زندگی اور موت کے فیصلوں میں طبی اخلاقیات کے سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سرمئی کے کئی رنگ کا دوسرا حصہ ہے۔ انٹرنل میڈیسن کی بورڈ رویو کانفرنس میں‌ جا کر یہ معلوم ہوا کہ پچھلے دس سالوں‌ میں‌ میڈیسن میں‌ کتنی تبدیلیاں‌ آچکی ہیں۔ ایتھکس کا لیکچر کافی دلچسپ تھا۔ اس میں‌ کئی نوعیت کے کیس ڈسکس کیے گئے جن میں‌ سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ امید ہے کہ یہ کیسز قارئین کو سوچنے پر مجبور کریں‌ گے۔

سوال: آپ کی ایک 16 سال کی مریضہ ایک روٹین وزٹ کے لیے آئی ہے۔ وہ ایک ایتھلیٹ ہے اور اس سال ساکر میں شمولیت کے لیے اس کو ٹیٹینس کی ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے۔ اس کی ماں‌ جو کہ اس کی قانونی گارڈین ہے وہ ساتھ میں‌ موجود نہیں‌ ہے۔ اس لڑکی کا اپنے باپ سے کوئی تعلق نہیں‌ ہے۔ پچھلا ٹیٹینس کا انجکشن دس سال پہلے لگوایا گیا تھا۔ اس مریضہ نے آپ سے برتھ کنٹرول کے بارے میں‌ معلومات بھی پوچھی ہیں۔ یہاں‌ پر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

1۔ برتھ کنٹرول کے بارے میں‌ انفارمیشن بھی دیں اور ٹیٹینس کا ٹیکا لگا دیں۔
2۔ جب تک اس کی ماں‌ ساتھ میں‌ نہ آئے، نہ ہی برتھ کنٹرول کے بارے میں‌ انفارمیشن دیں‌ اور نہ ہی ٹیٹینس کا ٹیکا لگائیں۔
3۔ ٹیٹینس کا ٹیکا لگادیں‌ لیکن برتھ کنٹرول کے بارے میں انفارمیشن نہ دیں‌جب تک اس کی ماں‌ ساتھ میں‌ نہ آئے۔
4۔ ٹیٹینس کا ٹیکا نہ لگائیں‌ لیکن برتھ کنٹرول کے بارے میں‌ انفارمیشن دے دیں۔

درست جواب: یہاں‌ پرامریکی قوانین کے مطابق چوتھا جواب درست ہے۔ یہ سوال 18 سال سے کم افراد کے علاج سے متعلق ہے۔ 18 سال سے کم افراد کو امینسیپیٹڈ مائنر یا خودمختار نابالغ چند صورتوں‌ میں‌ تصور کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی فوج میں‌ ہو، یا شادی شدہ ہو تو اس کو والدین پر انحصار کرنے والا نابالغ تصور نہیں‌ کیا جائے گا اور ان افراد کو اپنے علاج کے لیے والدین یا قانونی گارڈین کی مرضی کی ضرورت نہیں‌ ہوگی۔ کچھ صورت حال ایسی ہیں‌ جن میں‌ 18 سال سے کم افراد کا والدین کی غیر موجودگی میں‌ علاج کیا جاسکتا ہے، جن میں‌ ایمرجنسی، جنسی تعلق سے پیدا ہونے والی بیماریوں‌ کا علاج، حمل اور برتھ کنٹرول شامل ہیں۔ ویکسینیں‌ ان میں‌ شامل نہیں‌ ہیں اس لیے والدین کی مرضی کے بغیر ان کے بچوں‌ کو ٹیٹینس کا انجکشن نہیں‌ لگایا جاسکتا۔

