پارک کر دوں اور جس میں چاہوں دے ماروں!

Read more

امان اللہ بلاشبہ اِس دور کا سب سے بڑا کامیڈین تھا

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب میں مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ سٹیج ڈرامہ ضرور دیکھتا تھا، دو ڈرامے لاہور کے الحمرا آرٹ سینٹر میں ہوا کرتے تھے اورایک باغ جناح کے اوپن ائیر تھیٹر میں، سنیما گھروں کوابھی تھیٹر میں تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔ ایسا ہی ایک ڈرامہ دیکھنے میں باغ جناح گیا، مزاحیہ اداکاروں کی پور ی کہکشاں اس میں موجود تھی اور وہ سب مل کر امان اللہ پر جگتیں کر رہے تھے، امان اللہ کسی جگت کا جواب دینے کی کوشش کرتا تو کوئی نہ کوئی اسے ٹوک دیتا، کچھ دیر تک تو امان اللہ اُن کی جگتیں سنتا رہا پھر یک دم اپنے کندھے سے رومال اتار کر زمین پر بچھاتے ہوئے بولا ”تسی سارے اج اپنا شوق پورا کر لو، میں سب نوں واری واری جواب داں گا، پاویں اج رات دے دو وج جان، اللہ وارث ہے“۔ (تم سارے آج اپنا شوق پورا کر لو، میں سب کو باری باری جواب دوں گا چاہے آج رات کے دو ہی کیوں نہ بج جائیں، اللہ وارث ہے ) ۔ امان اللہ کے اِس جواب پر لوگوں نے تالیاں بجا بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیا اور پھر اُس رات وہ ڈرامہ واقعی رات د و بجے ختم ہوا، امان اللہ نے اکیلے سب اداکاروں کی جگتوں کا شافی جواب دیا اور خوب داد سمیٹی۔

Read more

کرونا وائرس سے بچنے کی دعا

چودہویں صدی کا طاعون انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک وبا تھی، یہ وبا چین سے شروع ہوئی اور 1347 میں اٹلی کے شہر سسلی پہنچ گئی، دیکھتے ہی دیکھتے اِس نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیں، ایک اندازے کے مطابق اِس کے نتیجے میں ساڑھے سات کروڑ سے بیس کروڑ لوگ مارے گئے، یورپ کا تقریباً تیس فیصد علاقہ اِس سے شدید متاثر ہوا، سن 1400 تک طاعون کی وجہ

Read more

میری وفات

ایک مرتبہ کسی کالج میں مشاعرہ تھا، منیر نیازی وہاں مدعو تھے، بہت کم لوگوں کو اِس بات کا علم ہے کہ نیازی صاحب جتنے بڑے شاعر تھے اتنے ہی پائے کا جملہ باز بھی تھے۔ مشاعرے کے بعد شعرا کو لڑکے لڑکیوں نے گھیر لیا اور ان سے آٹو گراف لینے لگے، منیر نیازی کے گرد رش دیکھ کر ایک لڑکی اُن کے پاس آئی اور آٹو گراف کی فرمائش کرتے ہوئے بولی ”آپ بھی شاعر ہیں؟ “ اِس

Read more

اتوار کو اپنے محبوب سے ملیں

ہر اتوار کو میں دو کام کرتا ہوں، صبح اٹھتے ہی گھروالوں کو گاڑی میں بٹھاتا ہوں اور دیسی ناشتے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہوں، تلاش کا لفظ میں نے اِس لیے استعمال کیا کیونکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ کوئی نئی جگہ کو دریافت کی جائے، کچھ جگہیں البتہ آزمودہ ہیں جہاں کبھی بھی جایا جا سکتا ہے، سو جس دن تجربے کا موڈ نہ ہو اُس دن ہم اِن مخصوص جگہوں میں سے کہیں

Read more

شرمیلا ادبی میلہ

لاہور شہر کو کھنگالا، معلوم ہوا کہ بانجھ ہوچکا ہے۔ سنا تھا کہ پنجاب کی مٹی زرخیز ہوتی ہے، پتہ چلا پرانی بات ہوئی۔ بقیہ پاکستان میں تخلیق کار ڈھونڈنے کی کوشش کی تو بھید کھلا کہ وادی مہران کے اس پار بھی فقط دھول ہی اڑتی ہے۔ دل پر پتھر رکھ کر سرحد پار گئے، منت سماجت کی، اپنی عزت کا واسطہ دیا، اعتراف کیا کہ ہمارے ہاں کوئی بندہ اس قابل نہیں کہ کسی ادبی میلے میں افتتاحی

Read more

کینسر کا ”شرطیہ علاج “- مکمل کالم

”یقینا خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ “ (الانفال، آیت 22)۔ کوئی تعویذ دھاگوں سے بیماریوں کے علاج کا دعوی کر رہا ہے، کوئی گٹھلیوں کے سفوف سے دل کی شریانیں کھولنے کا مژدہ سنا رہا ہے، کوئی پھونک مار کر درد ختم کر نے کی گارنٹی دے رہا ہے اور کسی نے رکشے کے پیچھے اشتہار لٹکا رکھا ہے ’کینسر کا شرطیہ علاج ‘! لوگ بیچارے

