غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی


مولانا غلام رسول مہر اپنے علمی مشاغل میں

5۔ میرا خیال پہلے سے یہ تھا کہ حد بندی کا کمیشن مقرر کرانے کے لیے جو شرطیں منظور کی گئی تھیں وہ ناقص تھیں۔ جسٹس دین محمد نے جو حد بندی کمیشن کے ممبر تھے پاکستان بن جانے کے بہت دیر بعد ایک مجلس میں یہی فرمایا تھا لیکن ’میں مختار نہ تھا اور جو مختار تھے، ان سے پوچھنے کی نوبت نہ آ سکی۔ ”

ایک ضروری بات یہ ہے کہ پاکستان کی سکیم کی اصل غرض و غایت صرف یہ نہ تھی کہ مسلمانوں کے لیے آزاد حکومت کا بندوبست کیا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ مسلم اقلیتوں کی حفاظت کا بندوبست پختہ تر ہو جائے۔ تقسیم ملک کا فیصلہ ہو جانے کے بعد مسلم اقلیتوں کی حفاظت کا محکم تر انتظام حد درجہ ضروری اور لازم تھا۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں، جنہیں تقسیم کی پوری داستان میں اس اہم ترین قومی غرض کے لیے سعی کا کوئی ثبوت اب تک نہیں مل سکا اور نہ میں سمجھ سکا ہوں کہ اس بنیادی ضرورت سے اعراض کی علت کیا تھی؟

7۔ میرے نزدیک ایک خوفناک غلطی یہ ہوئی کہ طول و عرض ملک کے ہر مسلمان ملازم کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان میں آ جائے۔ میں نے اپنی بیس بائیس برس کی سرگرم سیاسی زندگی میں مسلمانوں کی تکلیفوں اور پریشانیوں کا سرچشمہ اس کے سوا کوئی نہ پایا کہ ملازمتوں میں ان کی تعداد کم تھی اور حکومت نام ہی ملازمتوں اور ممبریوں (وضع قوانین اور نظم و نسق) کا ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تقسیم ملک کے ساتھ ہی مسلم اقلیتوں کو تحفظ کے ہر وسیلہ سے محروم کر دیا گیا۔ میں نے پے در پے اس کے خلاف مقالات لکھے۔ ذاتی طور پر مختلف اصحاب اختیار سے التجائیں کیں لیکن کسی نے کچھ نہ سوچا۔ ہر شخص کو صرف یہ خیال تھا کہ بیچ میں سے غیر مسلم نکل جائیں گے تو زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل کر لینے کا موقع ہو گا۔ آپ جانتے ہیں کہ قومی فرائض کو پورا کرنے کا یہ کوئی مناسب معیار نہ تھا۔

8۔ آپ کے دوسرے سوال یعنی راج گوپال اچاریہ فارمولا قبول کر لینے کے نتائج کا مسئلہ زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔ اوپر کی تصریحات میں اس کے اکثر پہلو سامنے آ گئے ہیں۔ میرے نزدیک مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جاتی اور لیگ کی پوزیشن کمزور ہو جاتی۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ لیگ مستحکم رہتی یا نہ رہتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا یا نقصان۔ دونوں قسم کے امکانات تھے۔ یقین و وثوق سے کسی ایک پہلو کو راجح قرار دینا مناسب نہیں۔ موجودہ تقسیم بالاتفاق منظور ہوئی تھی اور انگریز کا قدم بیچ میں تھا۔ بایں ہمہ خون خرابہ ہوا۔ اس کے اسباب دوسرے تھے جو راج گوپال اچاریہ فارمولا قبول کر لینے میں بھی ہو سکتے تھے۔ البتہ یہ درست ہے کہ راج گوپال اچاریہ فارمولا کے مطابق مسلمانوں کی پوزیشن مقابلتاً بہتر ہوتی۔

