باصرسلطان کاظمی کی غزلیں


یہیں رہتے ہوئے انھوں نے اپنے ادبی سفر کو ایک منزل تک پہنچایا۔ ان کی کتابیں اسی دوران شایع ہوئیں۔  ان کی شہرتیں اور عظمتیں اسی دور سے وابستہ ہیں۔  نہ صرف پاکستان اور اردو حلقے میں بلکہ برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک میں ادیب اور شاعر کے طور پر اسی دورانیے میں وہ ابھر کر امتیاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔  پاکستان میں انھیں ناصر کاظمی کی پرچھائیں سے آزادی نہیں مل سکتی تھی، برطانیہ آکر ایک آزاد اور خود مختار شاعرانہ اور ادبی شناخت باصر سلطان کاظمی کے حصے میں آئی۔ اسی لیے اس تہذیبی آمیزش اور اختلاط کو بھی باصر سلطان کاظمی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ملحوظ نظر رکھنا چاہیے۔

روایت شعر سے سنجیدہ بے فکری کا جو انداز باصر سلطان کاظمی کے یہاں نظر آتا ہے، یہ اس لیے بھی ممکن ہوا کیوں کہ وہ اردو کے روایتی معاشرے سے دور ایک ایسے علاقے میں مشق سخن میں مبتلا تھے جہاں اردو کی مخصوص ادبی روایت کے ادب آداب اضافی حیثیت رکھتے تھے۔  اسی کے ساتھ باصر کویہ بھی فائدہ حاصل ہوا کہ وہ برطانیہ کے ہم عصر ادبی رویوں کے مناسب اجزا سے فیض یاب ہوں۔  وہ کثیر لسانی سماج میں مختلف طرح کے ادبی تجربے بھی کررہے تھے، ہم زبانوں کے ساتھ ساتھ غیر زبانوں سے معاملات میں بھی وہ سرگرم تھے۔

دوسروں کو متاثر کرنے کے پہلو بہ پہلو خود بھی متاثر ہونے اور بدلنے کے لیے تیار تھے۔  اسی لین دین اور آمیزش میں باصر سلطان کاظمی کے ہاتھ ایک نئی زبان اور نیا موضوع شعر آ گیا جسے انھوں نے وقت کے بدلتے رویوں کے ساتھ ہم آمیز کرکے مزید تیکھا اور روشن کیا۔ اس میں حسب ضرورت روایت شعر کو بھی ملایا اور اسی طرح ’ادب باہر‘ کے موضوعات و اسالیب بھی حلول کیے۔  اسی لیے باصر سلطان کاظمی کے اشعار ہمیں کبھی چونکاتے ہیں، کبھی ہنساتے ہیں، کبھی تکلیف دہ احساس سے دوچار کرتے ہیں اور کبھی برانگیختہ کرتے ہیں۔  کبھی کبھی تو اچھا بھلا رومانی شعر پرمذاق کیفیت پیدا کردیتا ہے اور کبھی پرسوز بیان میں کوئی سوچی سمجھی بے دلی اور غیر جذباتی لے پیوست کرکے ہمارے ذہن کو دھچکا دے دیا جاتا ہے۔

نئی تہذیبی مبارزت میں باصرسلطان کاظمی کی شاعری کے دو خاص انداز ہمارے سامنے آتے ہیں۔  سادگی زبان کی وراثت تو انھوں نے ناصر کاظمی سے حاصل کی تھی مگرسا دگی کے کئی اور مراحل ابھی باقی تھے۔  ناصر اردو کے روایتی معاشرے میں بیٹھ کر سادہ زبان کے جادو کو سمجھ سکتے تھے۔  شاعرانہ کیفیت کی مستحکم روایت سے وہ ہر چند میر جیسے شاعر کی رہنمائی میں گریز کی ایک سادہ سی راہ نکالنے کے لیے کوشاں تھے مگر تاریخ کاجبر اپنے آپ ان لفظوں میں کچھ ایسے سر ڈال دیتا تھا کہ وہ اسی سائے میں بول چال کی زبان میں شعر کہنے پر قادر ہوئے۔

باصرجب برطانیہ پہنچے تو ہما ر ی شعری روایت کی گرد ان کے پاؤں میں سمٹی ہوئی لازمی طورپروہاں بھی چلی آئی ہوگی مگر نئے معاشرے میں ان کے لیے اسے تمام و کمال آزمانے کی ضرورت یا محتاجی شاید نہیں تھی۔ میر، نظیراور ناصر کی زبان کو سہل ممتنع کے دائرے سے نکال کر بول چال، گفتگو اور عام نثری ڈھانچے تک اتنے حوصلے کے ساتھ وہ لے آئے کہ کبھی کبھی یہ خوف پیداہونے لگتا ہے کہ یہ اگر شعر یا کلام موزوں ہے تو نثر کیاہوتی ہے؟ باصر کے ایسے سیکڑوں اشعارایک ذرا سی تلاش سے ان کے مجموعوں میں مل جائیں گے جن پر کچھ اس انداز سے پڑھنے والے اپنے تاثرات پیش کر دیں گے :