Read more

ثابت کرو کہ تم وجود رکھتے ہو

فلسفے کا استاد کمرے میں داخل ہوا اور اپنے شاگردوں سے بولا ”آج میرا آخری لیکچر ہے، آج میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اِس سوال کے جواب سے مجھے اندازہ ہوگا کہ میں نے جو فلسفہ پڑھایا وہ کس حد تک تم لوگوں کوسمجھ آیا۔ “ یہ کہہ کر استاد نے اپنی کرسی اٹھائی اور شاگردوں کے سامنے اسے اُلٹ کر رکھتے ہوئے کہا ”ثابت کرو کہ یہ کرسی وجود نہیں رکھتی! “ شاگردوں نے حیرت سے سوال سنا اور پھر جواب لکھنے میں جُت گئے، البتہ ایک شاگرد نے چند لمحوں میں ہی جواب لکھ کر استاد کے حوالے کر دیا، نتیجہ آیا تو اُس کے نمبر سب سے زیادہ تھے، اُس شاگرد نے جواب میں فقط اتنا لکھا تھا کہ ”کون سی کُرسی! “

Read more

محبوب کو عزت دیں

ویلنٹائن ڈے کے موقع پرایک نوجوان اپنی محبوبہ کے لیے سونے کا کڑا خریدنے جیولر کے پاس گیا، سنار نے پوچھا کیا اِس پر آپ اپنی گرل فرینڈ کا نام کھدونا پسند کریں گے، نوجوان نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر بولا کہ نہیں آ پ اِس پر لکھ دیں ’فقط تمہارے لیے جسے میں سچا پیار کرتا ہوں‘ ۔ سنار یہ سن کر بے حد متاثر ہوا ”صاحب، یہ تو واقعی بہت رومانوی بات ہوئی۔ “ نوجوان نے مسکرا تے ہوئے جواب دیا ”اصل میں یہ رومانس کم اور حقیقت پسندی زیادہ ہے، کل کو اگر میرا بریک اپ ہو گیا تو میں یہ کڑا کسی دوسر ی لڑکی کو دے سکوں گا! “

Read more

کتا ب میلے تو ہیں، پڑھنے والے کہاں ہیں؟ – مکمل کالم

نفسیات کی ایک اصطلاح ہے جسے انگریزی میں  confirmation bias کہتے ہیں، یہ ایک طرح کا مغالطہ ہے جس کے زیر اثر انسان اپنی خواہشات اور اعتقادات کے تحت رائے قائم کرکے اُس پر جم جاتا ہے، ایسا آدمی پہلے سے ہی اپنے دماغ میں کسی نظریے یا تصور کو سچ مان لیتا ہے اور جب کسی صورتحال میں اُس کے پسندیدہ نظریات یا تصورات کی بظاہر تصدیق ہوتی نظر آتی ہے تو وہ اِن خیالات کو عقل کی کسوٹی

Read more

الف کو میں کیا سمجھاؤں!

الف کچھ عرصے سے بے روزگار تھا، ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد اسے جو پیسے ملے تھے وہ بھی ختم ہونے والے تھے، اِس مہنگائی میں بغیر تنخواہ کے دو دن نکالنے مشکل ہیں اب تو کئی ماہ ہو چلے تھے، اسی پریشانی کے عالم میں ایک روز وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اس کے لیے کسی نوکری کا بندو بست کروں، میں نے مشورہ دیا کہ تم مشاورت شغلی کا کام کیوں نہیں شروع کر دیتے، اِس پر الف نے غصے سے کہا ”صاحب میں غریب ضرور ہوں مگر بے غیرت نہیں“۔

Read more

ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ – مکمل کالم

دنیا کا نقشہ نکالیں اور مشرق وسطی ٰ کا علاقہ دیکھیں، ایک سے بڑھ کر ایک طرم خان مسلمان ملکوں کے نام نظر آئیں گے، مصر، اردن، عمان، لبنان اور نہ جانے کیا کیا، اِن تمام ملکوں کے درمیان ایک دو مرلے کا ملک گھرا ہے، نام ہے اسرائیل، مشکل سے 22 ہزار مربع کلومیٹر رقبہ ہے اور 91 لاکھ کی آبادی مگر اِس چھوٹے سے ملک نے پورے مشرق وسطی ٰ تو کیا دنیا کو نکیل ڈال کر رکھی

Read more

ڈاک بنگلے میں گزری ایک شام

فروری کی دھوپ ہو، نیلا آسمان ہو، پنجاب کے کھلیان ہوں، بیچوں بیچ پگڈنڈی ہو، پراٹھوں سے اٹھتا دھواں ہو، کوئی مدھر سا گیت ہواورساتھ میں یار بیلی ہوں تو ایسے میں لگتا ہے جیسے پوری کائنات گنگنا رہی ہو۔ سردیوں میں کم از کم ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ ایسا پروگرام ضرور بنتا ہے، ہم پنجاب کے کسی ایسے قصبے کا انتخاب کرتے ہیں جس کا چھوٹا سا ریلوے سٹیشن ہو، جہاں انگریز دور کا ڈاک بنگلہ ہو اورساتھ

Read more

اُمرا کے تعزیتی اِشتہارات

یہ غالباً 60 کی دہائی کا واقعہ ہے، کسی کتاب میں پڑھا تھا، واقعہ کچھ یوں ہے کہ 90 برس کی ایک فرانسیسی بڑھیا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی۔ اُس کی واحد ملکیت ایک فلیٹ تھا، بڑھیا نے اپنا وہ فلیٹ قسطوں پرایک وکیل کو اِس شرط کے ساتھ بیچ دیا کہ جب تک وہ زندہ رہے گی فلیٹ میں ہی رہائش رکھے گی، تاہم قسطیں جاری رہیں گی جس سے اُس کی گزر اوقات ہو گی مگر اُس