سوال: مسز سی ایک 84 سالہ خاتون ہیں‌ جو کہ ایک نرسنگ ہوم میں رہتی ہیں۔ ان کو شدید نمونیا کے ساتھ ہسپتال میں‌ داخل کیا گیا ہے۔ وہ بے ہوش ہیں‌ اور ان کی حالت بگڑ رہی ہے۔ خون کے ٹیسٹ بھی یہی ظاہر کرتے ہیں‌ کہ ان کی حالت کافی خراب ہے۔ ان کے لیے نسوں‌ کے ذریعے اینٹی بایوٹک اور نمکین پانی یعنی نارمل سیلین شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں‌ نے اپنی بھانجی کو پاور آف اٹارنی دیا ہوا ہے تاکہ وہ ان کی صحت سے متعلق فیصلے کرسکے۔ مریضہ نے خود کبھی اپنی صحت سے متعلق کوئی دستاویز مرتب نہیں‌ کی۔ ان کی بھانجی آپ سے ملی اور تمام صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد آپ سے کہا کہ اس کی خالہ کو ڈیمنشیا یعنی حافضے کی بیماری ہے اور ان کو اینٹی بایوٹک اور نارمل سیلین دینا بند کردیا جائے اور صرف بنیادی دیکھ بھال کی جائے۔ یہاں‌ پر کون سا اگلا قدم مناسب ہے؟

1۔ چونکہ مریضہ نے پہلے سے کوئی ہدایات نہیں‌ چھوڑی ہیں، اینٹی بایوٹک اور نارمل سیلین روکے نہیں جاسکتے۔
2۔ ”نیکسٹ آف کن“ یعنی سب سے قریب تر رشتہ ہونے کی وجہ سے ان خاتون کے بچوں‌ کی رائے کو ان کی بھانجی سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
3۔ اس بھانجی کے کہے پر صرف اس صورت حال میں عمل درآمد کیا جائے گا جب یہ ثابت ہوجائے کہ اس کی خالہ نے پہلے سے یہ معاملات اس کے ساتھ ڈسکس کیے تھے۔
4۔ بھانجی کا اینٹی بایوٹک اور نارمل سیلین منتقع کرنے کا فیصلہ قبول کیا جائے کیونکہ اس کو اپنی خالہ کی پاور آف اٹارنی کی وجہ سے یہ قانونی اور اخلاقی حق حاصل ہے۔

درست جواب: اس سوال کا درست جواب یہ ہے کہ بھانجی کے کہے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ امریکی قانون کے مطابق جب کوئی بھی شہری کسی شخص کو اپنا پاور آف اٹارنی بنائے تو اس کی بات کو قریبی خاندان سے بڑھ کر اہمیت حاصل ہوگی۔ اگر کسی مریض‌ نے پہلے سے کچھ فیصلے نہ بھی کیے ہوں‌ تو یہ پاور آف اٹارنی کسی بھی صورت حال میں‌ مریض کے لیے فیصلے کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہاں‌ یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ یہ پاور آف اٹارنی اس وقت طے کیا گیا تھا جب مریض اپنے ہوش وحواس رکھتا تھا۔

یہاں‌ پر ”لیونگ ول“ یعنی کہ زندہ وصیت کا ذکر مناسب ہوگا۔ یہ مضمون پڑھنے والے تمام قارئین کو اپنی اپنی لیونگ ول کے بارے میں‌ سوچنا چاہیے۔ اگر زندگی میں‌ ایسا موقع آجائے کہ ہم اپنے لیے فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں‌ نہ ہوں‌ تو ہم کیا چاہتے ہیں؟ اگر مریض اس قدر بیمار ہوں‌ کہ ٹیوب فیڈ کے بغیر یا سانس دینے کی مشین کے سہارے کے بغیر وہ زندہ نہیں‌ رہ پائیں‌ گے تو اس صورت حال میں‌ کیا کرنا چاہیے؟ ایمرجنسی کا اور زندگی کا کچھ پتا نہیں‌ چلتا۔ اگر ہر شخص نے پہلے سے اپنے پیاروں‌ سے یہ گفت و شنید کی ہو تو ان لوگوں‌ کے لیے یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

کچھ سال پہلے ٹیری شاوو کا مرنے کے حق سے متعلق کیس کافی مشہور ہوا تھا جس میں ٹیری شاوو نام کی خاتون کو 26 سال کی عمر میں‌ دل کا دورہ پڑا تھا جس سے ان کو بچا تو لیا گیا لیکن ان کے دماغ کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ وہ صرف مصنوعی سہاروں‌ سے زندہ تھیں۔ ان کے شوہر نے درخواست کی کہ یہ سہارے ہٹا دیے جائیں کیونکہ وہ اپنے لیے یہ پسند نہ کرتیں‌ کہ ان کو ایک سبزی کی طرح‌ ہسپتال کے کمرے میں‌ زندہ رکھا جائے لیکن ان کے والدین چاہتے تھے کہ ٹیری شاوو کو کسی بھی حال میں زندہ رکھا جائے۔ اس پر کورٹ میں‌ کیس چلا اور عام افراد بھی دو دھڑوں‌ میں ‌بٹ گئے۔ ان لوگوں‌ نے ہسپتال کے باہر دھرنا دے دیا تھا۔ ہم لوگ بھی ہی ڈرامہ ٹی وی پر دیکھ رہے تھے۔ یہ کیس 1990 سے 2005 تک چلا اور بالآخر عدالت نے ٹیری شاوو کے شوہر کے حق میں‌ فیصلہ دیا۔ جب ٹیب فیڈ بند کردی گئی تو اس کے بعد ٹیری شاوو کی موت واقع ہوگئی۔

