باصرسلطان کاظمی کی غزلیں
ناصر کاظمی کے تعلق سے باصر سلطان کاظمی نے اپنے اشعار اور نثر میں بار بار تاثرات پیش کیے ہیں۔ اپنے والد سے علمی اور ادبی طور پر باصر کا رشتہ مستحکم طور پر نظر آتا ہے۔ یہ سچائی بھی ہے کہ باصر نے اپنا شعری سفر اپنے والد کی نگرانی میں ہی شروع کیا مگر ناصر کی ناگہانی موت نے علمی رفاقت کے انھیں زیادہ مواقع عطا نہیں کیے۔ بعد میں ناصر کے باقی ماندہ کلام کی ترتیب و تدوین اور ان کی کتابوں کی اشاعت کا ایک طویل سلسلہ رہا جس کے سہارے باصر نے والد کی غائبانہ رفاقت اور نگرانی سے اکتساب فن کیا۔ اس لیے ان کے اشعار میں بار بار ناصر کا تذکرہ ملتا ہے اور اس بات کا کھلا اقرار نظر آتا ہے کہ وہ ناصر کے مدرسے کے فیض یافتہ ہیں۔ اس سلسلے سے باصر سلطان کاظمی کے چند اشعار ملاحظہ کریں :
اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں
ورنہ چل جاتا ہے ناصر، تیرے نام سے کام
مرے سخن میں سخن بولتا ہے ناصر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفل سخن میں لوگ
فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصر
مدرسہ میرا ہے ناصر کا دبستان غزل
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اسے، بزم سخن کوئی بھی ہو
مگر آج باصر کاظمی کی مشق سخن پانچ دہائیوں کو محیط ہے۔ انھوں نے صرف والد کی شاعری کی رہنمائی میں خود کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ علم و ادب کے جتنے ذرایع ہوسکتے تھے، وہ سب ان کے پیش نظر رہے۔ درس و تدریس سے تعلق نے مغربی اور مشرقی علوم کی سیر کے مواقع عطا کیے۔ ان کے مجموعوں میں اساتذہ کی زمینوں میں غزلیں ان کی روایت شعر سے آشنائی کے واضح مظہر ہیں اور اس سے یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ وہ قدم در قدم سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کے عمل سے آگاہ ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جو اعتماد اور کھراپن ان کے اشعار میں نظر آتا ہے، وہ موجود نہیں ہوتا۔ قدرت کلام نے ہی انھیں سادگی بیان میں ہنر پیوست کرنے کا مادہ عطا کیا۔ ان کے اس اعتماد کو چند شعروں میں دیکھا جاسکتا ہے :
ہوتے ہیں لغت میں پتھر لفظ
ہیرا انھیں ہم بناتے ہیں
شاعری پر گمان جادو کا
کیا عجب ہے اگر کسی کو ہوا
خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی
ہمیں بلندی معیار نے ہلاک کیا
چاہتے ہو اگر ہنر پورا
اس میں لگ جائے گا جگر پورا
باصر کے تخلیقی عمل کو ان کے شعری بیانات کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے لیے الگ دنیا پہچاننے کے عمل میں کوشاں ہیں۔ اپنے لیے الگ زبان اور مختلف فکر پیدا کرنا کسی بھی دور کے فن کار کے لیے ہرگز آسان نہیں ہوسکتا۔ یہ مشکل راستہ ہزار پیچیدگیوں سے بھرا ہے اور ہر قدم پر شاعر کو امتحان در امتحان کی منزلوں کا سفر درپیش ہے۔ باصراس کے خطروں سے بھی واقف ہیں اوراسی لیے نئے راستوں کے متلاشی بھی ہیں۔ مشکل نشانہ اور اپنی تخلیقی صلاحیت پر اعتماد نے انھیں جو سکھایا، اس کے نتائج ذیل کے اشعار میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کی تنقیدی نگاہ اور تخلیقی ابال میں کس طرح داخلی طور پر ہر وقت ایک رن پڑتا رہتا ہے، اسے ان کے اشعار میں آپ ملاحظہ کریں :
ہر چند رہ گزر تھی دشوار قافیے کی
سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی
رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات
کرتی ہے آرزوے کمال ہنر خراب
کسی کو مار گیا اس کا کم سخن ہونا
کسی کو کثرت اشعار نے ہلاک کیا
دشت خیال میں پھر کیا کیا کھلے مناظر
کچھ دیرکو ہٹی تھی دیوار قافیے کی
ہیں شعر نئے سو کھردرے ہیں
درکار ہے خواندگی کا رندا