ashiq hussain batalvi

9۔ آپ کا یہ خیال درست ہے کہ ماؤنٹ بیٹن گورنر جنرل رہتا تو آبادیوں کے اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔ کشمیر کا فیصلہ بھی بہ اطمینان ہو جاتا۔ غالباً ریفرنڈم کی ضرورت بھی پیش نہ آتی۔ میری معلومات یہی ہے کہ ابتدا میں ماؤنٹ بیٹن کو ایک سال کے لیے بالاتفاق گورنر جنرل مانا گیا تھا اور یہ معاملہ طے کر کے بغرض منظوری لندن بھیج دیا گیا تھا۔ بعد میں غالباً ان لوگوں نے رد و بدل پر زور دیا جو سمجھتے تھے کہ اختیارات کا موقع انہیں نہ مل سکے گا۔ میری معلومات کے مطابق قائداعظم کے سامنے معاملات کو ایسے رنگ میں پیش کیا گیا کہ وہ پہلے فیصلے کو منسوخ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اگر اسے ماننا مناسب نہ تھا تو بہتر ہوتا کہ پہلے ہی انکار کر دیا جاتا لیکن ماننے کے بعد انکار یا رد و بدل بہت مضر ثابت ہوا۔ یہ میری معلومات ہیں۔ ہو سکتا ہے حرفاً حرفاً صحیح نہ ہوں۔ اب اکثر واقف کار حضرات کم از کم میرے علم کے مطابق اسی رائے پر آ گئے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ قائداعظم کو ماؤنٹ بیٹن کے متعلق مختلف شبہات پیدا ہو گئے ہوں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ماؤنٹ بیٹن بذات خود کچھ نہ تھا۔ وہ برطانوی حکومت کا نمائندہ تھا۔ برطانوی حکومت کے متعلق تو میرے نزدیک شبہات پیدا نہ ہوئے۔ جیسا کہ بعد کے طرز عمل سے مترشح ہوتا ہے لیکن اگر شبہات بھی تھے تو ان سے بچاؤ کی دوسری تدابیر اختیار کی جا سکتی تھیں جو ماؤنٹ بیٹن برطانوی امپریلزم کا ایک زبردست کارندہ ہونے کے باوجود کانگرسیوں کے نزدیک معتبر بن گیا۔ اسے ہمارے لیے تدبیر و تدبر سے معتمد علیہ بنانے یا کم از کم شبہات کا مرجع نہ بننے دینے میں کیا دقت اور کون سی مشکل تھی؟

10۔ کم از کم میرے نزدیک مسٹر جناح مرحوم انگریزوں کے ترک ہند کے باب میں غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انگریز جائیں گے نہیں اور ریاستیں اس حکومت کا ساتھ دیں گی جو رؤسا کے معاملات میں کم از کم مداخلت کریں گی۔ انگریز ریاستوں کے طرز عمل کی تائید کریں گے۔ لیکن یہ تصور غلط تھا اور غلط ثابت ہوا۔ یہ تصور خدمت عوام کے نقطہ نگاہ سے بھی غلط تھا۔ خدمت عوام کا تقاضا یہ تھا کہ رئیسوں کو نہیں بلکہ ریاستوں کے عوام کو پیش نظر رکھا جاتا۔ ان کی بہبود کو مقدم سمجھا جاتا اور وہ رئیسوں کے تغلب و تصرف پر پابندیاں عائد کیے بغیر پوری نہ ہو سکتی تھیں۔ اس باب میں لیگ نے ابتدا میں جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ میرے نزدیک مناسب نہ تھا۔ حکومت ہند نے ہمت کر کے تمام ریاستوں کو ختم کر دیا اور ایسی صورت پیدا کر دی کہ اگلے قدم پر سب ریاستیں مٹ جائیں۔ ہماری حالت محتاج بیان نہیں۔

11۔ وزارتی سکیم کو 1946 ءمیں مسترد کر دینے سے اس کے سوا کیا نتیجہ نکلتا کہ انگریز تھوڑی سی ترمیم کے بعد نئی سکیم بنا لیتے۔ جس طرح انہوں نے کرپس کی سکیم کے بعد نئی سکیم بنا لی تھی، جو حالات پیش آئے، انہیں نظر انداز کر دیجئے۔ ان کا سکیم کو ماننے یا رد کرنے سے کوئی تعلق نہ تھا۔

12۔ کسی سکیم کی خرابیوں سے آگاہ ہونے کے باوجود فی الجملہ اسے قبول کر لینا موجب قدح نہیں بن سکتا۔ ہم نے 1933 ءمیں فرقہ وارانہ فیصلے کو قبول کر لیا تھا حالانکہ جانتے تھے کہ وہ سو فیصد درست نہیں۔ ایسے معاملات میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ قدم آگے بڑھتا ہے یا نہیں بڑھتا۔ اگر بڑھتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سیاست میں ایسے حالات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ قائداعظم کا خیال ممکن ہے یہ ہو کہ پوری سکیم مان لینے سے ترتیب حکومت کا کام ان کے حوالے ہو جائے گا لیکن انگریزی حکومت اتنی نادان نہ تھی کہ ملک کی 3 / 4 آبادی کو نظر انداز کر کے 1 / 4 آبادی کو ترتیب حکومت کا کام سونپ دیتی یا ایسی حکومت بن جاتی۔ تو وہ کوئی قابل ذکر کام کر سکتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

One thought on “غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی

  • 20/01/2016 at 8:08 صبح
    Permalink

    مندرجہ بالا مضمون کے نمبر 3 میں ایک جملے کا اختتام اسن الفاظ پر ہوتا ہے:
    قوموں کی قسمت کے فیصلے خوش فہمیوں یا اوہام کی بنا پر نہیں کیے جاتے۔
    جب 1972/73 میں یہ مکتوب بٹالوی صاحب نے چٹان میں چھپوایا تھا تو آغا شورش نے اس کی سرخی اسی جملے کو بنایا تھا۔

Comments are closed.