باصرسلطان کاظمی کی غزلیں


فکر کا پہلا پتھر ’یاد یار مہر باں‘ کے حوالے سے سمجھنا چاہیے کیوں کہ اپنے وطن سے دور مختصر یا طویل مدت تک رہنا زندگی کے جس امتحان سے عبارت ہے، وہ مسئلہ باصر کی شاعری میں ہر دور میں موضوع بحث رہا ہے۔  وطن سے دورجینے کی کوشش کرنا کس جذباتی پہچان میں ہمیں مبتلا کرتا ہے، باصر سلطان کاظمی کے یہاں اس کی جھلک اولاً اپنی اس روایتی شکل میں سامنے آتی ہے :

اوروں کی زمیں راس نہیں آئے گی

آرام ملے گا تمھیں اپنے ہی وطن میں

لاکھ آسائشیں پردیس مہیا کردے

ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی

یہ شہر تمھارا مری بستی کے مقابل

اچھا ہے مگر صرف عمارات کی حد تک

اس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب

کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر

گھر میں آکر سکوں ملا باصر

کس قدر تیز تھی ہوا باہر

یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا

کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ

باصر ان معاشرتی اور معاشی ہجرتوں کے چند اسباب پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔  آخر کوئی اپنا گھر چھوڑ کر کیوں نکلنا چاہتا ہے۔  کیا صرف تو قعات اور کشادگی رزق کہی تنہا سبب ہے؟ یا یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے گھر کو رہنے اور جینے لائق ہی نہیں رہنے دیا؟ اس سوال پر باصر دو ردیس میں بس جانے کے بعد بھی غور و فکر کرتے رہتے ہیں اور اپنے صبر آزما نتائج سے ایسے پر سوز انداز میں ہمیں باخبر کرتے ہیں :

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

ہوتے نہ یوں ہمارے جواں در بہ در خراب

شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں

جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اشعار اپنی ہجرت کے اسباب کو زیربحث لاتے ہوئے باصر نے کہے ہیں۔  اس میں وہ انسانی سوز بھی ہے جس کے بغیر نہ مہجریت سجھی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی انسان کے درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے جسے کلیجے میں لیے ہوئے وہ شہروں شہروں کی خاک چھانتاہے۔  اس مرحلے میں جذبوں کی صورتیں اتنی ادلتی بدلتی ہیں کہ یہ ہجرت ہار اور جیت، کھونے اور پانے کی داخلی جنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔  ذیل کے اشعار میں مہجریت کی ان مختلف شکلوں کو آپ ملا حظہ کیجیے اور یہ بھی دیکھے ے کہ شاعر کے لیے کس طرح زندگی آزمائش میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے :

ہم کہ جو ہر ابر کو ابر کرم سمجھا کیے

آگئے اس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے

اب آکے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت

میں اپنے شہروں میں اس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں

اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی انھیں

اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ

فکر کی سطح پر مہجریت کو باصر نے اور مختلف رنگوں میں پہچاننے کی کوشش کی ہے۔  اس سلسلے کے پچھلے اشعار میں بھی باصر کا سلجھا ہوا انداز خصوصی طور پر متوجہ کرتا ہے۔  جن سے شکایتیں ہیں، ان سے بھی تکلیف کے اظہار کے مرا حل میں ضبط کی دیواریں ٹوٹتی نہیں۔  شاید ا سی مزاج نے انھیں نئے معاشرے کو سمجھنے کے مواقع بھی دیے کیوں کہ اس عالمی گاؤں میں ہرآدمی جہاں چاہے بس سکتا ہے اور زندگی کے نئے ذرائع ڈھونڈ سکتا ہے۔  نئے معاشرے اور نئی زندگی کی تعمیر وتشکیل میں اس کا بھی کچھ حصہ ہے او ر وہ بھی اس میں خوش و خرم رہ سکتا ہے۔  اس کی صلاحیتیں اور اس کی خواہشات نئے مواقع پر اپنا وزن ووقار ثابت کرتی ہیں۔  اس سلسلے سے دو شعر ملاحظہ ہوں جہاں باصر نے مہجریت کے نئے معنوی پیکر واضح ہیں :

ہوجائیں نفس چند جو آکر کہیں آباد

سمجھو کہ وہیں پڑ گئی اک شہر کی بنیاد

دل لگا لیتے ہیں اہل دل، وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھلنے سے مطلب ہے، چمن کوئی بھی ہو

باصر کا مذکورہ شعر (۔ چمن کوئی بھی ہو) اس اعتبار سے بھی تاریخی ہے کہ دنیا کے مشہور شعرا کے ساتھ بر طانیہ میں باصر کے اس شعر اور اس کے انگریزی ترجمے کو پتھر پر کندہ کر کے نصب کیا گیا ہے جسے ایک شہری کی حیثیت سے بڑا اعزاز تصور کرنا چاہیے۔

مہجریت کے طفیل ہمارے تصور شعراور تصور حیات میں کس کس انداز کی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں، اسے بہ غور دیکھناضروری ہے۔  ہجرت اور اس کے مسائل اردو شعر و ادب میں طویل مدت سے زیر بحث ہیں۔  میر نے دلی سے لکھن ¿و پہنچنے کی کیفیت پر بہت سارے شعر کہے۔  تقسیم ملک نے ہمیں وہ بڑا سر مایہ ¿ ادب فراہم کیا جس میں ہجرت کی المناکی اور ہماری سانس اور دھڑ کنوں کو بھی ادب کا حصہ بننے کے مواقع حاصل ہوئے۔  باصر کے یہاں ہجرت کی مختلف شکلیں اور جذباتی کیفیتیں موجود ہیں مگرانھوں نے سادگی اظہار کو بنیاد بنا کر ایک ایسا شعر کہہ دیا جسے شایدمضمون کی سطح پر ہم اپنی زبان میں اضافہ کہنے کے لیے مجبور ہوں۔

اس شعر کا ایک مصرعہ تو کتاب کا عنوان بن چکا ہے مگر یہ کون سوچ سکتا ہے کہ نئے ملکوں اور نئی آبادیوں میں جیتے ہو ئے انسان کواب ایسی آزمائشوں میں بھی مبتلا ہو نا پڑے گا۔ اختر شیرانی دور دیس سے آنے والے مسافر سے اپنے محبو ب کے بارے میں تو نہیں پوچھتے مگر وہاں کی ہواؤں، ندی، نالے اور زندگی کو دوسرے حوالوں سے ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔  باصر اب زندگی کا نیا ذائقہ پا رہے ہیں۔  ہجرت نے صرف مسافت کا عذاب نہیں دیا۔

شاعر کو اپنے محبوب سے وارفتگی میں بات تو کرنی ہے مگر اسے فون ملاتے ہو ئے یہ یاد آجاتا ہے کہ اس کے ملک اور محبوب کے ملک کے درمیان وقت کا فاصلہ کچھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ جب آپ نے بات کرنے کا سوچا، اسی وقت یاد آیاکہ شاید یہ ممکن نہیں کہ محبوب اس وقت بے دار ہو۔ اس لیے عاشق کو یہ منصوبہ بنانا ہو تا ہے کہ اب اسے اگلے روز فون کریں گے اور بات ہوگی۔ مہجریت کا یہ نیا موضوع سمجھتا کون نہیں ہے مگر اردو شاعری میں اسے صرف باصر سلطان کاظمی نے ہمارے لیے قلم بند کیا۔ کیا خدالگتی یہاں شاعر کی زبان سے ادا ہو گئی ہے :

اب انھیں فون کل کریں گے ہم

اب وہاں رات ہو گئی ہو گی

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10