غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی
یہی موقع ہے کہ جس میں گاندھی کا تدبر بروئے کار آیا۔ کانگرس عارضی حکومت کی سکیم رد کر چکی تھی لیکن گاندھی جانتا تھا کہ اس کے بغیر مستقل سکیم کے لیے کام کرنا مشکل ہو گا لہٰذا اس نے کانگرس کو راضی کر کے نہرو کو عارضی حکومت کے قبول کر لینے پر آمادہ کر لیا۔ چنانچہ دیول نے نہرو ہی کو ترتیب حکومت کا کام سونپا۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ اگر انگریز مجھے لیگ کا لیڈر تسلیم کر کے ترتیب حکومت کا کام سونپتے تو میں انکار کر دیتا۔ اس لیے کہ یہ عارضی کامیابی پر خوش ہونے کا مقام نہ تھا بلکہ اہل ملک کی اکثریت کو ساتھ ملانے کا مقام تھا۔ عارضی حکومت ہندوؤں کی اکثریت کو مٹا نہ سکتی تھی۔ چند ماہ میں انتخابات ہوتے۔ کانگرس اکثریت حاصل کر لیتی تو پھر وہی حکومت بناتی۔ عارضی کامیابی کسی کو کیا فائدہ پہنچاتی؟ چار دن کے لیے ہم حکومت سنبھال کر آبادی ملک کے محکم حقائق کو منقلب نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ 1937 ءکے انتخابات کے بعد کانگرس نے ہندو اکثریت والے صوبوں میں حکومتیں نہیں بنائی تھیں اور انگریزوں نے عارضی یا عبوری حکومتوں کا ڈول ڈالا تھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جب کانگرس حکومتیں بنانے پر راضی ہو گئی تو عارضی حکومتوں کے کارفرما حرف غلط کی طرح صفحہ سیاست سے مٹ گئے۔
13۔ دو قوموں کے نظریے کا مفہوم پہلے ذہن نشین فرما لیجیے۔ میرے نزدیک قائداعظم مرحوم کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہر علاقے میں اکثریت کو اقتدار کا حق حاصل ہے۔ یعنی مطلب یہ نہ تھا کہ تمام مسلمان بلا استثنا بالکل الگ کر دیے جائیں۔ اگر یہ مقصد ہوتا تو وہ تمام مسلمانوں کو مختلف مقامات سے منتقل کرا کے پاکستان میں لانے پر مجبور ہوتے۔ سیاست میں بعض اوقات مختلف امور کی اہمیت واضح کرنے کے لیے انہیں مبالغہ آمیز صورت دے دی جاتی ہے۔ جن معنوں میں دو قوموں کے نظریے کو پاکستان کے عام لوگ یا عام لیڈر سمجھتے اور استعمال کرتے رہے۔ میرے نزدیک مرحوم قائداعظم کبھی بھی ان معنوں کے قائل اور معتقد نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں آپ نے جتنے سوال پیدا کیے ہیں وہ پیدا نہیں ہوتے۔ البتہ مرحوم کے بعد پاکستان کے مختاران کار مسلسل و متواتر زیغ نظر اور ژولیدگی فکر میں مبتلا رہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ لطف یہ ہے کہ ان سے باتیں کی جائیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا معتقد کوئی بھی نہیں۔ اگر کوئی ہے تو مجھے اس کا علم نہیں۔ بیانات میں زیغ نظر اور ژولیدگی فکر کے اسباب پہلے سے موجود تھے اور متوازن صورت پیدا کرنے کی سعی کبھی نہ کی گئی۔ پاکستان کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان میں سے متعدد مشکلات کا سرچشمہ یہ ژولیدگی فکر بھی ہے۔ نہ اس نظریے سے نجات حاصل کرنے کا حوصلہ کسی میں ہے اور نہ اس کے مطابق عمل کرنے کی ہمت کسی میں نظر آتی ہے۔