Read more

غرق شدہ سرمائے کا مغالطہ – مکمل کالم

پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کون سا ملک کس کے خلاف جنگ کر رہا ہے اور کیوں؟ 1915 میں اٹلی بھی اِس جنگ میں کود پڑا، مقصد اپنے کچھ علاقوں کو آسٹریا کے قبضے سے چھڑوانا تھا۔ اطالوی حکومت کا خیال تھا کہ آسٹریا اس کے سامنے دو دن سے زیادہ نہیں ٹھہر سکے گا، اطالوی سیاست دان اُن دنوں پارلیمان میں جوشیلی تقریریں کیا کرتے تھے اور مکے لہرا لہرا

Read more

میرا دماغ، میری مرضی

ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں، ایک خود کار اور دوسرا سوچنے سمجھنے والا، یہ حصے دو مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں، دماغ کا خودکار نظام الہامی انداز میں چلتا ہے، یعنی جونہی آپ کو کوئی معاملہ پیش آتا ہے یہ نظام از خود نوٹس لے کر اُس معاملے کی پڑتال کرتاہے اور پھرآناً فاناً کوئی حل تجویز کر دیتا ہے۔ دماغ کا دوسرا حصہ سوچ بچار کا کام کرتا ہے یعنی جب کوئی گمبھیر مسئلہ پیدا ہوتا ہے

Read more

ہمیں ایسی ”جنت“ نہیں چاہیے

آج سے تقریباً تین سو سال پہلے نظام الملک آصف جاہ نے حیدر آباد ریاست کی بنیاد رکھی اور دکن کے حکمرا ن بنے، ہر بادشاہ کی طرح انہوں نے بھی اپنا قانون بنایا اور ریاست کی فوج کھڑی کی، دکن کے حکمران کی حیثیت سے تمام انتظامی اور عدالتی اختیارات آپ کی ذات میں مرتکز تھے، ہر قسم کی سول اور فوجی تعیناتی آنجناب فرماتے تھے۔ اپنی مملکت کو نواب صاحب نے تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ

Read more

ہمارے شاعر ادیب کیا بیچتے ہیں؟

دوستوں کی محفل میں گپ شپ ہو رہی تھی، کوئی خاص موضوع نہیں تھا، کبھی مذہب پر گفتگو ہونے لگتی تو کبھی کوئی دوست فلسفے کی گتھیاں سمجھانے لگ جاتا، کبھی موسیقی پر بات شروع ہو جاتی تو کبھی کوئی یارادب پر بحث شروع کردیتا۔ ایسے میں ہمارے ایک نسبتاً سینئر ادیب کا ذکر چھڑ گیا جن کے ہم سب ہی مداح تھے، ایک دوست نے کہا کہ اِس وقت ملک کے بہترین ادیبوں میں اُن کا شمار ہوتا ہے

Read more

اردو کے بہترین کالم نگارکون ہیں؟ مکمل کالم

مجھ سے دو سوال بہت پوچھے جاتے ہیں، ایک، آپ کے والد صاحب کے نام کے ساتھ قاسمی ہے مگر آپ پیرزادہ ہیں، اِس کی کیا وجہ ہے؟ دوسرا، آپ کے پسندیدہ کالم نگار کون کون سے ہیں؟ پہلے سوال کا جواب تو بڑا سیدھا ہے کہ قبلہ والد صاحب کا پورا نام پیرزادہ محمد عطا الحق قاسمی ہے بلکہ ایک زمانے میں تو شاید وہ اپنے نام کے ساتھ امرتسری بھی لکھتے تھے، پھر انہوں نے امرتسری نکال دیا،

Read more

اِس مکان میں کون رہتا ہے؟

کچھ عرصے سے مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میرے مکان میں کوئی نا معلوم شخص رہتا ہے، پہلے پہل تو میں نے اسے اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی مگر پھر کچھ واقعات ایسے ہوئے کہ مجھے اپنا شک یقین میں بدلنا پڑا۔ میں کوئی توہم پرست آدمی نہیں، بھوت پریت پر یقین نہیں رکھتا اور محیر العقول باتوں کو ہنسی میں اڑانے کا قائل ہوں مگر اب شاید مجھے اپنی رائے تبدیل کرنا پڑے۔

Read more

کریلے گوشت کو عزت دو۔ مکمل کالم

لالہ لجپت رائے غالباً واحد ہندو لیڈر ہیں جن کا ذکر ہماری مطالعہ پاکستان کی نصابی کتب میں مثبت انداز میں ملتا ہے، لالہ جی سیاست دان تھے، لکھاری تھے، کانگریس کے لیڈر تھے، انگریز ی راج کے سخت مخالف تھے، لاہور کے تاریخی بریڈلے ہال میں لالہ لجپت رائے نے نیشنل کالج قائم کیا جہاں سے بھگت سنگھ جیسے انقلابی نکلے۔ سانحہ جلیاں والا باغ کی تحقیقات کے لیے انگریز سرکار نے ہنٹر کمیشن بنایا تھا جبکہ کانگریس نے

Read more

سو جوتے اور سو پیاز کھانے کی ”خوشی“ – مکمل کالم

ہم لوگ بھی عجیب ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں، حال چال پوچھتے ہیں اور جواب میں کہتے ہیں کہ ہم بالکل ٹھیک ہیں، لیکن جونہی گفتگو آگے بڑھتی ہے تو ہم اپنی تکلیفیں بیان کرنی شروع کر دیتے ہیں، خاندان کی پریشانیوں کا احوال بتانے لگ جاتے ہیں، کاروبار کے بکھیڑے سنانے شروع کر دیتے ہیں اوردوستوں سے شکایتوں کا دفترکھول دیتے ہیں۔ اِس قسم کی گفتگو کے دوران اگر کوئی یہ کہہ دے کہ اِس کا مطلب ہوا

Read more

نئے سال کے حلف نامے اور دعائیں

ابھی ابھی میں نے نئے سال کے عہد نامے کی پہلی خلاف ورزی کی ہے اور کریلے گوشت کے ساتھ دو عدد تندوری روٹیاں کھا کر یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں۔ گھر میں چائینیز رائس بھی بنے ہوئے تھے، نا چاہتے ہوئے وہ بھی چکھ لیے، واللہ صرف چکھے، کھائے نہیں، شام کو مجھے گاجر کا حلوہ نصیب نہ ہو اگر میں جھوٹ بولوں۔ یہاں بریکنگ بیڈ کا ایک مکالمہ یاد آ گیا، والٹر وائٹ اپنی ’’میتھ‘‘ فروخت کرتے ہوئے

Read more

یکم جنوری کو پڑھنے والی کتاب – مکمل کالم

بندہ جتنا موٹیویٹڈ یکم جنوری کو ہوتا ہے اتنا سال کے کسی دن نہیں ہوتا، اِس دن ہم خود سے ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ جن پر عمل کرنے کی صورت میں بندہ سِکس ملین ڈالر مین بن جائے مگر افسوس کہ یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوتا۔ یکم جنوری کو ہم سوچتے ہیں کہ اِمسال گوشت سے پرہیز کریں گے اور فقط اُبلی ہوئی سبزیاں، دالیں اور تازہ موسمی پھلوں پر گذارا کریں گے، روزانہ دو گھنٹے ورزش

Read more

گاندھی کا ہندوستان، جناح کا پاکستان

جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا یہ تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان ہمیشہ اقلیت میں رہیں گے اور ایک ہندو اکثریتی معاشرے میں انہیں کبھی وہ حقوق حاصل نہیں ہو سکیں گے جو اُن کا حق ہیں، وہ کبھی اسلامی شعائر کے مطابق آزادی کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزار سکیں گے، انہیں ہمیشہ اکثریت کا محکوم بن کر رہنا پڑے گا، مسلمانوں کی اپنی تاریخ، روایات اور تشخص ہے جو ہندوؤں سے یکسر جدا ہے سو یہ ممکن نہیں کہ

Read more

کج بحثی کے اصول

دو دن پہلے کی بات ہے میں موٹر وے پر سفر کر رہا تھا، جو گاڑی میرے آگے جا رہی تھی اُس میں ڈرائیور کے ساتھ جوصاحب بیٹھے تھے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہاتھ کھڑکی سے باہر کرتے اور مالٹے کے چھلکے پھینک دیتے۔ تھوڑی دیر بعد سروس ایریا آ گیا اور وہ گاڑ ی وہاں مُڑ گئی، میں نے رکنا تو نہیں تھا مگر پھر کچھ سوچ کر میں نے بھی گاڑی اُن کے پیچھے لے جا کر کھڑی کر دی اور اُن صاحب سے سلام دعا کے بعد گپ شپ شروع کر دی، وہ اچھے خاصے پڑھے لکھے تھے اور کسی نجی کمپنی میں ملازم تھے، یونہی باتوں باتوں میں اُن سے میں نے پوچھاکہ آپ نے مالٹے کے چھلکے سڑک پر کیوں پھینکے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو کیا پرابلم ہے، آپ کی گاڑ ی پر تو نہیں پھینکے! ایسی دلیل سننے کے بعد بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی سو بات ختم ہو گئی۔

Read more

پاکستانی فلمی ستاروں کا کنسلٹنٹ

ط ظ سے میری شناسائی زیادہ پرانی نہیں، غالباً میری پہلی ملاقا ت کسی کھانے پر ہوئی تھی جہاں وہ بن بلائے موجود تھا، دوسری ملاقات بھی ایسے ہی ہوئی تھی، موصوف مہمانوں کے لیے مختص کی گئی نشستوں پر براجمان تھے جو کھانے کی میز سے ذرا فاصلے پر تھیں مگر اِس کے باوجود جونہی کھانے کا اعلا ن ہواتوسب سے پہلے پلیٹ میں مٹن کی بوٹیوں کا مینار بنانے کا اعزاز آپ کے حصے میں آیا۔ کشمیری ہونے

Read more

مسٹر جناح، آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ – مکمل کالم

انڈیا میں 1955 سے شہریت کا ایک قانون نافذ تھا، اس قانون کے تحت کوئی بھی غیر ملکی جو بغیر سفری دستاویزات کے انڈیا میں داخل ہوگا یا مقررہ مدت سے زائد انڈیا میں گذارے گا، اسے غیر قانونی تصور کیا جائے گا، اِس قانون کی ایک شق کہتی تھی کہ جس شخص کو انڈیا میں رہتے ہوئے 11 سال ہو جائیں یا اتنی ہی مدت وفاقی حکومت کے لیے کام کرتے ہوئے ہو جائے تو ایسا شخص بھارتی شہریت

Read more

1971 کا مشرقی پاکستان اور 2019 کا بنگلہ دیش

آج سے اڑتالیس سال پہلے ہمارے ملک کے دو حصے ہوا کرتے تھے، مشرقی اور مغربی پاکستان، دونوں وفاق پاکستان میں شامل تھے۔ دونوں جگہ ایک ہی سکہ چلتا تھا، ایک ہی فوج تھی، ایک ہی قانون تھا، دونوں جگہ مسلمان رہتے تھے اور مسلمان قومیت کی بنیاد پر ہی اکٹھے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ پورے ملک میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کروائے گئے جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی جماعت عوامی لیگ کو اکثریت حاصل ہو گئی،

Read more

یہ قوم پاگل ہو چکی ہے – مکمل کالم

سرائیکی علاقے کے ایک نواب صاحب نے رولس رائس خرید لی۔ گاڑی خریدنے کے بعد مسئلہ یہ تھا کہ اسے چلائے کون۔ رولس رائس کا ڈرائیور بڑی مشکل سے ملتا تھا۔ آخر کار بڑی تلاش کے بعد ایک نوجوان ڈرائیورکو نوکری پر رکھ لیا گیا۔ ایک دن نواب صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ڈرائیور اُن کی بیوی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہے۔ نواب صاحب کا خون کھول اٹھا۔ انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوکری سے نکال دیا۔

Read more

ایک کھرب پتی لکڑ ہارے کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نودولتیوں کے ملک میں ایک غریب لکڑ ہارا رہا کرتا تھا، اُس کی گزر بسر بہت مشکل سے ہوتی تھی، اُس بیچارے کی غربت کا اندازہ اِس بات سے لگا لیں کہ اُس کے پاس ٹچ سکرین والا موبائل فون بھی نہیں تھا۔ لکڑ ہارا صبح سویرے جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹتا اورشام کو انہیں شہر لاکربیچ دیتا، مشکل سے چار پیسے بچتے۔ لکڑ ہارے کی بیوی بہت صابر عورت تھی کیونکہ اُس

Read more

مہوش حیات کا محبوب – مکمل کالم

مجھے علم نہیں تھا کہ مہوش حیات کا اور میرا محبوب ایک ہے ، بھلا ہو ٹویٹر کا جس کے ذریعے مجھے یہ خبر ملی کہ مہوش حیات اپنے محبوب قائد پرویز مشرف کے لیے بہت پریشان ہیں ، مس حیات نے مشرف صاحب کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ اسپتال کے بستر پر لیٹے نہایت ضعیف آواز میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اُن پر بنایا جانے والا بغاوت کا مقدمہ بالکل بے بنیاد ہے ، وہ

Read more

ہم اُداس کیوں ہیں – مکمل کالم

آج کل میں بہت اداس رہنے لگا ہوں، عجیب بات یہ ہے کہ اِس اداسی کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں، بس یونہی طبیعت میں ایک بیزاری اور مایوسی ہے، کبھی دل کرتا ہے سادھو بن کر باقی کی زندگی لاس ویگاس کے کسی آشرم میں گزار دوں یا پھر جوگی بن کر تھائی لینڈ کے کسی ساحل پر اپنا مسکن بنا لوں۔ اپنی اِس معصوم سی خواہش کا اظہار میں نے ایک دوست سے کیا تو اُس نے نہایت

Read more

یہ چینی ماڈل کیا ہے؟ (مکمل کالم)

دنیا میں تقریباً دو سو سے زائد ملک ہیں، ان ملکوں میں حکمرانی کے پانچ قسم کے ماڈل رائج ہیں، جمہوریت، بادشاہت، آمریت، یک جماعتی نظام اور ہائبرڈ جمہوریت۔ جس جمہوریت پر ہم صبح شام تبرّا کرتے ہیں وہ امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ، ناورے، ڈنمارک، سویڈن جیسے ترقی یافتہ ممالک میں قائم ہے۔ بادشاہت والا نظام خلیجی ممالک کے بھائی لوگوں نے اپنا رکھا ہے، اِس نظام کے اپنے فائدے ہیں، جمہوریت میں تو عوام کے سامنے جوابدہی جیسی خرافات

Read more

سرفروشی کی تمنا کرنے والا نا معلوم شخص۔ مکمل کالم

آج کل انقلاب کا فیشن ہے، ایشیا کو سُرخ کرنے کے نعرے لگ رہے ہیں، لال لال لہرایا جا رہا ہے، سرفروشی کی تمنا دلوں میں ہے اور ڈھولک کی تھاپ پر موت کے گیت اِس رومانوی انداز میں گائے جا رہے ہیں کہ بھگت سنگھ کی طرح پھانسی پر جھول جانے کو دل کر رہا ہے۔ رسم موقع بھی ہے تو کیوں نہ ایک سچی مچی کے انقلاب کی کہانی دہرا لی جائے! 30 کی دہائی میں نکولائی چاؤ

Read more

میرے پاس بیجنگ ہے – مکمل کالم

 ”آج میرے پاس مجسمہ آزادی ہے، ٹائم اسکوائر ہے، ہالی وڈ ہے، ڈالر ہیں، فورڈ کار ہے، پلے بوائے ہے۔ ۔ ۔ تمہارے پاس کیا ہے ؟ “  ”میرے پاس بیجنگ ہے! “ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ 1972 میں جب صدر نکسن کی ماؤزے تنگ سے ملاقات ہوئی ہوگی تو دونوں صاحبان کے درمیان اِس قسم کا مکالمہ ضرور ہوا ہوگا۔ آج سے چھ سال قبل جب میں بیجنگ آیا تھا تو یہاں قیامت خیز گرمی تھی،