الف۔    یہ شاعری شعری کیفیت سے خالی ہے۔

ب۔     موسیقیت سے عاری ہے

ج۔       آہنگ شعر نثری ہے

د۔       باصر کی شاعری غزل کے مروجہ بیا نیے سے باہرہوگئی ہے۔

اردو میں بیان کے تمام اوصاف شعر کے حوالے سے ہی متعین ہوئے تھے اور نثرکی اکثروبیشتر خصوصیات کی اصول سازی شاعری کی پرچھائیں میں ہوتی تھی۔ داستانوں سے لے کر غیر افسانوی اصناف، یہاں تک کہ تنقید پر بھی موقع بے موقع شاعرانہ آہنگ اپنا کام کرتا رہتا ہے۔  محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، ابوالکلام آزاد، آل احمد سرور، قرةالعین حیدر تو محض مشہورمثالیں ہیں، جی لگا کر تلاش کیجیے تو پریم چند سے لے کر عصر حاضر تک کے ہر معتبر نثر نگار کے یہاں انشاپردازی کا جو ہر نظر آئے گا جسے کہیں نہ کہیں ہم ایک شعری کیفیت کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

شاعری میں اخترالایمان کے علاوہ باصر سلطان کاظمی شاید تنہا مثال ہوں جن کے یہاں نثری ذائقے کے ساتھ آہنگ شعر بھی قائم ہوتا ہے۔  اخترالایمان کے لیے یہ کام ذرا ٓسان تھا کہ وہ نظم پر صد فی صد مرکوز تھے اور سلسلہ خیال کی طاقت میں نثری رویے سے پڑھنے والا بے خبر ہوجاتا تھا۔ ان کی مفرس اور معرب زبان سے بھی شاعرانہ کیفیت کا دھوکا قائم رہتا ہے مگر باصر سلطان کاظمی تو یہ سب کچھ غزل کہتے ہوئے کرتے ہیں۔  ایک شاعرکی حیثیت سے اس سے بڑا اور کون سا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے کہ پڑھنے والا یہ کہہ دے کہ آپ نے جو تحریر پیش کی ہے، وہ محض نثر ہے اور اسے شعر قرار دینا غزل کی روایت اور اردو ادب کے مزاج سے غفلت کے ماسوا کچھ بھی نہیں۔  شاعرکی حیثیت سے باصر سلطان کاظمی کی شہرت پر اگر کوئی قدغن ہے یا صف اول کے ہم عصر شعرا میں اگر انھیں پورے طور پر قبول نہیں کیا جاتا ہے تو شاید یہی انداز شعر کہیں نہ کہیں رکاوٹ ہوگا۔

میر امن نے نثری زبان کے اوصاف مرتب کرتے ہوئے ’گفتگو‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔  محاورات اور روز مرہ کے فیض سے ایک نئی زبان کاخاکہ رکھنے کا انھوں نے نشانہ مرتب کیا تھا۔ محمد حسین آزاد نے میر حسن کے کلام کے لافانی ہونے کی بنیادی وجہ یہ بتائی کہ سو برس بعد والے ایسی زبان اور محاورے میں بولتے ہیں۔  کلاسیکی شعرا جب سہل ممتنع کی تعریف کرتے تھے تو مصرعوں کی توصیف میں یہ بات بھی بیان کا حصہ ہوتی تھی کہ شعر یا مصر عہ ایسا کہا ہے جس کی نثر ممکن نہیں یعنی جس طرح شعر ہے، وہی نثر بھی ہے۔

باصر سلطان کاظمی تو کچھ اس طرح سے شعربنا لیتے ہیں جسے، اگر پڑھنے والا نثر سمجھ لے تو ایک دوسرا چیلنج یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کی کوئی دوسری نثر بھی نہیں بنائی جا سکتی۔ شعر کو نثر بنا لینا اور نثر کے جملوں کو غزل کا شعر بنا دینا ایک نا قابل یقین مہارت اور شعری جسارت ہے جس میں باصر سلطان کاظمی اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔  یہاں موسیقی کے روایتی آداب بھی لڑکھڑانے لگتے ہیں مگر شاعر ہے کہ ایک نیا تصور شعر پیش کرکے ایسے مستحکم نمونے ہمارے سامنے لے آتا ہے کہ ہم داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10