14۔ فسادات پر بحث کا معاملہ بہت نازک ہے اور بے حد طویل ہے۔ بلاشبہ سکھ فسادات کے بعد تقسیم پر آمادہ ہو گئے مگر اس عزم کے ساتھ کہ تقسیم کے بعد مسلمانوں کو مشرقی پنجاب سے نکالیں گے اور سکھوں کو مغربی پنجاب سے لا کر ایک صوبہ بنائیں گے۔ لیکن ہمارے کوتاہ نظر سیاست دان، جن کے نام میں بتا سکتا ہوں۔ مسلسل اس وہم میں مبتلا رہے کہ سکھوں کو باتوں سے رام کیا جا سکتا ہے۔ ’ڈان‘ میں ایسے بیانات چھپتے رہے کہ آبادیوں کا مبادلہ ضرور ہو لیکن صرف ہندوؤں کے ساتھ نہ کہ سکھوں کے ساتھ۔ جیسا کہ نواب ممدوٹ نے کہا تھا۔
15۔ اگر 1944 ءمیں خضر حیات یونینسٹ پارٹی توڑ دیتا تو پنجاب کی وزارت اسی وقت ختم ہو جاتی اور نئی وزارت نہ بن سکتی۔ جیسا کہ 1947 ءمیں لیگ کی غالب اکثریت کے باوجود نہ بن سکی۔ اس لیے کہ 1935 ءکے قانون کے مطابق اقلیتوں کو ساتھ لینا ضروری تھا اور واضح رہے کہ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت ایسی نہ تھی جیسی مثلاً یو پی، سی پی، بہار، بمبئی، مدراس وغیرہ میں ہندوؤں کی تھی۔ اگر لیگ دو چار سکھوں اور ہندوؤں کو ساتھ ملا کر وزارت بناتی تو کشمکش اسی وقت شروع ہو جاتی۔ وہ زمانہ جنگ کا تھا اور انگریز کسی کشمکش کے روادار نہ تھے۔ وہ دفعہ 192 الف لگا کر حکومت خود سنبھال لیتے اور اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی میرے نزدیک مضر ہوتا۔
16۔ یہ صحیح نہیں کہ مسلمانوں اور سکھوں کا بگاڑ خضر حیات کے وزارت بنانے سے قائم ہوا۔ اس کے اسباب پہلے سے موجود تھے البتہ صوبے کے اندرونی معاملات میں تعاون کی صورت موجود تھی۔ اس سے سب نے فائدہ اٹھایا۔ 1946 ء میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ لیگ کی حکومت بن جاتی لیکن اس طرح کہ مرکزی جماعتیں صوبے کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دیتیں اور اپنی سرگرمیاں آل انڈیا مسائل دستور کے تصفیے تک محدود رکھتیں۔ مسلمان پاکستان کی حمایت میں آزاد رہتے۔ سکھ اور ہندو اس کی مخالفت کے مجاز ہوتے۔ اس پر لیگ راضی نہ ہوئی اور معاملہ ختم ہو گیا۔
17۔ بلاشبہ تارا سنگھ کی حرکت نے جلتی آگ پر تیل کا کام دیا۔ بارود میں چنگاری ڈال دی لیکن اسباب اشتعال پہلے سے موجود تھے۔
18۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان حقوق مسلمان کے تحفظ کا ایک ذریعہ تھا اور تحفظ کا مقصد اس صورت میں پورا ہو سکتا تھا کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکتا۔ جو پاکستان بنا۔ اس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور دونوں حصے تقریباً برابر ہیں۔ اس موقع پر اصل سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی ادھورا پاکستان مفید تھا یا وزارتی سکیم۔ لیکن پاکستان کو بجائے خود نصب العین قرار دے کر اس کی حیثیت و حدود کو کاملاً نظر انداز کر دیا گیا۔ میں اس نظریے کی صحت کا قائل نہیں۔
19۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ فسادات کا معاملہ بڑی تفصیل کا محتاج ہے اور ساری باتیں لکھی نہیں جا سکتیں۔ آپ نے بالواسطہ جن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے میں ان کا وکیل نہیں لیکن بلاواسطہ کون ذمہ دار ہوا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



مندرجہ بالا مضمون کے نمبر 3 میں ایک جملے کا اختتام اسن الفاظ پر ہوتا ہے:
قوموں کی قسمت کے فیصلے خوش فہمیوں یا اوہام کی بنا پر نہیں کیے جاتے۔
جب 1972/73 میں یہ مکتوب بٹالوی صاحب نے چٹان میں چھپوایا تھا تو آغا شورش نے اس کی سرخی اسی جملے کو بنایا تھا۔