اوپر دیے گئے کیس میں‌ ان خاتون نے اپنی بھانجی کو پاور آف اٹارنی دیا ہے تو یقیناً انہوں‌ نے کچھ سوچ کر ایسا کیا ہو گا۔ جتنا قریبی رشتہ ہو، اتنا ہی اس طرح‌ کا فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے بچے اس وقت جذباتی طور پر اتنے مضبوط نہ ہوں‌ کہ اپنی ماں کے لیے ایسا فیصلہ کریں‌ جس سے ان کی موت واقع ہوجائے۔ حالانکہ ہم دیکھ سکتے ہیں، اس صورت حال میں‌ علاج جاری رکھنے سے صرف ان کی تکلیف دہ زندگی کو غیر ضروری طوالت دی جارہی ہے۔

یہاں‌ پر اپنی لیونگ ول کی مثال دے سکتی ہوں‌، ہوسکتا ہے اس سے اور لوگوں‌ کو بھی مدد ملے۔ پوری قانونی دستاویز تو کچھ لمبی ہے لیکن اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔ میری ان خواہشات سے میرے خاندان کے لوگ واقف ہیں۔ میں‌ ایک آرگن ڈونر ہوں۔ میرے مرنے کی صورت میں‌ میرے گردے، جگر، پھیپھڑے اور دل وغیرہ نکال کر ان مریضوں‌ کو دیے جاسکتے ہیں‌ جن کو ان کی ضروت ہو۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئے کہ دو کوالیفائڈ ڈاکٹرز کے مطابق میرا دماغ مر چکا ہے اور نقلی سہاروں‌ کے بغیر زندگی ممکن نہیں تو میری یہی درخواست ہے کہ مجھے ایک سبزی کی طرح‌ آئی سی یو میں‌ رکھنے کے بجائے سکون سے مرنے دیا جائے۔

2016 میں کچھ بلاگ مشہور ہوئے جن میں کہا گیا کہ امریکی ڈاکٹرز خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں‌ میں‌ معجزاتی بہتری کے لیے غیر ضروری سرجریاں‌ اور زیادہ سائڈ افیکٹ والی دواؤں‌ سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زندگی کے آخری سال میں‌ امریکہ میں‌ کافی سارے بوڑھے لوگ سرجری سے گزرتے ہیں جس سے ان کی زندگی کے آخری لمحات تکلیف اور پریشانی میں‌ گزرتے ہیں۔ ڈاکٹرز یہ سب کچھ دیکھتے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں‌ میں‌ موت کو زندگی کی حقیقت سمجھنے کے رجحان میں‌ اضافہ ہوا ہے۔ موت ہماری زندگی کو معنی دیتی ہے۔ لیکن اس کے بعد باقاعدہ ریسرچ سے یہ سامنے آیا کہ زندگی کے آخری دنوں‌ کے بارے میں ڈاکٹرز اور دیگر افراد میں‌ کوئی فرق نہیں لیکن پھر بھی اس بحث سے لوگوں کو اس اہم موضوع پر سوچنے کا موقع ملا۔

میڈیسن کا پہلا اصول ہے کہ ”ڈو نو ہارم“ یعنی کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ کسی بھی سوال کا جواب انفرادی صورت حال پر مبنی ہوتا ہے۔ دنیا میں‌ کالا سفید کچھ بھی نہیں۔ ان کے بیچ میں‌ سرمئی کے کئی رنگ ہیں۔ ہر انسان کو اپنی زندگی اور صحت سے متعلق فیصلوں‌ کا حق حاصل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ ان حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔

علاج معالجے کی اخلاقیات ۔۔۔ سرمئی کے کئی رنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •