باصرسلطان کاظمی کی غزلیں


یہ روایت سے اکتساب تو ہے ہی لیکن رد تشکیل کے طور پر باصر ہماری شہری زندگی کو کھیل کھیل میں آئینہ کر دیتے ہیں۔  باصر یہ بھی خطر ہ مول لیتے ہیں کہ نئی زندگی کے بیان میں ان کا اسلوب اپنے عہد کی کلفتوں کے حوالے سے کہیں ظریفانہ آہنگ میں ہمیں قید نہ کر لے۔  یہ شاعر اور قاری دونوں کے لیے بے حد مشکل گھڑی ہے مگر شاعر ان مراحل میں پورے طور پر کامیاب نظر آتا ہے۔  چند اشعار ملاحظہ ہوں :

عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو

حسن سولہ سنگھار میں مصروف

کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا

کرتا ہوں اس لیے میں بہت بچ بچا کے بات

تین میں ہیں نہ اب وہ تیرہ میں

جو کبھی پہلے تین چار میں تھے

عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا

انھیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا

دن دوگنی شب چوگنی کی ہم نے ترقی

کچھ راہ نماؤ ں کے بیانات کی حد تک

خوب ہیں پھول جو دوچار کھلے ہیں باصر

چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے

کچھ خریدیں تو بھاؤ پانچ کے آٹھ

اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ

کیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ

باصرسلطان کاظمی کی ادبی حیثیت کی کئی جہات ہیں۔  بیان غزل میں ہی صفحات پر وں سے اڑتے چلے گئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ پڑھنے والے سے کیا کیا کہا جائے۔  شاعری میں نظم نگاری اور نثر میں ڈرامانگاری پر بھی اظہار خیال ضروری تھا۔ اسے ابھی بہ شرط زندگی موخر کرتے ہیں۔  باصر کی شاعری کچھ الگ انداز کی ہے اور ہماری زبان کے عمومی رویوں سے بار با ر الگ ہوتی ہوئی معلوم پڑتی ہے۔  ایسا ادب جو ہمارے سانچے سے ذر ا مختلف ہو، اسے پہچاننے اور پرکھنے میں اکثر دشواریو ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

باصر کے لیے ان کے والد گرامی کی شاعری ایک موثر حوالے کی طرح رہی اور شاید اس طور پر بھی ان کے فن کو پرکھنے کی کوشش کی گئی مگریہ شاعر کچھ ایسا مختلف انداز رکھتا تھاجسے پورے طور پر پانے کے لیے اپنی روایت شعر سے الگ ہو کر بھی دیکھنے کی ضرورت تھی۔ یہ کام اکثر و بیشتر توجہ کے ساتھ نہیں ہوا۔ اس مضمون میں اس سمت ایک ابتدائی کوشش کی گئی ہے جس سے یہ توقع ہے کہ باصر فہمی کی بعض آسانیاں پیدا ہوں گی اور شاعر کے قدردانوں کی تعداد میں لازمی طور پر اضافہ ہوگا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10