Read more

سفر نامہ لکھنے کے تین نسخے – مکمل کالم

نسخہ نمبر 1: مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بیجنگ میں کوئی حسینہ یوں ٹکرا جائے گی، سب وے سٹیشن سے نکلنے کے بعد میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کہاں رُخ کرنا ہے کہ ایک مترنم سی آواز کانوں سے ٹکرائی، مڑ کر دیکھا تو ایک مہ جبیں کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ میں نے سوچا شاید فون پر کسی سے بات کر رہی ہے مگر غور کیا تو روئے سخن میری طرف تھا، اس سے پہلے کہ میں

Read more

بیجنگ سے دو شکایتیں – مکمل کالم

بیجنگ سے دو شکایتیں تھیں، ایک سردی جعلی ہے اور دوسرے کافی پینے کا سلیقہ نہیں۔ سردی کا گلہ تو بیجنگ نے ایسے دور کیا ہے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ چنگ شا سے جب جہاز بیجنگ میں لینڈ کیا تو ایسے لڑکھڑایا جیسے فلموں میں ہیرو محبوبہ کی بے وفائی پر شراب پی کر لڑکھڑانے کی ایکٹنگ کرتا ہے، وجہ بیجنگ کی تیز ہوا تھی، بیجنگ میں چاہے سورج نکلا ہو مگر جب ہوا چلتی ہے تو

Read more

ماؤزے تنگ کا بُت۔ مکمل کالم

”مسٹر رے“ چین میں ہمارا تیسرا ٹور گائیڈ ہے، یہ ایک دلچسپ شخصیت کا مالک ہے، بیجنگ سے چنگ شا کی پرواز جب ہوائی اڈے پر پہنچی تو وہاں رے نے ہمارا استقبال کیا، رے کا تکیہ کلام ہے ”میں مقامی آدمی ہوں“ اور یہ فقرہ جب وہ چینی سے انگریزی میں ترجمہ کرتا ہے تو کچھ یوں کہتا ہے ”I am the local people“۔ جس ملک میں مسافروں کو ٹرین سے اترنے کے لیے ”پلیز گٹ آؤٹ آف دی

Read more

بیجنگ نہیں جاؤں گی

چین میں جو لوگ انگریزی بول سکتے ہیں انہوں نے اپنے دو نام رکھے ہیں، ایک اصل چینی نام اور دوسرا انگریزی نام، ہمارے ٹور گائیڈ کا انگریزی نام رچرڈ تھا، رچرڈ نے پہلی ہی ملاقات میں ہمیں بتا دیا کہ اُس کی باتوں کی ویڈیو نہ بنائی جائے کیونکہ اسے اپنی زبان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، یہ ایک کمیونسٹ ملک ہے، سواگر کوئی ایسی ویسی بات منہ سے نکل گئی تو بہت مسئلہ ہو جائے گا، اور ساتھ

Read more

ایک شہر ممنوع کی کہانی

بیجنگ ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی اِس بات کا احساس ہو گیا کہ چین کے دو نمبر مال کی طرح یہاں کی سردی بھی دو نمبر ہے، چھ ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی جیکٹ پہننے کو دل نہیں کرتا، پہن لو تو اتارنا مشکل لگتا ہے، جبکہ بیجنگ والے ایسے چیسٹر اور اونی کوٹ پہن کر پھر رہے ہیں جیسے کسی بھی وقت برف باری ہو سکتی ہے۔ رات کو موسمی ویب سائٹ دیکھی تو معلوم ہوا کہ پارہ

Read more

لبرل بمقابلہ مولانا

انگریزی لغت کے مطابق لفظ ’لبرل‘ سے مراد ایسا شخص ہے جو اصلاحات کا حامی ہو، نئے خیالات اور تصورات کے بارے میں کھلا ذہن رکھتا ہو، دوسروں کے نظریات اور عقائد کا احترام کرتا ہو، روایتی سوچ کا پابند نہ ہو، دقیانوسی اور فرسودہ خیالات کو نا پسند کرتا ہو، آزاد ذہن کا مالک ہو۔ ہمارے ہاں مگر لبر ل کا مطلب یہ نہیں لیاجاتا، ہم ایسے شخص کو لبرل سمجھتے ہیں جو ملک جنسی بے راہ روی کا

Read more

ضرورت ہے اٹھارہ فلسفیوں کی – مکمل کالم

ایڈورڈ گبن ایک تاریخ دان تھا، رومن سلطنت کے عروج و زوال پر اُس نے ایک شاہکار کتاب لکھی، اِس کتاب کو بلاشبہ انگریزی میں تاریخ پر لکھی گئی سب سے مستند اور جاندار کتاب سمجھا جاتا ہے، گبن برطانوی پارلیمان کا رکن بھی تھا، یہ 1737سے 1794تک زندہ رہا۔ ڈیویڈ ہیوم کا زمانہ بھی اِس کے آس پاس کا ہے، یہ 1711میں پیدا ہوا اور 1776میں وفات پائی، اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی اسے نروس بریک ڈاؤن ہو