باصر سلطان کاظمی کے غزلیہ اشعار میں ان کی ذہانت کا مظاہرہ قوت مشاہدہ کے باب میں خاص طور پر نظر آتا ہے ۔ تجربات کی بھٹی میں کون ہے جو پس نہیں رہا ہے۔ کوئی جھلس رہا ہے لیکن لاکھوں میں ایک جل کر کندن ہوتا ہے۔ ایک آنکھ ہمیں سامنے کے مظاہر پر ٹکا دیتی ہے مگر کوئی دیکھنے والی نظر ایسی بھی ہوتی ہے جو دیوار کے ساتھ پس دیوار کے واقعات بھی دیکھنے کا مادہ رکھتی ہو۔ تجربات اور مشاہدے کی دولت سے فیض یاب ہوکر انسان وہ دیکھ لیتا ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آسکتا۔
جو ہوا نہیں، اس کا انداز کرلیتا ہے اور باریکی سے چیزوں کو اس گہرائی سے دیکھتا ہے کہ اس کے وہ مفاہیم اسے سمجھ میں آجاتے ہیں جو ہزاروں آنکھوں کو اور ذہن و دل کو سمجھ میں نہ آ سکیں۔ فکر کی سطح پر یہیں شعر جذبات کی ان لہروں پر تیرنے لگتے ہیں جہاں بہت کم لوگ پہنچ سکتے ہیں اور حقیقتاً وہاں جبریل کے پر جلتے ہیں۔ باصر سلطان کاظمی کے مجموعوں میں ان کی تیز قوت مشاہدہ اور حد درجہ گہرے تجزیے کو دیکھنا ہمیں ایک بہترین ادبی نتیجے تک ہمیں پہنچاتا ہے۔ ایسے کچھ شعر ملاحظہ کریں جو ان کی شاعری میں ادھر ادھر نظر آتے ہیں :
ایسی چلی دم سحر، شام تلک کیا نہال
باد صبا سے تھی بہت موج خیال مختلف
کالے بادل حائل ہوجاتے ہیں ورنہ دھوپ مری
سورج سے تو آجاتی ہے لیکن چھت پہ نہیں ملتی
سورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقت شام ہوا ہے
دیکھو کیسا سرکش گھوڑا کیسا رام ہوا ہے
کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے
مگر شطرنج سے جو عشق مجھ کو ہے، کسے تھا
آسماں کا تھا شب عجب احوال
چاند کہتا تھا کچھ، ستارا کچھ
خاک میں کچھ کشش تو تھی ورنہ
پھول کیوں شاخ سے جدا ہوتا
عادتیں اور حاجتیں باصر بدلتی ہیں کہاں
رقص بن رہتا نہیں طاؤس، بن کوئی بھی ہو
قوت مشاہدہ کے بغیر کوئی شاعر لفظوں کی نئی دنیا پیدا نہیں کرسکتا۔ شاعروں کو مذہب پسندوں اور مفکروں نے کبھی نشانہ طنز بنا یاتو یہ بھی کہا کہ یہ جادو گر ہیں۔ سامنے کے لفظوں میں شاعر خیال کی ایک ایسی کہانی شروع کردیتا ہے جو نہ ہماری کہی ہوئی ہوتی ہے اور نہ سنی ہوئی ہوتی ہے۔ جسے ہم روز دیکھتے رہتے ہیں، اس میں کوئی شاعر ایسے نئے معنیٰ پیوست کردے گا کہ آپ عش عش کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ فکر و خیال کی یہ نئی کائنات باصر کاظمی نے کچھ ایسے دل لگا کر تلاش کی ہے یا جہاں تہاں بنائی ہے کہ ہم حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کہیں کہیں مشہور کلاسیکی مضمون ہے مگر شاعر اچانک ایسا نیا مفہوم گڑھ لیتا ہے جس سے ساری باتیں نئی ہوجاتی ہیں۔ تجربات اور مشاہدات پر خیال کی نادر اور انوکھی بنیادیں کیسے رکھی جاتی ہیں، اس کے لیے ایک نظر میں چند شعر ملاحظہ کیجیے جہاں مضمون آفرینی اور سحرالبیانی نقطہ عروج پر ہے :
ایسی چلی دم سحر شام تلک کیا نہال
باد صبا سے تھی بہت موج خیال مختلف
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے
باصر یہ آدمی بھی ہے کتنی عجیب چیز
اتنے سے اس کے سر میں ہے کتنا بڑا دماغ
ایک سورج کے لیے یہ کہکشاں در کہکشاں
اک زمیں کے واسطے سو آسماں پیدا کیے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
اتنا تڑپی ہے یہ مے خواروں کی محرومی پر
مے نہیں آج ٹپکتا ہے رگ تاک سے خون
ہمارے جرم آپ اپنی سزا ہیں
اضافی ہے سزا روز جزا کی
نئے خیال، نئے نئے لفظ اور تصورات کی طرف جب لپک ہوگی تو اپنے آپ نئے منظریے خلق ہوں گے۔ باصر سلطان کاظمی کے یہاں منظروں پر کوئی خاص توجہ یوں تو نظر نہیں آتی مگر ناصر کاظمی کی آغوش تربیت کا پلا بڑھا یہ شاعر اپنی رگوں میں وہی خون رکھتا ہے جہاں انجانے اور انوکھے منظر خلق کرنے کی مہارت موجود تھی۔ ’یہاں اداسی بال کھولے سو رہی ہے‘ جیسا تشخص تو نہیں مگر بولتے چالتے مناظر کچھ اس طرح ہمارے سامنے آتے ہیں جہاں سب کچھ متحرک رہتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