Read more

تصوف، سائنس اور کرامات

”جیسے ہی وہاں سے گزرا تو داتا صاحب ؒ کے حضور جا کھڑا ہوا۔ داتا صاحبؒ مجھے محفل میں لے گئے جس میں بہت بلند پایہ اولیا اللہ بیٹھے تھے۔ داتا صاحبؒ نے ایک طشت منگوایا جس میں ایک دستار رکھی تھی۔ انہوں نے اپنے دست مبارک سے وہ دستار میرے سر پر رکھی اور فرمایا کہ آج سے تمہیں خلافت مل گئی۔ اگلے سال جب میں وہاں حاضر ہوا تو انہوں نے یہ خلافت announceکرنے کی اجازت دے دی۔

Read more

انسانوں کی خون آشام بستی

بر اعظم امریکہ میں چمگادڑوں کی ایک انوکھی قسم پائی جاتی ہے، اسے Vampire Batیعنی ”خون آشام چمگادڑ“ کہا جاتا ہے، یہ چمگادڑ دیکھنے میں بالکل چمگادڑ لگتی ہے کیونکہ یہ چمگادڑ ہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہ حسب توفیق دوسرے جانوروں کا خون چوستی ہے جن میں انسان بھی شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر دو دن تک کسی چمگادڑ کو خون پینے کے لیے کوئی شکار نہ ملے تو اُس کی حالت غیر ہو

Read more

جواب شکوہ (اقبال سے پھر معذرت)

مسلمانو! تم کہتے ہو کہ یہ ملک تم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا، تمہارایہ بھی دعوی ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کی ہے اور تم اُس کی متعین کردہ حدود میں رہ کر یہ اختیار استعمال کرنے کے پابند ہو، ایسا تم نے آئین میں لکھ رکھا ہے، مگر یہ بھی تو بتلاؤ کہ کیا حقیقت میں تم نے کبھی اُن حدود و قیود کا احترام کیا؟ قرا ن و سنت کی پاسداری کا تمہیں دعوی ہے

Read more

شکوہ (اقبال سے معذرت کے ساتھ)

اے میرے اللہ! بے شک تو بڑی دانائی اور حکمت والا ہے، انسان کو بھی تو نے حکمت عطا کی ہے جس کی مدد سے اُس نے یہ دنیا تسخیر کی اور اشرف المخلوقات کہلایا، کچھ انسان مگرکم فہم اور نادان ہوتے ہیں، وہ تیری حکمتوں سے واقف نہیں ہوسکتے، انہیں تیرے سر بستہ رازوں کی کبھی خبر نہیں ہو پاتی کیونکہ وہ کم علم ہوتے ہیں، میں بھی ایسا ہی تیرا ایک بندہ ناچیز ہوں، اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں

Read more

کچھ باتیں جیل کے قیدی کی

یونان، 399 قبل مسیح۔ جیل کا ایک منظر۔ صبح کا وقت ہے، سقراط قید خانے میں سو رہا ہے، اچانک اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ سامنے اُس کا دولت مند دوست کریٹو (Crito)بیٹھا ہے، سقراط اُس پوچھتا ہے کہ تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا، کریٹو کہتاہے کہ تم گہری نیند میں تھے، میں نے سوچا کیوں تمہارے سکون کے لمحات کو برباد کروں، آخر بیدار ہو کر تم نے ایک ہولناک صورتحال کا

Read more

سچی خوشی اور خالص بھنگ

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ”بابا جی“ ہم ایسے گناہ گاروں کو بھی شرف ملاقات بخش دیا کرتے تھے، اُن دنوں ہمیں زندگی کے مختلف تجربات کرنے کا شوق ہوتا تھا سو کبھی کسی فقیر کے آستانے پر چلے جاتے تو کبھی آدھی رات کو راوی کے کنارے چلہ کاٹنے کی کوشش کرتے۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ایسے تمام تجربات میں ہمیں ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا، جس دن زیادہ مایوس ہوتے اُس روز بابا جی کے در پر پہنچ جاتے کہ وہاں ایک عجیب سا سرورملتا۔

Read more

مدارس، گرامر اسکول اور یکساں نظام تعلیم

آٹھویں جماعت کے تین اوسط ذہانت کے طلبا کو ایک ساتھ بٹھائیں، ان میں سے ایک مدرسے کا طالب علم ہو، دوسرا مہنگے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتا ہو اور تیسرا سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرتا ہو، اِن تینوں کو مختلف مضامین کے پرچے حل کرنے کے لیے دیں، پھر یہ حل شدہ پرچے چیک کریں اور دیکھیں کہ کون سا بچہ زیادہ نمبر حاصل کرتا ہے، غالب امکان ہے کہ مہنگے اسکول والا بچہ باقی دونوں سے بہتر نمبر لے گا۔ ابہام دور کرنے کے لیے یہ تجربہ مختلف بچوں پر ایک سے زیادہ مرتبہ آزمایا جا سکتا ہے، مگر اِس کھکھیڑ کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ لوگ اِس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ مہنگے انگریزی اسکولوں کا معیار باقی اسکولوں اور مدرسوں سے بہتر ہے۔

Read more

گوگل کی ریسرچ اور تین سو سال کی عمر

آج سے ٹھیک چھ سال پہلے 18 ستمبر 2013 کو امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی گئی، کمپنی کا نام تھا ”CALICO“ یعنی کیلیفورنیا لائف کمپنی، اس کمپنی کا مشن بہت دلچسپ تھا، اس کا کہنا تھا کہ یہ بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے جان لیوا بیماریوں کا علاج دریافت کرے گی، بڑھاپے پر قابو پائے گی اور موت کا مسئلہ حل کرے گی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ کسی نے موت کو شکست دینے کا مشن اپنایا تھا، امریکہ میں کچھ کمپنیاں اور ادارے پہلے ہی اِس کام میں جتے ہیں، پے پال کے مالک پیٹر تھیل کی بھی خواہش ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے اور اِس مقصد کے لیے موصوف نے اپنی نیک کمائی میں سے کچھ ملین ڈالر ایک خیراتی ادارے کو دیے ہیں جو موت کو شکست دینے پر کام کر رہا ہے۔

Read more

مطالعہ پاکستان میں ہم نے کیا پڑھا؟

اسکول میں مطالعہ پاکستان میرا پسندیدہ مضمون تھا اور اِس کی وجہ یہ تھی کہ اِس میں نمبر بہت آسانی سے مل جایا کرتے تھے۔ دو قومی نظریہ، قائد اعظم کے چود ہ نکات، کانگریسی وزارتیں، تحریک خلافت، خطبہ الہ آباد، کیبنٹ مشن پلان اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کو درپیش مسائل جیسے موضاعات اگر کوئی رٹ لیتا تو سو میں سے ستّر نمبر پکے ہو جاتے۔ جس قسم کا مطالعہ پاکستان ہمیں پڑھایا گیا اُس نے ہمارے ذہنوں میں کچھ ایسے سچے جھوٹے تصورات بٹھا دیے جن سے ہم برسوں تک پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

Read more

ع غ قسم کے لوگ

ع غ ایک کامیاب انسان ہے اور جیسے کہ کامیاب لوگ ہوتے ہیں اُس میں کوئی خرابی نہیں، خرابیاں صرف ناکام انسانوں میں ہوتی ہیں، ع غ صبح بستر سے جاگنگ کرتا ہوا اٹھتا ہے اور رات کو سر کے بل کھڑا ہو کر مراقبہ کرتا ہے، یہ دونوں کام کرتے ہوئے آج تک اسے کسی نے دیکھا تو نہیں مگر راوی کا بیان یہی ہے کہ ع غ ایسا ہی پھرتیلا ہے۔ واضح رہے کہ راوی ع غ کا

Read more

72 سال پرانی بیماری کا علاج

ہمارے ایک دوست ہیں، عمر تو اُن کی زیادہ نہیں مگر انہیں بیمار رہنے کا بہت شوق ہے، روزانہ خود کو ایک نئی بیماری کا شکار بتاتے ہیں اور پھر خود تشخیصی نظام کے تحت اپنے لیے دوا تجویز کرکے اُس کا بے دھڑک استعمال شروع کردیتے ہیں، دو دن میں جب دوا کا شوق اتر جاتا ہے تو نہایت بیزاری سے دوا کی شیشی اپنے تھیلے میں پھینک کرکے کہتے ہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُن کاتھیلا اب ایک

Read more

مدرسوں کے طلبا کیا سوچتے ہیں؟ 

خورشید ندیم صاحب کا فون آیا، کہا میں لاہور میں ہوں، میں نے جواب دیا بڑی اچھی بات ہے لکشمی چوک سے بٹ کی کڑاہی گوشت کھائے کافی دن ہو گئے اکٹھے چلیں گے، فرمانے لگے وہ بھی ٹھیک ہے مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ہم جامعہ نعیمیہ میں ملاقات کر لیں۔ سبحان اللہ، کہاں لکشمی چوک کہاں جامعہ نعیمیہ۔ مزید گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ جامعہ میں طلبا و طالبات کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام ہے۔

Read more

جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

ہمارے ملک میں جمہوریت کے خلاف مقدمہ بنانا سب سے آسان کام ہے، کہیں کوئی بے گناہ تھانے میں مارا جائے، کوئی غریب عورت اسپتال کی سیڑھیوں پر بچہ پیدا کرتے ہوئے مر جائے، کہیں کسی بوسیدہ عمار ت کی چھت گر جائے یا زمین کے انتقال کے لیے پٹواری پیسے مانگ لے تو ہمارے دانشور صاحبان جھٹ سے ایک تُرپ کا پتہ پھینکتے ہوئے کہتے ہیں قوم کوایسی جمہوریت کا کیا فائدہ؟ عوام چونکہ پہلے ہی مسائل میں گھرے ہیں اور داد رسی کی کوئی صورت انہیں نظر نہیں آتی تو ایسے میں جب کوئی جمہوریت پر تبرا کرتا ہے تو بے بس عوام کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے، ہمیں بیٹھے بٹھائے ریٹنگ مل جاتی ہے اورسب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی طاقتور شخص یا ادارہ ناراض بھی نہیں ہوتا۔

Read more

زمانہ نیا ہے، اسکول کیوں پرانے ہیں؟

قصے کہانیوں میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ فلاں ملک پرایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، بادشاہ بہت رحم دل تھا، رعایا (بغیر ٹیکس دیے ہی) خوشحال تھی، ملکہ بے حد خوبصورت اور رحم دل تھی، بس ایک کمی تھی کہ دونوں کی اولاد نہیں تھی، یہ غم بادشاہ کو روز بروز کھا رہا تھا کہ اُس کے بعد اِس وسیع و عریض سلطنت کا وارث کو ن ہوگا، اُس زمانے میں چونکہ الیکشن کروانے کا رواج نہیں ہوتا تھا اِس

Read more